(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
مشاجراتِ صحابہؓ اور مسلکِ اعتدال
قصاصِ عثمانؓ کا مسئلہ:
قصاصِ عثمانؓ کا مسئلہ اس وقت سب سے زیادہ حساس مسئلہ تھا۔ ایک طرف خلیفۂ مظلومؓ کے خون کا قصاص لینے کا مطالبہ تھا تو دوسری طرف وہ عناصر بھی موجود تھے، جو فتنہ برپا کرنے میں شریک تھے اور مدینہ کے حالات پر اثر انداز ہو رہے تھے۔ اسی وجہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے سوال صرف یہ نہیں تھا کہ قاتلوں کو سزا کب دی جائے؟ بلکہ یہ مسئلہ بھی درپیش تھا کہ پہلے ریاستی نظم کو بحال کیا جائے، امن قائم کیا جائے اور پھر قانون کے مطابق قصاص کا مرحلہ مکمل کیا جائے۔ یہی بنیادی اختلاف بعد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور بعض جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان پیدا ہونے والے سیاسی اختلاف کا ایک اہم پس منظر بنا۔

سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما بھی ان جلیل القدر صحابہ میں سے تھے، جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی مرحلے میں ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ البتہ بعد میں دونوں حضرات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کے قصاص کا مطالبہ لے کر اٹھے۔ یہ کہنا بالکل درست نہیں کہ یہ حضرات خود خلافت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس دعوے کے لیے معتبر دلیل درکار ہے، جبکہ تاریخی مواد میں ان کے موقف کو بنیادی طور پر قصاصِ عثمانؓ اور اصلاحِ حالات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اصل اختلاف اس بات پر نہیں تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا خون معاف کر دیا جائے، قاتلوں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا جائے یا ان کا قصاص لیا جائے؟ بلکہ بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ موجودہ بدامنی اور فتنے کے ماحول میں قصاص کا نفاذ کس وقت اور کس طریقے سے کیا جائے؟ (البدایہ والنہایہ، جلد 7، صفحہ 264-265)

جنگِ جمل۔پس منظر:
سیدنا طلحہ، زبیر اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم مکہ مکرمہ کی طرف گئے اور بعد میں بصرہ کا رخ کیا۔ ادھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی حالات کو قابو میں کرنے کے لیے عراق کی طرف متوجہ ہوئے۔ یہ مرحلہ انتہائی نازک تھا، کیونکہ دونوں طرف رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابہ موجود تھے۔ ایک طرف علی رضی اللہ عنہ تھے، جو خلیفۂ وقت تھے، اور دوسری طرف عائشہ، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم جیسے عظیم صحابہ تھے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 22، صفحہ 283)

اسی لیے اہلِ سنت کے نزدیک اس واقعے کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین یا ان کے خلاف طعن کا ذریعہ بنانا درست نہیں، بلکہ اس پورے معاملے کو ایک بڑی آزمائش، صحابہ کرامؓ کے اجتہادی اختلاف اور انتہائی پیچیدہ سیاسی حالات کے پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔

جنگ سے قبل صلح کی کوششیں:
جنگ سے قبل دونوں جانب سے صلح کی کوشش ہوئی اور باہمی گفت و شنید کے نتیجے میں فریقین اس بات پر متفق ہو گئے کہ جنگ روک کر صلح کر لی جائے، کیونکہ ان حضرات کا اولین مقصد جنگ نہیں، حالات کو گفت و شنید کے ذریعے سنبھالنا تھا۔

جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ذی قار کے مقام پر پہنچ کر حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ کو بلایا اور بصرہ والوں کے پاس اپنا سفیر بنا کر بھیجا، اور فرمایا: ’’ان دونوں حضرات (حضرات طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما) سے ملاقات کرو اور انہیں باہمی اتحاد و اتفاق کی دعوت دو، اختلاف اور تفرقے کے انجام سے آگاہ کرو۔ اگر وہاں تمہیں کوئی ایسی صورتِ حال پیش آئے۔‘‘ پھر پوچھا: ’’جس کے بارے میں میری طرف سے کوئی واضح ہدایت موجود نہ ہو تو کیا کرو گے؟‘‘ قعقاعؓ نے عرض کیا: ’’ہم آپؓ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق ان سے بات کریں گے، اور اگر کوئی ایسی صورت پیش آ گئی جس کے بارے میں آپؓ کی طرف سے کوئی خاص ہدایت نہ ہو تو ہم اپنے اجتہاد سے کام لیں گے اور حالات کو دیکھتے ہوئے مناسب گفتگو کریں گے۔‘‘ یہ سن کر حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’تم اس کام کے لیے موزوں ہو۔‘‘

چنانچہ حضرت قعقاعؓ بصرہ پہنچے اور سب سے پہلے حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’اے ام المؤمنین! آپؓ کو یہاں آنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ آپ اس شہر میں کیوں تشریف لائیں؟‘‘

حضرت عائشہؓ نے فرمایا: ’’بیٹے! لوگوں کے درمیان اصلاح اور صلح کرانے کے لیے آئی ہوں۔‘‘

حضرت قعقاعؓ نے کہا: ’’آپ طلحہؓ اور زبیرؓ کو بھی بلا بھیجیں، تاکہ آپ کی موجودگی میں میں ان دونوں سے بات کر سکوں۔‘‘ حضرت عائشہؓ نے انہیں بلا بھیجا۔ دونوں حضرات تشریف لائے تو حضرت قعقاعؓ نے کہا: ’’میں نے ام المؤمنینؓ سے پوچھا کہ انہیں یہاں کیا چیز لائی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان اصلاح کے لیے آئی ہیں۔ اب آپ دونوں بتائیے کہ کیا آپ بھی اسی مقصد میں ان کے ساتھ ہیں یا اس سے اختلاف رکھتے ہیں؟‘‘

انہوں نے کہا: ’’ہم بھی اسی مقصد میں ان کے ساتھ ہیں۔‘‘

حضرت قعقاعؓ نے کہا: ’’پھر مجھے بتائیے کہ اس اصلاح کی صورت کیا ہوگی؟‘‘

دونوں نے کہا: ’’حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے قصاص لینا، کیونکہ اگر یہ معاملہ یونہی چھوڑ دیا گیا تو گویا قرآن کے حکم کو چھوڑ دیا جائے گا۔‘‘

حضرت قعقاعؓ نے کہا: ’’آپ لوگ بصرہ کے ان لوگوں میں سے حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو قتل کر چکے ہیں، لیکن انہیں قتل کرنے سے پہلے آپ لوگ آج کی نسبت زیادہ مضبوط حالت میں تھے۔ آپ نے چھ سو آدمیوں کو قتل کیا، جس کے نتیجے میں چھ ہزار لوگ ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے، آپ سے الگ ہو گئے اور آپ کے درمیان سے نکل گئے۔ پھر آپ نے حرقوص بن زہیر کو پکڑنا چاہا تو چھ ہزار لوگوں نے اسے آپ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔‘‘ (یہ اشارہ تھا اس جنگ کی طرف جو اس ملاقات سے پہلے حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما بصرہ میں موجود ان سازشی عناصر سے کر چکے تھے، جس کے نتیجے میں ان کے چھ سو آدمی قتل ہوئے تو بصرہ میں موجود ان کے رشتے دار و اقارب، جو پہلے جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے، اپنے رشتے داروں کے قتل کیے جانے کی بنا پر مخالفین کی صف میں جا کھڑے ہوئے تھے، جس کے بعد مخالفین کی تعداد چھ سو سے چھ ہزار تک پہنچ گئی تھی۔)

حضرت قعقاعؓ نے فرمایا: ’’اب اگر آپ انہیں چھوڑ دیتے ہیں تو آپ خود اسی چیز کو چھوڑ رہے ہوں گے جسے آپ اصلاح اور قصاص کے نام پر حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور اگر ان لوگوں اور ان کے ساتھ الگ ہونے والوں سے جنگ کرتے ہیں، پھر وہ آپ پر غالب آ گئے تو صورتِ حال اور بھی سنگین ہو جائے گی۔ جس خطرے سے آپ بچنا چاہتے ہیں، وہ اس سے کہیں بڑھ جائے گا۔ مزید یہ کہ اگر آپ مضر اور ربیعہ کے قبائل کو اس علاقے سے روکنے کی کوشش کریں گے تو وہ سب آپ کے خلاف متحد ہو جائیں گے اور ان لوگوں کی مدد کریں گے، جس طرح یہ لوگ اس بڑے واقعے اور عظیم جرم کے معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہو گئے ہیں۔‘‘

یہ سن کر حضرت عائشہؓ نے پوچھا: ’’پھر تمہاری رائے کیا ہے؟‘‘

حضرت قعقاعؓ نے جواب دیا: ’’میری رائے یہ ہے کہ اس معاملے کا علاج یہی ہے کہ فی الحال اسے ٹھنڈا ہونے دیا جائے، جب حالات پرسکون ہو جائیں گے تو معاملہ خود اپنی جگہ واضح ہو جائے گا۔ اگر آپ لوگ ہمارے ساتھ بیعت کر لیتے ہیں تو یہ خیر اور رحمت کی علامت ہوگی۔ اس طرح حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کا راستہ بھی نکل آئے گا اور امت کے لیے عافیت و سلامتی بھی حاصل ہو جائے گی۔ لیکن اگر آپ نے اس معاملے کو ضد اور سختی کے ساتھ آگے بڑھانے ہی کا فیصلہ کیا تو یہ شر اور نقصان کی علامت ہوگی اور تمام قوت و اجتماعیت ختم ہو جائے گی۔ لہٰذا عافیت کو اختیار کریں تاکہ اللہ آپ کو عافیت عطا فرمائے۔ جیسے آپ پہلے خیر کے دروازے کھولنے والے تھے، ویسے ہی اب بھی خیر کے دروازے کھولنے والے بنیں۔ ہمیں کسی ایسے امتحان میں نہ ڈالیں جس کی زد آپ پر بھی پڑے، کیونکہ اس صورت میں نقصان صرف ہمارا نہیں، بلکہ آپ کا بھی ہوگا۔ اللہ کی قسم! میں یہی بات کہہ رہا ہوں اور اسی کی دعوت دے رہا ہوں۔ مجھے خوف ہے کہ یہ معاملہ اس وقت تک ختم نہ ہوگا، جب تک اللہ اس امت کے بارے میں اپنا فیصلہ پورا نہ کر دے؛ اس امت کا دنیاوی حصہ پہلے ہی بہت کم رہ گیا ہے اور اس پر بڑی مصیبت آن پڑی ہے۔ یہ معاملہ معمولی نوعیت کا نہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا، یا چند آدمیوں نے کسی ایک شخص کو قتل کر دیا، بلکہ یہ پوری امت کے لیے بہت بڑا اور پیچیدہ معاملہ بن چکا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’تم نے درست بات کہی اور بہت اچھی رائے دی۔ اب واپس جائیں اور اگر علیؓ بھی اسی رائے پر قائم رہے تو یہ معاملہ ان شاء اللہ حل ہو سکتا ہے۔‘‘

حضرت قعقاعؓ واپس حضرت علیؓ کے پاس آئے اور پوری صورتِ حال بتائی۔ حضرت علیؓ کو ان کی گفتگو بہت پسند آئی۔ یوں دونوں جانب کے لوگ صلح کے قریب پہنچ گئے اور امید ہو چلی کہ آج کل میں صلح ہو جائے گی۔

کچھ لوگ اس صلح کو ناپسند کرتے تھے۔ یہ وہی سازشی عناصر تھے، جنہیں اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے اور خوب جانتے تھے کہ صلح کے نتیجے میں ان کے لیے ہلاکت کے سوا کچھ نہیں رہے گا۔ (الکامل فی التاریخ، جلد 2، صفحہ 41)

سازشی عناصر کی چال اور جنگ کا آغاز:
سازشی عناصر نے جب دیکھا کہ دونوں فریقین صلح پر آمادہ اور پُرعزم نظر آ رہے ہیں تو انہیں اپنی چالیں ناکام ہوتی نظر آئیں اور اپنی بقا کا خوف دامن گیر ہوا۔ چنانچہ آخری کوشش کے طور پر انہوں نے انتہائی خطرناک چال چلی اور دونوں لشکروں کے درمیان جا کر ایک دوسرے کے مخالف تیر چلانے شروع کر دیے۔ یوں لڑائی شروع ہو گئی۔ دونوں لشکر صورتِ حال سے ناواقف تھے، سو دونوں طرف سے تلواریں نیاموں سے نکل آئیں، شور و غل اس قدر مچا کہ ایک دوسرے کی بات تک سنائی نہ دے اور حالات اس نہج تک پہنچ گئے کہ دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے آ گئے اور پھر جنگ چھڑ گئی۔ تاریخ میں یہ جنگ ’’جنگِ جمل‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ (البدایہ والنہایہ، جلد 7، صفحہ 267)

حضرت عائشہ صدیقہؓ کو جب اچانک معلوم ہوا کہ جنگ چھڑ چکی ہے اور مسلمان مسلمان کا خون بہا رہا ہے تو خود کو روک نہ سکیں اور قاضیِ بصرہ کے کہنے پر میدانِ کارزار کا رخ کیا، تاکہ زوجۂ نبی اور ام المؤمنین ہونے کے ناطے، فریقین ان کی بات سنیں اور باہم قتل و قتال سے باز آ جائیں، لیکن سازشی عناصر نے انہیں دیکھتے ہی جنگ کا سارا زور اسی حصے کی طرف لگا دیا، جہاں اماں عائشہؓ موجود تھیں اور ہر طرف لاشیں گرنی شروع ہو گئیں۔ (تاریخ امتِ مسلمہ، جلد 2، صفحہ 203) اس جنگ میں مسلمان ایک دوسرے کے مقابل آ گئے اور بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے۔

یہ واقعہ اسلامی تاریخ کے ان انتہائی دردناک واقعات میں سے ہے، جنہوں نے امت کے سیاسی اتحاد کو شدید نقصان پہنچایا۔ حالانکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے اس جنگ کا مقصد ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا یا رسول اللہ ﷺ کے کسی صحابی سے ذاتی دشمنی نہیں تھا، بلکہ وہ اپنے منصبِ خلافت اور ریاستی نظم کے مطابق حالات کو قابو میں کرنے کے لیے میدان میں آئے تھے۔ دوسری طرف مخالف لشکر کے جلیل القدر صحابہؓ بھی اپنے فہم کے مطابق عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ اور اصلاحِ حالات چاہتے تھے۔ ان حضرات کا مقصد اقتدار کا حصول، باہمی خون ریزی یا قتل و قتال نہیں تھا۔ فریقین کی چاہت تھی کہ جنگ کے بجائے کوئی درمیانی صورت نکل آئے، لیکن دشمنانِ اسلام کی چالیں کامیاب ہو گئیں اور جو لکھا تھا وہ ظہور میں آ گیا کہ تقدیر سے مفر نہیں!

حضرت زبیرؓ اور حضرت طلحہؓ کی شہادت:
روایات میں آتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کا وہ فرمان یاد دلایا، جس میں نبی کریم ﷺ نے زبیرؓ سے فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب تم علیؓ سے لڑو گے اور تم اس معاملے میں ظالم ہو گے۔ حضرت زبیرؓ نے تصدیق کی اور کہا: ’’اس وقت مجھے یہ بات یاد نہیں تھی؛ اب اس موقع پر یاد آئی ہے۔‘‘ اور وہ جنگ سے واپس ہو گئے۔ (مستدرک للحاکم، حدیث: 5576)

وہ جنگ سے کنارہ کش ہو کر واپسی کی راہ پر تھے کہ نماز کے دوران سجدے کی حالت میں ایک بدبخت عمرو بن جرموز نے انہیں شہید کر دیا اور حضرت علیؓ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انہیں اطلاع دی۔ تو انہوں نے حضرت زبیرؓ کی خدمات کو شان دار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا اور قاتل سے فرمایا کہ تو جہنمی ہے۔ (مسند، جلد 1، صفحہ 89)

حضرت زبیرؓ کے طرزِ عمل کو دیکھ کر حضرت طلحہؓ بھی اس جنگ سے کنارہ کش ہونے کا فیصلہ کر چکے تھے، مگر ظالموں نے انہیں مہلت نہ دی اور شہید کر دیا۔ (مستدرک حاکم، جلد 2، صفحہ 371) یہ دونوں حضرات عشرہ مبشرہ میں سے تھے، جن کو نبی اکرم ﷺ نے ایک ہی مجلس میں جنت کی بشارت دی تھی۔ ان دونوں حضرات کی شہادت سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ شرپسند کسی صورت میں نہیں چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے درمیان صلح ہو اور ہر وہ شخص جو اس جانب پیش قدمی کرتا تھا، اس کی جان لے لیتے تھے۔

فتح کے بعد حضرت علیؓ کا طرزِ عمل:
جیسا کہ ہم نے کہا: جو تقدیر میں لکھا تھا وہ تو ہونا ہی تھا، سو ہو چکا۔ حضرت علیؓ کا لشکر فتح یاب ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کیا فاتح لشکر نے مفتوح لشکر کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی کی؟ بعض لوگ جو اس جنگ کو کفر و اسلام کی کسوٹی بنا کر پیش کرتے ہیں، ان سے سوال ہے کہ کیا جب مسلمان کفار پر فتح پاتے ہیں تو وہ انہیں یونہی چھوڑ دیتے ہیں؟ قرآن کا کیا حکم ہے؟ یہی کہ یا تو قتل کرو یا قید کرو اور غلام بناؤ۔ کیا حضرت علیؓ نے ایسا کیا؟ اگر نہیں کیا تو کیوں؟ کیا وہ تمہارے زعم کے مطابق کفار کو رعایت دے کر قرآن کے حکم کی مخالفت کے مرتکب نہیں ہو گئے؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ کفر و اسلام کی جنگ نہیں تھی، نہ وہ حضرات جنگ کرنا چاہتے تھے اور حضرت علیؓ بخوبی جانتے تھے کہ اس جنگ کے اصل ذمہ دار یہ حضرات نہیں ہیں، بلکہ شرپسند عناصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف حضرت علیؓ نے اماں عائشہ صدیقہؓ کو پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ رخصت کیا، بلکہ ان کے لشکر میں سے جو لوگ زندہ بچ گئے تھے، انہیں بھی اجازت دی کہ اگر چاہیں تو ان کے ساتھ واپس چلے جائیں۔

روانگی کے وقت حضرت عائشہؓ نے اپنے لوگوں سے فرمایا: ’’میرے بیٹو! ایک دوسرے سے کوئی شکوہ نہ کرنا۔ اللہ کی قسم! میرے اور علیؓ کے درمیان پہلے سے وہی تعلق تھا جو ایک عورت اور اس کے سسرالی رشتے داروں کے درمیان ہوتا ہے، اور اگرچہ مجھے ان سے کچھ گلہ ہے، پھر بھی وہ بہترین لوگوں میں سے ہیں۔‘‘

حضرت علیؓ نے اپنے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! عائشہؓ نے درست کہا۔ میرے اور ان کے درمیان اس کے سوا کوئی بات نہیں تھی، اور وہ دنیا اور آخرت میں تمہارے نبی ﷺ کی زوجہ ہیں۔‘‘ (البدایہ والنہایہ، جلد 7، صفحہ 274)

جنگِ جمل اسلامی تاریخ کا محض ایک جنگی واقعہ نہیں، بلکہ امت کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ:

۱۔ جب معاشرے میں قتل، افواہوں، سیاسی اضطراب اور باہمی بداعتمادی کا آغاز ہو جائے تو نیک نیت لوگ بھی مختلف اجتہادات کی وجہ سے ایک دوسرے کے مقابل آ سکتے ہیں، جیسا کہ یہاں دونوں طرف کے مخلص صحابہ کرامؓ ہوئے۔

۲۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا یہ ابتدائی دور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ریاستی نظم کا قائم رہنا، قانون کا نفاذ، اختلافات کو گفت و شنید سے حل کرنا اور فتنہ و انتشار کو بڑھنے سے روکنا انتہائی اہم ہے۔

۳۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت علیؓ کی تقاریر سے یہ سبق ملتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلافات کو بنیاد بنا کر ان کی مجموعی خدمات، فضائل اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کے تعلق کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ صحابۂ کرامؓ کے درمیان جو اختلافات اور واقعات پیش آئے، ان کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے، دونوں گروہوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جائے اور سب کے ساتھ محبت و خیرخواہی کا معاملہ رکھا جائے۔ (مجموعۃ الفتاویٰ، علامہ ابن تیمیہؒ، جلد 4، صفحہ 434، ط: دار الوفاء)

جنگِ صفین:
جنگِ جمل کے بعد بھی امت کا سیاسی بحران ختم نہ ہوا۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ خلیفۂ وقت تھے، جبکہ شام میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ دونوں طرف مسلمان تھے اور معاملہ اب بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل اور اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی اختلاف سے جڑا ہوا تھا۔ اس مرحلے کو سمجھتے ہوئے یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان پیش آنے والے اس اختلاف کو عام دنیوی اقتدار کی کشمکش کے انداز میں بیان کرنا مناسب نہیں، کیونکہ دونوں جانب اپنے اپنے اجتہاد اور فہم کے مطابق مؤقف رکھنے والے صفِ اول کے مسلمان موجود ہیں۔

جنگِ جمل سے فارغ ہو کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ بصرہ سے واپس ہوئے اور کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور انہیں اس اطاعت میں شامل ہونے کی دعوت دی، جس پر مہاجرین و انصار ان کے ساتھ جمع ہو چکے تھے۔ جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مؤقف اپنایا کہ جب تک قاتلینِ عثمانؓ سے قصاص نہیں لیا جاتا یا انہیں ہمارے حوالے نہیں کر دیا جاتا، اس وقت تک اہلِ شام آپؓ کی اطاعت نہیں کریں گے۔ یوں دونوں جانب اختلاف بڑھتا گیا اور بالآخر صفین کے مقام پر دونوں لشکر آمنے سامنے آ گئے۔ (الکامل فی التاریخ، جلد 2، صفحہ 628)

قرّاء اور صحابہؓ کی سفارتی کوششیں:
تاریخی روایات میں منقول ہے کہ صفین میں قرّائے کرام نے دونوں فریقوں کے درمیان مصالحت کی کوشش اور سفارت کاری کی۔ واضح رہے کہ اہلِ عراق و شام کے قرّاء صفین میں ایک الگ مقام پر خیمہ زن ہو گئے تھے، اور ان کی تعداد تقریباً تیس ہزار تھی۔ یہ لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ان کا مؤقف معلوم کیا، پھر یہ حضرات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور معاویہ رضی اللہ عنہ کی بات ان تک پہنچائی، پھر وہ دوبارہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور علی رضی اللہ عنہ کا جواب بتایا، جس کا حاصل یہ تھا کہ ان کا حضرت عثمانؓ کے قتل اور ان کے قاتلوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، وہ اس سے بری الذمہ ہیں۔ حضرت معاویہؓ کا آخری مطالبہ یہ تھا کہ اگر وہ قصاص لینا مصلحت کے خلاف سمجھتے ہیں، کیونکہ حضرت عثمانؓ کے قاتل ان کے لشکر اور فوج میں موجود ہیں؛ تو قاتلوں کو ہمارے حوالے کر دیں۔ وہ لوگ دوبارہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ یہ مطالبہ سن کر حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’ان لوگوں (بلوائیوں) نے ایک فتنے کے دوران عثمانؓ کے معاملے میں قرآن کی اپنی تاویل کی اور اسی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا۔ انہوں نے عثمانؓ کو ان کے اقتدار کے زمانے میں قتل کیا، اس لیے اب ان لوگوں پر میرا کوئی اختیار نہیں۔ اب لوگوں کا معاملہ مہاجرین اور انصار کے ساتھ ہے، کیونکہ یہی لوگ امت کے امور اور ان کے دینی معاملات میں گواہ ہیں اور معتبر حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے میری خلافت پر رضامندی ظاہر کی اور میری بیعت کی ہے۔ روئے زمین پر جو بھی بدری صحابیؓ موجود ہے، وہ میرے ساتھ ہے، اس نے میری بیعت کی ہے اور میری خلافت پر رضامند ہے۔‘‘

ایک اور سفارت کاری دو صحابہؓ، حضرت ابو الدرداءؓ اور ابو امامہؓ، نے بھی کی۔ وہ حضرت معاویہؓ کا مطالبہ لے کر حضرت علیؓ کے پاس پہنچے کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو معاویہؓ کے حوالے کر دیں۔ اس پر حضرت علیؓ نے اپنے سامنے موجود لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ تم میں سے عثمانؓ کا قاتل کون ہے؟ تو بہت سے لوگ باہر نکل آئے اور کہنے لگے: ’’ہم سب عثمانؓ کے قاتل ہیں، جس کا جی چاہے ہم میں سے کسی کو پکڑ لے۔‘‘ یہ سن کر حضرت ابو الدرداءؓ اور ابو امامہؓ واپس چلے گئے۔ (البدایہ والنہایہ، جلد 7، صفحہ 259)

تقریباً تین ماہ یہ پیغام رسانی کا سلسلہ جاری رہا، بار بار دونوں طرف سے جنگ کا اندیشہ پیدا ہوتا، ایک فریق دوسرے کی طرف پیش قدمی کرتا، لیکن قرّاء دونوں لشکروں کے درمیان حائل ہو جاتے اور اس طرح لڑائی کو روک دیا جاتا۔

تحکیم:
جنگ کے دوران جب دونوں جانب سے لڑائی شدت اختیار کر گئی تو معاملہ تحکیم کی طرف گیا اور جنگ کے خاتمے اور باہمی نزاع کو کسی فیصلے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ فریقین کی طرف سے یہ طے کیا گیا کہ ہم اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کریں گے اور ہمارے اختلافات میں، آغاز سے آخر تک، اللہ کی کتاب ہمارے درمیان فیصلہ کن بنیاد ہوگی؛ قرآن جس چیز کو زندہ رکھے گا ہم بھی اسے زندہ رکھیں گے اور جسے ختم کرے گا ہم بھی اسے ختم کریں گے۔ دونوں فیصلہ کرنے والوں کو قرآن میں جو حکم ملے گا وہ اسی کی پیروی کریں گے، اور جس معاملے میں قرآن میں صریح حکم نہیں ملے گا اس میں عادلانہ، اچھی، امت کو جمع کرنے والی اور تفرقہ سے بچانے والی سنت کو بنیاد بنائیں گے۔ (انساب الاشراف، علامہ بلاذریؒ، جلد 2، صفحہ 334)
حدیثِ عمارؓ۔ایک مغالطہ اور اس کا جواب:
گھمسان کے اس رن میں، جہاں صبح سے شام تک تلواریں ایندھن بنتی تھیں اور تکبیر کی صدائیں دونوں طرف سے بلند ہوتی تھیں، ایک ایسا المیہ رونما ہوا جس نے اس پورے معرکے کے نظریاتی، فکری اور نفسیاتی رخ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ یہ المیہ تاجدارِ رسالت ﷺ کے مخلص جاں نثار، نوے سالہ معمر صحابی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کا تھا۔ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی وہ روشن قندیل تھی، جس کے متعلق مخبرِ صادق ﷺ نے مکی دور کی تپتی ہوئی ریت پر ان کے والدین کی قربانی دیکھ کر یہ غیبی خوش خبری دی تھی: ’’اے آلِ یاسرؓ، صبر کرو، تمہارا ٹھکانا جنت ہے۔‘‘

اسی طرح احادیثِ متواترہ میں رسول اللہ ﷺ کا وہ واضح اور ابدی فرمان موجود تھا کہ عمارؓ کو ایک باغی گروہ (الفئۃ الباغیۃ) قتل کرے گا، عمارؓ انہیں جنت کی طرف بلا رہا ہوگا اور وہ عمارؓ کو جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ (بخاری، حدیث: 447)

جب صفین میں سیدنا عمارؓ شہید ہوئے تو اس شہادت کی خبر نے دونوں کیمپوں کے اندر ایک ایسا فکری اور نفسیاتی زلزلہ پیدا کر دیا، جس نے بڑے بڑے بہادروں کے ہاتھ روک دیے اور پوری امت کو ایک گہری سوچ میں مبتلا کر دیا۔ دورِ حاضر کے مصلحت پسند تجزیہ نگار اور مسلکی عصبیتوں کے شکار افراد ایک بہت بڑا اور خطرناک تاریخی مغالطہ پیش کرتے ہیں اور حدیثِ عمارؓ کو بنیاد بنا کر سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے کیمپ میں موجود تمام اکابرینِ صحابہؓ کو معاذ اللہ دائرۂ اسلام سے خارج، جہنم کے داعی، یا صریح طاغوتی اور باغی گروہ کے طور پر پیش کرنے کی مذموم اور غیر علمی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہوتا ہے:

چونکہ عمارؓ کو شامی لشکر کی طرف سے آنے والے وار نے شہید کیا، لہٰذا معاویہؓ اور ان کا پورا گروہ اس حدیث کے مصداق میں آتا ہے۔

جواب:
اس کا جواب یہ ہے کہ:

۱۔ یہ ایک ایسا سطحی اور علمِ شریعت سے عاری تجزیہ ہے جو خود صحابہ کرامؓ کے اپنے فہم اور ان کے تاریخی طرزِ عمل کے یکسر خلاف ہے۔ اگر اس فرمانِ نبوی کا مصداق واقعی وہی ہوتا، جو یہ جذباتی تجزیہ نگار لیتے ہیں، یعنی اگر سیدنا معاویہؓ کا لشکر معاذ اللہ جہنم کی طرف بلانے والا تھا، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ صحابہ کرامؓ میں سے کسی ایک فرد کے بارے میں بھی یہ گمان کیا جائے کہ وہ لوگوں کو جہنم کی دعوت دے رہا تھا؟ چہ جائیکہ یہ الزام ان جلیل القدر اکابرین پر لگایا جائے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنی زندگیاں گزاری تھیں۔

۲۔ اگر اس حدیث کا مفہوم وہی تھا جو سائلین پیش کرتے ہیں، تو پھر کیا وجہ ہوئی کہ سیدنا علیؓ کے لشکر میں سیدنا عمارؓ کی روزِ روشن میں موجودگی، دیگر غیر جانب دار صحابہ کرامؓ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ آمادۂ تعاون نہ کر سکی؟ ان تمام غیر جانب دار حضراتؓ کو شہادتِ عمارؓ کے فوراً بعد سیدنا معاویہؓ کے خلاف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کیمپ میں شامل ہو جانا چاہیے تھا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ غیر جانب دار حضراتؓ اس واقعے کے بعد بھی غیر جانب دار ہی رہے، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے کیمپ میں شامل صحابہؓ بھی بدستور انہی کی ہمراہی میں رہے۔

۳۔ خود سیدنا علیؓ اور سیدنا عمارؓ اس حدیث کا کھلم کھلا حوالہ دے کر پورے عالمِ اسلام کو اپنے ساتھ شامل ہونے کی حتمی ترغیب دے سکتے تھے، کیا انہوں نے ایسا کیا؟

۴۔ صفین سے قبل اور اس کے درمیانی وقفوں میں کتنے ہی سفارتی وفود صلح کے لیے دونوں کیمپوں میں آتے جاتے رہے (جیسا کہ گزر چکا)، لیکن کسی ایک بھی مستند تاریخی موقع پر سیدنا علیؓ یا ان کے مخلص اصحابؓ نے سیدنا معاویہؓ یا ان کے وفد کو یہ بات یاد نہیں دلائی کہ دیکھو! عمارؓ ہمارے لشکر میں موجود ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق ان کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، اب اگر عمارؓ ہمارے ساتھ مل کر تمہارے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہو جاتے ہیں تو تم ہمیشہ کے لیے جہنمی اور باغی گروہ قرار پاؤ گے، اس لیے تمہیں ہماری مخالفت چھوڑ دینی چاہیے۔ ایسے کسی بھی سرکاری مراسلے، سفارتی خط یا واضح الٹی میٹم کا وقوع پذیر نہ ہونا ہی اس بات کو ثابت کر دیتا ہے کہ جو احباب آج چودہ سو سال بعد اس حدیث کا مصداق سیدنا معاویہؓ کو قرار دیتے ہیں، ان کا یہ عمل خود اس دور کے صحابہ کرامؓ کے فہم کے بالکل خلاف ہے۔

۵۔ یہ مشہور روایت جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، ان میں سے چار صحابہ (سیدنا عثمان، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا حذیفہ بن الیمان اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہم) تو جنگِ صفین برپا ہونے سے بہت پہلے ہی وفات پا چکے تھے، جبکہ باقی ماندہ چار جلیل القدر حضرات (سیدنا ابو ایوب انصاری، سیدنا ابوہریرہ، سیدہ ام سلمہ اور سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہم) نے ان تمام جنگوں میں قطعی غیر جانب داری اختیار کیے رکھی اور کسی بھی فریق کا عسکری ساتھ نہیں دیا۔ بقیہ تین صحابہ سیدنا علیؓ کے کیمپ میں، اور دیگر دو صحابہؓ سیدنا معاویہؓ کے کیمپ میں موجود تھے۔ جن تین صحابہؓ نے اس جنگ میں سیدنا علیؓ کا ساتھ دیا، ان کے بارے میں بھی کسی صحیح اور متصل سند سے یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے محض اس حدیث کی بنا پر حق و باطل کا حتمی فیصلہ کر کے سیدنا علیؓ کے کیمپ میں شمولیت اختیار کی ہو، اور نہ ہی یہ کہیں ثابت ہے کہ سیدنا عمارؓ کی شہادت کے فوراً بعد انہوں نے اس حدیث کو استدلال بنا کر فریقِ مخالف کو ان کی مبینہ بغاوت سے باز آ جانے کا کوئی مشورہ دیا ہو۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ غیر جانب دار رہنے والے چاروں حضراتؓ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کیمپ میں موجود حضراتؓ اور سیدنا معاویہؓ کے کیمپ میں موجود صحابہ کرامؓ نے اس عظیم سانحے کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ کے دورِ خلافت میں ان کی باقاعدہ بیعت کی۔ اگر وہ انہیں حدیثِ عمارؓ کی رو سے باغی سمجھتے تو ان کے ہاتھ پر کیوں بیعت کرتے اور امیر المؤمنین مان کر ان کی اطاعت کیوں کرتے؟ اگر ’’باغی‘‘ قرار پانے کا مصداق واقعی سیدنا معاویہؓ کی جماعت تھی اور وہ جہنم کے داعی تھے تو پھر ان جہنمی باغیوں سے صلح اور ان کی بیعت کیسی؟

۶۔ اگر سیدنا عمارؓ کی شہادت سے یہ حتمی طور پر ثابت ہو گیا تھا کہ سیدنا معاویہؓ کا گروہ ہی وہ باغی گروہ ہے، جس سے لڑنا فرض ہے، تو پھر سیدنا علیؓ نے جنگ بندی کیسے اور کیوں قبول کی؟ جبکہ قرآنِ مجید صراحت کے ساتھ یہ حکم دیتا ہے: ’’باغی گروہ جب تک اپنی بغاوت سے مکمل طور پر باز نہ آ جائے اور اللہ کے امر کی طرف نہ لوٹ آئے، اس سے قتال جاری رکھنا چاہیے۔‘‘ جیسا کہ خوارج کے معاملے میں خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی اسی حکمِ قرآنی پر عمل کیا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ انہوں نے یہاں اس حکمِ قرآنی پر عمل نہ کیا؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ وہ حضرت معاویہؓ اور ان کے لشکر کو قطعاً باغی نہ سمجھتے تھے۔ اس کے چند سال بعد، خود رسول اللہ ﷺ کے نواسے سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کا خلافت سے دستبردار ہو کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنا اس بات پر آخری اور فیصلہ کن مہر ثبت کر دیتا ہے کہ ان کی نظروں میں بھی اس حدیث کا مصداق سیدنا معاویہؓ نہیں تھے، ورنہ رسول ﷺ کا نواسہ کسی جہنمی یا باغی سے کبھی صلح نہ کرتا۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
77