رشید یوسفزئی صاحب کینیڈا کے مستقل باشندے ہیں، مگر انہوں نے کینیڈا کو کچھ ایسا بنا رکھا ہے جیسے پشاور اور مردان کے درمیان آمدورفت ہو۔ کبھی کینیڈا، کبھی پاکستان،اتنی جلدی جلدی آتے جاتے ہیں کہ ہمیں بھی کبھی کبھی سمجھ نہیں آتی کہ حضرت کینیڈا میں رہتے ہیں یا پاکستان میں!
اصل بات یہ ہے کہ جب تک احباب سے ملاقات نہ ہو، دل کو قرار کہاں؟ ہمارے ساتھ گھل مل کر، گپ شپ کرکے ان کی طبیعت میں وہ سرور آتا ہے جو شاید کینیڈا کے خوب صورت موسموں اور جدید سہولیات میں بھی میسر نہیں آتا۔
سچ تو یہ ہے کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر ہمیں بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ کینیڈا میں آسائشیں تو بہت ہیں،مگر اطمینانِ قلب شاید کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ اسی موقع پر برٹرینڈ رسل کا یہ قول یاد آتا ہے:“Happiness in the modern world has become an impossibility.”
آج کی اس نشست کے بعد مجھے اس جملے پر پہلے سے کہیں زیادہ پختہ یقین ہوا کہ انسان کو جدید دنیا کی جتنی بھی سہولیات، آسائشیں اور چمک دمک میسر آ جائیں،اگر دل کو اپنوں کی محبت،بے تکلف صحبت اور ذکر الٰہی سے قلبی سکون میسر نہ ہو تو یہ سب کچھ ادھورا سا محسوس ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے ہزاروں میل دور کینیڈا میں رہنے والے رشید صاحب بار بار پشاور اور پاکستان کا رخ کرتے ہیں؛ کیونکہ دل کا سکون جغرافیہ نہیں، تعلقات اور محبت تلاش کرتی ہے۔
آج ہم بھی ان کے دولت کدے پر پہنچے۔ خوب گپ شپ ہوئی، پرانی یادیں تازہ ہوئیں اور کینیڈا کی دوری و تنہائی کا جو احساس دل میں کہیں چھپا بیٹھا تھا، اسے چند ساعتوں کی بے تکلف نشست نے رخصت کر دیا۔
لیکن اس ملاقات کا اصل ’’کارنامہ‘‘ ابھی باقی تھا۔
رشید صاحب اپنے ننھے منے صاحبزادے شِبلی کو بھی ہمارے حوالے کر گئے کہ اس پر ذرا دم درود اور جھاڑ پھونک کر دی جائے، شاید کسی کی نظر لگ گئی ہو۔ ہم نے بھی حسبِ استطاعت دم کیا اور نظرِ بد سے حفاظت کی مسنون دعا دم کی،اس حوالہ سے ہمارے مئیر صاحب زبیر علی مولویوں سے بھی چند قدم آگے ہیں،
رشید صاحب کا مزاج یہ ہے کہ خود بھی مولویوں سے ذرا فاصلے پر رہتے ہیں اور بچے کو بھی مولوی بنانے کا بظاہر کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ مگر انہیں کیا خبر کہ آج شِبلی ہمارے ہاتھ لگ چکا ہے،ہم نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا ہے کہ رشید صاحب جہاں چاہیں کینیڈا، پاکستان، پشاور اور مردان کے چکر لگاتے رہیں، شِبلی کو ہم ان شاء اللہ مولوی بنا کر ہی چھوڑیں گے۔کل کو یہ بچہ دنیا کے جس کونے میں بھی جائے گا، پاسپورٹ چاہے کینیڈین ہو، شناخت چاہے عالمی ہو، مگر تعارف ایک ہی ہوگا:حضرت مولاناشبلی صاحب!