(+92) 319 4080233
امت مسلمہ کی زبوں حالی اور اسلامی تعلیمات
امت مسلمہ کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ اسلام کی روشن تعلیمات کو پس پشت ڈالنا ہے اور اس کا حل بھی صرف اور صرف یہی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کی طرف واپس لوٹیں۔اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو صرف عبادات کادین نہیں بنایا،بلکہ ایک کامل طرزِ زندگی کا حامل جامع دین بنایا ہے ، جس کے اگر قرآن کریم کے ذریعے علمی احکام دیے گئے ہیں تو خاتم النبین سیدالرسل حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے شب وروز کے ذریعے ان کی عملی شکل بھی واضح کردی ہے،یہ عملی شکل ہمیں دورِنبوی اور دورِخلافتِ راشدہ میں ملتی ہے،جب اسلام کا سورج اپنے نصف النہار پر تھا اور مسلمانوں کواللہ تعالیٰ نے عالم گیرغلبہ عطا فرمارکھاتھا۔ جب ہم نے ان روشن تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے نکال دیا توہماری ذلت وادبار کے دن شروع ہوگئے اور ہم زبوں حالی کی عمیق گہرائیوں میں گرتے چلے گئے۔
وقت کی اہم ضرورت:
اتحاد واتفاق قائم کرنے کی ضرورت آج سب سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔ آج کوئی ایسا نظام نہیں جس کو سب لوگ تسلیم کریں اور جس کی سب اطاعت کریں۔ ہر قوم دوسری قوم کی مخالف ہے بلکہ اس قدر عناد ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کو دیکھنا تک نہیں چاہتی۔وقتی ضرورت کے تحت اقوام وملل کے درمیان معاہدے ہوتے اور ٹوٹ جاتے ہیں۔ کوئی ایسا حکمران،کوئی متفقہ قانون نہیں، جس میں ہر ایک کی فطری ضرورتوں کا پورا لحاظ رکھا گیا ہو،دنیا کے تمام شہ دماغ اس محاذ پر اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔
معاشرتی مسائل کا نبوی حل:
اِس کا حل سیرتِ طیّبہ میں موجود ہےجو اللہ کے نبی ﷺ نے پیش کیا، اِس حل نے اُس وقت کی اختلاف وانتشار سے تباہ حال دنیا کو متحد کردیاتھا،اِس میں اب بھی یہ طاقت موجود ہے۔ آپ ﷺ نے دنیا کوپیغام دیاکہ کسی انسان یا اِدارے کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے بجائے اُس ذات کی حاکمیت کو تسلیم کرلو جس نے سارے انسانوں اور اِداروں کو جنم دیا ہے۔ اِس دعوتِ توحید کو جوق در جوق افرادِ انسانی نے قبول کیااورایک لڑی میں اِس طرح متحد ومنظم ہوگئے جس طرح ایک مالا کی لڑیاں باہم مربوط ومنظم ہوتی ہیں۔جو شخص بندوں کی غلامی کی زنجیریں توڑ کر اپنے رب کی غلامی کا ہار اپنے گلے میں ڈال لیتا ہے،وہ زندگی کے ہر شعبے میں راہ نمائی کرنے والی کتاب قرآن مجید اور اس کی تفسیر حدیثِ رسولﷺ کو اپنے ہم راہ پاتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قانونی کتاب نازل فرمائی ہے، جس میں اللہ نے اپنے قوانین بیان فرمائے ہیں۔ جس دور میں بھی اِس قانون کو نافذ کیا گیا،دنیا نے اِس کے ثمرات کا کھُلی آنکھوں مشاہدہ کیا۔
قومی و نسلی تفاخر زہر قاتل:
لوگ قومی تفاخر اور نسلی اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں۔کالے گوروں کا اختلاف، علاقے علاقے کااختلاف، ملکی اور غیرملکی امتیاز، اِن تمام اختلافات و امتیازات کی وجہ سے جو پریشانی پہلے تھی اِس سے کہیں زیادہ آج ہے۔ پہلے تو دنیا کی قومیں الگ تھیں، لیکن آج جبکہ ذرائع ابلاغ کی ترقی کی وجہ سے ہر دوری نزدیکی میں بدل چُکی ہے اور پوری دنیا ایکGlobal Villageبن گئی ہے، قومی تفاخر،نسلی اختلافات و امتیازات کو ختم کر کے ہی سکون کا سانس لیاجاسکتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ اِس طرح کے تفاخر و امتیاز سے پیدا ہونے والے نقصانات سے خوب واقف تھے،
خطبہ حجتہ الوداع کی اثر پذیری:
یہی وجہ ہے کہ خطبۂ حجۃ الوداع میں آپ ﷺنے ان تمام امتیازات کو جڑ سے ختم کرنے کا اعلان فرماکر قیامت تک آنے والی انسانیت کو یہ سبق دیا : تم سب ایک خالق کی مخلوق اور ایک معبود کی عبادت کرنے والے ہو،اِس لیے اختلافات و امتیازات کو ختم کرو اور یاد کرو کہ تم سب ایک ہی باپ کی اولادہو اور تمہارے باپ مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔جن لوگوں کوخاتم النبیین ﷺنے یہ تعلیم دی،ان کے اندر سے امتیاز و تفاخر اور تفوق برتنے کے سارے جراثیم کو آپ ﷺنے یکسر ختم کردیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ سب کے سب بھائی بھائی بن گئے اوروہ خود اِس مساوات واخوّت کا نمونہ ہی نہیں بنے ،بلکہ جہاں گئے وہاں اسی تعلیم نبوی کو عام کیا،یوںایک عالم گیر برادری اور ہمہ گیر اخوت وجود میں آگئی۔ رسول اللہ ﷺنے اوس اور خزرج اور یہود و نصاری سے معاہدات کیے، آپسی تعاون وتناصر اور رواداری کی دستاویزات مرتب کیں، پھر اپنی تحریکِ دعوت و تبلیغ کو تیز تر کیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ مقامی لوگ اِسلام میں داخل ہوتے گئے اور چندہی برسوں میں سارا عرب کلمۂ توحید کاقائل ہوگیا۔
مشن نبوی کو اپنایا جائے:
آج دنیا بے راہ روی، ظلم و ستم، بے کیفی اور بے اطمینانی سے عاجز آچکی ہے۔ اِس کو تلاش ہے کسی صحیح منزل کی، امن وآشتی کی، اطمینان اور سکون کی، اِسلام میں یہ سب کچھ موجود ہے۔ صرف ضرورت ہے رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مشن کے اپنانے کی۔ رسولِ مکی و مدنی ﷺ کی سیرت کی اتباع کی۔ غیرمسلموں کو اسلام کے ابدی پیغام ِ ہدایت سے روشناس کرانے کی،اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب کفار کے ساتھ نبوی طریق پر معاہدے کیے جائیں،تاکہ وہ مسلمانوں کے قریب آئیں اور ان کی بات سننے کے لیے آمادہ ہوں۔ ہر ملک جرائم کی آماجگاہ بن چکاہے، سخت سے سخت قوانین ہونے کے باوجود،جرائم ، فسادات عام ہیں۔ قوانین ناکام ہیں کہ قوانین تیار کرنے کے لیے انسانی عقل کافی نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پرامن و امان اور سکون و عافیت پھیلانے والے قوانین خود وضع کیے اور اس کام کوکسی انسان حتیٰ کہ کسی نبی کے بھی سپرد نہیں کیا۔ ان سب جرائم کا علاج اسلامی احکام کے نفاذ میں پوشیدہ ہے۔ دنیا کو سکون انہی قوانین کے نفاذ کے بعد مل سکتا ہے؛ جن قوانین کو نافذ کرکے رسول اللہ ﷺاور خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم اجمعین نے روئے زمین پر امن وامان قائم کیاتھا۔انسان فطری طور پر حریص واقع ہوا ہے، اسے یہ تو یاد رہتاہے کہ اس کے وہ کون کون سے حقوق ہیں ،جو اس کو معاشرے کے افراد سے وصول کرنے ہیں،لیکن ہمیشہ اس بات کو فراموش کر بیٹھتا ہے کہ وہ کون سے فرائض ہیں جو اس کے ذمے معاشرے کے دوسرے افراد کے حوالے سے عائد ہوتے ہیں، اس لیے اﷲ تعالیٰ نے خود ہی اپنے کلام اور اپنے نبی ﷺکی آفاقی تعلیمات کے ذریعے حقوق وفرائض متعین کردیے ہیں۔موجودہ دور کاسب سے بڑا المیہ اخلاقیات کا فقدان ہے۔ اخلاقی برائیاں عام ہیں۔ عام انسانوں اور مسلمانوں میں ہی نہیں؛ بلکہ خواص میں بھی اخلاقیات کاانحطاط پایاجاتاہے۔ اِس انحطاط و تنزل کا صرف اور صرف ایک ہی علاج ہے کہ ہر بری خصلت کی برائی وشناعت اوراس کے دنیوی واخروی نقصانات کومعقول انداز میں بیان کیا جائے۔ قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنے،تفسیراور احادیث کی تعلیم اہتمام ہو، غیروں کے بجائے اپنی خرابیوں پر غور کیاجائے اوراصلاح کی کوشش کی جائے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کواس دستور العمل کے مطابق اپنے اپنے دائرۂ کار میں اپنی ذمے داریاں پوری دیانت وامانت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
1346     1