(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
ایران امریکا جنگ ،کیاہونے والاہے؟
آٹھ مہینے گزر گئے، اور جس جنگ کو کچھ لوگ چند ہفتوں کا معاملہ سمجھ رہے تھے وہ آج بھی جاری ہے۔ 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے، جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای مارے گئے۔ اس کے بعد نہ جنگ ختم ہوئی نہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے۔ اب خبر یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس نے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر دوبارہ حملوں کے آپشنز مانگے ہیں، اور اس خبر سے تیل کی منڈی لرز اٹھی۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ نیا حملہ پچھلوں سے بڑا ہوگا اور اس کی لپٹیں خلیج سے نکل کر ترکی، قطر اور پاکستان تک پہنچ سکتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا، سوال یہ ہے کہ آگ پھیلی تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔

پہلے ہی ایک بات واضح ہو جانی چاہیے۔ یہ جنگ اسلام اور کفر کی نہیں ہے، اور اسے اس رنگ میں دیکھنا درست نہیں۔ یہ طاقت، اثر و رسوخ، تیل کے راستوں، ایٹمی پروگرام اور علاقائی بالادستی کی کشمکش ہے۔ فریقین اپنے اپنے مفاد کے لیے لڑ رہے ہیں اور اسی کے مطابق بات کر رہے ہیں۔

بظاہر بات چیت کا دروازہ کھلا ہے، لیکن دونوں طرف بداعتمادی گہری ہے۔ صدر پزشکیان کا کہنا ہے کہ جب بھی ایران مذاکرات کی میز پر آیا، اس پر جنگ مسلط کر دی گئی۔ دوسری طرف تہران کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ اس کی شرائط پوری نہ کرے، جبکہ ٹرمپ ہرمز کھولنے کا ایرانی منصوبہ مسترد کر چکے ہیں۔ ایرانی مذاکرات کار پابندیوں، منجمد اثاثوں، بحری ناکہ بندی اور خطے میں جاری لڑائی کو اصل رکاوٹ قرار دیتے ہیں، جبکہ امریکہ کا زور ایٹمی معاملے پر ہے۔ یعنی دونوں فریق ایک دوسرے کی اصل ترجیح پر بات ہی نہیں کر رہے۔ ایسے میں مذاکرات اکثر وقت خریدنے اور دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس پھیلاؤ کا سب سے زیادہ خطرہ ترکی، پاکستان اور قطر کو ہے، اور کہا جاتا ہے کہ یہ ممالک جنگ روکنے کے لیے سفارتی کوششوں میں سرگرم رہے ہیں۔ یہ ایک تجزیاتی رائے ہے جس کی آزاد تصدیق ضروری ہے۔ قطر کے بارے میں یہ تجزیہ بھی سامنے آتا ہے کہ ایران کے بعد دباؤ کا اگلا ہدف دوحہ ہو سکتا ہے، کیونکہ غزہ کی تنظیموں سے اس کے روابط پر امریکی کانگریس میں تنقید اور پابندیوں کے مطالبات ہوتے رہے ہیں اور اسرائیل بھی اس کے خلاف سرگرم ہے۔ یہ خدشات ہیں، طے شدہ حقائق نہیں۔

جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں۔ کمزور ریاستوں میں سب سے آسان ہتھیار داخلی تقسیم ہوتی ہے۔ ایران میں نظام کمزور ہوا تو وہاں کرد اور بلوچ آبادی جیسے حساس معاملات کو ہوا دینے کی کوششوں کا اندیشہ ظاہر کیا جاتا ہے، اور ماہرین کے مطابق اس کے اثرات عراق، ترکی اور پاکستان کی سرحدی پٹیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ بعض حلقے اس سلسلے میں زلمے خلیل زاد جیسی شخصیات کی سرگرمیوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ یہ سب تجزیے ہیں اور ثبوت کا انتظار کرنا چاہیے، مگر ریاستوں کو ایسے منظرناموں کے لیے تیار رہنا ہوتا ہے۔

اصل کمزوری ہمارے اپنے گھر میں ہے۔ مہنگائی، بھاری ٹیکس، کمزور ہوتا ہوا نظامِ انصاف، بے روزگاری اور افسر شاہی کی مراعات نے عوام کو بدظن کر دیا ہے۔ ایسی فضا میں بعض سیاست دان لسانی اور علاقائی تعصب کو ہوا دیتے ہیں، حالانکہ جب بیرونی دباؤ بڑھ رہا ہو تو اندرونی اتحاد سب سے بڑی ڈھال ہوتا ہے۔ جو لوگ تعصب کی آگ بھڑکاتے ہیں، وہ نادانستہ طور پر ان قوتوں کا کام آسان کرتے ہیں جو ہمیں تقسیم دیکھنا چاہتی ہیں۔

پاکستان کو چاہیے کہ ہرحال میں اپنے قومی مفاد کو مقدم رکھے، سفارتی توازن برقرار رکھے، اور ساتھ ہی اندرونی محاذ پر عوام کو ریلیف دے، انصاف کو مضبوط کرے اور لسانی نفرت پھیلانے والوں کا احتساب کرے۔ جنگ دوسروں کی ہو سکتی ہے، مگر اس کا نقصان ہمیشہ سب سے پہلے کمزور معیشت اور منقسم معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
65