(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانامحمدفہیم بجنوری

مولانامحمدفہیم بجنوری

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/15
موضوعات
رافضیت اور ناصبیت
امت میں فرقوں کی بہتات ہے، ان کی گمراہی درجات رکھتی ہے، بعض دائرۂ اسلام کے گرد گھومتے ہیں؛ جب کہ بعض خس کم جہانِ اسلام پاک کر جاتے ہیں، رافضی ہمارے سینوں میں خنجر گھونپتے ہیں؛ لیکن ہمیں شکوہ نہیں؛ کیوں کہ انھوں نے راہ جدا کر لی ہے، دنیا میں بیہودہ مذاہب کی کمی نہیں، رافضیت بھی سہی، ہمیں کیا!

ناصبیت ایک دور میں اجتماعی حیثیت اختیار کر گئی تھی، جب اموی حکمرانوں نے ہمارے محبوب، محبوب کے محبوب اور محبوب کے محبوب کے محبوب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دلوائیں، بنو امیہ نے جو فضیحت سیاسی مفاد کے لیے شروع کی تھی وہ ذاتی دشمنی میں تبدیل ہوئی، سب و شتم کی یہ مہم آل و اولاد تک ممتد تھی، یوں ناصبیت ایک فرقہ بن گیا؛ لیکن اللہ کا فضل وکرم ہے کہ بنو امیہ کے زوال کے ساتھ ناصبیت بحیثیت فرقہ باقی نہیں رہی۔

اس میں شک نہیں کہ آج بھی بعض منحوس حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دیتے ہیں، ان کے فضائل کا انکار کرتے ہیں، ان کو منافق کہتے ہیں، ان کا اسلام زیر بحث لاتے ہیں، ان کی تنقیص میں احادیث وضع کرتے ہیں؛ مگر یہ لعنتی شیاطین انفرادی حیثیت میں ہیں، منظم فرقہ نہیں رکھتے، ہمیں ان ملعونوں سے بھی بحث نہیں، جہنم بہت وسیع ہے۔

ہمیں حیرت اپنے بعض نوجوانوں پر ہے جو ناصبی نہیں ہیں؛ مگر ان کا لاشعور متاثر ہے، بلا وجہ یزید کی وکالت کرتے ہیں، واقعۂ حرہ کی تاویل کرتے ہیں، حرم مکی کی حرمت تار تار کرنے والوں کے تئیں نرم گوشہ رکھتے ہیں، بنو امیہ کے بعض انتہائی ظالم گورنروں کی زیادتیوں کا سرے سے انکار کرتے ہیں، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم محترم کی حدود پر مستی خوری میں مبتلا ہیں، شدید اندیشہ ہے کہ تجاوز کا سنگین جرم کر بیٹھیں۔ ہمارے یہ نوجوان اندھے ہو گئے ہیں، روافض کی طرح مسلمات کا انکار اندھ بھگتی کی حد ہے، تواتر، تعامل، توارث، سینے اور سفینے سب مشکوک ہیں تو پھر ثبوت کا کیا راستہ ہوگا؟ پھر یہی انارکی دینیات تک پھیلے گی اور روافض نے ایسا ہی کیا، آپ بھی مفروضات کی دنیا لیے بیٹھے ہیں، آپ یہ کیوں کر رہے ہیں؟ اس طرز پر کوئی بغضِ علی کا شبہ کرے تو وہ کیسے غلط ہوا؟

رافضی خیمے کی طرف منڈلانے والے بھی بد نصیب ہیں، صحابہ کا کردار موضوع تحقیق نہیں، علمائے امت یہ قرار داد باتفاق رائے پاس کر چکے ہیں، آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص نہیں کر سکتے، یہ قرآن و سنت کے علاوہ خرق اجماع بھی ہے، پھر یہ ایک دو لفظ آپ کیوں پکڑتے ہو؟ یہ الفاظ اگر حضرت معاویہ کے بارے میں وارد بھی ہیں تو خود حضور نے ہمیں دہرانے سے منع بھی تو کیا ہے! آپ اوقات سے آگے کیوں بڑھتے ہیں؟ میں آپ کی بات بڑی کرتا ہوں کہ باغی معروف معنی میں ہے؛ لیکن اگر یہ لفظ واقعی ناپسندیدہ معنی رکھتا ہے تو خود اسی زبان نبوت نے آپ کو یہ لفظ ادا کرنے سے منع کیا ہوا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ذر غفاری کو جاہلیت والا کہتے ہیں تو آپ بھی ایسا کریں گے؟ وہ حضرت علی کو آمادۂ جدل کہتے ہیں تو آپ حضرت علی کو جھگڑالو کہیں گے؟ وہ ازواج مطہرات کو زلیخا کی مکار سہیلیوں سے مشابہت دیں گے تو آپ بھی ازواج مطہرات کو فریبی اور چالباز کہیں گے؟ اللہ کے بندو! بادشاہ اپنے اہل وعیال کو تنبیہ کرتے ہوے مختلف تعبیرات اختیار کرتا ہے؟ مگر رعایا کو دہرانے کی اجازت نہیں، گنگو بولے گا تو گردن جائے گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی توبہ اور بیعت قبول کی، آپ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتماد کافی نہیں؟ آپ ذاتی تحقیق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتماد سے برتر سمجھتے ہیں؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اعتبار کو موضوع تحقیق بنانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتماد پر شک کرنے کے برابر ہے، ایسے لوگ اپنے ایمان کی خبر لیں۔

میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جب مشاجرات میں سکوت کا حکم ہے تو اکابر علما نے جائر، باغی اور باطل کے الفاظ کیوں استعمال کیے؟ اس اطلاق کے حامل اساطینِ امت ہیں، ہم ان کے پاؤں کی دھول ٹھہرتے ہیں؛ لیکن یہ اطلاقات بالکل غیر ضروری تھے، اول جواب ہی سے معذرت کرنی چاہیے، میرے گاؤں میں جب کوئی شخص کسی بات سے دانستہ دامن بچانا چاہتا ہے تو کہتا ہے: مجھے کیا پتا؟ پس جمل اور صفین میں حق اور باطل کے سوال پر ہم گنگؤوں کا جواب: ہمیں کیا پتا؟ طے تھا۔

تاہم اگر کسی کو جواب دینے کی ضد ہے تو اتنا جواب کافی تھا کہ حضرت علی حق پر تھے، یہ مکمل جواب ہے، حکم جاننے کے لیے تکملہ درکار نہیں تھا، اس میں حضرت معاویہ کو جائر، باطل اور باغی کہنے کی ضرورت نہیں تھی، بات یہاں پوری ہوجاتی ہے کہ حضرت علی حق پر تھے، مذکورہ ناپسندیدہ الفاظ ہمارے بڑوں کی کتابوں میں ہیں؛ مگر ہمیں ان کی ضرورت سمجھ میں نہیں آئی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام تنبیہ کے خلاف ہیں، صحابہ سے کف لسان کے شاندار اجماعی حکم کے منافی ہیں اور اسلام کے سب سے حساس اور نازک مفاد کے لیے خطرہ پیدا کرتے ہیں۔

اصلی ناصبی تو بدبخت ہیں، ان سے گفتگو مقصود نہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں، یہ حضور کا ذاتی، شخصی اور فیملی میٹر بھی ہے، راست ان کے گھرانے کو گالی دی جاتی ہے، ذاتی تربیت کو نشانہ بناتے ہیں، ہم ملحق ناصبیوں سے عرض گزار ہیں کہ نصرتِ یزید والا رسک ہر گز کیلکولیٹڈ نہیں، چھلانگ لگانے سے پہلے دس بار سوچیں، اسی طرح ملحق روافض بھی طرزِ عمل پر نظر ثانی کریں، بے شک بعض اکابر نے چند الفاظ لکھ دیے ہیں؛ مگر وہ علمی تحقیق تک محدود تھے، آپ ان کو لقب کا درجہ دینے پر مصر ہیں! یہ بد دیانتی، خبثِ باطن، حظ نفس اور بدنیتی ہے، اسے توہینِ صحابی کی فردِ جرم سے کلین چٹ نہیں مل سکتی۔

کالم نگار : مولانامحمدفہیم بجنوری
| | |
265