(+92) 321 2533925
وجود باری تعالیٰ
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانی فہم میں نہیں سما سکتا کیونکہ اُسکی تو مثال کی مثال بھی موجُود نہیں لیکن اپنے خالِق سے مُتعلق میری جُستجُو میرے اس جاننے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے. تبھی جب میں اللہ سے مُتعلق سوچتا ہُوں تو اُسکی شان کے بارے میں پڑھا گیا ہر ورق گویا میری آنکھوں کے سامنے تیرنے لگتا ہے۔ میں نے یہ بات محاورتاََ نہیں کہی۔ الفاظ کسی مفہُوم کا اظہار ہوتے ہیں، جیسے میں آپکے سامنے پھُول کا لفظ دوہراؤں تو آپکے ذہن میں کسی پھُول کی شبیہہ بنے گی، ایسے ہی جب میں تنہائی میں اپنے اللہ کے بارے میں سوچتا ہُوں تو میری آنکھوں کے سامنے پہلے تو وہ تمام الفاظ مجتمع ہو کر چلے آتے ہیں جو میں اللہ کے بارے میں پڑھ چکا. پھر اُن الفاظ کی تہہ میں چھپے اُن مفاہیم کی تصویریں جن کا وہ اظہار ہیں، میرا ایسے گھیراؤ کر لیتی ہیں جیسے ستارے زمین کا گھیراؤ کیے ہُوئے ہوں۔ میں وہ تصویریں تیزی سے کھنگالتا ہوا گویا ایک وسیع و عریض خلا میں آگے ہی آگے تیرتا چلا جاتا ہُوں، ہر تصویر میرا تجسُس اور بڑھاتی ہے، مجھے لگتا ہے کہ آگے نظر آنے والا مفہُوم ضرور مجھے کوئی سراغ دے گا، میں ایک کے بعد ایک سراغ کو اُلٹتا ہُوں لیکن یہ تصویریں تو گویا انگنت پتیوں والے کسی خُوشنُما پھُول جیسی ہیں کہ ہر پتی چاروں طرف سے دوسری پتیوں کے گھیرے میں ہے۔ خُوشبو تو ہر پتی کے آگے بڑھتی ہی جاتی ہے لیکن میں کبھی ایک نشست میں اللہ کی بزرگی بیان کرنے والے صرف اُنہی سب الفاظ کے مفاہیم کو نہیں جانچ پایا جو میں نے آج تک پڑھے ہیں۔ ایسا کبھی کر بھی لُوں گا لیکن یہ بھی تو جانتا ہُوں کہ الفاظ بہرحال مفاہیم کا اظہار ہیں اور جسکی مثال کی مثال بھی نہ ہو اسکی وضاحت کے لیے مناسب مفاہیم والے الفاظ کہاں سے آئیں گے؟ میں نے اللہ اور اپنے تعلق کی انتہا کی نوعیت کی جُستجو میں وحدت الوجُود اور وحدتُ الشہُود جیسے نظریات میں بھی غوطہ زنی کی۔ کُچھ دِن مطمئن بھی رہا لیکن اِن نظریات نے دھُندلا سا ہی سہی، میری نظر میں اللہ کا گویا ایک غیر مرئی خاکہ تو تشکیل دے ہی دیا تھا۔ میں کُچھ عرصہ اُس خاکے کا نُور اپنے قلب میں پا کر خُود میں محصُور اور مسحُور رہا پھر مجھے خیال آیا کہ وہ اللہ ہو ہی نہیں سکتا جو کسی نظریے، یا نظریات کے مجمُوعوں میں سما کر ایک ایسے خاکے کی شکل اختیار کر لے جو میرے ذہن میں بھی آجائے۔ ہاں جِس نُور میں محصُور میں مسحُور تھا وہ اللہ کا مجھ سے مُستقل کنیکشن تو ہے پر کنیکشن کو خالق کا تفہیمی خاکہ گمان کرنا میری حدود کی کاروائی تھی۔ پھر میں نے حضرت عائشہؓ سے منسُوب یہ قول پڑھا کر کہ ’’جو کہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے دوران اللہ کو دیکھا وہ جھُوٹ بولتا ہے‘ تو مجھے گویا قرار آ گیا۔ ہاں یقیناََ وہی میرا خالِق ہے جس کا احاطہ نہ تو انسانی آنکھ کر پائے نہ اُسکا قلب نہ تصور کا مدار پھر خواہ وہ آنکھ نبیﷺ کی مبارک آنکھ ہی کیوں نہ ہو، خواہ وہ قلب میرے نبیﷺ کا مبارک قلب ہی کیوں نہ ہو اور خواہ وہ نبیﷺ کا لامحدود مدارِ تصور و تخیل ہی کیوں نہ ہو۔ الرَّحْمَنُ، الْقُدُّوسُ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْحَكَمُ، اللَّطِيفُ، الْقَوِيُّ، الْوَكِيلُ اور دیگر ناموں سے میں اُسے کیا سمجھوں گا ؟ ان میں تو ایک بھی نام اُسکی صفّت کی مثال کی بھی مثال نہیں۔ یہ تو بس مُجھے سمجھانے کے الفاظ ہیں۔ میں اُسے کیا سمجھوں گا میں کیا، میری اوقات کیا۔ اللہ کی صفّات کی مثال جیسی کسی صفّت کا تصوُر تو بعد کی بات ہے ابھی تو اُسکے عالموں میں سے ایک کو سمجھ لُوں جسمیں میں میں رہتا ہُوں۔اپنے اس عالم کو میں کائنات کہتا ہوں۔ کائنات کو تو چھوڑیے میری زمین ہی اتنی بڑی ہے کہ سات ہزار کھرب انسانوں کو پال سکتی ہے جبکہ ابھی اسکی آبادی سات ارب بھی نہیں۔ میرا نظام شمسی تو ہماری کہکشاں میں بس ایک ذرّے جیسا ہے۔ میری زمین جس نظام شمشی کا حصہ ہے اُسکا پھیلاؤ سمجھنے کے لیے میں آپ کو ایسے بتا سکتا ہوں کہ اُس پھیلاؤ میں ہماری زمین جتنی بڑی اتنی زمینیں سما سکتی ہیں جسکی تعداد سمجھنے کے لیے مُجھے چار کے سامنے چھبیس زیرو لگانے پڑیں گے۔ میری کہکشاں کا پھیلاؤ ہندسوں میں سمجھنا ہو تو میں ایسے بتا سکتا ہوں کہ اگر چھبیس کے آگے سترہ زیرو لگیں تو میرے نظام شمسی جیسے اتنے نظام میری کہکشاں میں سما جائیں گے۔
آج تک دس کھرب سے ذیادہ کہکشائیں معلُوم شُدہ ہیں۔
ذرا تصوُر کریں یہ کتنا پھیلاؤ بنے گا؟ اس پھیلاؤ میں کتنے کھربوں سورج ہیں ہر سورج سینکڑوں سیّارے اپنے گرد لیے گھوم رہا ہے اُن میں سے کتنے سیّاروں پر اللہ کا کیا امر ہوگا۔ اللہ وہاں کس کس کو کیسے پالتا ہو گا کیونکہ وہ تو تمام عالمین کا رب ہے.یہ تو ابھی وہ عالم ہے جسے ہم جانتے ہیں قُرآن اور سائنس دونوں کہتے ہیں کائنات مُسلسل بڑھ رہی ہے۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہ کائنات دریافت کیسے ہو رہی ہے۔ اسے ایسے سمجھیے کہ روشنی کی رفتار اتنی ہے کہ یہ ایک سیکنڈ میں زمین کے گرد آٹھ چکر لگا سکتی ہے۔ ہر گلیکسی جب بنی تو اُس سے سے روشنی نکلی اور وہ کبھی نہ کبھی ہماری زمین تک پُہنچتی ہے۔ آج جو گلیکسی دریافت ہوئی اُس سے چودہ ارب سال پہلے نکلنے والی روشنی آج ہم تک پُہنچی ہے۔ ہم تک ہر سال مزید کئی کہکشاؤں کی روشنی پُہنچ جاتی ہے۔ یہ بات اب ہمیں سائنس نے بتائی ہے تو ہمیں یقین آیا ورنہ قرآن کا تو چودہ سو سال پہلے سے یہ فرمانا تھا کہ کائنات ابھی پھیل رہی ہے۔ یعنی آج کی تاریخ میں یہ کائنات کتنی بڑی ہے اسکا پتا اربوں سال بعد لگے گا۔ایک کھرب کے قریب کہکشائیں ابھی تک معلوم شدہ ہیں یعنی ایک کھرب سورج اپنے گرد گھومتے ستاروں سیاروں کو لے کر اپنی اپنی کہکشاؤں کے گرد گھوم رہے ہیں, جتنی کائنات ابھی تک معلوم ہو سکی ہے اسکا باہمی پھیلاؤ 914 روشنی کے سال(لائیٹ ایر) بنتا ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیٹر فاصلہ طے کرتی ہے ایک سال میں جتنا فاصلہ روشنی تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے طے کرے اسے ایک لائیٹ ایر کہتے ہیں۔ 914 روشنی کے سال تک توصرف معلوم کائنات ہے
ہم نہیں جانتے کہ نامعلُوم کائنات کتنی ہے،
ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ کائناتیں کتنی ہیں۔ جب میں لفظ کائنات کہتا ہُوں تو مادے سے بنے ستارے سیارے زمینیں اور مخلُوقات ہمارے ذہن میں آتی ہیں، میرا ذہن تو صرف مادےاور انرجی جیسے مفاہیم سمجھتا ہے کون جانے انکے علاوہ کائناتیں پنپنے کے اور ذریعے بھی ہوں۔ جب میں ایک آسمان کے ایک عالم کے بارے میں بھی نہیں جانتا تو اُس اللہ کی صفّات کا کیا تصوُرکر سکتا ہوں جس کا امر نہ صرف اس عالم بلکہ اس جیسے انگنت عالمین میں نازل ہوتا ہے۔ میں تو قُرآن سے ہی اللہ کی کُچھ صفّات کا تصوُر کر سکتا ہوں جبکہ قُرآن تو بس ایک ایسا صندوق ہے جس میں اللہ کی حقیقی آیات سے بھری کائنات کی کُنجیاں رکھی ہیں۔ میری اتنی اوقات نہیں کہ میرا قلم اللہ کی کسی ایک صفت کا اتنا احاطہ بھی کر سکے جتنا اس معلوم کائنات کے مُقابلے میں میرا اپنا وزن ہے تو میں اللہ کو ڈیفائن کیسے کروں۔۔۔ محمد رضوان خالد چوھدری اللہ ۔۔۔ محترم خالد اقبال صاحب نے کل میری ایک تحریر میں کہا کہ اللہ کو ڈیفائن کروں کیونکہ وہ اللہ کے تصور کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ میں جانتا ہُوں کہ اللہ انسانی فہم میں نہیں سما سکتا کیونکہ اُسکی تو مثال کی مثال بھی موجُود نہیں لیکن اپنے خالِق سے مُتعلق میری جُستجُو میرے اس جاننے سے کہیں طاقتور ہے. تبھی جب میں اللہ سے مُتعلق سوچتا ہُوں تو اُسکی شان کے بارے میں پڑھا گیا ہر ورق گویا میری آنکھوں کے سامنے تیرنے لگتا ہے۔ میں نے یہ بات محاورتاََ نہیں کہی۔ الفاظ کسی مفہُوم کا اظہار ہوتے ہیں، جیسے میں آپکے سامنے پھُول کا لفظ دوہراؤں تو آپکے ذہن میں کسی پھُول کی شبیہہ بنے گی، ایسے ہی جب میں تنہائی میں اپنے اللہ کے بارے میں سوچتا ہُوں تو میری آنکھوں کے سامنے پہلے تو وہ تمام الفاظ مجتمع ہو کر چلے آتے ہیں جو میں اللہ کے بارے میں پڑھ چکا. پھر اُن الفاظ کی تہہ میں چھپے اُن مفاہیم کی تصویریں جن کا وہ اظہار ہیں، میرا ایسے گھیراؤ کر لیتی ہیں جیسے ستارے زمین کا گھیراؤ کیے ہُوئے ہوں۔ میں وہ تصویریں تیزی سے کھنگالتا ہوا گویا ایک وسیع و عریض خلا میں آگے ہی آگے تیرتا چلا جاتا ہُوں، ہر تصویر میرا تجسُس اور بڑھاتی ہے، مجھے لگتا ہے کہ آگے نظر آنے والا مفہُوم ضرور مجھے کوئی سراغ دے گا، میں ایک کے بعد ایک سراغ کو اُلٹتا ہُوں لیکن یہ تصویریں تو گویا انگنت پتیوں والے کسی خُوشنُما پھُول جیسی ہیں کہ ہر پتی چاروں طرف سے دوسری پتیوں کے گھیرے میں ہے۔ خُوشبو تو ہر پتی کے آگے بڑھتی ہی جاتی ہے لیکن میں کبھی ایک نشست میں اللہ کی بزرگی بیان کرنے والے صرف اُنہی سب الفاظ کے مفاہیم کو نہیں جانچ پایا جو میں نے آج تک پڑھے ہیں۔ ایسا کبھی کر بھی لُوں گا لیکن یہ بھی تو جانتا ہُوں کہ الفاظ بہرحال مفاہیم کا اظہار ہیں اور جسکی مثال کی مثال بھی نہ ہو اسکی وضاحت کے لیے مناسب مفاہیم والے الفاظ کہاں سے آئیں گے۔ میں نے اللہ اور اپنے تعلق کی انتہا کی نوعیت کی جُستجو میں وحدت الوجُود اور وحدتُ الشہُود جیسے نظریات میں بھی غوطہ زنی کی۔ کُچھ دِن مطمعن بھی رہا لیکن اِن نظریات نے دھُندلا سا ہی سہی، میری نظر میں اللہ کا گویا ایک غیر مرئی خاکہ تو تشکیل دے ہی دیا تھا۔ میں کُچھ عرصہ اُس خاکے کا نُور اپنے قلب میں پا کر خُود میں محصُور اور مسحُور رہا پھر مجھے خیال آیا کہ وہ اللہ ہو ہی نہیں سکتا جو کسی نظریے، یا نظریات کے مجمُوعوں میں سما کر ایک ایسے خاکے کی شکل اختیار کر لے جو میرے ذہن میں بھی آجائے۔ ہاں جِس نُور میں محصُور میں مسحُور تھا وہ اللہ کا مجھ سے مُستقل کنیکشن تو ہے پر کنیکشن کو خالق کا تفہیمی خاکہ گمان کرنا میری بِلٹ اِن حدود کی کاروائی تھی۔ پھر میں نے حضرت عائشہؓ سے منسُوب یہ قول پڑھا کر کہ ’’جو کہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے دوران اللہ کو دیکھا وہ جھُوٹ بولتا ہے‘ تو مجھے گویا قرار آ گیا۔ ہاں یقیناََ وہی میرا خالِق ہے جس کا احاطہ نہ تو انسانی آنکھ کر پائے نہ اُسکا قلب نہ تصور کا مدار پھر خواہ وہ آنکھ نبیﷺ کی مبارک آنکھ ہی کیوں نہ ہو، خواہ وہ قلب میرے نبیﷺ کا مبارک قلب ہی کیوں نہ ہو اور خواہ وہ نبیﷺ کا لامحدود مدارِ تصور و تخیل ہی کیوں نہ ہو۔ الرَّحْمَنُ، الْقُدُّوسُ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْحَكَمُ، اللَّطِيفُ، الْقَوِيُّ، الْوَكِيلُ اور دیگر ناموں سے میں اُسے کیا سمجھوں گا .ان میں تو ایک بھی نام اُسکی صفّت کی مثال کی بھی مثال نہیں۔ یہ تو بس مُجھے سمجھانے کے الفاظ ہیں۔ میں اُسے کیا سمجھوں گا میں کیا میری اوقات کیا۔ اللہ کی صفّات کی مثال جیسی کسی صفّت کا تصوُر تو بعد کی بات ہے ابھی تو اُسکے عالموں میں سے ایک کو سمجھ لُوں جسمیں میں میں رہتا ہُوں۔اپنے اس عالم کو میں کائنات کہتا ہوں۔ کائنات کو تو چھوڑیے میری زمین ہی اتنی بڑی ہے کہ سات ہزار کھرب انسانوں کو پال سکتی ہے جبکہ ابھی اسکی آبادی سات ارب بھی نہیں۔ میرا نظام شمسی تو ہماری کہکشاں میں بس ایک ذرّے جیسا ہے۔ میری زمین جس نظام شمشی کا حصہ ہے اُسکا پھیلاؤ سمجھنے کے لیے میں آپ کو ایسے بتا سکتا ہوں کہ اُس پھیلاؤ میں ہماری زمین جتنی بڑی اتنی زمینیں سما سکتی ہیں جسکی تعداد سمجھنے کے لیے مُجھے چار کے سامنے چھبیس زیرو لگانے پڑیں گے۔ میری کہکشاں کا پھیلاؤ ہندسوں میں سمجھنا ہو تو میں ایسے بتا سکتا ہوں کہ اگر چھبیس کے آگے سترہ زیرو لگیں تو میرے نظام شمسی جیسے اتنے نظام میری کہکشاں میں سما جائیں گے۔ آج تک دس کھرب سے ذیادہ کہکشائیں معلُوم شُدہ ہیں۔ ذرا تصوُر کریں یہ کتنا پھیلاؤ بنے گا اس پھیلاؤ میں کتنے کھربوں سورج ہیں ہر سورج سینکڑوں سیّارے اپنے گرد لیے گھوم رہا ہے اُن میں سے کتنے سیّاروں پر اللہ کا کیا امر ہوگا؟ اللہ وہاں کس کس کو کیسے پالتا ہو گا ؟ کیونکہ وہ تو تمام عالمین کا رب ہے.یہ تو ابھی وہ عالم ہے جسے ہم جانتے ہیں قُرآن اور سائنس دونوں کہتے ہیں کائنات مُسلسل بڑھ رہی ہے۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہ کائنات دریافت کیسے ہو رہی ہے؟ اسے ایسے سمجھیے کہ روشنی کی رفتار اتنی ہے کہ یہ ایک سیکنڈ میں زمین کے گرد آٹھ چکر لگا سکتی ہے۔ ہر گلیکسی جب بنی تو اُس سے روشنی نکلی اور وہ کبھی نہ کبھی ہماری زمین تک پُہنچتی ہے۔ آج جو گلیکسی دریافت ہوئی اُس سے چودہ ارب سال پہلے نکلنے والی روشنی آج ہم تک پُہنچی ہے۔ ہم تک ہر سال مزید کئی کہکشاؤں کی روشنی پُہنچ جاتی ہے۔ یہ بات اب ہمیں سائنس نے بتائی ہے تو ہمیں یقین آیا ورنہ قرآن کا تو چودہ سو سال پہلے سے یہ فرمانا تھا کہ کائنات ابھی پھیل رہی ہے۔ یعنی آج کی تاریخ میں یہ کائنات کتنی بڑی ہے؟ اسکا پتا اربوں سال بعد لگے گا۔ایک کھرب کے قریب کہکشائیں ابھی تک معلوم شدہ ہیں یعنی ایک کھرب سورج اپنے گرد گھومتے ستاروں سیاروں کو لے کر اپنی اپنی کہکشاؤں کے گرد گھوم رہے ہیں, جتنی کائنات ابھی تک معلوم ہو سکی ہے اسکا باہمی پھیلاؤ نو سو چودہ روشنی کے سال(لائیٹ ایر) بنتا ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیٹر فاصلہ طے کرتی ہے ایک سال میں جتنا فاصلہ روشنی تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے طے کرے اسے ایک لائیٹ ایر کہتے ہیں۔ 914 روشنی کے سال تک توصرف معلوم کائنات ہے ہم نہیں جانتے کہ نامعلُوم کائنات کتنی ہے؟ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ کائناتیں کتنی ہیں؟ جب میں لفظ کائنات کہتا ہُوں تو مادے سے بنے ستارے سیارے زمینیں اور مخلُوقات ہمارے ذہن میں آتی ہیں، میرا ذہن تو صرف مادےاور انرجی جیسے مفاہیم سمجھتا ہے کون جانے انکے علاوہ کائناتیں پنپنے کے اور ذریعے بھی ہوں۔ جب میں ایک آسمان کے ایک عالم کے بارے میں بھی نہیں جانتا تو اُس اللہ کی صفّات کا کیا تصوُر کر سکتا ہوں جس کا امر نہ صرف اس عالم بلکہ اس جیسے انگنت عالمین میں نازل ہوتا ہے۔ میں تو قُرآن سے ہی اللہ کی کُچھ صفّات کا تصوُر کر سکتا ہوں جبکہ قُرآن تو بس ایک ایسا صندوق ہے جس میں اللہ کی حقیقی آیات سے بھری کائنات کی کُنجیاں رکھی ہیں۔ مجھے برملا اس اعتراف میں کوئی عار نہیں کہ میری اتنی اوقات نہیں کہ میرا قلم اللہ کی کسی ایک صفت کا اتنا احاطہ بھی کر سکے جتنا اس معلوم کائنات کے مُقابلے میں میرا اپنا وزن ہے تو میں اللہ کو ڈیفائن کیسے کروں۔۔۔

کالم نگار : محمد رضوان خالد چوہدری
| | |
289