(+92) 321 2533925
ذی الحجہ کے فضائل و اعمال
ذی الحجہ کے فضائل و اعمال
اللہ تعالٰی نے جس طرح انسانوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اسی طرح کچھ مہینوں کو بھی فضیلت اور بزرگی عطاء کی ہے۔ ان میں ماہ ذی الحجہ اور اس کے ابتدائی دس دن و رات بھی شامل ہیں۔ یہ مہینہ حرمت والے مہینوں میں ہے جسے پروردگار عالم نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت (اشهر حرم) محترم مہینہ قرار دے دیا تھا۔ قرآن وحدیث میں عشرہ ذی الحجہ کے بے شمار فضائل و اعمال بیان کیے گئے ہیں۔ نبی کریمﷺکا اِرشادہے : "تمام مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ ہے اور اُن میں حرمت کے اعتبار سے سب سے عظیم ”ذی الحجہ“ کا مہینہ ہے(شعب الایمان) اِس سے معلوم ہوا کہ ذی الحجہ کا مہینہ ایک عظیم اور بابرکت مہینہ ہے ،بالخصوص اس کے ابتدائی دس دن جس کو ” عشرہ ذی الحجہ “ کہا جاتا ہے ، یہ اور بھی زیادہ با برکت ایّام ہیں ، قرآن و حدیث سے اِن دس دنوں کی بڑی فضیلت ثابت ہے۔
فضائل و احکام
1) اللہ تعالیٰ نے اِن دس دنوں میں آنے والی راتوں کی قسم کھائی ہے ، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾ترجمہ قسم ہے دس راتوں کی ۔(الفجر:2) حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں:”دس راتیں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں ۔(شعب الایمان) 2) حضرت عبد اللہ بن عباس سے مَروی ہے کہ نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے: "اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی دن اِن دس دنوں سے زیادہ افضل نہیں ہیں اور ان میں کیے جانے والے اعمال سے زیادہ کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو محبوب اور پسندیدہ نہیں ہے۔(شعب الایمان) ایک اور روایت میں ہے :” اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی دن اِن دس دنوں سے زیادہ عظیم نہیں ہیں اور ان میں کیے جانے والے عمل سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔(مسند احمد) 3) نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے"کوئی دن ایسے نہیں جن میں کیے جانے والے اعمالِ صالحہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذی الحجہ کے دس ایام سے زیادہ محبوب ہوں، لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا اللہ کے راستے میں جہاد بھی اِن اعمالِ صالحہ کے برابر نہیں؟آپﷺنے اِرشاد فرمایا:ہاں! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی ان کے برابر نہیں ،ہاں مگر وہ شخص جو اللہ کے راستے میں اپنی جان و مال لے کر نکلا ہو اور کچھ بھی واپس لے کر نہ آئے(یعنی شہید ہوجائے)۔(ابوداؤد) 4) نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے:”ذی الحجہ کے دس دنوں میں (ابتدائی نو دنوں میں سے)ہر دن کے روزے کا ثواب ایک سال کے روزے کے برابر ہے۔(ترمذی) 5) نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے: ”ذی الحجہ کے دن دنوں میں ہر رات کے قیام(عبادت)کا ثواب لیلۃا لقدر کی عبادت کے برابر ہے۔(ترمذی) عشرۂ ذی الحجہ افضل ہے یا رمضان کا آخری عشرہ ؟ اس بارے میں علماء کی تین آراء ہیں : 1) عشرۂ ذی الحجہ افضل ہے۔ 2) رمضان المبارک کا عشرۂ اخیرہ افضل ہے ۔اِس لئے کہ اس میں روزے اور شبِ قدر ہے۔ 3) عشرۂ ذی الحجہ کے دن افضل ہیں اور عشرۂ رمضان کی راتیں افضل ہیں ۔ ملّاعلی قاری ؒفرماتے ہیں : عشرۂ ذی الحجہ کے دن اس لیے افضل ہیں کیونکہ اس میں عرفہ کا دن ہے جو سال کے تمام ایام کا سردا ر ہے اور رمضان المبارک کے عشرۂ اخیرہ کی راتیں اس لیے افضل ہیں کیونکہ اس میں شبِ قدر ہے جو سال کی تمام راتوں کی سردار ہے (مرقاۃ المفاتیح ) احادیثِ طیبہ میں ذی الحجہ کے دس مبارک ایّام کے اعمال ذکر کیے گئے ہیں۔ 1) نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے: “ جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کرنے کا ہو تو اُسے (قربانی کرنے تک )اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے احتراز کرنا چاہیئے۔(صحیح مسلم) ایک اور روایت میں ہے: "جس کو جانور ذبح کرنا ہو تو وہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کےبعد اپنے بال اور ناخن کو قربانی ہونے تک نہ کاٹے۔(صحیح مسلم) فائدہ:یہ ناخن اور بال نہ کاٹنے کا استحباب اُن لوگوں کے لیے ہے جن کا قربانی کا ارداہ ہو ، خواہ واجب قربانی کا ارادہ ہو یا نفلی کا ، نیز یہ حکم اُس وقت ہے جبکہ بال اور ناخن کاٹے ہوئے چالیس دن پورے نہ ہوتے ہو ں ، ورنہ بال اور ناخن کاٹنا ضروری ہے اور نہ کاٹنا حرام ہے ۔ (احسن الفتاوی،رد المختار) بال اور ناخن نہ کاٹنے کی حکمت۔1 حجاجِ بیت اللہ کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا ، کیونکہ وہ بھی بحالتِ احرام یہ کام نہیں کرتے ۔2 اضحیہ دراصل قربانی کرنے والے کی جان کا فدیہ ہوتا ہے ، پس ناخن وغیرہ کاٹنے سے روکا گیا تاکہ تمام اجزاء کے ساتھ فدیہ ہو۔(مرقاۃ المفاتیح ،تکملہ فتح الملہم) 2) نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے "کوئی دن ایسے نہیں جن میں کیے جانے والے اعمالِ صالحہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذی الحجہ کے دس ایام سے زیادہ محبوب ہوں، لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا اللہ کے راستے میں جہاد بھی اِن اعمالِ صالحہ کے برابر نہیں؟آپﷺنے اِرشاد فرمایا:ہاں! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی ان کے برابر نہیں ،ہاں مگر وہ شخص جو اللہ کے راستے میں اپنی جان و مال لے کر نکلا ہو اور کچھ بھی واپس لے کر نہ آئے (یعنی شہید ہوجائے)۔(ابوداؤد) ایک روایت میں ہے :” اِن دس دنوں میں کیے جانے عمل کا بدلہ سات سو گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔(شعب الایمان) امام اوزاعی ؒفرماتے ہیں: بنی مخزوم کے ایک قریشی شخص نے مجھ سے یہ حدیث مرفوعاً نقل کی ہے:” اِن ایام میں کیے جانے والے اعمال قدر و منزلت میں ایسے ہیں جیسے اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔(شعب الایمان) 3) ذی الحجہ کے ابتدائی ایّام میں نبی کریمﷺکا معمول روزے رکھنے کا تھا، چنانچہ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن فرماتی ہیں :” حضور ﷺ ذی الحجہ کے نو دن روزہ رکھا کرتے تھے ۔(ابوداؤد) اور عشرہ ذی الحجہ میں روزے رکھنے کی فضیلت پر روایت پہلے بھی گزر چکی ہے کہ ذی الحجہ کے دس دنوں میں (ابتدائی نو دنوں میں سے)ہر دن کے روزے کا ثواب ایک سال کے روزے کے برابر ہے۔(ترمذی:) 4) عشرہ ذی الحجہ میں ایک دن ”عرفہ“ یعنی 9 ذی الحجہ کا مبارک دن ہے جس میں روزے کا ثواب اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے، چنانچہ حدیث میں ہے ،نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے: ”مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھنا ایک سال پہلے اور ایک سال بعدکے(صغیرہ) گناہوں کو مٹادے گا۔(ترمذی) 5) تسبیح سے مراد اللہ تعالی کی پاکی ، تحمید سے مراداُس کی حمد ،تہلیل سے مراد کلمہ طیبہ کا پڑھنا اور تکبیر سے مراد اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرنا ہے،اور عشرہ ذی الحجہ میں اِن چاروں چیزوں کی کثرت کی تلقین کی گئی ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: ” اِن دس دنوں میں تہلیل،تحمید،تکبیر اور تسبیح کی کثرت کیا کرو۔(شعب الایمان)
تکبیرات تشریق
بخاری شریف میں تعلیقاً نقل کیا گیا ہے ” حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ ذی الحجہ کے دس دنوں میں بازار جاکر(لوگوں کو تکبیر کی طرف توجہ دلانے کے لئے ) تکبیر کہا کرتے تھے اور لوگ اُن کی تکبیر سن کر تکبیر کہا کرتے تھے۔(بخاری) خصوصاً نویں تاریخ کی صبح سے تیرہویں تاریخ کی عصر تک ہر نماز کے بعد بآوازِ بلند ایک مرتبہ تکبیر تشریق کہنا واجب ہے۔ فتویٰ اس پر ہے کہ باجماعت اور تنہا نماز پڑھنے والے اس میں برابر ہیں، اس طرح مرد وعورت دونوں پر واجب ہے، البتہ عورت بآوازِ بلند تکبیر نہ کہے، آہستہ سے کہے۔(شامی) تکبیر تشریق " ﷲ اکبر ﷲ اکبر لا إلٰہ إلا ﷲ وﷲ أکبر ﷲ أکبر ولله الحمد‘‘ صحابہ کرام ان دس دنوں میں تکبیر کہتے ہوئے بازار نکلتے اورعام لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہنا شروع کردیتے.(فتح الباری ) اور یہ تمام چیزیں یعنی تہلیل ، تحمید،تکبیر اور تسبیح تیسرے کلمہ میں موجود ہیں ، چنانچہ اِن دس دنوں میں چلتے پھرتے ، اُٹھتے بیٹھتے تیسرا کلمہ ،چوتھا کلمہ اور تکبیر تشریق وغیرہ کی کثرت کرکے اِس عمل کو بآسانی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ذی الحجہ کے دنوں میں ذکر کی اقسام میں سے سب سے خاص الخاص قسم جو ہے وہ تکبیرات تشریق ہیں۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ تکبیرات کیا ہیں؟ اے پریشان حال! اے غمزدہ انسان! اے اجر و ثواب میں رغبت رکھنے والے! اے بندے اپنے تمام تر حالات کے ساتھ تمہارے سوا کون ہے جس کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ جان لے اللہ تعالی سب سے بڑا ہے۔ اور تمہیں پتہ چل جائے کہ اللہ اکبر کے کلمات تمہارے ساتھ کیا کریں گے۔ تمہارے دل کی بنجر زمین اور قحط سالی کے لیے سیرابی ہے اور دلوں کی قحط سالی اور ان کا بنجر ہونا کیا ہی زیادہ شدید ہے۔ یہ میٹھے پانی کی سیرابی ہے اگر وہ زبان سے پہلے دل سے گزرے تو دل کی میل کچیل اور اس کے زنگ دھو دے گی، پھر پاکیزہ مکان پر چوکڑی جما کر بیٹھ جائے گی۔ اگر آپ اپنے غور و فکر کو موقع دیں کہ اس سے پوچھا جائے۔ اور آپ جواب دیں اللہ سب سے بڑا ہے تو اللہ کس سے بڑا ہے؟ اللہ تمہاری پریشانیوں سے بڑا ہے۔ تمہارے خوف و خطرات سے بڑا ہے۔ تمہارے گناہوں سے بڑا ہے۔ تمہاری اطاعت سے بڑا ہے۔ تمہاری رغبت و دلچسپیوں سے بڑا ہے۔
عشر ذی الحجہ کی رات
6) عشرہ ذی الحجہ کی مبارک راتیں جن کی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اندر قسم کھائی ہے ، بڑی ہی بابرکت راتیں ہیں ، نبی کریمﷺ نے اِن مبارک راتوں کو شبِ قدر کے برابر قرار دیا ہے ، چنانچہ حدیث میں ہے : ذی الحجہ کے دن دنوں میں ہررات کے قیام(عبادت)کاثواب لیلۃا لقدر کی عبادت کے برابر ہے۔ لہٰذا اِن راتوں کو غفلت اور کوتاہی کا شکار ہوکر گزارنا بڑی نادانی اور خسارے کا سودا ہے اِس میں زیادہ سے زیادہ عبادت کا اہتمام کرنا چاہیئے خصوصاً عشاء اور فجر کی نماز جماعت سے پڑھنے کا اہتمام تو لازمی کرنا چاہیے تاکہ حدیث کے مطابق رات بھر کی عبادت کا ثواب مل سکے۔ 7) حضرت ابو امامہ سے نبی کریمﷺکایہ اِرشاد منقول ہے: جس نے عیدین(یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کی راتوں میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے عبادت کی اُس کا دل اُس (قیامت کے ) دن مُردہ نہ ہوگا جس دن سب کے دل مردہ ہوجائیں گے۔(ابن ماجہ) لہذا اس عشرہ کو قیمتی بنانے کے لیے نماز کو اول فرصت میں خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کریں، اشراق و چاشت اور اوابین کا اہتمام کریں ، نفلی روزے رکھیں، قضا شده روزے بھی رکھیں۔ قرآن کی کثرت سے تلاوت کرتے ہوئے چند سورتوں کو حفظ کریں اور ترجمہ و تفسیر پڑھنے سننے کا ذوق پیدا کریں اور قرآن کے پیغام کو عام کریں، صبح و شام کے اذکار، استغفار کی کثرت ، دعاؤں کو یاد کرنے کی فکر کریں۔ صدقہ و خیرات ادا کریں، والدین، بیوی، بچوں اور عزیز و اقارب، علماء و طلباء پر خرچ کریں۔ رشتہ داروں کے ساتھ ہمدردی و صلہ رحمی کریں، پڑوسیوں کی خبر گیری کریں ، سفید پوش لوگوں کی خود جاکر مدد کریں، دین کی تعلیم و تبلیغ میں وقت لگائیں ، قربانی کا اہتمام کریں اس میں اسراف، ریا سے بچیں، بے مقصد کاموں اور باتوں سے پر ہیز کریں، گناہوں سے دور رہیں ، اچھی دینی کتب کا مطالعہ کریں، مفید کتب و رسائل تقسیم کریں

کالم نگار : مولانامحمدعثمان انیس
| | |
401     2