(+92) 319 4080233
کالم نگار

مسلم انصاری

مسلم انصاری

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
اب وہ آواز کبھی نہیں آئے گی
آج جب میں سوؤں گا، اور جب صبح جاگوں گا تب آج کے دن کی تمام موذی بیماریاں، تمام افسوس ناک خبریں اور آج کی تمام اموات رد ہو چکی ہوں گی، بیمار شفا یاب ہوں گے، خبریں گم اور وہ لوگ زندہ ہوں گے جنہیں آج موت اپنے ہمراہ لے گئی تھی۔

میں بہت زیادہ سمجھ دار نہیں ہوں، مگر اتنا ہوں کہ رات گئے گاؤں سے آنے والے فون سے ڈر لگتا ہے۔ مجھے خوف آتا ہے ان نمبروں سے آنے والی اچانک فون کال کا، جن کا کوئی قریبی بیمار ہو۔ مجھے اب بھی کسی سے تعلق بنانے میں پہلا دھڑکا کھونے کا ہوتا ہے۔ مجھے وہ کرسیاں، جب خالی ہوں، کھانے لگتی ہیں جن پر میرے ساتھ بیٹھ کر کسی اپنے نے باتیں کی ہوں۔ پھر بھی جب رات کو فون آتا ہے، جب دن کے مصروف لمحے میں وائبریشن پر لگا موبائل کال سے تھرتھراتا ہے، اسکرین پر درج نمبر خود ہی ایسے خوف کا منہ کھول دیتے ہیں جن سے کلیجہ منہ کو آنا ہو۔ خبریں اور میرا ڈر سچ ہو جاتے ہیں۔

آج جب تک میں سوتا نہیں ہوں، تب تک میری آنکھوں میں 92 برس کے وہ ضعیف اپنی ٹرالی کھینچے پھرتے دکھتے ہیں، جنہیں مجھ ایسے کم ظرف کو بھی اپنا بیٹا، شاگرد یا دوست کہنے میں کوئی عار نہیں تھی۔ میرا دکھ دوہرا ہے۔ میری زندگی کے دو عزیز، دونوں ہی میرے شہر میں رہتے تھے؛ ایک سے میں مل نہیں سکتا، ایک سے اب ملا نہیں جا سکتا۔

17 جون 2023ء سے اب تک، ان سے ہوئی ہر خط و کتابت، ہر بات اور گفتگو چیٹ میں ایسے ہی محفوظ ہے جیسے وہ میری آنکھوں اور یادداشت میں ہیں۔ آپ ہمیشہ میری آنکھوں میں وہ تشنگی پاتے تھے جو کبھی ختم نہ ہوتی۔ جب بھی میں ان سے اکیلے ملنے جاتا، میں وہ سوال ضرور کرتا۔ وہ جانتے تھے اس سوال کے پیچھے کیا ہے، مگر وہ مسکراتے تھے اور کہتے تھے:

"نہیں، اس کے بعد سے اب تک وہ ملنے نہیں آ سکیں!"

میں ایک روحانی باپ، ایک استاد اور ان کی تخلیقات کا کیا تذکرہ کروں، جن سے ایک دنیا واقف ہو؟ میں تو ایک ایسی روح سے ملا تھا جنہوں نے مجھے ضبط و ثبت سکھلایا۔ یہ صبر اور میرے دھندلے چہرے پر سجی جو مسکراہٹ ہے، انہی کے درس کی سیکھ ہے۔

انہوں نے اپنے نئے اور پرانے تخلیقی پلندوں کو میرے سامنے رکھا اور کہا:

"مجھے نہیں معلوم میرے بعد ان کا کیا ہوگا، ان میں سے جو چاہو لے لو۔ دعا میری بھی یہی ہے کہ اپنا ناول مکمل کرلوں، مگر لگتا نہیں ہے۔ ہاں، ان میں سے کچھ ایسا ہے جو چھپا نہیں ہے، وہ ضرور دیکھ لو!"

92 برس کے ایک بوڑھے سے اور کیا چاہئے تھا؟ اگر وہ دکھی ہوتے تو اس بات پر کہ فلاں فلاں سرحدوں پر کیسا کیسا ظلم ہو رہا ہے۔ کتنی تلخیاں ہوں گی ایسی روح میں جسے ہجرت کا پیوند کم عمری میں لگا ہو۔ میں اور اسداللہ ان کی جس کتاب پر کام کر رہے تھے، ان میں بیشتر کام اسی پیوند کا ادھڑا رفو تھا۔

جب انتہائی علت کے دنوں میں انہیں اس کتاب کے اشاعتی مراحل میں داخل ہونے کی خبر پہنچی تو انہوں نے کئی دنوں بعد کھانا کھایا تھا۔ خوشی سے کہہ رہے تھے کہ جاتے جاتے ایک اور کام کنارے لگا دیا ہے۔

2 ستمبر 2026ء کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ صحت اور دوائیں اجازت نہ دیتی تھیں کہ موبائل فون استعمال کر پاتے۔ تب آپی تہمینہ صابر صاحبہ اس ماں کی طرح ہر اچھی اور بری خبر سے باخبر رکھتیں جس کا بیٹا دور کہیں سفر پر ہو۔ قریب قریب ہر دن بتاتیں کہ آج کیسی طبیعت ہے۔

ہر فون پر، ہر وائس اور میسج نوٹیفکیشن پر دل کو دھڑکا ہوتا تھا۔ ہونا چاہیے تھا۔

مسلم، اب جب اس شہر کو، اپنے گھر کو لوٹوں گا تو ایک اور گھر میرے لیے کم ہوگیا ہوگا؛ وہ گھر جہاں میں جاتا تھا، استاد جی کے ملاقاتی کمرے کی چیزوں کو چھوتا تھا۔ جب وہ کہتے تھے کہ فلاں فلاں خانے میں وہ مسودہ رکھا ہے جو تمہیں چاہیے تو میں متجسس بچے کی طرح دس اور چیزوں کو چھوتا اور نکالتا تھا۔

مجھے ام انعم کہتی تھی کہ اب کے بار ملنے جاؤ تو میری طرف سے فلاں کافی کا ڈبا لے جانا، استاد جی کو خوشی ہوگی۔

میں عید کے دن ان کے جواب آنے کا انتظار اپنے بچپن کی عیدی کی طرح کرتا تھا۔ جب استاد جی کی خادمہ کھانے پینے کے لیے کچھ رکھ جاتیں تو میں اس میں سے پیکٹ میں موجود چیزیں چرا کر جیب میں بھر لیا کرتا تھا۔ میری محبت ان سے ایسی ہی تھی۔

میں دکھی ہوں کہ میرا کچھ کھویا ہے۔

آج جب اسداللہ نے بتایا کہ پرسکون سو رہے ہیں تو دل کو کچھ ہوا تھا۔ جب اس نے پیغام میں لکھا کہ تمہارے حصے کی مٹی قبر پر لیپ دی ہے تو دل چھٹی بار مر گیا۔

میں نے استاد جی کے ایکسپریس نیوز اور 92 ٹیلنٹ نیوز کے لیے تحریری انٹرویوز کیے تھے۔ میں غرور سے کہتا تھا کہ حسن منظر صاحب میرے استاد اور میرے مربی ہیں۔ میرا غرور باقی رہے گا، مگر اس میں کچھ بری ٹوٹ پھوٹ ہوگئی ہے۔

مجھ سے کوئی کہتا کہ استاد جی سے ملنا ہے، میری دسترس میں جب جب ہوتا اور جب استاد محترم کی صحت اجازت دیتی تو میں اسے لے جاتا۔ ایسے میں دس افراد جانتا ہوں جن کا ایک ایک حصہ آج میرے جتنا کٹ گیا ہوگا۔

مجھے کیا شرم ہے یہ کہنے میں کہ خوشیوں سے زیادہ مجھے غم محبوب رہے۔ میں شاید بہت جلدی سمجھ گیا تھا کہ خوشی حادث اور دکھ دائمی ہیں۔ میں شاید کتنے ہی اور برس ان کے تذکرے کی مالا جپتا رہوں گا۔

میرے مسلم، اور ہے ہی کیا، سوائے یہ کہ میں وہ لکھتا ہوں جو میرے شعور سے اتر کر یہاں لکھت میں آجاتا ہے۔

سو، کل کا دن جب میں جاگوں گا، آج کے جا چکے کل پھر سے میرے ساتھ ہوں گے۔ میں کبھی یقین نہیں کروں گا کہ وہ چلے گئے ہیں۔

میں اب تک ان لوگوں کی چیٹس میں، ان کے ایڈریس پر خطوط بھیجتا ہوں، باتیں لکھتا ہوں جو مجھ سے روٹھ گئے، جنہوں نے مجھے چھوڑ دیا، جو مجھ سے چلے گئے یا جنہیں قضا مجھ سے لے گئی۔

ان سب کا بہت شکریہ جنہوں نے اس صدمے کو صدمے کی طرح جیا، جو یہ خبر سن کر جہاں تھے وہیں کچھ دیر کو تھم گئے۔

ثریا نے لکھا کہ آج ایک بار پھر سے یتیمی مل گئی۔

احمد بلال فون پر اتنا چپ ہو گیا جیسے کال کب کی کٹ چکی ہو۔

اسداللہ کے رونے کی آواز دب گئی تھی۔

میرے کانوں میں تو بس دو ہی باتیں گونجتی ہیں:

3:01 منٹ پر آپی تہمینہ صاحبہ کا فون آیا۔

3:04 پر کال بیک میں اس رونے کی آواز تھی جس کے بعد سے اب تک میں بستر پر ہی ہوں!

دوسری آواز استادِ محترم کی تھی۔ جب میں ان سے مل کر واپس جانے کی اجازت لیتا تو وہ ہمیشہ کہتے:

"آپ آئے، مل کر بہت اچھا لگا، باتیں کر سکے، آتے رہنا!"

کالم نگار : مسلم انصاری
| | |
74