عزیزطلبہ وطالبات!علوم دینیہ کی نرسریوں میں قدم رکھنے پرہم آپ کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعاگوہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو علوم نبوت میں سے وافر حصہ عطا فرمائے اور آپ کے والدین اور سرپرستوں کو اس مادیت کے دور میں آپ کو دینی علوم کی تحصیل کے لیے،جس میں بظاہر دنیوی اعتبار سے کوئی نقد فائدہ ہے
اور نہ ہی کسی روشن ودرخشاں مستقبل کی امید، فارغ کرنے پر،جو یقیناً مجاہدے سے کم نہیں ،جزائے خیر عطافرمائے اور ان کے رزق میں برکتیں ،وسعتیں اور کشادگیاں عطا فرمائے،آمین۔
آپ کے والدین نے یہ مجاہدہ صرف اس لیے برداشت کیا ہے تاکہ آپ ان کے لیے ذخیرہ آخرت بن سکیں۔انھوں نے احادیث میں پڑھ اور سُن رکھا ہے کہ ایک عالم دین ایسے سیکڑوں لوگوں کی ،جن پر ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے جہنّم واجب ہوچکی ہوگی ، شفاعت کرکے انھیں اپنے ساتھ جنت میں لے جائے گا۔وہ اسی شفاعت کی امید میں اتنا بڑا مجاہدہ کررہے ہیں ۔انھوں نے احادیث میں یہ بھی سن رکھا ہے کہ باعمل حافظِ قرآن کے والدین کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا،جس کی روشنی کے آگے سیکڑوں سورجوں کی روشنی بھی ماند اور ہیچ ہے، وہ اس اعزاز کی امید رکھتے ہیں ۔انھیں عزت وکرامت کے اس تاج کی بارگاہِ الٰہی سے امید ہے جو حافظ قرآن کے ماں باپ کو پہنایا جائے گا۔وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کے قدموں کے نیچے بھی فرشتے اعزاز واکرام کے طور پر اپنے پر بچھائیں ۔یہ ہیں وہ امیدیں ،آرزوئیں اور امنگیں جن کے حصول کے لیے انھوں نے آپ کو دینی مدارس میں بھیجا ہے۔اگر یہ باتیں ہر وقت آپ کے دل ودماغ میں موجود اور ذہن میں مستحضر ہوں گی ،تو ان شاء اللہ! آپ اپنے شب وروز کا ہر لمحہ اس احتیاط سے گزاریں گےکہ ان اعزازات کے نہ صرف خود مستحق بن سکیں گے بلکہ اپنے والدین اور سرپرستوں کی امنگوں پر بھی پورا اترسکیں گے۔
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات:
ذیل میں اکابر کے تجربوں اور نصائح کی روشنی میں آپ کی خدمت میں ایک دستورُالعمل پیش کرنے کی سعی کی جارہی ہے،جس کے مطابق اپنے شب وروز گزارنے کی آپ میں سے ہر طالب علم کوشش کرے،چاہے وہ قرآن مجیدحفظ وناظرہ کا طالبِ علم ہو، یاتجوید وقرأت کا،یا درسِ نظامی کے کسی بھی درجے کا طالبِ علم ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔سب سے پہلی چیز ہمیشہ یہ بات ذہن نشین رکھیں، کہ آپ علوم ِنبوت حاصل کررہے ہیں، یہ کوئی مادی علم نہیں بلکہ روحانی علم ہے اور روحانیت کے حصول کے لیے آپ کا ظاہری وباطنی طور پر ہرقسم کی گندگیوں اور غلاظتوں سے پاک صاف ہوناضروری ہے کیونکہ میلے کچیلے ،گندے اور گدلے برتن اس لائق نہیں ہوتے کہ ان میں کوئی صاف ستھری چیز ڈالی جائے۔
آپ کے لباس کا جس طرح ظاہری گندگی ونجاست سے پاک ہونا ضروری ہے، اسی طرح آپ کی آنکھوں، آپ کے کانوں،آپ کی زبان اور دل کا بھی گناہوں کی گندگی وغلاظت سے پاک صاف ہونا ضروری ہے۔
{ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا }
موبائل اور انٹرنیٹ کے فتنے کے اس دور میں نظر،شنوائی اور کلام کی پاکی یقیناً مجاہدے کی بات ہے،لیکن علوم نبوت کانور اپنے باطن میں اتارنے کے لیے آپ کو یہ مجاہدہ ہر حال میں کرنا ہوگا،اس کے بغیر اللہ کا نور نہیں ملے گا۔اس حقیقت کو امام شافعی رحمہ اللہ نے چند اشعار میں بڑی جامعیت سے بیان کیا ہے،جن کا لبّ لباب یہ ہے کہ:
’’میں نے اپنے استادِمحترم حضرت وکیع رحمہ اللہ سے حافظے کی کمزوری کی شکایت کی،توانھوں نے مجھے وصیت کی:
گناہ چھوڑدو،اس لیے کہ یہ علم اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور اللہ تعالیٰ کا نور گناہ گار کونہیں ملتا"
جس علم کے حصول کے دوران گناہوں سے پرہیز کی کوشش نہیں کی جاتی، وہ علم کبھی پائیدار نہیں بنتا،اگر بالفرض واجبی طور پر حاصل ہو بھی جائے تو کارآمد نہیں بنتا بلکہ بسا اوقات ایسا علم گمراہی کا باعث بن جاتا ہے۔
علم اور عمل کا باہمی جوڑ:
حدیث پاک میں ہے آتا ہے کہ علم عمل کو آواز دیتا ہے۔اگر کسی سینے میں علم ہو، مگر وہ جسم عمل سے خالی ہو تو وہاں سے علم بھی رخصت ہوجاتا ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ شیطان آپ کے دل میں یہ وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرے گا کہ ابھی تو تعلیم پر توجہ دو، عمل کے لیے بہت وقت پڑا ہے،بعد میں عمل بھی کرلینا۔ خوب جان لو کہ یہ سراب اور دھوکہ ہے۔ عمل والی " کل " کبھی نہیں آتی۔اکابر نے اپنے تجربات کی روشنی میں یہ بات لکھی ہے کہ جو طالب علم دورانِ طالب علمی ،عمل کی عادت نہیں ڈالتا
اور گناہوں سے اجتناب نہیں کرتا،فراغت کے بعد بھی اسے عمل کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق نہیں ملتی، کیونکہ مدرسے و جامعہ کی مثال ماں کے پیٹ کی سی ہے،جس میں بچے کا جسم بنتا ہے۔جو بچہ ماں کے پیٹ سے ناقص الاعضاء پیدا ہو،دنیا بھر کے ڈاکٹر مل کر بھی اس کے اس نقص کو دور نہیں کرسکتے ،اسی طرح جو طالب علم مدرسے و جامعہ کے ایمانی و نورانی
اور علمی و روحانی ماحول میں رہ کر خود کو نیک عمل کا خوگر اور گناہوں سے بچنے کا عادی نہ بنا سکا، وہ بعد میں دنیا کے مادیت بھرے ماحول بے راہ روی کے شکار معاشرے میں بھی اس جوہر سے محروم ہی رہ جاتا ہے۔الّاماشاء اللہ!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے اساتذہ کرام،مدرسے وجامعہ کے منتظمین اور دیگر عملے کا ادب واحترام کریں۔اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں ۔
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں:
ادارے کی طرف سے فراہم کردہ کتاب،کاپی،تپائی اور ڈیسک ،تختہ سیاہ،کمرۂ جماعت ،رہائشی کمرہ یہ سب بھی آپ کے حصول علم میں ممدّ و معاون ہیں ۔ان تمام آلاتِ علم کا احترام کریں انہیں کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائیں۔حتی الامکان با وضو حالت میں کتاب کا مطالعہ وتکرار کریں ۔صبح کمرۂ جماعت میں بیٹھنے سے پہلے وضو کرلیا کریں ،استاد اور کتاب کے سامنے آلتی پالتی مارکر،
یا کسی بھی ایسی ہیئت میں نہ بیٹھیں جو ادب کے خلاف ہو،بلکہ مؤدّب بیٹھنے کی کوشش کریں ۔دورانِ درس ہاتھ میں موجود پینسل اور قلم وغیرہ سے کھیلنا،بار بار گھڑی دیکھنا،اِدھر اُدھر متوجّہ ہونا،بات چیت کرنا،اپنے لباس اور جسم کے ساتھ کھیلنا ،یہ تمام امور بے توجّہی اور بے ادبی کے زمرے میں آتے ہیں ،ان سے حتی المقدور بچنے کی کوشش اور اہتمام کریں ورنہ انجام کر محرومی ہے۔
استاذ کے دیئے جانے والے درس کو پُوری توجّہ سے سننا،اگلے سبق کا پہلے سے مطالعہ کرنا،پڑھے ہوئے سبق کا تکرار کرنا،جو سمجھ میں نہ آئے وہ اپنے دوسرے ہم جماعت احباب اور اساتذۂ کرام سے پُوچھنا۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ امور ہیں،جن کی آپ کو روزِ اوّل سے پابندی کرنی ہے۔اس میں کوئی ناغہ یا سُستی نہ ہونے پائے۔عام طور پر طلبہ شروع میں سُستی کرتے ہیں ،
یوں اُن پر اسباق کا اچھا خاصا بار پڑجاتا ہے، پھر رات بھر بیٹھ کر پڑھنے سے بھی وہ اسباق قابو میں نہیں آتے۔اس کوتاہی سے بچنے کی فکر پہلے دن سے ہی ہونی چاہیے، جس کا طریقہ یہی ہے کہ چاہے اساتذہ یاد کرنے کے لیے کہیں یا نہ کہیں ،سبق سُنیں یا نہ سُنیں،آپ اپنا سبق روزانہ کی بنیاد پر یاد کریں ،مشقوں کو روزانہ کی بنیاد پر حل کریں ،مطالعہ روزانہ کی بنیاد پر کریں،
دیا ہوا کام روزانہ کی بنیاد پر کریں ۔ہوسکے تو ہفتے بھر کا پڑھا ہوا سبق جمعرات کے دن، جب شام کو تکرار مطالعے کی ترتیب نہیں ہوتی،اپنے طور پر دُہرالیں۔
اگر آپ نے اس دستورُالعمل پر مواظبت و پابندی اختیار کیے رکھی،تو آپ کو کسی امتحان اور ٹیسٹ و جائزہ امتحان کی نہ کوئی فکر ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کا ڈر اور خوف ہوگا۔اس طرح آپ کا سبق بھی پُختہ سے پُختہ تر ہوتا چلا جائے گا۔جو سبق استاد کے سننے یا جائزہ و امتحان کے ڈر اور ’’آئی بلاٹالنے‘‘کی غرض سے یاد کیاجاتا ہے،وہ پائیدار نہیں ہوتا،جلد حافظے سے محو ہوجاتا ہے۔
اس کامشاہدہ حفّاظِ کرام کے عمل کو دیکھ کر بہ خوبی کیا جاسکتا ہے۔جو حفّاظ سال بھر اپنی منزل یاد کرنے اور اُسے نوافل میں پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں ،انھیں رمضان المبارک میں تراویح میں قرآن پاک سنانے کے لیے کوئی اضافی محنت نہیں کرنی پڑتی، بلکہ ایک دو بار تلاوت کافی ہو جاتی ہے،اس کے برعکس جو حفّاظ سال بھر قرآن مجید سے لاتعلق رہتے ہیں،اپنی منزل یاد کرنے
اور اُسے نوافل میں پڑھنے کا اہتمام نہیں کرتے،ان کو تراویح میں قرآن پاک سنانے کے لیے انتہائی محنت کرنی پڑتی ہے۔اپنے تمام معمولات کی کلّی یا جزوی طور پر قربانی دینی پڑتی ہے،حفظ کی درس گاہ میں با قائدہ بیٹھنا پڑتا ہے،اس کے باوجود ان کی اغلاط اوّل الذکر حفّاظ کے مقابلے میں زیادہ آتی ہیں جس کی وجہ گھبراہٹ و بے اعتمادی ہے۔
اسی پر پابندی سے اسباق کو یاد کرنے والے اور صرف امتحان کے لیے اسباق کو یاد کرنے والے طلبہ کی حالت کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو:
یاد رکھیے!! عبادت سے جنت اور خدمت سے خُدا ملتا ہے، اپنے اساتذہ کی خدمت کے مواقع از خود تلاش کریں اور کوشش کریں کہ خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ پائے۔اسی طرح مدرسے و جامعہ کی خدمت کا کوئی بھی موقع آجائے،مثلاً، قربانی کے ایّام میں کھالیں جمع کرنا، گوشت کی تقسیم، رمضان میں راشن کی ترسیل
یا اس کے علاوہ بھی مدرسہ و جامعہ جو بھی خدمت آپ کے سپرد کرے،اس کی بجا آوری اپنی ذمے داری سمجھ کر دلجمعی اور خلوص سے ادا کریں،چاہے اس میں کوئی مالی و مادی فائدہ نظر آئے یا نہ آئے۔
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں:
بڑوں کی دعاؤں سے بڑھ کر کوئی سرمایہ نہیں ،لہٰذا ہر گھڑی ان کی دعائیں لینے کی کوشش کریں اور خدمت بھی دعائیں لینے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ بڑوں کی خدمت سعادت سمجھ کر کریں۔چنانچہ حدیث میں وارد ہے:
ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہﷺ کے ہاں رات بسر کی تو میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی اور آپ کی دیگر ضروریات کا انتظام کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوش ہو کر مجھ سے فرمایا:
”مجھ سے کوئی چیز مانگو۔ “
میں نے عرض کیا، میں آپ سے، جنت میں آپﷺ کے ساتھ ہونے کا سوال کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ کچھ اور بھی؟“ میں نے عرض کیا: بس یہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پس اپنی ذات کے لیے کثرت سجود سے میری مدد کر۔ “
وقت کی قدر کرو یہ تمہاری قدر کرے گا:
یاد رکھیں کہ دینی علم آپ سے وقت اور محنت مانگتا ہے۔اگر آپ نے اپنے قیمتی وقت کی قدر نہ کی بلکہ اسے لایعنی کاموں، سیاسی بحثوں، موبائل وانٹرنیٹ بینی، فضول گپ شپ اور آوارہ گردی کی نذر کردیا تو یہ فرصت کے لمحات دوبارہ میسر نہ ہوں گے اور آپ ایک پختہ کار کے بجائےعلمی طور پر کمزور پوزیشن کے سبب سماج میں کبھی مقام حاصل نہ کر پائیں گے۔
فقہ حنفی کے مشہور امام قاضی ابویوسف رحمہ اللہ کاقول ہے:" آپ علم کو اپنا سب کچھ دیں گے تو علم آپ کو اپنا تھوڑا بہت حصہ دے گا۔ شیطان کی پہلی کوشش یہی ہوگی کہ آپ کو لایعنی کاموں، باتوں اور بیکار کے مشاغل میں لگائے رکھے تاکہ آپ کا وقت علم دین کے حصول کے بجائے کہیں اور صرف ہو۔اس شیطانی چال کا مقابلہ بھی اوّل روز سے کرنا ہے۔اس کا نسخہ یہ ہے کہ
آپ اپنی حیثیت اور مقام پہچان لیں ۔آپ کوئی عام انسان نہیں بلکہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے مہمان ہیں ۔آپ نے علوم نبوّت کو حاصل کرنے کے لیے اپنا گھر بار، عزیز واقارب اور دوست احباب،نیز گھر کی تمام آسائشوں کو چھوڑا ہے۔جب یہ بات مستحضر رہے گی ، تو ان شاء اللہ!آپ اپنا ایک ایک لمحہ اپنے اصل مقصد کے حصول کے لیے صرف کرنے کی کوشش کریں گے
اور لایعنی سے بچ جائیں گے۔ دھیان رہے کہ یہ کام بھی روز اوّل سے کرنا ہے۔اگر شروع میں سُستی کی، تو بعد میں نوبت یہ ہوگی کہ آپ تو کمبل کو چھوڑنا چاہیں گے،مگر کمبل آپ کی جان نہیں چھوڑے گا۔کوشش کیجیے کہ یہ کمبل آپ کے جسم کو چمٹنے ہی نہ پائے!!
فرائض میں کسی قسم کی سُستی و کوتاہی نہ کریں،خاص طور پر جمعرات اور جمعے کے دن ،جب آپ اپنے گھروں کو جاتے ہیں کیونکہ آپ کا عمل آپ کے والدین اور بہن بھائیوں ،نیز دوست احباب میں عمل کا جذبہ بیدار کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔آپ کے اندر آنے والی مثبت تبدیلی انھیں نہ صرف آپ سے بلکہ دینی مدارس و جامعات سے بھی خوش گمان کردے گی،
اس کے برعکس آپ نے فرائض ہی میں سُستی کا ثبوت دیا،فجر کے وقت بھی سوتے رہے ،قرآن پاک کی تلاوت بھی نہیں کی بلکہ جیسا گھر کا اور گلی محلے کا ماحول ہے،اسی کا حصہ بن گئے ،ہوٹلنگ،آوارہ گردی، ٹی وی بینی وغیرہ میں مصروف رہے تو آپ کا یہ عمل نہ صرف آپ سے بلکہ ان دینی مدارس وجامعات سے بھی انھیں بدگمان کرسکتا ہے،جس کا سبب آپ بنیں گے
اور یہ یقیناً احسان فراموشی ہوگی کہ جن اداروں نے آپ کی تعلیم و تربیت ہی نہیں ،قیام وطعام اور علاج و معالجہ تک کی ذمے داریاں بھی اس مہنگائی و گرانی کے دور میں اپنے ذمے لے رکھی ہیں ،آپ ان کی نیک نامی کے بجائے بدنامی کا باعث بنیں ۔
دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو:
طالب علم کے لیے زیادہ نفلی روزے اور نمازیں ضروری نہیں ،البتہ اگر صحت اجازت دے اور تعلیم کا بھی حرج نہ ہو رہا ہو تو غیر مؤکدہ سنتوں،اشراق،اوّابین اور تہجّد کی عادت ڈالیں ،چاہے 2,2رکعات ہی پڑھ لیں ،چاہے تہجد کی نماز تکرار و مطالعے سے فراغت کے بعد سونے سے پہلے ہی ادا کرلیں ۔اللہ تعالیٰ سے تعلق اُس کے در کا بھکاری بننے سے بڑھتا ہے،
اس لیے دعاؤں کی عادت ڈالیں ،خوب رورو کر اور گڑ گڑاکر دعائیں مانگیں ،رونا نہ بھی آئے تو رونے کی سی ہیئت ہی بنالیں ،اس پر بھی اللہ تعالیٰ کو پیار آتا ہے۔دعا اللہ تعالیٰ سے براہ راست بات کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ دعا کرنے سے دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے اور پریشانی دور ہوتی ہے۔طالب علم پر لازم ہے کہ دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے
رہنمائی، مدد اور استقامت طلب کرتا رہے۔ یہ دعا ہی ہے جو ہمیں صحیح فیصلے کرنے اور مشکلات پر قابو پانے میں مدد کرتی ہے۔ ورنہ فرمایا کہ بد ترین گمراہی ہدایت کے بعد کی گمراہی ہے۔کسی حقیقی "اللہ والے" سے تعلق و نسبت بھی ازحد ضروری ہے۔ فتنوں کا دور ہے اچھے خاصے پڑھے لکھے اور ذہین طلبہ کو غیروں کی چاکری کرتے دیکھا گیا ہے
وجہ یہی سمجھ آتی ہے کہ انہوں نے خود کو عقل کل سمجھا اور اکابرین کی باتوں سے اغماض برتا تھا۔
ذرائع ابلاغ کی اہمیت:
ایک عالم ِ دین اور دینی رہنما کے پاس اپنی بات عوام وخواص تک پہنچانے کے دو ذرائع مشہور ہیں ۔ایک تقریر و خطابت اور دوسرا تحریر۔ ان دونوں میں مہارت کے لیے بھی زمانہ طالب علمی میں ہی کوشش کرنی پڑتی ہے۔جو طلبہ وطالبات یہ سوچتے ہیں کہ فراغت کے بعد یہ ملکہ حاصل کرلیں گے،وہ کماحقّہ ایسا نہیں کر پاتے ۔دینی مدارس و جامعات میں ہفتہ وار تقریری بزمیں ہوا کرتی ہیں ان میں حصہ لیا کریں ۔اچھا مقرر اور خطیب بننے کے لیے مقررین اور خطبا کی تقاریر وخطابات سننے کی عادت ڈالیں ،اس سے بولنے کا انداز آتا ہے،ان کی نقل کرنے کی کوشش کریں ،ان کی تقاریر یاد کرکے ان کے انداز میں مجمعے میں سنانے کی کوشش کریں ،یوں آپ کے حوصلے بلند ہوں گے اور جھجھک ختم ہوگی ،
اس کے بعد اپنا انداز بنانے اور خود تقریر تیار کرنے کی کوشش رفتہ رفتہ آپ کو ایک اچھا مقرر وخطیب بنادے گی۔کسی کی لکھی ہوئی تقریر رٹنے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی داد کو ہی اپنی منزل نہ سمجھ لیں تجربہ شاہد ہے کہ بچہ پہلے ماں باپ کے پیروں پر پیر رکھ کر چلتا ہے ،اس کے بعد خود چلنا سیکھ جاتا ہے۔
آپ بھی کسی کے مرہونِ منّت رہنے کے بجائے ’’اپنی دنیا آپ‘‘ پیدا کریں ۔بقول شاعر:
اپنی دنیا آپ پید اکر،
اگر زندوں میں ہے۔
اسی طرح ایک دینی رہنما و مقتدا کے لیے تحریری صلاحیت بھی ضروری ہے۔اس کے الفاظ کا چناؤ ایسا ہو کے گویا موتی پرو دے۔ اس کیلیے شروع دن سے یہ تین کام کریں:
جو پڑھیں ،اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوشش کریں ۔
روزنامچہ یعنی ڈائری لکھا کریں۔
اپنے اسباق کو یاد کرنے کے بعد زبانی لکھنے کی عادت ڈالیں۔
یہ تین کام کرنے سے آپ کو ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ آپ کاخط نکھر جائے گا اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو تحریر کا سلیقہ بھی آجائے گا،جو مستقبل میں آپ کو ذرا سی مشق سے ایک اچھا مصنف و ادیب بنادے گا۔ماضی کے اکابر کی تاریخ پڑھیں ۔ان میں سے تقریباً ہر ایک صاحب تصنیف تھا لیکن انھوں نے کوئی روایتی صحافت وادب یا تحریر و انشا کا کورس کیا تھا
اور نہ ہی ادب و انشا میں ماسٹرز ڈگری کے حامل تھے ۔یہ ان کی زمانہ طالبِ علمی کی مشق ہی تھی ،جس نے ان سے اتنا بڑا تحریری کام کروایا۔دور جدید میں کمپیوٹر زندگی کا ایک حصہ بن کر رہ گیا ہے۔ دینی مدارس نے بھی وقت کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی بساط بھر اسکی تعلیم لازمی قرار دیدی ہے۔
لہذا موقع کی مناسبت سے اس پر بھی دسترس حاصل کریں تاکہ آگے کی زندگی میں آسانی پیدا ہوسکے۔
نیز درسی کتابوں کے علاوہ غیر درسی کتابوں کے مطالعے کے لیے بھی وقت نکالیں ،لیکن ہر رطب و یابس نہ پڑھیں ۔ابھی آپ کی دینی معلومات مستحکم نہیں ،کچے اذہان کے کسی سے بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ خراب کتا خراب صحبت کی مانند ہوتی ہے و اذہان میں ہیجان پیدا کرکے آپ کو غیر محسوس طریقے سے اپنے مقصد سے ہٹا دیگی۔
اس لیے منتخب مطالعہ کریں ۔اپنے ذوق اور اساتذہ کے مشورے سے کتابوں کا انتخاب کریں ۔مطالعہ محض وقت گزاری کے لیے نہیں بلکہ معلومات میں اضافے کے لیے کریں ۔معلومات کو معمولات میں بدلنے کی بھی سعی کرتے رہیں۔
اس وقت تقریباً تمام ہی مدارس میں طلبہ کے اوقات کار کو مد نظر رکھتے ہوئے دعوت و تبلیغ کی محنت جاری وساری ہے۔ اس میں حتیٰ الامکان جڑنے کی کوشش کریں اور فارغ اوقات میں خروج فی سبیل اللہ کی ترتیب بھی بنائیں کہ جو پڑھا ہے اسے لوگوں تک پہنچانے میں کامیابی وکامرانی حاصل ہوگی۔
ان باتوں پر عمل کرکے آپ ایک اچھے طالبِ علم، مستقبل کے ایک کارآمد شہری اور قوم کے مقتدا و پیشوا بن سکتے ہیں۔
{ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُؕ-وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ}