(+92) 321 2533925
ڈیجیٹل میڈیا اور نوجوان نسل
جیسے ہی دنیا ترقی کے نئے دور میں داخل ہوئی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا، نوجوان نسل نے اس میں خوشیوں کا جہاں ڈھونڈ لیا۔ یہ نوجوان، جو پہلے اپنی مایوسی اور بے چینی کے لیے مختلف مشاغل اپناتے تھے، اب دن رات انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے پیچیدہ جال میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے گویا اُن کے لیے ایک نئی دنیا کا دروازہ کھول دیا ہے، اور وہ اس دنیا کے مکین بن گئے ہیں، جہاں حقیقت کی زمین ان کے پیروں تلے سے کھسک گئی۔
سوشل میڈیا کا بیجا استعمال:
یہ نئی دنیا جہاں نوجوانوں کے لیے ایک تفریحی اڈہ بنی، وہیں خاندانوں پر اس کے برے اثرات گہرے اور کئی طرح کے ناقابل بیان ہوئے۔ ایک طرف، انٹرنیٹ کے لیے بہتر موبائل فون، آئی پیڈ، اور تیز رفتار لیپ ٹاپ جیسے آلات کی طلب بڑھی، جس نے الیکٹرانکس انڈسٹری کو ترقی دی تو دوسری طرف ایسے گھروں میں بھی، جہاں راشن کا بندوبست مشکل تھا، مہنگے اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ پیکیجز کو لازمی سمجھا جانے لگا۔پھر موبائل چوروں، نان پی ٹی اے، دو نمبر موبائلز کو پیسے لیکر کھولنے والے ہیکرز کی بھی ایک نئی دنیا قائم ہوگئی۔ ڈیجیٹل فراڈ کی نت نئی اسکیمیں متعارف ہوئیں۔ مطلب یہ کہ بظاھر یہ خوشنما دنیا ایک مہلک جال ثابت ہوئی ہے۔ نوجوان نسل کی صحت متاثر ہونے لگی، کیونکہ نیند اور آرام کی قربانی دے کر وہ ڈیجیٹل دنیا کے عادی بن گئے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو بڑے بڑے نمبر کے چشمے لگ گئے۔خواتین گھر گستری اور بچوں کی تربیت سے بے نیاز ہو کر موبائل سنبھال کر بیٹھ گئیں۔ حد تو یہ ہے کہ اب چھوٹے بچے موبائل کے بغیر کھانا کھانے سے بھی انکاری ہیں۔ سوشل میڈیا پر لائکس اور کمنٹس کی دوڑ نے انہیں اس قدر الجھا دیا ہے کہ وہ حقیقی زندگی کے رشتوں اور ذمہ داریوں سے بیگانہ ہو گئے ہیں۔اپنے پروفائلز پر غیرضروری مواد ڈالنے، بے ترتیب ویڈیوز بنانے اور انہیں دیکھنے کی لت نے نہ صرف وقت کا زیاں کیا بلکہ ذہنی سکون بھی چھین لیا۔ معلوم دنیا کے آج تک کے ایجاد کردہ نشوں میں سب سے برا، سب سے بڑا اور دیرپا نشہ سوشل میڈیا کا ثابت ہوا ہے۔ تعلیم اور معاشرتی تعلقات بھی اس ڈیجیٹل جال سے محفوظ نہ رہ سکے۔ شارٹ کٹ کے ذریعے شہرت اور دولت کمانے کی ہوس نے تحقیق، مطالعہ اور محنت جیسے اصولوں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ سیاست ہو یا مذہب نوجوان ہر موضوع پر بغیر سوچے سمجھے رائے دینے لگے، اور یہ رجحان معاشرتی انتشار کا باعث بننے لگا۔ یہی نہیں، سیاستدانوں نے بھی اس نوجوان نسل کی کمزوری کو اپنی طاقت بنا لیا۔ ہر جماعت نے اپنے سوشل میڈیا سیل بنا لیے، جہاں نوجوانوں کو سیاسی پروپیگنڈے کا آلہ کار بنایا گیا۔ یہ رجحان معاشرتی اخلاقیات کے زوال کا سبب بن گیا، اور سیاست میں بدتمیزی، نفرت انگیزی اور کردار کشی کا ایک نیا باب کھل گیا۔ سوشل میڈیا کا ایک اور نقصان غیر اخلاقی مواد کی بڑھتی ہوئی دستیابی ہے، جس نے نوجوانوں کو اخلاقی زوال کی طرف دھکیل دیا۔ اس کے علاوہ آن لائن گیمز کی لت، مغربی ثقافت کی بے جا تقلید، اور اپنی مشرقی روایات سے دوری و بیزاری نے ایک نئی نسل کو جنم دیا ہے جو نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی طور پر بھی کمزور ہو رہی ہے۔ اب اس میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی ہے فین فلوئینگ کے لیے اپنے ہی گھر کی خواتین کو سر بازار لا کھڑا کیا جائے۔ اس صورتِ حال میں دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ نوجوان نسل ٹیکنالوجی کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ والدین، اساتذہ اور معاشرتی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں تاکہ وہ اس طاقتور وسیلے کو اپنی تعلیم، کاروبار، اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ڈیجیٹل میڈیا کے فوائد کو نقصان سے زیادہ مؤثر بنائیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل کی طرف لے جائیں۔اگر بر وقت اس طرف توجہ نہ دی گئی تو خاکم بدہن بقول اقبال: تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں کو بہت آسان بنایا ہے اور دور جدید کی بہت سی سہولیات کو ایک پلیٹ فارم پر مہیا کردیا ہے لیکن اس کا بیجا اور غلط استعمال بہت سے مسائل بھی پیدا کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانا بہت آسان ہو گیا ہے۔ یہ افواہیں معاشرے میں انتشار، افتراق اور نفرت پھیلارہی ہیں۔ اسکے علاوہ سائبر کرائم کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے اور ان کی ذاتی معلومات کو افشا کیا جاتا ہے مارکیٹ میں باقاعدہ اس کے خریدار موجود ہیں۔کوئی بھی فیک اکاؤنٹ بنا کر لوگوں کو دھونس دھمکی اور گالی کے کلچر کو فروغ ملا ہے، ان کی تصاویر کو بدنام کیا جاتا ہے اور ان کی ذاتی زندگی میں بے جا مداخلت کی جاتی ہے۔انسان متوازن و معتدل زندگی میں سکون محسوس کرتا ہے اور ہر چیز، خواہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، اس کا بیجا، شطر ہے مہار استعمال نقصان دیتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ڈپریشن، اضطراب اور تنہائی کا باعث بنتا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا کا صحیح استعمال:
اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں کو بہت آسان بنایا ہے اور دور جدید کی بہت سی سہولیات کو ایک پلیٹ فارم پر مہیا کردیا ہے لیکن اس کا بیجا اور غلط استعمال بہت سے مسائل بھی پیدا کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانا بہت آسان ہو گیا ہے۔ یہ افواہیں معاشرے میں انتشار، افتراق اور نفرت پھیلارہی ہیں۔ اسکے علاوہ سائبر کرائم کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے اور ان کی ذاتی معلومات کو افشا کیا جاتا ہے مارکیٹ میں باقاعدہ اس کے خریدار موجود ہیں۔کوئی بھی فیک اکاؤنٹ بنا کر لوگوں کو دھونس دھمکی اور گالی کے کلچر کو فروغ ملا ہے،ان کی تصاویر کو بدنام کیا جاتا ہے اور ان کی ذاتی زندگی میں بے جا مداخلت کی جاتی ہے۔انسان متوازن و معتدل زندگی میں سکون محسوس کرتا ہے اور ہر چیز، خواہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، اس کا بیجا، شطر ہے مہار استعمال نقصان دیتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ڈپریشن، اضطراب اور تنہائی کا باعث بنتا جا رہا ہے۔حکومت کی ناقص کارکردگی اور کلیدی عہدوں پر نا اہلوں اور چاپلوسوں کی تقرری کا فائدہ ملک دشمن عناصر ہمیشہ اٹھاتے آئے ہیں سوشل میڈیا نے یہ کام مزید آسان کردیا ہے۔
میڈیا وار:
ففتھ جنریشن وار سے تمام نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔افواہوں کے بازار میں حق و صداقت کی آواز ڈھونڈنے نہیں مل رہی۔اس افر تفری میں ملکی معیشت ہچکولے کھانے پر مجبور ہے دراصل ففتھ جنریشن وار ایک جدید قسم کی جنگ ہے جو روایتی جنگوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس میں جسمانی طاقت کے بجائے معلومات، ٹیکنالوجی اور نفسیاتی جنگ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے ہم ایک بھیانک دور بلکہ بند گلی میں داخل ہو گئے ہیں ملک عزیز بھی اس وقت ففتھ جنریشن وار کا سامنا کر رہا ہے۔ اس جنگ میں پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سائبر حملے، دہشت گردی، پروپیگنڈا، سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔

کالم نگار : عبداللہ حسین،شریک کلیہ ابلاغ عامہ،جامعہ بنوریہ عالمیہ
| | |
1132     1