زبان و بیان انسان کی پہچان اور شناخت و شخصیت کی عکاس ہوا کرتی ہیں۔
خدائے بزرگ و برتر نے ہمیں قلم کے ذریعہ عزت بخشی اور علم و معلومات کو عام کرکے انسان کو باقی مخلوقات پر فوقیت عطا کی گئی ہے۔
اپنے فطری جذبات و احساسات ی صحیح ترجمانی کے لیے اہل زبان ہونا از حد ضروری ہے ورنہ آپ محاصل کی تلاش میں مارے پھرتے نظر آئیں گے۔
عربی زبان کو تمام زبانوں پر فوقیت حاصل ہے اور اس اعزاز بھی بھی حامل ہے کہ یہ زمانہ کے تغیر و تبدل کو قبول نہیں کرتی۔
باقی دنیا کے مروجہ اصول کے مطابق دنیا کی ہر زبان اور بیان عرصہ سو سال بعد کروٹ لیتا ہے اور کیا سے کیا ہو جاتا ہے۔
مثال کے طور پر
آج کے نوجوان کو اگر ابو الکلام آزاد، اشرف علی تھانوی، میر ببر علی انیس اور انہی کے ہم عصر دوسرے اہل قلم کی تحریر و تقریر دکھلائی جائے تو وہ حیران و سرگردان بلکہ انگشت بدنداں نظر آتے ہیں۔
"صادق أتاغول" جو کہ غازی عنتاب یونیورسٹی ترکی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں، کہتے ہیں: "تاریخ کے دوران ترک زبان پر عربی زبان کا بہت گہرا اثر رہا ہے، یہاں تک کہ ترکی میں استعمال ہونے والی عربی اصطلاحات کا تناسب تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔"
اسی طرح فارسی زبان میں آج تقریباً 60 فیصد الفاظ عربی الاصل ہیں۔ فارسی میں عربی الفاظ کی بھرمار نے فارسی بولنے والوں کو مجبور کیا کہ وہ عربی قواعد کو سمجھیں تاکہ ان الفاظ کے اصل معانی اور اشتقاق کو بہتر طریقے سے جان سکیں۔ یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ عربی زبان کتنی مضبوط اور اثر انگیز ہے۔
اردو زبان کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ اردو زبان میں بھی تقریباً 30 سے 40 فیصد الفاظ عربی سے مستعار لیے گئے ہیں۔ اردو بولنے والوں کو اکثر ان عربی الفاظ کے اصل معانی اور قواعد سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی۔ جس طرح فارسی بولنے والے عربی قواعد سیکھتے ہیں تاکہ ان کی زبان میں شامل عربی الفاظ کو بہتر طور پر سمجھ سکیں، اسی طرح اردو بولنے والوں کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ عربی کے بنیادی قواعد کو سمجھیں تاکہ اردو میں شامل عربی الفاظ کا صحیح مطلب اور استعمال جان سکیں۔
ہماری مجبور و مظلوم اردو زبان، جس میں آج کل انگلش کو بے حد مکس کر دیا گیا ہے، اپنی اصل پہچان کھوتی جا رہی ہے۔ لوگ اب مکمل اردو میں جملے نہیں بنا پاتے یا تجاہل عارفانہ سے جان چھڑاتے نظر آتے ہیں۔اول تو انہیں اردو کے قواعد و ضوابط کا صحیح علم نہیں ہوتا اور اس پر مستزاد سیکھنا بھی نہیں چاہتے۔ شو مئی قسمت کہ ہمارا تعلیمی نظام بھی احساس کمتری سے لیس لارڈ میکالے کے کالے غلاموں کے ہاتھوں میں ہے جو دانستہ اردو کی بجائے انگلش کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتے ہیں۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آنے والی نسلیں اردو سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
بھئی انہیں یہ بات کیونکر سمجھ نہیں آتی کہ انگریزی بھی محض ایک زبان ہے جیسے دنیا کی دیگر زبانیں، نہ یہ ترقی کا زینہ ہے اور نہ ہی اشرف المخلوقات ہونے کا سرٹیفیکیٹ۔ اگر آج امریکہ سپر پاور کی کرسی سے لڑھک جائے( جیسا کہ بریکس ممالک کی سرتوڑ کوشش ہے) تو شاید لوگ انگریزی زبان میں بھیک مانگتے ہوئے بھی ملیں۔
یہ ستم ظریفی بھی ملاحظہ کیجئے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ قول کہ " پاکستان کی قومی زبان اردو ہے" مقننہ میں انگریزی زبان میں درج ہے۔
اسمبلی ،کورٹ کچہری، تھانے ہسپتال، ائر پورٹ الغرض ہر عوامی جگہ پرانگریزی کا بول بالا کر کے اردو کا منہ کالا کیا جارہاہے اور اس میں کوئی بیرونی طاقتیں ملوث نہیں اپنوں کی کارستانی ہے۔
اگر یہی حال رہا تو اردو بھی ان زبانوں میں شامل ہو جائے گی جو اپنی پہچان کھو چکی ہیں۔ اس لیے میں نے انگلش کو چھوڑ کر مکمل اردو لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ حتی الامکان اپنی زبان کی حفاظت کر سکوں۔
یہی وجہ ہے کہ اردو بولنے والوں کے لیے عربی سیکھنا صرف مذہبی یا علمی لحاظ سے نہیں، بلکہ اپنی زبان کے صحیح ادراک کے لیے بھی مفید ہے۔
اگر ہم نے اردو زبان کی حیثیت کو نہ سمجھا اور اسے لسانی و گروہی تضادات کی نظر ہونے دیا تو بہت جلد ہم دنیا سے بے نام و نشان ہو جائیں گے۔
اس بات کو ذرا دوسرے زاویہ سے سمجھئے۔!!
ہمارا تمام تر دینی و مذھبی ورثہ عربی زبان میں ہے جس پر ماسوائے علماء کے کسی کو بھی مکمل دسترس حاصل نہیں، رہ گئے ان کے اُردو تراجم جو بڑی محنت و عرق ریزی سے ہم تک پہنچے ہیں۔
اب اگر ہم اردو سے بیگانہ رہے اور اس انگریزی کی احساس کمتری میں اردو کو دیس نکالا کردیا تو گویا مذھب تو گیا ہاتھ سے ساتھ میں اپنی قومی و تاریخی شناخت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گویا:
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
اور اگر کوئی اس بھول میں ہے کہ انگریزی تراجم سے سیا ابو گوگل سے کام چلا لے گا تو یہ احمقوں کی جنت کا باسی معلوم ہوتا ہے۔
اول تو انگریزی تراجم اتنے زیادہ قابل بھروسہ نہیں دوسرے پھر وہی زبان کا مسئلہ کہ اپنے فطری جذبات واحساسات کی مجموعی عکاسی اپنی ہی زبان میں ممکن ہے نہ کہ کرائے کی زبان میں۔
لے دے کر آخر میں اہل مدارس سے امید وابستہ ہے کہ وہ ہر طرح کے نامساعد حالات، اپنوں کی ستم ظریفی و بے اعتنائی اور الزام تراشی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اُردو کی آبرو کو قائم رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ایک جگہ سنا کہ ایک ذہنی پستی کے شکار بزرگ اپنی نواسی سے انگریزی میں کہہ رہے تھے کہ اپنی نانی کا ہاتھ پکڑو۔
کچھ عرصہ قبل کویت سے ترکی جانا ہوا جہاں سوائے ترک زبان کے کسی بھی جگہ نہ کوئی اور زبان بولتا ہے اور نہ ہی لکھنے کو ملتی ہے۔
وہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک آئے ہو تو ہماری زبان بولو نہیں آتی تو سیکھ کر بولو۔
اسی طرح اگر سفر عمرہ یا حج پر آپ سعودیہ گئے ہوں تو آپ میں سے بہت سوں نے محسوس کیا ہوگا کہ سب سے زیادہ زائرین پاکستان ہندوستان اور بنگلہ دیش سے ہوتے ہیں اور اسی طرح وہاں کام کرنے والوں کی اکثریت ایشائی ممالک کی ہے جہاں بالعموم اردو سمجھی اور بولی جاتی ہے
اس کے باوجود بھی ڈیوٹی پر موجود شرطے چاہتے تو اردو سیکھ لیتے اور انہی کی زبان میں بات کرتے لیکن ان سب کے باوجود وہ اردو کے دو چار لفظ سے زیادہ اپنی زبان عربی میں بات کرنا اپنے لیے فخر سمجھتے ہیں۔
اور ہمارے والوں کی تو بات ہی چھوڑیئے !! باہر ملک تو درکنار کراچی، لاہور یا اسلام کی کسی اچھی سوسائٹی میں چلے جائیں تو سارا دن ان کا ایکچولی اور اس ایکسکیوز می میں گزر جاتا ہے۔
یہ سب اس وقت وجود میں آتا ہے کہ جب بندہ اپنے آپ کو کسی بھی احساس کمتری کا شکار سمجھنے لگتا ہے
اور ہاں کیوں نہ ہوں احساس کمتری کا شکار کہ جہاں پر چند عیاش حکمرانوں نے 22 کروڑ کے ناک میں دم کر رکھا ہے وہاں اسی دو رخی کی امید کی جاسکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں احساس کمتری سے نکل کر احساس برتی میں داخل ہونے کی ضرورت۔اسی میں ملک و ملت کی صلاح و بقا کا راز مضمر ہے۔
بقول شخصے،
جسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں آتا۔
خلاصہ کلام
یہ ہے کہ اردو زبان صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک ثقافت اور ایک شناخت ہے۔ یہ زبان ہمارے جذبات، احساسات اور خیالات کا اظہار کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اردو زبان کی اہمیت اور افادیت کو کئی پہلوؤں سے دیکھا جا سکتا ہے۔
ذیل میں ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں
قومی شناخت:
اردو زبان پاکستان کی قومی زبان ہے۔ یہ ہمارے ملک کی ثقافتی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے۔اس کے ذریعے پورے ملک کے افراد گویا ایک خاندان و کنبے کی مانند جڑے ہوئے ہیں۔
ادبی خزانہ:
اردو زبان میں دینی و مذھبی مواد، معلومات عامہ ، تاریخی و ثقافتی اور تہذیبی ورثہ، شاعری، نثر اور افسانے کا ایک وسیع خزانہ موجود ہے۔
تعلیم و تربیت:
جو بات اپنی مادری زبان میں کہی اور سمجھائی جائے اس کے دور رس اور بہترین نتائج برآمد ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا میں موجود غیور اقوام اپنی زبان میں ہی تعلیم دیتی ہیں اور اس پر کسی قسم کے سمجھوتے کی قائل نہیں ۔ بعنیہ ہماری اردو زبان بھی نسل نو کی تعلیم و تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
مذہبی اور سماجی تعلقات:
اردو زبان مذہبی اور سماجی تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے، پر امن بقائے باہمی، برابری اور رواداری کو فروغ دیتی ہے۔
عالمی سطح پر شناخت:
اردو زبان دنیا کی چند مشہور زبانوں میں سے ایک ہے جو عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا چکی ہے۔ جو لوگ حج وعمرہ کے سلسلے میں دیار مقدس گئے ہیں وہ اس بات کو بخوبی جانتے ہوں گے کہ سعودی عرب کے مقامات مقدسہ اور نقشہ جات پر عربی ، انگریزی اور اردو تین زبانیں درج ہوتی ہیں۔
جذبات کا اظہار:
اردو زبان کے مادری ہونے کے علاؤہ سہل و آسان بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں جذبات و احساسات کا اظہار بہت خوبصورت انداز میں کیا جا سکتا ہے۔
فکری تبادلہ:
اردو زبان کے ذریعے خیالات کا تبادلہ آسان ہو جاتا ہے۔ اسی طرح نقد و نظر اور اپنے مافی الضمیر کی صحیح ترجمانی میسر آتی ہے۔
علم کا ذخیرہ:
اردو زبان اپنے دامن میں علم کا وسیع تر ذخیرہ سموئے ہوئے ہے۔ چنانچہ دین و مذھب ، تاریخ و تمدن، تہذیب و ثقافت الغرض دنیا کا کونسا ایسا موضوع ہے جو اردو زبان میں موجود نہ ہو ؟
ثقافتی ورثے کی حفاظت:
اردو زبان ہماری ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ جو قومیں اپنے ماضی کی جڑوں سے پیوستہ رہتی ہیں نت نئی بہاریں اور شادابی و کامرانی ان کا مقدر بنتی ہے۔جن تہی دستوں کے ہاں تاریخی شناخت ہی نہیں انہیں قوم کہلانے کا حق بھی نہیں۔
الغرض اردو زبان ہماری قومی شناخت اور روشن مستقبل کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہمیں اس زبان کو بچانا اور اسے فروغ دینا ہے۔
رہے نام اللہ کا!!