(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانامیاں محمد میر حسن ندوی، امام و خطیب جامع مسجد شاہ اسماعیل شہید، بالاکوٹ

مولانامیاں محمد میر حسن ندوی، امام و خطیب جامع مسجد شاہ اسماعیل شہید، بالاکوٹ

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/15
موضوعات
شانِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ان جلیل القدر صحابۂ کرام میں سے ہیں جنہیں قربِ رسالت، کتابتِ وحی اور امت کی قیادت کا شرف حاصل ہوا۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کتابت کا شرف حاصل ہوا، جن کے لیے زبانِ نبوت سے ہدایت اور علم کی دعائیں صادر ہوئیں اور جن کی قیادت میں اسلامی لشکر نے بحری جہاد میں شرکت کی۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اہلِ سنت کا اصول یہ ہے کہ ان کی محبت، تعظیم اور توقیر ایمان کا حصہ ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی جلیل القدر صحابی ہیں؛ اس لیے ان کی عزت و توقیر اور ان کے مقامِ صحابیت کا احترام ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔

آپ رضی اللہ عنہ کی شان میں وارد ہونے والی احادیث اور آپ کے منصبِ کتابت سے متعلق چند اہم روایات و اقوال پیشِ خدمت ہیں۔

## اول: کاتبِ وحی کا عظیم منصب:
رسول اللہ ﷺ کے کاتبینِ وحی کی تعداد تقریباً چالیس بیان کی جاتی ہے۔ ان میں مستقل اور خصوصی کاتبین میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام بھی نمایاں ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ فتحِ مکہ کے بعد نبی کریم ﷺ کے پاس جو خطوط یا وحی آتی، آپ ﷺ اکثر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے لکھواتے تھے۔

خود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے لکھا کرتا تھا۔‘‘(مسند احمد)

آپ رضی اللہ عنہ کو یہ شرف بھی حاصل تھا کہ آپ نے قرآنِ کریم کی آیات کے علاوہ نبی کریم ﷺ کے فرامین اور مختلف بادشاہوں کے نام خطوط بھی تحریر کیے۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے، اسی نسبت سے انہیں ’’خال المؤمنین‘‘ کہا جاتا ہے۔

## دوم: دربارِ رسالت ﷺ میں خصوصی قرب کے دو عظیم واقعات:
### 1۔ خلافت کی پیشین گوئی اور خصوصی وصیت:
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا:*"يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ وُلِّيتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللَّهَ وَاعْدِلْ"*(مسند احمد: 16867، 17135 — صحیح)

’’اے معاویہ! اگر کبھی تمہیں حکومت کا اختیار مل جائے تو اللہ سے ڈرتے رہنا اور عدل کرنا۔‘‘

یہ روایت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی خصوصی توجہ اور آئندہ ذمہ داریوں کے حوالے سے آپ ﷺ کی نصیحت کو ظاہر کرتی ہے۔

### 2۔ وحی کے دوران قلم کا ادب سکھانا:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ وحی لکھوا رہے تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ لکھ رہے تھے۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے شفقت فرماتے ہوئے فرمایا:*"أَلْقِ الدَّوَاةَ وَحَرِّفِ الْقَلَمَ"*(المعجم الکبیر للطبرانی: 10674 — حسن)

’’دوات کو سیدھا رکھو اور قلم کو ترچھا کرو۔‘‘

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کتابت کا خصوصی موقع حاصل تھا اور آپ ﷺ خود انہیں کتابت کے آداب و طریقے کی رہنمائی فرماتے تھے۔

## سوم: احادیثِ مبارکہ میں فضیلت:
### 1۔ ہدایت کی دعا:
حضرت عبدالرحمن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرمائی:*"اللهم اجعله هادياً مهدياً واهد به"*(ترمذی: 3842، صحیح)

’’اے اللہ! اسے ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرما۔‘‘

### 2۔ کتاب و حساب کی دعا:
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی:*"اللهم علم معاوية الكتاب والحساب وقه العذاب"*(مسند احمد: 17152، صحیح)

’’اے اللہ! معاویہ کو کتاب اور حساب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے محفوظ فرما۔‘‘

### 3۔ بحری جہاد کی بشارت:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا، اس کے لیے جنت واجب ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس لشکر کے امیر تھے، جو غزوۂ قبرص کے لیے روانہ ہوا۔(صحیح بخاری: 2924)

## چہارم: اکابر کے اقوال:
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ انہوں نے فرمایا:’’معاویہ کے بعد میں نے کسی کو رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر فیصلہ کرتے نہیں دیکھا۔‘‘

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے منقول ہے:’’اگر تم کسی شخص کو معاویہ کی شان میں گستاخی کرتے دیکھو تو جان لو کہ وہ صحابہ کا دشمن ہے۔‘‘

کالم نگار : مولانامیاں محمد میر حسن ندوی، امام و خطیب جامع مسجد شاہ اسماعیل شہید، بالاکوٹ
| | |
47