سوشل میڈیاکی توانا آوازمولانا عبدالرحمٰن مدنی سے منسوب ایک گفتگو میں ایک بزرگ عالم دین کے بارے میں جس انداز کی زبان استعمال کی گئی ہے، وہ اس پہلو سے واقعی قابلِ غور ہے۔ذرا الفاظ کاانتخاب ملاحظہ فرمائیں!
’’اس بڈھے کو فارغ کرو‘‘، ’’اسے ذلیل و رسوا کرو‘‘، ’’منجی ٹھوکو‘‘، ’’اس پر سیاہی پھینکو‘‘۔۔۔!
سوال یہ ہے کہ اگر کسی کتاب میں کوئی ایسی عبارت موجود ہے جس پر شدید اعتراض ہے تو کیا اس کا جواب یہی ہے؟
اگر عبارت غلط ہے تو اسے سامنے لائیے، اس کا علمی رد کیجیے، قرآن و حدیث اور معتبر اہلِ علم کی روشنی میں اس کی غلطی واضح کیجیے، صاحبِ کتاب سے رجوع کا مطالبہ کیجیے، ضرورت ہو تو کتاب کی تصحیح یا اشاعت روکنے کا مطالبہ بھی دلیل کے ساتھ کیجیے؛ لیکن ایک شخص کو ذلیل کرنے، اس کی تضحیک کرنے اور اس پر سیاہی پھینکنے کی ترغیب دینے سے کون سا علمی مسئلہ حل ہوگا؟
کسی مؤقف کو رد کرنا اور کسی شخص کو ذلیل کرنا ایک چیز نہیں۔
ہمیں اپنے دینی اور علمی ماحول میں اس فرق کو زندہ رکھنا ہوگا۔
فرض کریں کسی عالم سے واقعی کوئی بڑی علمی غلطی ہوگئی ہے۔ کیا اس غلطی کی اصلاح اسی عالم کی عزت پامال کرکے ہوگی؟ کیا کسی بزرگ کی عمر کو نشانہ بنانا دلیل ہے؟ کیا ’’بڈھا‘‘ کہہ دینے سے اعتراض مضبوط ہوجاتا ہے؟ کیا ’’خبطی‘‘ کہنے سے کتاب کی عبارت غلط ثابت ہوجاتی ہے؟
اگرغلطی ہے تو غلطی ثابت کیجیے۔ دلیل میں وزن ہے تو دلیل پیش کیجیے۔ علمی اعتراض مضبوط ہے تو شخصیت پر حملے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ ایک بات تو خاص طور پر اہلِ علم کو سوچنی چاہیے۔
ہم نوجوانوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟یہ کہ اگر کسی عالم سے اختلاف ہو تو اس کے خلاف مہم چلاؤ؟یہ کہ اسے ذلیل کرو؟یہ کہ اس پر سیاہی پھینکو؟یہ کہ اس کی ’’منجی ٹھوکو‘‘؟اگر یہی اختلاف کا طریقہ نوجوان نسل سیکھ لے تو کل یہی زبان اور یہی رویہ ہمارے اپنے خلاف بھی استعمال ہوگا۔ آج جس شخصیت کو ہم نشانہ بنا رہے ہیں، کل کوئی دوسرا گروہ ہمارے کسی بزرگ کے بارے میں یہی الفاظ استعمال کرے گا۔ پھر ہمارے پاس اعتراض کیا ہوگا؟
اختلاف کا جواب اختلاف سے دیا جاسکتا ہے، مگر تذلیل کا دروازہ کھول دیں گے تو کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔خاص طور پر دینی جماعتوں اور تحریکوں کے کارکنوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی شخصیت یا ادارے کی اصلاح اور اس کی بے توقیری میں بہت فرق ہے۔
یہ جملہ بھی غور طلب ہے کہ ’’اسے ذلیل و رسوا کرو‘‘۔اگر آپ کا مقصد کسی عالم کی اصلاح ہے تو اسے ذلیل کیوں کرنا چاہتے ہیں؟اصلاح اور رسوائی دو مختلف مقاصد ہیں۔اصلاح میں آدمی کو غلطی سے نکالنے کی کوشش ہوتی ہے، رسوائی میں آدمی کو گرانے کی۔اصلاح میں خیرخواہی ہوتی ہے، رسوائی میں غصہ۔اصلاح میں دلیل ہوتی ہے، رسوائی میں ہجوم۔اگر واقعی کسی کتاب کی کوئی عبارت اتنی خطرناک ہے کہ اس سے عقائد کے بگاڑ کا اندیشہ ہے تو پھر جذباتی جملوں کے بجائے پوری سنجیدگی سے علمی کام کی ضرورت ہے۔ عبارت سامنے آئے، اس کا سیاق دیکھا جائے، اعتراض کا علمی جائزہ ہو، اہلِ علم بیٹھیں، جواب تیار ہو اور عوام کو بتایا جائے کہ غلطی کہاں ہے۔یہ زیادہ محنت طلب کام ہے، مگر یہی دیرپا کام ہے۔
سیاہی پھینکنا آسان ہے، علمی رد لکھنا مشکل۔کسی کو ’’خبطی بڈھا‘‘ کہنا آسان ہے، اس کی پوری کتاب کا علمی تجزیہ کرنا مشکل۔کسی کو ذلیل کرنے کا نعرہ لگانا آسان ہے، نوجوان نسل کو دلائل کے ساتھ عقیدہ سمجھانا مشکل۔لیکن دینی کام آسان راستے کا نام نہیں۔
دین ہمیں صرف حق بات کہنا نہیں سکھاتا، حق بات کہنے کا طریقہ بھی سکھاتا ہے۔بات بہت سادہ ہے:
کسی کتاب کو غلط سمجھتے ہیں، رد کریں۔
کسی عبارت کو خطرناک سمجھتے ہیں، اس کی نشان دہی کریں۔
مصنف سے اختلاف ہے، دلیل سے کریں۔
رجوع چاہتے ہیں، رجوع کا مطالبہ کریں۔
تصحیح چاہتے ہیں، تصحیح کی کوشش کریں۔
مگر کسی انسان کو ذلیل کرنے، گرانے اور اس کے خلاف بدسلوکی پر اکسانے کو دینی غیرت کا نام نہ دیں۔یادرکھیے!دینی تحریکیں افراد سے بڑی ہوتی ہیں۔ عقائد شخصیات سے بڑے ہوتے ہیں۔ حق کسی فرد کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس لیے کسی ایک شخصیت کی حمایت یا مخالفت کو دین کی حمایت یا مخالفت نہ بنایا جائے۔ہمیں شخصیات کے بجائے اصولوں کی حفاظت کرنی چاہیے، اور اصولوں کی حفاظت بھی ایسے طریقے سے کرنی چاہیے کہ ہمارا اپنا اخلاق اور کردار ان اصولوں کی نفی نہ کرنے لگے۔
اگر ہم نئی نسل کو دین، عقیدہ اور علمی غیرت منتقل کرنا چاہتے ہیں تو اسے یہ بھی سکھانا ہوگا کہ مخالف کی دلیل کا جواب دلیل سے دیا جاتا ہے، انسان کی عزت پامال کرکے نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے، حق بات کہنے، اپنی زبان کو حدود میں رکھنے اور اختلاف کے باوجود دینی و اخلاقی آداب کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!