(+92) 319 4080233
کالم نگار

وسیم المحمدی

وسیم المحمدی

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/15
موضوعات
پس منظر کونگاہ میں رکھیں
انسان کے پاس اصول ومبادی نہ ہوں، سچ اور جھوٹ کا فرق اس کی ہوائے نفس کے آگے سجدہ ریز ہوجائے؛ تو وہ صرف تلبیس وتدلیس اور مغالطہ کے سہارے آگے بڑھتا ہے۔ ایسے انسان کو اللہ تعالى نے اگر اپنی حکمت بالغہ سے لکھنے کی صلاحیت عطا کردی ہے تو یہ صلاحیت اس تدلیس ومغالطہ کو اسلوب کےخوبصورت طشت میں سجا کر پیش کرنے کا پر فریب ذریعہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ حقیقت کم افسانے زیادہ لکھتا ہے۔ بسا اوقات ایسے افسانے بھی جن کا پلاٹ اسے باقاعدہ مہیا کیا جاتا ہے۔

بات چاہے جتنی غلط ہو، کہانی خواہ کتنی ہی افسانوی ہو، جس قدر بھی مکر وفریب کی ملاوٹ ہو اوركذب واحتيال کی آمیزش ہو ؛ ایک اخوانی، ایک تحریکی، ایک عقلانی اور ایک دانش ور اسے جتنے اعتماد سے پیش کرے گا، بسا اوقات ایک حق پرست انسان بھی اس طرح اپنی بات نہیں رکھ پائے گا۔

تحریکی اگر پڑھا لکھا ہو تو اس سے یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ انصاف سے کام لے گا۔ تحریکی صرف تحریکی ہوتا ہے، ہر طرح کے اثرات وعوارض سے دھلا دھلایا بالکل کھرا ، صاف ستھرا چکنا گھڑا۔ اس پر اگر مسلکی تڑکا لگ جائے تو وہ نیم چڑھا کریلا بن جاتا ہے۔ کم و بیش یہی حال ہر اس دانشور کا بھی ہوتا ہے جو ربڑ کے جوتے چڑھا کر تحریکیت کی ریتیلی سڑک پر دبے پاؤں چلتا ہے۔

ایک اثنا عشری اسماعیلی رافضی، جس کا باپ رافضی، ماں کافرہ، فکر الحاد و زندقہ سے لبریز ہو؛ اس کے لیے ڈھول پیٹنا، اس کی کامیابی پر خوش ہونا یا اس سے اسلام اور مسلمانوں کی خیر خواہی کی امید رکھنا؛ کیا کہلائے گا؟ جہالت؟ سطحیت؟ دانشوری؟ خود کو ہر فیلڈ کا ماہر ثابت کرنے کی عجلت؟ یا پھر فطری خیر خواہی اور محض بھولا پن؟آدمی کچھ نہ بولے تو بہت حد تک اس کی امیج سلامت اور ساکھ بحال رہتی ہے۔ بھرم قائم رہتا ہے۔ ہر جگہ من موافق اور مدفوع بات رکھنے، بلکہ اسے تھوپنے اور منوانے کی کوشش کرے تو صرف اس کی فکری بھکمری بیاں نہیں ہوتی؛ علم کی غربت، عقل کا افلاس، اخلاق کا دیوالیہ پن اور ضمیرکا فقر وفاقہ بھی عیاں ہو جاتا ہے۔

ایک زندیق جس کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسا اعتقاد -تعالى الله علوا كبيرا- ہو کہ پڑھتے ہوئے شرم آئے، لکھتے ہوئے خوف محسوس ہو، یا ایسے بد ترین معتقدین کا کھلم کھلا حامی ہو، اس کا برملا اعلان کرتا ہو یا اس پر اطمینان کا اظہار کرتا ہو؛ کوئی مسلمان جس کے دل میں ذرہ برابر اسلام کے لیے غیرت ہو، فطری حیا ہو، طبعی شرم ہو؛ ایسے شخص کا ذکر خیر کیسے کر سکتا ہے؟ اسے کیوں کر ہائی لائٹ کر سکتا ہے؟اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یقین کریں یا تو اس کے پاس علم نہیں ہے، یا پھر حقیقی معنوں میں اسے اپنے عقیدہ و دین کے تئیں غیرت نہیں ہے یا پھر اس کے یہاں اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔بھلا اللہ جل جلالہ کی ذات اور اپنے عقیدہ و دین سے کون سی مصلحت اعلی و ارفع ہے کہ انسان محض اپنی سطحیت میں اس کا سودا کرجائے اور دانشوری کے چکر میں اسے یہ بھی احساس نہ ہو کہ وہ کس کا ڈھول پیٹ رہا ہے؟

میں کچھ دنوں سے اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث: (إنّ اللهَ ليؤيِّد هذا الدينَ بالرَّجلِ الفاجرِ) پر غور کر رہا ہوں اور مسلسل یہ سوچ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جن فاجروں کے ذریعے اپنے دین کی مدد کی ہے، کیا پوری اسلامی تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسا رافضی گزرا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فاجر ہی کی لسٹ میں رکھ کر اس سے اپنے دین کے لیے کوئی قابل ذکر کام لیا ہو؟

امام العصر علامہ ابن باز -رحمہ اللہ- نے کہا تھا: "لا يُعِزُّ اللهُ دينَه بِرافِضِيٍّ"

(اللہ تعالیٰ کسی رافضی کے ذریعے اپنے دین کو طاقت وقوت اور شرف وعزت عطا نہیں کرتا)

اب تک مجھے ایسا کوئی رافضی نظر نہیں آیا جس نے اسلام اور مسلمانوں کی کوئی قابل ذکر خدمت اور ان کے ساتھ خیر خواہی کی ہو۔

سوائے اسلام اور مسلمانوں کی تباہی و بربادی کے ان کے ہاتھوں اور کوئی کام نہیں ہوا۔ ہمیشہ اسلام دشمنوں کے ساتھ رہے اور مسلسل مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہے۔ یہی ان کا ماضی ہے اور یہی حاضر اور اسی پر معتبر علماء اسلام کا اتفاق بھی ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (ت: 728ھ) نے فرمایا: "فقد عُرِف مِن مُوالاتهم لليهودِ والنّصارى والمشركين، ومعاونتِهم على قتالِ المسلمينَ ما يَعرِفُه الخاصُّ والعامُّ، حتّى قِيل: إنّه ما اقتتَل يهودِيٌّ ومسلمٌ، ولا نصرانيٌّ ومسلمٌ، ولا مشرِكٌ ومسلمٌ، إلا كانَ الرَّافِضيُّ مع اليهوديِّ والنصرانيِّ والمُشركِ"(منھاج السنۃ 3/452)

یعنی: ان رافضیوں کی یہود ونصارى اور مشرکین سے دوستی اور مسلمانوں کے خلاف ان کا تعاون عوام وخواص سب کے یہاں اس قدر معروف ہے کہ کہا جاتا ہے: اگر ایک مسلمان کی کسی یہودی یا نصرانی یا مشرک سے لڑائی ہو جائے تو رافضی ہمیشہ یہودی، نصرانی اور مشرک کے ساتھ ہوگا۔

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان رافضیوں کی کارستانیوں اور مسلسل سازشوں کا آپ نے یہ کہہ کر خلاصہ کردیا کہ : "والرَّافِضَةُ لَيْسَ لهُم سَعْيٌ إلّا فِي هَدْمِ الإسلامِ، ونَقْضِ عُراهُ، وإفسادِ قَواعِدِه" (منهاج السنۃ النبویۃ 7/416)

یعنی: روافض ہمیشہ اسلام کو ڈھانے، اس کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے اور اس کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔اسی لیے آپ نے نہ صرف روافض کو ہمیشہ کچلنے کی تلقین کی ہے بلکہ اسے ایک عظیم عبادت قرار دیا ہے، فرماتے ہیں: "سَعْيُ المُسلِمینَ في قَھْرِ الرَّوافِضِ مِنْ أعظَمِ الطَّاعاتِ و العِبادَاتِ" (جامعُ المَسائل 7/437)

یعنی: مسلمانوں کا رافضیوں کو کچلنے کی کوشش کرنا عظیم ترین عبادت اور اللہ تعالى کی بہترین فرمانبرداری ہے۔

جو لوگ ایسے افراد کے لیے ڈھول پیٹتے اور عجلت میں اپنے سطحی علم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دانش وری دکھاتے ہیں؛ ان میں سے کئی ایک وہی ہیں جو یہودیوں کے ہاتھوں ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت پر تو خوب آنسو بہاتے ہیں مگر رافضیوں کے ہاتھوں لاکھوں مسلمانوں کی ہلاکت اور کروڑوں کی بربادی پر ان کے قلم کو زنگ لگ جاتا ہے۔ یا تو چلتا ہی نہیں ہے یا کبھی چلتا بھی ہے تو بہت رک رک کر، شر ما شر ما کر۔فلسطین پر آنسو بہاتے وقت بھی نظریہ وہی رہتا ہے۔ وہی آئیڈیا لوجی کام کرتی ہے۔ بڑی چالاکی سے غزہ کی بربادی کے پیچھے موجود رافضی مائنڈ سیٹ اور رافضی و نیم رافضی گٹھ جوڑ کو نہ صرف یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، بلکہ حتی المقدور اس کا دفاع بھی کیا جاتا ہے۔

شام، عراق، لبنان اور یمن میں تقريباً دس سال ایران تانڈو مچاتا رہا۔ دو کروڑ مسلمان برباد ہوئے۔ تقریباً پچاس لاکھ قتل اور ڈیڑھ کروڑ بے گھر ہوگئے۔ رافضی بغض وعداوت اور ولایت فقیہ کی آئیڈیالوجی نے شام و عراق برباد کرکے رکھ دیا۔ ظلم وبربریت سے لبریز ایسی تاریک تاریخ لکھ دی جس کی نظیر تاریخ اسلام میں شاید ہی ملے۔کیا آپ نے اس پر بھی اس طبقہ کے یہاں وہ شور شرابہ سنا جو فلسطینی مسلمانوں کے لیے دیکھا اور سنا؟ اگر اصل محبت اسلام اور مسلمانوں ہی سے ہے تو دونوں جگہ یہ واضح فرق کیوں ہے؟

در اصل یہ آنسو فلسطین کے بہانے حماس کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ شور شرابہ غزہ کے لیے کم اور غزہ کو برباد کرنے والی نیم رافضی جماعت حماس کے لیے زیادہ ہوتا ہے۔ منہ پر نام فلسطین اور غزہ کا ہوتا ہے، جبکہ پس پردہ اصل دفاع نیم رافضی حماس اور اس کے پیچھے کھڑی مجوسی حکومت کا ہوتا ہے جسے بڑی چالاکی سے انجام دیا جاتا ہے۔جہاں رافضی کھلا مجرم ہوتا ہے، اخوانی کھلم کھلا فساد برپا کرتا ہے وہاں یا تو چپی سادھ لی جاتی ہے یا ممکن ہو تو دفاع کی کوشش کی جاتی ہے، جہاں اسے ہیرو دکھانے کا موقع ملتا ہے وہاں آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے۔ ایسا شور مچایا جاتا ہے کہ کچھ اور سنائی ہی نہ دے۔

وجہ کیا ہے؟
موقف میں یہ کھلا تضاد اور گفتگو میں یہ واضح نفاق کیوں ہے؟یہ تضاد اسلام اور مسلمانوں سے محبت کا نتیجہ ہے یا کسی خاص آئیڈیا لوجی کا رہین ؟سو کے قتل پر چپ سادھ لینے اور دس کے قتل پر آسمان سر پر اٹھا لینے کی اصل وجہ کیا ہے؟ جبکہ پہلی جگہ بوجوہ نقصان بہت زیادہ اور دوسری جگہ خسارہ اس کی بہ نسبت بہت کم ہے۔کسی ملحد، کسی رافضی، کسی زندیق کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جائے جس سے بظاہر اسلام کی خیر خواہی کا دور سے ہی سہی کوئی پہلو نکلتا ہو، تو اس پر شہنائی بجنے لگے، ایک مخصوص ماحول چہکنے لگے۔ مگر جو لوگ دن رات اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں لگے رہتے ہیں، ان کے لیے بمشکل کلمہ خیر نکلے۔ ہاں اگر ان سے کوئی ہلکی سی بھی کوتاہی ہو جائے تو کسی نہ کسی بہانے، کسی نہ کسی انداز میں، اسے فوراً ہائی لائٹ کردیا جائے۔

کبھی آپ نے سوچا کہ دانشوروں کے یہاں اخوانیوں اور تحریکیوں کے ساتھ ساتھ رافضیوں کے تئیں بھی کسی نہ کسی انداز میں ہمدردی کیوں پائی جاتی ہے؟ رافضیوں، اخوانیوں، تحریکیوں، مودودیوں، اصلاحیوں، اپنی طرح سہولت کاروں اور دانش وروں ؛ سب کے لیے ان کا دل اس قدر کشادہ کیوں ہوتا ہے؟دوسری طرف یہی کشادگی طالبان علوم نبوت سے لے کر کتاب وسنت کے پاسدار علماء اور سلف صالحین کے خوشہ چینوں کے لیے دور دور تک کیوں نظر نہیں آتی ہے؟ اس کے برعکس سلفی بیانیہ کو ک

اؤنٹر کرنے کے لیے ہمہ وقت یہ جتھا تیار رہتا ہے۔ ایسا کیوں؟اسے نہ رافضیوں سے پریشانی ہے نہ اخوانیوں سے، نہ مودودیوں سے چڑھ ہے نہ تحریکیوں سے، ساری تکلیف بس سلفیوں سے ہے۔ ایک طرف یہ طبقہ کبھی نہ رافضیوں کے خلاف کھل کر لکھے گا، نہ اخوانیوں اور تحریکیوں پر رد کرے گا، بلکہ موقع بموقع ان کی تائید اور مدح سرائی کرے گا، ان کے مواقف کی بقدر گنجائش تائید کرے گا۔دوسری طرف سلفی بیانیہ کو رد کرنے میں ہر طرح کا اسلوب اپنائے گا۔ کچھ نہیں ملے گا تو استہزاء اور تمسخر ہی سے دل کی بھڑاس نکالے گا۔

اس طبقہ کے پاس دو انتہائیں ہیں:
ایک جانب تو یہ ان اسلام دشمنوں اور باطل نظریات کے حاملین (رافضیوں سے لے کر تحریکیوں تک) کی چھوٹی سے چھوٹی خوبی کو چاہے وہ محض زبان تک ہی محدود ہو، حتیٰ کہ دھوکہ دینے کے لیے بس ایک چال ہو؛ اس کا خوب پرچار کرے گا۔ ان کے جرائم سے حتی الامکان صرف نظر کرے گا۔دوسری جانب جو اسلام اور مسلمانوں کے حقیقی خیر خواہ ہیں ان کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی کو بھی خوب ہائی لائٹ کرے گا۔ چاہے اس طرح کی کمی سے وہ اور اس کا معاشرہ خود لت پت ہو۔ ان کی پہاڑ جیسی خوبیوں پر ممکنہ حد تک کبھی نہیں گفتگو کرے گا۔

کبھی آپ نے غور کیا کہ اس کے یہاں یہ دونوں انتہائیں اس خوبی کے ساتھ کیوں پائی جاتی ہیں؟ یہ کسی نظریہ اور فکر کا حتمی نتیجہ ہیں یا محض وقتی مواقف کی اسیر ہیں؟وقتی مواقف اس طرح ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ اس طرح کی یکسانیت صرف ان مواقف میں پائی جاتی ہے جن کے پیچھے ایک ٹھوس نظریہ اور ایک پختہ آئیڈیا لوجی ہو۔نتیجتاً مشرق سے مغرب تک، اخوانیوں اور تحریکیوں سے لے کر سہولت کاروں اور دانش وروں تک؛ ایک پورا جتھا عموماً اس طرح کے مواقف پر ذرا سی دیر میں اکٹھا ہوکر بھنبھنانے لگتا ہے۔کبھی آپ نے غور کیا کہ عالم اسلام پر گفتگو کرتے ہوئے اکثر ہمارے دانش ور طبقہ کے بیانیہ کا کوئی نہ کوئی سرا اخوانیوں اور تحریکیوں کے موقف سے کیوں جا ملتا ہے؟ کسی نہ کسی اینگل سے سلفی بیانیہ کے الٹ اور اس کے مخالف کیوں ہوتا ہے؟چاہے نیم رافضی حماس کے طوفان اقصیٰ کا رافضی پلان اور اس کے تباہ کن نتائج پر بحث ہو، چاہے فلوٹیلا قافلہ کی حقیقت پر گفتگو، یا پھر نیویارک کے رفض والحاد اور کفر و ضلالت میں ڈوبے اسماعیلی میئر پر تبصرہ؛ ہر جگہ دانش ور کا بیانیہ اخوانی اور تحریکی بیانیہ کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آئے گا۔بعینہ یہی حال ان خالص علمی مسائل میں بھی ہے جن کا تعلق خصوصیت کے ساتھ شرعی سیاست (السياسۃ الشرعیۃ) سے ہے۔

کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یا پھر کسی پختہ آئیڈیالوجی اور راسخ طرز فکر کا نتیجہ؟
اُدھر پوری اخوانی لابی اس رافضی شخص کے لیے لابنگ کر رہی ہے۔ بعض بے ضمیر اور بے شرم اخوانی اس اسماعیلی جیت کو ”غزہ کی مبارک جیت“ کا امتداد اور نام نہاد”طوفان اقصی“ کا مثبت نتیجہ بتا رہے ہیں۔اِدھر ہمارا دانش ور طبقہ بھی اس کا کسی نہ کسی انداز میں ڈھول پیٹ رہا ہے۔

یہ محض اتفاق ہے؟ یا کوئی نظریہ، سوچ اور طرز فکر ہے جو اس لکیر کو اس لکیر سے کسی نہ کسی طرح ملا دیتی ہے؟پورا ایک گروہ ہے جس میں نیم رافضیوں سے لے کر دانشوروں تک، ہر طرح کے افراد واشخاص کی مکمل بھاگے داری ہوتی ہے، جو حسب استطاعت پوسٹ سے لے کر کمنٹ تک، تعلیق سے لے کر تبصرہ تک ساتھ دیتے اور ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ بقدر ضرورت فکری آوارگی کا شکار ایک گروہ بھی اس میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس طرح افکار ومواقف ایک دوسرے کی حمایت کرتے اور انھیں سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔

گزشتہ تقریباً دو سالوں کا مشاہدہ بتلاتا ہے کہ دانش وروں کا یہ طبقہ تقریباً نوے فیصد مسائل اور بحث و مباحثہ میں اخوانی اور تحریکی بیانیہ کی کسی نہ کسی انداز میں حمایت کرتا ہے۔یہ طبقہ بھلے ہی کسی آپسی خیر خواہی پر متفق نہ ہو۔ اس کا آپسی تعلق اگرچہ محض مادی فوائد کا غلام ہو۔ منفعت نہ ہو تو کسی کو سلام تک کرنا گوارہ نہ کرے؛ مگر کسی سلفی بیانیہ کے خلاف یہ پورا جتھا عموماً اکٹھا نظر آتا ہے۔یہ بظاہر بکھرے ہوئے مواقف لگتے ہیں۔ بادی النظر میں الگ الگ سوچ کا نتیجہ نظر آتے ہیں۔ مگر در حقیقت یہ ایک دوسرے سے بہت مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔

ایک ہی نظریہ، ایک ہی فکر، ایک ہی آئیڈیا لوجی اسے مانیٹر کرتی ہے۔ مظاہر بھلے ہی الگ الگ ہوں مگر اصل علت ایک ہی ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ اسباب وعلل کا اصل محور ایک ہی سوچ ہے۔یہ موقف کسی طوفان اقصیٰ کی تشہیر، کسی فلوٹیلا کی تمجید ، کسی اسماعیلی میئر کی توصیف ؛ کے ساتھ خاص نہیں ہوتا ۔ مظاہر جدا جدا اور مقامات الگ الگ ہوتے ہیں مگر پیچھے فکر اور سوچ یکساں ہوتی ہے جو بڑی مکاری سے موقف کو مانیٹر کرتی ہے۔ نتیجتاً ہر جگہ دانش ور کا بیانیہ اخوانی اور تحریکی بیانیہ کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آتا ہے۔سطحی فکر اس پر پالش لگاتی ہے۔ دانشوری اسے مزخرف کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جذبات کا تڑکا لگا کر اسے مارکیٹ میں لانچ کیا جاتا ہے اور نونہالوں نیز کچی فکر کے حاملین کو شکار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

آنے والے حالات اس موقف کی دھجی اڑا دیتے ہیں۔ واقع اس فکر کی حقیقت کو کوڑے دان میں ڈال دیتا ہے۔ آئندہ کل بہت جلد اس پر لعنت بھیجنے لگتا ہے۔ جلد یا بدیر خواص وعوام سب اسے پہچان لیتے ہیں۔ مگر اخوانی ہو یا تحریکی، دانشور ہو یا عقلانی، یا پھر رافضی وتحریکی فکر کا کوئی اور اسیر؛ شرم اسے چھو کر نہیں گزرتی، ندامت اس کے قریب نہیں پھٹکتی، محاسبہ کا لفظ اس کے فکر و شعور کو کبھی نہیں چھیڑتا، مراقبہ کا کلمہ اس کے دل ودماغ کو کبھی نہیں جھنجھوڑتا۔

آموختہ کا وہ عادی نہیں ہوتا۔ پچھلا سبق اسے کبھی نہیں یاد رہتا۔ سب کچھ بھول بھال کر آنے والے کسی اور حادثہ کے تئیں پھر اسی موقف، اسی فکر، اسی منافقت، اسی مکاری اور اسی معرکہ کے لیے وہ تن من دھن سےتیار ہوجاتا ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور حق وباطل کی ستیزہ کاری جاری رہتی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ کرتے ہیں۔ جواباً ایران عربوں پر حملہ کرتا ہے۔ اسرائیل پر بیس فیصد تو عربوں پر اسی فیصد بمباری ہوتی ہے۔ امریکہ کے بحری بیڑے ایرانی میزائیلوں کے رینج میں ہوتے ہیں مگر ان پر کوئی حملہ نہیں کیا جاتا۔ براہ راست امریکی مفادات کا برائے نام نقصان ہوتا ہے۔ بر صغیر کا رافضی، کربلائی اور تحریکی میڈیا اس کی تاویل کرتا ہے۔ دانش ور اس کو سپورٹ کرتا ہے۔ تلبیس یوں کی جاتی ہے کہ یہ حملے عربوں پر نہیں عرب میں موجود امریکی اڈوں پر ہیں۔ پھر گیس اور تیل کے ذخائر اور سپلائی لائنوں پر رافضی یلغار ہوتی ہے۔ تدلیس کا جامہ یوں پہنایا جاتا ہے کہ یہ حملے ان ذخائر ومراکز پر ہورہےہیں جو امریکیوں کے زیر نگرانی ہیں۔ پھر عوامی مقامات اور سول مفادات پر مجوسی بمباری ہوتی ہے۔ پوری بے شرمی سے یہ جواز تلاش لیا جاتا ہے کہ جب جنگ ہوگی تو دیگر مقامات بھی زد میں آئیں گے ہی۔ یوں امریکہ واسرائیل کی آڑ میں ہر رافضی جارحیت اور فارسی خباثت کو جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ موقع بموقع بیانیہ بدلتا رہتا ہے۔ہر حادثہ کے لیے ایک نیا بہانہ تلاش لیا جاتا ہے۔بغض وعناد اور ڈھٹائی وبے شرمی کا تسلسل قائم رہتا ہے۔ دانش وروں کا رویہ بھی کچھ اسی طرح ہوتا ہے۔ ممکنہ حد تک تاویل، تلبیس اور تدلیس کے ذریعہ عربوں پر مجوسی حملوں کے لیے گنجائش نکال ہی لی جاتی ہے۔ بسا اوقات خوشی کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔

عربوں پر ایران کا حملہ مسلسل جاری رہتا ہے۔ امریکہ عربوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں وہ بھی بنفس نفیس شریک ہوں۔ اپنے اوپر ہورہے حملوں کا بدلہ لیں۔ امریکہ اور امریکی ہمنواؤں کی طرف سے بھر پور کوشش کی جاتی ہے۔ عرب اس سے انکار کرتے ہیں۔ سعودی عرب اس رفض و انکار کی قیادت کرتا ہے۔ لاکھ کوششوں کے باوجود نہ تو امریکہ عربوں کو ایران کے خلاف جنگ میں اتار پاتا ہے نہ ہی ان کی زمین اس جنگ کے لیے استعمال کر پاتا ہے۔ بر صغیر کا تحریکی عربوں کی اس حکمت کو بزدلی کا نام دیتاہے۔ عربوں کی سرزمین پر امریکی وجود کے تئیں ہر جھوٹ بولتا اور ہر زور پھیلاتا ہے۔ زہر کی بیج بوتا اور نفرت کی کاشت کرتا ہے۔ نذالت کی آخری سطح تک اتر کر رافضیوں سے اپنی محبت اور عربوں سے اپنی دشمنی کا کھل کر اظہار کرتا ہے۔ دانشوروں کا ایک طبقہ اپنے مخصوص انداز میں اس کی حمایت کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تصویر واضح ہوتی چلی جاتی ہے۔ گریٹر اسرائیل کے خواب کی تکمیل کی خاطراسرائیلی حکومت غزہ ولبنان میں توسیعی اقدامات پورے زور وشور سےجاری رکھتی ہے۔ عظیم کسروی سلطنت کا سپنا آنکھوں میں سجائے فارسیوں کی مجوسی سلطنت ہرمز سے باب المندب تک پہنچ جاتی ہے۔ایران تقیہ کی آڑ میں منافقت کرتے کرتے تھک جاتا ہے۔ مجوسیوں کے آلہ کار حوثی "الموت لأمریکا" اور "الموت لإسرائیل" کے جھوٹے نعرے لگاتے لگاتے بے زار ہوجاتے ہیں۔ کھل کر امریکی مفادات کے تحفظ اور بلاد حرمین کی ناکہ بندی کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ان کے ساتھ میٹنگیں کرتے اور انھیں کسی قسم کا نقصان نہ پہنچانے کی ضمانتیں دینے لگتے ہیں۔

مطلع صاف سے صاف تر ہونے لگتا ہے۔ بہت سی بند آنکھیں کھلنے لگتی ہیں۔ مگر برصغیر کا تحریکی وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ نہ اس کے عناد پر کوئی اثر پڑتا ہے نہ بلاد حرمین کے تئیں اس کے بغض میں کوئی کمی آتی ہے۔ وہ ہر رافضی خباثت کی توجیہ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر مجوسی منافقت کو جواز فراہم کرنے میں پورا زور لگا دیتا ہے۔ اس کا لب ولہجہ اور چہچہاہٹ بتاتی ہے کہ وہ بلاد حرمین کے نقصانات پر کس قدر خوش ہے۔ اس کا بین السطور بتلاتا ہے کہ وہ پاسبانان حرم کے زوال وبربادی کا کس قدر متمنی ہے۔ دانش وروں کا طبقہ ایسی جگہوں پر یا تو گونگا بن جاتا ہے۔ یا دبے لفظوں میں تحریکیوں کی تائید کرتا ہے۔ نفس امارہ کے ہاتھوں بہت مجبور اور مصلحت کے آگے بالکل بے بس ہوجائے تو قلم چھڑک کر بھاگ جاتا ہے۔ کھل کر کبھی حق کی حمایت میں نہیں لکھتا۔ وہ فلسفہ آرائیاں اور عقلی موشگافیاں جو رافضیت کى خدمت اور تحریکیت کی سیوا میں دانشوروں کا خاصہ ہوتی ہیں، ایسی جگہوں پر کبھی نظر نہیں آتیں۔

ایران باب المندب تک پہنچ جائے، وہاں پہنچنے کے لیے ہر کذب ونفاق کا سہارا لے، قانون واخلاق کی دھجیاں اڑائے؛ تو تحریکی خوش ہوتا ہے۔ سعودی عرب قانونا واخلاقا یمن میں فوج اتارے تو اسے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ فارس کے مجوسی یمن کےحوثیوں کو اسلحہ اور ٹریننگ دیں، ان کی قیادت کریں، ان کے ساتھ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوں تو تحریکی کو اچھا لگتا ہے۔ سعودی عرب یمنی فوج کی مدد کرے تو اسے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل سے اسلحہ خرید کر عراق سے جنگ کرے تو تحریکی کو اس پر کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہے۔ اسرائیل کو اپنا اڈہ دے کر عراق کا ایٹمی پلانٹ ختم کرادے تو بھی اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ عرب ممالک امریکہ سے اسلحے خریدیں تو تحریکی کو پریشانی ہے۔

ایرانی مجوسی امریکی ٹینکوں پر بیٹھ کر عراق میں داخل ہوں تو بھی وہ عالم اسلام کا نمائندہ ہیں۔ روس کو ہوائی اڈہ دے کر شام پر حملے کروائیں تو بھی درست ہے۔ امریکہ کو ہوائی اڈہ دے کر افغانستان پر بمباری کروائیں وہ بھی صحیح ہے۔ رافضیت سے محبت بلا شرط ہے۔ عرب ممالک امریکہ کو فوجی اڈہ دیں ، اس سے سیکورٹی معاہدہ کریں، یہ تحریکی کو کسی صورت برداشت نہیں ہے۔خلیج میں امریکی اڈوں سے تحریکی کو اس قدر پریشانی ہے کہ جہاں اڈے نہیں ہوتے ہیں وہاں بھی وہ اڈے تلاش کر لیتا ہے۔ تحریکی نفاق کی یہ وہ تاریک دنیا ہے جس کو کوئی روشنی منور نہیں کر سکتی۔

منافقت کایہ وہ مقام ہے جس کی توجیہ کسی بھی عقل مند کے لیے بہت ہی مشکل ہے۔ مگر تحریکی تحریکی ہے۔ وہ ہر مجوسی اقدام کی مثبت توجیہ کرنا اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ "الموت لأمریکا "اور "الموت لإسرائیل" کا نعرہ لگانے والے حوثی رافضی عین حالت جنگ میں امریکیوں اور اسرائیلیوں سے ڈیل کرلیں۔ ان سےعہد وپیمان کریں۔ ان کو سلامتی کی ضمانت دیں۔ ان کے مفادات کا تحفظ کریں۔ بلاد حرمین کو گھیرنے کے لیے انہی دشمنوں کو ساری چھوٹ دے کر رعایت حاصل کرلیں جن کے نام پر جیتے، کھاتے اور ساری دنیا کو دھوکہ دیتے ہیں؛ تحریکی کو سب درست لگتا ہے۔ اس کی وہ تعلیل وتوجیہ کرلیتا ہے۔ عرب ممالک رافضی خباثت اور اس کے توسیعی منصوبوں سے بچنے کے لیے امریکہ سے تعاون طلب کریں تو تحریکی اسے ایمان اور کفر کا مسئلہ بنا دیتا ہے۔

حماس کے غزہ میں سنی بچے رافضی نصاب پڑھیں، تحریکی کے لیے عام بات ہے۔ سعودی عرب برصغیر سمیت دنیا میں کتاب وسنت کی روشنی پھیلائے،تحریکی کے لیے بہت ہی چنتا جنک موضوع ہے۔ یمن میں حوثی طلبہ کو اثنا عشری عقیدہ پلائیں، تحریکی کو کوئی فکر نہیں ہے۔ سعودی عرب منہج سلف کی ترویج کرے، تحریکی کے لیے بڑا ہی تکلیف دہ مسئلہ ہے۔ حوثی بلاد حرمین پر حملہ کریں، تحریکی کی خوشی چھپائے نہیں چھپتی۔ بلاد حرمین پر حملہ کرتے کرتے یہ رافضی اپنے میزائیلوں کا رخ حرمین شریفین کی طرف کردیں، تحریکی ذرا بھی بے چین نہیں ہوتا۔ صورت حال سے پیدا شدہ اضطراب سے بچنے کے لیے پہلے انکار کرتا ہے، کذب وزور کا سہارا لیتا ہے۔ جب کوئی گنجائش نہیں بچتی تو تلبیس وتدلیس کا آزمودہ حربہ استعمال کرتا ہے۔ ہمیشہ تحریکی کی کیتلی رافضی کی چائے سے زیادہ گرم رہتی ہے۔

جس طرح رافضیت اور جھوٹ لازم ملزوم ہیں اسی طرح اخوانیت ، مودودیت، تحریکیت اور نفاق دائمی قرین ہیں۔ اخوانی منافقت نہ کرے ، عیاری ومکاری سے بچا رہے،تحریکی جھوٹ نہ بولے، تدلیس وتلبیس سے دور رہے ؛ ایسا کہاں ممکن ہے۔ ان کے موقف میں نفاق اور گفتگو میں تضاد نہ ہو یہ خارج از امکان سا ہے۔ جب گفتگو کا موضوع عرب وایران اور بحث کا عنوان سنی ورافضی ہوں تو منافقت بام عروج پر پہنچ جاتی ہے۔

اس منظر نامہ کا سب سےافسوسناک پہلو یہ ہے کہ جس وقت ایران کی رافضی حکومت اور فارس کی مجوسی سلطنت بلاد حرمین کو گھیرنے کے لیے اپنے منحوس رافضی نیٹ ورک کو فعال کیے ہوئے ہے، عرب سے لے کر عجم تک فارسی قیادت میں ہرجگہ رافضیوں سے تعاون کا مطالبہ ہو رہا ہے، بطور کمک پیسے سے لے کر اسلحہ تک، افراد سے لے کر سازو سامان تک، یمن کے حوثیوں کو ایرانی سرپرستی میں پہنچایا جارہا ہے، سارے رافضی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں، ہر صورت یمن پر قبضہ پختہ کرنا چاہتے ہیں، ایک اور شام وعراق بنانا چاہتے ہیں؛ عین اسی وقت سنیوں کا ایک ٹولہ نہ صرف حوثی رافضیوں کی حمایت کر رہا ہے، عربوں پر فارسیوں کے یلغار سے خوش ہو رہا ہے، ایران کے تسلط اور غلبہ کی تمنا کر رہا ہے؛ بلکہ بلاد حرمین سمیت دیگر عرب ممالک سے مسلمانوں کو بدظن کر نے میں اپنا پورا زور صرف کر رہا ہے۔

یہ وہ ٹولہ ہے جو ضمیر پہلے، زبان وقلم بعد میں بیچتا ہے۔ جو ماہر ہوتے ہیں وہ باقاعدہ خودی کا سودا کرتے ہیں۔ پوری مہارت سے خود داری کی تجارت کرتے ہیں۔ لین دین ہوتاہے۔قیمت طے پاتی ہے۔ رافضی اڈے یہ قیمت ادا کرتے ہیں۔ فارسی چینل مال ومتاع کا انتظام کرتے ہیں۔اس طرح یہ کاروبار رسمی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ بر صغیر میں اس کی قیادت تحریکی کر رہے ہیں۔ اس ٹولے کو شاید اندازہ بھی نہیں ہے کہ یمن میں رافضی تسلط کے نتائج کیا نکلیں گے؟

مجوسیت کا شر صرف یمن کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا۔ یمن تو شام وعراق بنے گا ہی، بلاد حرمین سمیت، سارے عرب ممالک اور پورا مشرق وسطى ایک ہولناک مستقبل میں داخل ہو جائے گا۔کیا اخوانیوں اور تحریکیوں کو شام وعراق کے احوال سے واقفیت نہیں ہے؟ رافضیوں نے گزشتہ دس سے پندرہ سالوں میں عرب ممالک میں جو فساد مچایا ہے اس کی انھیں خبر نہیں ہے؟ جس ہولناکی سے یہ ممالک گزرے ہیں ، اس کا انھیں علم نہیں ہے؟

در اصل مسئلہ علم اور واقفیت کا نہیں ہے۔ مسئلہ اسی فکر اور آئیڈیالوجی کا ہے جو ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔ بوجوہ رافضیت سے محبت اور بلاد حرمین سمیت عربوں سے نفرت۔ اس محبت ونفرت کے نقطہ اجتماع پر بر صغیر کے سارے بدعتی، اخوانی، مودودی، تحریکی اور اکثر دانش ور تقریبا جمع ہوجاتے ہیں۔ ان سے ممکن نہیں ہوتا کہ یہ رافضیت وسنیت اور فارسیت وعربیت کی کشمکش میں عربوں اور سنیوں کی حمایت کریں۔زبان کبھی لڑکھڑا بھی جائے تو دل انھیں کے ساتھ رہتا ہے۔

جس طرح بغض وعداوت اور نفرت وکدورت میں ڈوبا تحریکی خلیج میں ہر جگہ امریکی اڈے تلاشتا پھرتا ہے۔ اس تلاش میں وہ کذب ونفاق اور نذالت وسفالت کا ہر سفر طے کرتا ہے۔ اسی طرح دانش ور بھی دانش وری دکھاتے دکھاتے اور عقلانی فلسفہ آرائی کرتے کرتے نہ صرف ریاض میں سعودی ایمبیسی ڈھونڈ لیتا ہے، بلکہ اس ایمبیسی میں ایک امریکی بلڈنگ بھی تلاش لیتا ہے۔

اس میدان میں دانش ور تحریکی سے پیچھے نہیں رہتا۔ اکثر اوقات اس کے شانہ بشانہ چلتا ہے۔ بس اس کا طریقہ کار ذرا الگ ہوتا ہے۔ وہ تحریکی کی طرح پھوہڑ پن نہیں دکھاتا۔ بڑے مہذب انداز میں چال چلتا ہے۔ تحریکی کی طرح وہ ہر جگہ نہیں پھینکتا۔ اسے پتہ ہوتا ہے کب بولنا ہے اور کب انتظار کرنا ہے؟ کب گھات لگا کر بیٹھنا ہے اور کب حملہ کرنا ہے؟ ایک ہوشیاردانش ور ماسک، دستانہ اور ربڑ کا جوتا ہمیشہ ساتھ رکھتا ہے۔ کب پہننا ہے، کب اتار دینا ہے اور کب ہمیشہ کے لیے پھینک دینا ہے؛ اسے بخوبی پتہ ہوتا ہے۔

دانش وری جس طر ح اپنے پاؤں پسار رہی ہے۔ عقلانیت جس طرح عام ہو رہی ہے۔ ہماری صفوں میں بھی جس طرح اس کا گراف بڑھتا جا رہا ہے اور نتیجتاً سہولت کاری عام ہوتی جا رہی ہے؛ خدشہ یہ ہے کہ جس طرح سنیوں کے درمیان رافضی افکار پھیلانے میں اخوانی، مودودی اور تحریکی ایک بڑا سبب رہے ہیں، ٹھیک اسی طرح اہل حدیثوں اور سلفیوں میں اخوانی اور تحریکی افکار پھیلانے کا ایک بڑا سبب، دانش وروں کا یہ طبقہ بنے گا۔

اس طرح کے ازمات ومسائل میں جب تک آپ جڑ تک پہنچ کر بکھرے ہوئے مواقف کی اصل کو نہیں سمجھیں گے، نظريات میں موجود تضاد کی بنياد اور مواقف میں موجود نفاق کی اساس کو جاننے کی کوشش نہیں کریں گے، تب تک دانش وری کی تھال میں سجا كر پروسی جانے والی، تحریکیت سے لبریز، سطحیت سے پر، ہزیمت زدہ تحریروں، بغض وعداوت اور نفرت وكدورت کے نتیجے میں بہنے والے بدبودار الفاظ وتراكيب اور مدفوع ومہیا کیے گئے پلاٹ کی روشنی میں لکھے جانے والے افسانوں کی حقیقت تک پہنچنے میں آپ کو دشواری ہوگی۔

جب تک آپ کی بصیرت ہر منظر کے پیچھے جاکر اس کا صحیح پس منظر جاننے کی مخلصانہ کوشش نہیں کرے گی،تب تک آپ کی بصارت سے درست منظرنامہ اوجھل ہی رہے گا۔ ((رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ))

کالم نگار : وسیم المحمدی
| | |
94