ـــــــــــــــــــــــــــــــ اللہ تعالیٰ نے حضرات’’صحابہ کرام‘‘ کو بہت اُونچا مقام عطاء فرمایا ہے:رضی ﷲ تعالٰی عنہم اجمعین
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھنا اور ان کی راہ پر چلنا ہر مسلمان کے لئے لازمی ہے…
دل کی موت:
اہل علم فرماتے ہیں کہ جس نے بھی حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر زبان درازی کی… یا کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ پر بھی طعنہ زنی کی تو اللہ تعالیٰ موت سے پہلے اُس کے دل کو مُردہ کر دیتے ہیں… اور دل کی موت گویا کہ ایمان سے محرومی کا ایک درجہ ہے… اورایسے افراد’’حُسن خاتمہ‘‘سے محروم رہتے ہیں… وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعنہ زنی کرنا… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچانا ہے… اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچانا ایمان سے محرومی کا ذریعہ بن جاتا ہے… تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سچے ہیں، عادل ہیں، جنتی ہیں، کامیاب ہیں، اونچے اور روشن ستارے ہیں… اور تمام دنیا کے سارے صدیقین، قطب، مجاہدین، شہداء… اور اولیاء کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے قدموں کی اُس خاک کے برابر بھی نہیں ہو سکتے جو خاک اُن کے قدموں پر… جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے لگی ہے… اور جو خاک اُن کے قدموں پر اسلام قبول کرنے کے بعد کسی بھی عمل میں لگی ہے… یا اللہ ! گواہ رہنا ہم آپ کے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اہل بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھتے ہیں… اور ان میں سے کسی کے لئے اپنے دل میں کوئی بغض، کینہ یا تنگی نہیں رکھتے… ہمارا عقیدہ ہے… ’’رضی اللہ عنہم‘‘ کہ اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہے…
* آج الحمدللہ قسمت اچھی لگ رہی ہے کہ… جلیل القدر عظیم المرتبۃ صحابی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں چند الفاظ لکھنے کی سعادت مل رہی ہے… واہ میرے مالک واہ! کتنا بڑا احسان ہورہا ہے ،کتنا بڑا فضل ہو رہا ہے… *اَلْحَمْدُ لِلهِ اَلْحَمْدُ لِلهِ وَاَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ*
*خلاصۂ کمالات*:
* اتنے بڑے انسان کے بارے میں ایک چھوٹا سا کالم؟… دل حیران ہے کہ کیا لکھے اور کیا چھوڑے؟… چلیں’’بسم اللہ ‘‘ کرتے ہیں… حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل اور کمالات کی فہرست بہت طویل ہے… ایسے کمالات کہ اگر ان میں سے صرف ایک بھی کسی انسان کو مل جائے تو اس کی عظمت کے لئے کافی ہو جائے… ایک نظر ڈالیں…
1. رسول رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ… قرابت یعنی رشتہ داری… نسبی بھی سسرالی بھی… سبحان ﷲ وبحمدہ سبحان ﷲ العظیم ۔۔۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ … قریشی اموی ہیں، رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا نسب ’’عبد مناف‘‘ میں ایک ہوجاتا ہے… اور آپ حضرت اُم المؤمنین اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے سگے بھائی ہیں…
2. رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقربّ صحابی رضی اللہ عنہ … حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تمام فضائل آپ کو حاصل ہو گئے۔
3. رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین اور غزوہ تبوک میں شرکت فرمانے والے مجاہد… سبحان ﷲ وبحمدہ سبحان ﷲ العظیم
4. رب العالمین کی وحی کے کاتب… آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے، وحی الٰہی اورخطوط مبارکہ کی کتابت فرماتے… ایسا نازک کام صرف معتمد ترین اہل امانت سے ہی لیا جا سکتا ہے…
5. بخاری وغیرہ مستند کتب میں روایت ہے کہ… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کے’’بحری مجاہدین‘‘ دکھائے… انہیں دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ ان کے لئے جنت واجب ہوگئی… حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے اس جہاد کی توفیق عطاء فرمائی ۔۔۔
6. مرتد اعظم مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد یمامہ میں آپ نے شرکت فرمائی اور خوب جم کر مقابلہ فرمایا… اور بعض مؤرخین کے نزدیک آپ مسیلمہ کذاب کے قتل میں بھی شامل تھے… سبحان اللہ وبحمدہ سبحان ﷲ العظیم
7. آپ رضی اللہ عنہ نے امت مسلمہ تک حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی مبارک احادیث پہنچائیں… آپ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے راوی تھے… اور آپ کی روایات بخاری، مسلم اور حدیث کی دیگر کتب میں موجود ہیں…
8. آپ رضی اللہ عنہ اُن صحابہ کرام میں سے ہیں جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مخصوص دعاؤں سے نوازا… حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جو قیمتی دعائیں ملیں وہ حدیث شریف کی کتابوں میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہیں…
9. آپ اُن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں شامل ہیں جن کے قلوب پر سکینہ الہٰی کے نزول کا تذکرہ قرآن مجید میں موجود ہے۔
10. آپ رضی اللہ عنہ نے لاکھوں مربع میل… خشکی اور سمندر میں اسلامی حکومت قائم فرمائی… جس کی بدولت لاکھوں افراد اسلام میں داخل ہوئے… اور زمین کا ایک بڑا حصہ ایمان وا سلام کی روشنی سے جگمگا اٹھا…
*خلاصۂ سیرۃ*:
* آپ کا اسم گرامی’’معاویہ‘‘، کنیت’’ابو عبدالرحمن‘‘… والد محترم کا نام حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ (اصل نام: صخر بن حرب)…ولادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تقریبا پانچ سال پہلے(کچھ اور اقوال بھی ہیں)…
* وفات: نصف رجب ۶۰ھ ، عمر مبارک اٹھتر(۷۸) سال، نماز جنازہ حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے پڑھائی…
* حلیہ: بہت حسین و جمیل، دراز قد، سفید رنگت، باوقار، ذہین، بردبار اور بہادر… خصوصی صفات سب سے خاص صفت’’حلم‘‘ یعنی بردباری تھی، صبر اور برداشت کے گویا مینار تھے، اپنے دشمنوں کو معاف کرنا، لوگوں سے درگذر رکھنا اور مخالفین کے لئے اپنا سینہ کھلا رکھنا آپ کے لئے آسان تھا… مدبر، عقلمند اور صاحب فراست تھے،دینی سیاست میں امام تھے اس صفت میں بہت فائق تھے… اور آپ کی سخاوت بھی بہت مشہور تھی… حضرت سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جب آپ سے بیعت کرلی تو اُس کے بعد پوری اسلامی دنیا کی حکومت انیس سال تین مہینے ستائیس دن تک بہت خوبی اور مثالی انتظام سے چلائی… زمین کے ہرطرف فتوحات کا جال بچھا دیا… اور سمندروں پر اسلامی سلطنت قائم فرمادی… رضی اللہ تعالی عنہ…
*مقبول دعائیں*:
* رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سینے میں چھپی صلاحیتیوں کا اندازہ فرما لیا تھا… حضرت ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’المرتضیٰ‘‘ میں دو ایسی روایات ذکر فرمائی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کی پیشن گوئی فرمائی تھی… حضرت ندوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:* 1. دیلمی سے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ فرماتے تھے کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے دن رات کے تسلسل کا سلسلہ ختم نہ ہوگا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ برسر حکومت آجائیں گے…
2. آجری کتاب الشریعہ میں عبدالملک بن عمیر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے معاویہ! اگر تم کو حکومت مل جائے تو اچھی طرح حکومت کرنا، اس وقت سے مجھے خلافت کے حصول کی تمنا تھی…(المرتضیٰ ،ص:۳۲۳) تمنا اس لئے ہو گی تاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم مبارک کو پورا فرمائیں…* رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کئی قیمتی دعائیں دیں…ارشاد فرمایا: *اللّٰھم اجعلہ ھادیا مھدیا واھدبہ۔* (ترمذی، وبخاری فی التاریخ) یااللہ ان کو رہنما بنا، ہدایت یافتہ بنا اور ان کے ذریعہ ہدایت کو عام فرما…
* ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے لئے دعاء فرمائی… *اللھم علمہ الکتاب والحساب وقہ العذاب۔* (مسند احمد) یااللہ ! انہیں کتاب اللہ کا علم اور حساب کی سمجھ عطاء فرما اور انہیں اپنے عذاب سے بچا…
*ایک دعا ء ایک وظیفہ*:
* لیجئے! آج حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بابرکت تذکرہ کی برکت سے ایک طاقتور وظیفہ بھی لے لیجئے…حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بڑے بہادر، جنگ آزما، نامور سپہ سالار تھے… حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کی تشکیل پہلے جنگ یمامہ اور پھر شام کی طرف فرما دی تھی… شام میں ایک سرحد پر اُن کا وصال ہو گیا… حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی جگہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے لشکر کا امیر بنا دیا… حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے جہاد اور فتوحات کی داستان بہت طویل اور لذیذ ہے… آپ چالیس سال تک مختلف ذمہ داریوں پر رہے اور آپ کی فتوحات میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا رہا… وہ لوگ جو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کچھ کینہ رکھتے ہیں وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے جہاد اور آپ کی فتوحات کی صرف ایک فہرست پڑھ لیں تو شائد اُن کا دماغ ٹھکانے آجائے اور وہ طعن و تنقید کے گناہ سے باز آجائیں… خیر آج صرف ایک واقعہ!!!
* حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا:
اما بعد! میں نے آپ کو’’قیساریہ‘‘ کا ذمہ دار بنا دیا ہے، پس آپ اس کی طرف کوچ کریں اور اُن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں اور کثرت سے یہ پڑھیں:*’’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم، اَللہُ رَبُّنَا، اَللہُ ثِقَتُنَا وَمَوْلَانَا فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْر‘‘* ہر طاقت اور ہر قوت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے جو بلند عظمت والے ہیں، اللہ ہمارے ربّ ہیں، اللہ تعالیٰ ہی ہمارا سہارا اور ہمارے مددگار ہیں وہ بہترین حامی اور بہترین نصرت فرمانے والے ہیں…قیساریہ شام کا آخری علاقہ تھا جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فتح فرمالیا… حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی کو عہدہ دینے کے معاملہ میں بہت محتاط اور باریک بین تھے… انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو عہدہ دیا اور انہیں اس پر قائم رکھا… یہ بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی امانت، صداقت، حسن تدبیر اور حسن سیاست کی ایک بڑی دلیل ہے…
*مر ؔشد کا فرمان*:
* اس اُمت کے مجاہدین کے ایک بڑے مرشد، حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کسی کا امتحان لینا ہو کہ یہ شخص حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھتا ہے یا نہیں تو اس کے لئے… کسوٹی اور پرکھنے کا مقام حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں… پس جو اُن پر زبان درازی کرتا ہے ہم سمجھ لیتے ہیں کہ وہ’’حبِ صحابہ‘‘ سے محروم ہے… ایک اور محدث کا قول ہے کہ جس نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموس پر ہاتھ ڈالنا ہووہ آغاز حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کرتا ہے… حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ… حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ افضل ہیں یا حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ …ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم!وہ غبار جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ناک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے داخل ہوا وہ عمر بن عبدالعزیز سے ہزار گنا افضل ہے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں ادا کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے :*’’سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘*
تو معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے:’’ربنا ولک الحمد‘‘اب بتاؤ اس کے بعد اور کیا چاہئے۔ (ابنِ عساکر)
ایک دلچسپ واقعہ*:
* حضرت عمر بن العزیز رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے کسی انسان کو نہیں پیٹا… صرف ایک آدمی کو کوڑوں سے پیٹا ،یہ وہ شخص تھا جس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی بکی تھی… حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کاوہ خواب بھی بہت مشہور ہے جس میں انہوں نے قیامت اور جنت کے مناظر دیکھے ان میں ایک منظر یہ تھا کہ… حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں لے جایا گیا… پہلے وہاں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ خو ش خوش نکلے وہ فرما رہے تھے … قَدْ حُکِمَ لِیْ… کہ میرے حق میں فیصلہ فرما دیا گیا… اُن کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خوش خوش نکلے اوروہ فرما رہے تھے… قَدْ غُفِرَلِیْ کہ مجھے معاف فرما دیا گیا:
*چند ایمان افروز عبارتیں*:
1. یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کے ایک ممتاز فرد ہیں… ان کے مناقب میں حدیثیں وارد ہوئی ہیں… جو لوگ اُن پر ’’زبان طعن‘‘ دراز کرتے ہیں… اور اُن کے سلسلہ میں بے باکی و زبان درازی سے کام لیتے ہیں… ان کو اس امر کا پاس و لحاظ ہونا چاہئے… کہ وہ ایک ایسے صحابی رضی اللہ عنہ ہیں جن کو قرابت کا شرف بھی حاصل ہے… (المرتضیٰ، ص:۳۲۲)
2. یہ بات ثابت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کاتب بنایا تھا اور آپ اپنا کاتب اسی کو بناتے تھے جو عدل وامانت کی صفات سے متصف ہو…(المرتضیٰ: ۳۲۳)
3. مشہور مؤرخ مسعودی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے(زمانہ امارت) کے روزانہ کے معمول کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: اُن کے یہاں دن رات میں پانچ مرتبہ اذنِ عام(یعنی ملاقات کی عام اجازت کا نظام) تھا وہ صبح نمازِ فجر سے فارغ ہوتے تھے تو بیٹھ جاتے اور پچھلے حوادث و واقعات کی داستان سنتے، پھر دولت خانہ تشریف لے جاتے اور قرآن مجید کے ایک پارہ کی تلاوت کرتے، پھر مکان پر جا کر انتظامی ہدایات دیتے، پھر چار رکعت پڑھتے اور خواص الخواص کو آنے کی اجازت ہوتی اور اُن سے تبادلۂ خیالات کرتے، پھر مشیرانِ سلطنت حاضر ہوتے اور اُس دن کے کرنے والے کاموں کی اطلاع دیتے، پھر کچھ ناشتہ فرماتے، پھر ایک بار گھر جا کر باہر تشریف لے آتے، مسجد میں کُرسی لگا دی جاتی اور آپ کے پاس کمزور، بادیہ(یعنی دیہات) کا رہنے والا اعرابی، بچہ ، عورت اور بے کس ولاوارث آدمی آتا آپ فرماتے اس کے معاملہ کی تحقیق کرو جب کوئی باقی نہ رہتا تو مجلس سے اٹھتے، چارپائی پر بیٹھ جاتے اور فرماتے: لوگوں کو ان کی حیثیت کے مطابق آنے دو، جب سب بیٹھ جاتے تو فرماتے کہ صاحبو! اُن لوگوں کی ضروریات و مسائل کو ہم تک پہنچایا کرو جو خود نہیں پہنچ سکتے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تم کو اعزاز بخشا ہے، پھر ہر ایک کے معاملہ اور ضرورت کے مطابق ہدایات دیتے روزآنہ کا یہی معمول تھا…
*خال المؤمنین*:
* حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایک بہت میٹھا لقب اور رشتہ ہم سب مسلمانوں سے ہے… وہ ’’خال المؤمنین‘‘ یعنی ایمان والوں کے محبوب اور محترم ماموں جان ہیں… حضرات ائمہ اور محدثین اُن کو اسی لقب سے یاد کرتے ہیں… وہ ہماری امّاں جی حضرت سیّدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں… حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہماری’’اماں جی‘‘ قرار دیا ہے… یوں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہم سب مسلمانوں کے ’’ماموں جان‘‘ ہوگئے… آخر میں صرف دو باتیں…
1. مسندِ احمد میں ہے کہ… اپنے زمانہ امارت میں آپ دمشق کی جامع مسجد میں خطبہ دے رہے تھے اور آپ کے کپڑوں پر پیوندلگے ہوئے تھے…سبحان اللہ ! یہ حالت تھی لاکھوں مربع میل پر حکومت کرنے والے عظیم انسان کی…
2. آپ رضی اللہ عنہ کو نماز اور قرآن پاک کے ساتھ بہت شغف اور تعلق تھا اور آپ کی نماز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بہت مشابہ تھی۔