مسلم انصاری
میں غرور سے کہتا تھا کہ حسن منظر صاحب میرے استاد اور میرے مربی ہیں۔ میرا غرور باقی رہے گا، مگر اس میں کچھ بری ٹوٹ پھوٹ ہوگئی ہے.