(+92) 319 4080233
کالم نگار

حذیفہ صبیح

حذیفہ صبیح

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
شیخ محمد فاروقی محدث تھانویؒ
تھانہ بھون کی طرف آپ بڑھیں گے تو حکیم الامت علیہ الرحمہ کا نام نامی ہر اعتبار سے سرفہرست نظر آئے گا ، حکیم الامت کے تجدیدی کارنامے واقعی اس سے زیادہ کے مستحق ہیں ، وہ برصغیر کی تقریبا پوری اسلامی قوم کے محسن ہیں ، ان کی فہم و فراست ، فکر و تدبر اور شریعت کی تفہیم کا ملکہ اپنی مثال آپ ہے ۔ تھانہ بھون بجائے خود ایک تاریخی قصبہ ہے ، حکیم الامت کی خانقاہی سہ دری کے متصل مسجد عالمگیر ثانی کے دور میں تعمیر کی گئی تھی ، اس مسجد کے احاطے میں ایک چند بزرگوں کی قبریں بھی تھیں جو زمانے کی دستبرد کی نذر ہوئیں اور اب ان میں سے محض ایک باقی رہ گئی ہے جو کشاف اصطلاحات الفنون کے مصنف قاضی محمد اعلی تھانوی کی ہے ۔

اسی تھانہ بھون میں ایک اور فاروقی النسل بزرگ بھی پیدا ہوے جو محدث تھانوی کے نام سے جانے جاتے تھے ۔ آپ تاریخ کے اوراق الٹیں تو شیخ محمد فاروقی محدث تھانوی کا ذکر روشن نقوش کی صورت میں پائیں گے۔ شیخ فاروقی حضرت حافظ ضامن شہید کے چچیرے بھائی تھے ، ١٢٣٠ ہجری میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم کے بعد مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے خاندانی چشم و چراغ ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے جانشین ' شاہ اسحاق دہلوی ' سے اجازت حدیث لی ، اسی دور میں سید احمد شہید علیہ الرحمہ سے بیعت بھی ہوئے ۔ اٹھارہ سے انیس سال کی عمر میں علم معقول و منقول میں فضیلت پائی اور تھانہ بھون ہی میں درس و تدریس اور وعظ کا مشغلہ اختیار کیا ۔ سید احمد شہید علیہ الرحمہ ١٢٤٦ ھ میں وفات پاگئے تو شیخ فاروقی نے ایک عرصہ غور و فکر کے بعد میاں جی نور محمد جھنجھانوی کے دست حق پر بیعت کی ۔ میاں جی اس دور کے اکابر کا مرجع تھے ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حافظ ضامن شھید اور دیگر بزرگان دین ان کی جانب مائل تھے اور ان سے بیعت بھی ۔ شیخ فاروقی ان کے فیوض سے مستفید ہونے لگے تو حافظ ضامن سے خونی رشتے کے ساتھ پیر بھائی کا تعلق بھی جڑ گیا ۔

یہ دور شورش اور ہنگاموں کا تھا ، تھانہ بھون تحریک آزادی میں ایک چھاؤنی کی صورت اختیار کررہا تھا اور اکابر علما انگریز کے خلاف صف آرا ہونے کو تیار تھے ، اس تیاری کا پہلا نتیجہ جہاد شاملی کی صورت میں نکلا ، مسلمانوں کو اس میں پسپائی ہوئی اور حضرت حافظ ضامن شہید ہوئے ، انگریزی نے تھانہ بھون کی اینٹ سے اینٹ بجائی اور تقریباً سارے سرکردہ افراد روپوشی اور ہجرت کی زندگی اپنانے پر مجبور ہوئے ۔ شیخ فاروقی ہجرت کرکے تین سال رامپور منہاران میں مقیم رہے ، اسی دور میں مثنوی دفتر ہفتم کی تکمیل کی جو ایک روشن روحانی کارنامہ ہے ، اسی دور میں شرح حزب البحر اور ارشاد محمدی کی تألیف بھی عمل میں آئی ۔ ١٨٦١ میں ریاست ٹونک تشریف لائے جہاں ایک نواب ٹونک کی جانب سے احادیث تہذیب الاخلاق مرتب کی ، اس کے بعد سفر حج پر تشریف لے گیے اور شاہ یعقوب دہلوی علیہ الرحمہ سے سند و اجازت حاصل فرمائی ۔ واپس تشریف لاکر پھر سے درس تدریس میں منہمک ہوئے ۔

شیخ کا علمی مقام بلند تھا ، سنن نسائی پر آپ کی تعلیقات معروف ہیں ، حضرت حافظ ضامن شہید کا یہ قول آپ کے لیے سند کی حیثیت رکھتا ہے کہ جس کو فقہی گتھیاں سلجھانی ہوں وہ شیخ محمد فاروقی کے پاس جائے ۔ جوانی میں قطب الارشاد حضرت گنگوہی سے آپ کا ایک مناظرہ بھی ہوا ، اسی دور میں حضرت گنگوہی بدعات کے خلاف سرگرم عمل ہوئے تھے اور آگے چل کر حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے بیعت بھی ہوئے ۔ شیخ فاروقی خوش اخلاق ، خندہ رو اور علم و عمل کا منبع تھے ، آخر عمر تک علمی مشاغل میں مصروف رہے ، ١٢٩٦ ہجری میں وفات پائی اور تھانہ بھون کے مغربی خطے میں دیگر بزرگان دین کے جلو میں دفن ہوئے ۔ تاریخ کے اوراق میں ایسے بہت لوگ دفن ہیں جو اپنے دور میں علم و فن اور سلوک و ارشاد کی خدمت میں رہے اور آج انہیں کوئی جانتا بھی نہیں ، شیخ فاروقی کی قبر کا علم بھی بہت کم لوگوں کو ہوگا ، شیخ کی آرام گاہ سے چند قدم پہلے تھانہ بھون کی سب سے بڑی ہستی حکیم الامت کی آرام گاہ مرجع خلائق ہے ، یہ تقدیر کے فیصلے ہیں جن پر ہم اور آپ کو حکم لگانے کا حق بھی نہیں ، ہمارا فرض ہے کہ تاریخ کے کشکول سے ایسے لوگوں کو ڈھونڈ کر نکالیں اور اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔

کالم نگار : حذیفہ صبیح
| | |
83