(+92) 321 2533925
جنات کے حقائق
جنات جمع ہے جن کی اور جن کہتے ہیں پوشیدہ اور مخفی مخلوق کو،ان کا جسم انتہائی لطیف ہوتاہے،ان کو اصل شکل میں حضرات انبیائے کرام علیہم السلام ہی دیکھ سکتے ہیں، یا اللہ جنہیں دکھلانا چاہے وہ بھی دیکھ سکتے ہیں۔ عام لوگوں کو اس کے مشاہدات محسوس ہوتے ہیں جس سےپہچان لیتے ہیں ،اگر جنات اپنی اصل شکل ظاہر کریں تو لوگ ان کا تحمل نہ کرسکیں گے۔کیونکہ ان کے وجود کی قوت انتہائی خوف ناک اور بھاری ہے اور عام انسانوں میں وہ طاقت ہی نہیں کہ ان کو اصل شکل میں دیکھ سکیں ،اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس مخلوق کو عام لوگوں سے مخفی رکھاہے۔
جنات سے کام لینا
اور انبیائے کرام علیہم السلام ان سے مختلف کام کاج بھی کراسکتے تھے،جیساکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ قرآن کریم میں موجودہے،جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمِنَ الْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ} (سورۃ سبا،آیت12) ترجمہ: "اور کچھ جن (قابو میں دیدیے) جو اس کے آگے اس کے رب کے حکم سے کا م کرتے تھے اوران میں سے جو بھی ہمارے حکم سے پھرے ہم اسے بھڑ کتی آ گ کا عذاب چکھائیں گے۔" ہمارے ہاں بھی مختلف مقامات پر ان کے مشاہدات ہوتے رہتے ہیں ،بعض اوقات یہ کوئی انتہائی قیمتی چیز اٹھالیتے ہیں اور جن کو ان کے بارے میں کچھ علم ہو اور ان کی حس بیدار ہو تو یہ ان کی آمد اور کیفیات کو محسوس کرلیتے ہیں ،مختلف لوگ مختلف اعمال کرکے ان کو اپنے قابو میں کرلیتے ہیں۔ جنات کو تسخیر کرنا: احناف ان کی توکیل کے ،جبکہ دوسرے ائمہ ان کی تسخیر کے بھی قائل ہیں۔ان کو تابع کرکے ان سے کام لینے کی حدود وقیود اور شرائط ہیں،ان سے جو شخص تجاوز کرے یہ ان کے لیے کام بھی نہیں کرتے اور ممکن ہے کہ الٹا اسے نقصان دیں۔ یہ جو لوگوں میں مشہور ہے کہ جنات کو تابع کرکے جو چاہو ان سے کام لو،یہ بات غلط ہے۔جس طرح انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے مختلف قوموں ،قبیلوں میں تقسیم کررکھاہے اسی طرح جنات کے بھی قبائل اور اقسام ہیں، جیسے دیو،بھوت،چڑیل،پری وغیرہ،ہر ایک کی طاقت وقوت اورکام کرنے کے طور طریقے دوسروں سے جدا ہیں،ان میں بھی نیک صالح اور فاسق فاجر ہر طرح کے جنات ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دو مخلوقات اپنی عبادت کے لیے پید اکی ہیں ،ایک انسان اور دوسری جنات، جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ} (سورۃ الذاریات،آیت 56) ترجمہ: "اور ہم نے جنات اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔" عفریت جنات کی طاقت ور قوم سے اور پری خوب صورت قوم سے اور چڑیل بدنما اور بدصورت قوم سے تعلق رکھتی ہے۔شیاطین ابلیس کی اولاد میں سے ہیں۔جنات شیاطین سے الگ جنس ہیں۔جنات کی رہائش بھی ایسی ہے جیسے انسان رہتے ہیں ۔ جہاں دیگر مخلوقات رہتی ہیں تو ان کے ساتھ جنات وشیاطین بھی رہتے ہیں اور جس طرح انسان مختلف مذاہب،فرقوں اور مسالک سے تعلق رکھتے ہیں،اسی طرح جنات میں بھی مختلف خیالات ونظریات پائے جاتے ہیں۔ تعلیمی اعتبار سے بھی انسانوں کی طرح جنات بھی علوم وفنون کے حصول کے لیے کوشش کرتے ہیں اور بعض اوقات یہ انسانی شکلوں میں آکر انسانوں کے ساتھ اسکول،کالج اور دیگر اسپیشل کورسز کرتے ہیں،ان کی ایک نشانی یہ ہے کہ آنکھ جھپکنے سے پہلے اِدھر اُدھر نظر آتے ہیں اور ان کی حرکات انسانوں کے مقابلے میں کئی گنا تیز ہوتی ہیں، جب کبھی یہ بیمار پڑتے ہیں اور دوا دارو اور اپنی جنس کے علاج سے فائدہ نہ ہوتا ہے تو یہ انسانی شکل میں اپنا علاج معالجہ ظاہری ہسپتالوں میں بھی کرواتے ہیں ۔جنات جو ظاہر میں نظر آتے ہیں وہ بعض اوقات لوگوں کی دعوت کرتے بھی ہیں اور ان کی دعوتوں میں شامل بھی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنات کو یہ طاقت بخشی ہے کہ وہ بذریعہ سانس انسانی وجود میں بآسانی داخل ہوسکتے ہیں اور ان کو وہ راستے بھی معلوم ہیں جن سے داخل ہوناہے۔وہ ایسے راستوں پر اپنا تصرف کرکے ان کو کمزور کردیتے اور داخل ہوجاتے ہیں اور وجود حلول کرجاتے ہیں اور روایات سے بھی معلوم ہوتاہے کہ نبی اکرم ﷺ نے شیطان کے بارے میں فرمایا ہے: {اِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِیْ مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ } (بخاری ، کتاب الاعتکاف ، باب ۱۱) ترجمہ: "شیطان انسان کے وجود میں خون کی مانند گردش کرتا ہے۔" اسی طرح شیطان کے متعلق یہ بھی آتاہے کہ اگر کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو وہ تمھارے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاتاہے ،جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: "جس کھانے پر بسم اﷲ شریف نہ پڑھی جائے وہ کھانا شیطان کیلئے حلال ہوجاتا ہے" (یعنی وہ کھانا جو بسم اﷲ شریف کے بغیر کھایا جائے اس میں شیطان شریک ہو جاتا ہے ۔)اسی طرح مسلم شریف کی ایک طویل حدیث میں آتاہے: { فَقَالَ رَسُولُ اللهِ: إِن الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرُ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ } ترجمہ: "آپ ﷺ نے فرمایا ، جس کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو شیطان اس کو اپنے لیے حلال سمجھتا ہے." ایک اور حدیث میں ہے کہ: { عَن جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: إِذَا دخل الرَّجُلُ بَيْنَهُ فَذكر الله عِندَ دُخُولِهِ وَعِندَ طَعَامِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لا مُبِيْتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِندَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ اَدْرَكْتُمُ الْمَبِيْتَ، وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ الله عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ: أَدْرَكْتُمُ المَبِيْتَ وَالْعِشَاءَ } (صحیح مسلم: كتاب الأشربة) ترجمہ: "حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا کہ جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہونے اور کھانے کے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے تمہیں (یہاں) رات گزارنے کا ٹھکانا اور شام کا کھانا نہیں ملے گا اور جب گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ تمہیں ٹھکانا مل گیا ہے۔ اور جب آدمی کھانے کے وقت بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ ٹھکانا اور کھانا تمہیں دونوں مل گئے۔
خلاصہ کلام:
غرضیکہ شیاطین انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں اوران کے وجود میں حلول کرتے ہیں،جس طرح انسان جادو کرتے ہیں اسی طرح جنات وشیاطین کو بھی یہ طاقت وقوت دی گئی ہے ۔جادوگر بطورِ علاج کے جنات وشیاطین سے مدد حاصل کرتے ہیں ،جبکہ عامل حضرات نوری اعمال کرکے ان سے علاج معالجہ میں مدد حاصل کرتے ہیں۔ عام عاملوں کے پاس عام جنات آتے ہیں اور جو صاحبِ نسبت عامل ہوتے ہیں ان کے پاس مؤکلات آتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ نوری اعمال کرنے والوں کو بھی جادوگر کہتے ہیں،جو ان کی جہالت اور کم علمی کا ثبوت ہے۔جنات سے انسان کی شادی ممکن ہے ،جس کسی کے ساتھ جنات شادی کرتے ہیں اس کے پاس انسانی شکل میں آتے اور رہتے ہیں ۔ اہلِ علم کے درمیان اس کے جواز وعدم جواز پر اختلاف ہے،احناف کا راجح قول اب تک میری نگاہوں سے نہیں گزرا،جب یہ شادی کرتے ہیں تو ان سے اولاد بھی ہوتی ہے،یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب یہ انسانی شکل میں ہمبستری کریں یاکروائیں تو ان کو انسانی جنس میں سے ہی شمار کیاجائے گا۔ اگر یہ ظنی و خیالی شکل اختیار کریں جس سےان کا وجود نظر نہ آئیں تو ان کو جنات ہی میں سے سمجھا جائے گا اور ایسی شکل اختیار کرنے والوں سے اولاد نہیں ہوا کرتی۔خواب میں جنات وشیاطین لوگوں کے پاس آتے ہیں اس سے بھی اولادنہیں ہوتی،یہ شیطانی تصرف ہوتا ہے، جس کی وجہ سے احتلام یا دیگر امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں،جبکہ اولاد کے لیے حقیقی ہم بستری ضروری ہے، جو محسوس بھی ہو اور جانبین اس میں شریک ہوں۔اسی طرح جنات وشیاطین انسانوں کوقتل بھی کرسکتے ہیں ،آج بھی ایسی پراسرار اموات کے واقعات دیکھنے اور سننے میں آتے ہیں،اگر کوئی عامل کامل جستجو کرے تو اسے ان واقعات کے پیچھے بھی جنات نظر آئیں گے۔جنات انسان کے دوست بھی ہوسکتے ہیں اور دشمن بھی، اسی طرح یہ انسانوں کے ساتھ دوستی اور تعلق بھی قائم کرلیتے ہیں اور ان کے دشمن بھی بن جاتے ہیں،جس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس دنیامیں انسانوں سے پہلے جنات کی حکومت تھی،اس حسد کی وجہ سے شریر جنات انسانوں سے دشمنی رکھتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے ان کے شرور سے حفاظت کے لیے دعائیں تلقین کی ہیں،ان ماثور دعاؤں کااہتمام کرنا اور اپنی زندگی کو سنت کے مطابق گزارنا اور کاملین کے اعمال کی پابندی کرنے سے ان کے شر سے بچا جاسکتا ہے۔
اہم بات:
یہ بات ذہن نشین رہے کہ اپنے طور پر کبھی بھی جنات کو قابو کرنے کےلیے اعمال نہیں کرنے چاہئیں،ایسی صورت میں سخت نقصان کا خطرہ ہے۔ جنات کی آپس میں لڑائیاں بھی ہوتی ہیں اور جب ان کی لڑائیاں شدت اختیار کرجائیں اور حل ہونے کا نام نہ لیں تو وہ اپنا مدعا کسی عامل کامل کے پاس لے کے حاضر ہوتے ہیں اور وہ ان کی صلح کرواتاہے۔اس قسم کے واقعات کا مشائخ سے ثبوت بھی ملتا ہے۔ ایک مرتبہ میرے شیخ قاری ضیاءاللہ شاہ صاحبؒ نے بتایاکہ آج رات میرے پاس جنات کے دو قبائل آئے، ان کا آپس کا اختلاف بہت بڑھ گیاتھا۔ دونوں نے میرے سامنے اپنا اپنا مدعا رکھا تو میں نے ان کی بات سن کے ان کے درمیان معاملات طے کراکے صلح کرادی۔ ( مزید معلومات کے لیے تاریخ جنات و شیاطین دیکھئے)

کالم نگار : مفتی امان اللہ شازلی
| | |
6244