(+92) 319 4080233
کالم نگار

افتخاراحمدعثمانی

افتخاراحمدعثمانی

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
جنات کا محل یوکے
آج لندن سے تقریباً 88 میل دور، 140 کلومیٹر مغرب کی طرف ولٹ شائر کے کھلے میدانوں میں سٹون ہینج یعنی دنیا کا آٹھواں عجوبہ موجود ہے ، لندن سے یہاں تک کار پر تقریباً دو گھنٹے لگتے ہیں، ٹرین سے سالسبری تک آ کر بس پکڑ کے یہاں پہنچا جا سکتا ہے ، لیکن جب آپ یہاں پہنچتے ہیں تو لگتا ہے جیسے آپ دو گھنٹے نہیں، پانچ ہزار سال پیچھے آ گئے ہوں۔

یہ جگہ ایک دن میں نہیں بنی۔ پہلے مرحلے میں آج سے پانچ ہزار سال پہلے یہاں ایک بڑی گول خندق کھودی گئی تھی جو ایک قبرستان کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ اس کے ہزار سال بعد اصل کام شروع ہوا۔ کچھ چھوٹے نیلے پتھر جنہیں بلیو سٹونز کہا جاتا ہے، وہ یہاں سے 250 کلومیٹر دور ویلز کے پہاڑوں سے لائے گئے۔ اس زمانے میں پہیہ تک ایجاد نہیں ہوا تھا، تو سوچیں کہ وہ لوگ ان پتھروں کو لکڑی کے رولرز پر، دریاؤں کے راستے گھسیٹ کر یہاں تک کیسے لائے ہوں گے۔ پھر اس کے بعد جو بڑے بڑے پتھر آپ میرے پیچھے دیکھ رہے ہیں، ہر ایک کا وزن 30 سے 40 ٹن ہے، یعنی ایک بڑے ٹرک جتنا۔

اور پھر ان کو اس طرح کھڑا کیا گیا کہ اوپر ایک اور پتھر رکھ کر دروازے جیسی شکل بن گئی۔آج تک کوئی نہیں جانتا کہ یہ کیوں بنایا گیا۔ کچھ محققین کہتے ہیں یہ ایک بہت بڑا فلکیاتی کیلنڈر تھا۔ 21 جون کو سال کے سب سے لمبے دن، سورج بالکل اسی سیدھ میں نکلتا ہے جہاں یہ پتھر لگے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں یہاں قدیم قبیلے سورج کی پوجا کرتے تھے۔ یہاں کھدائی میں 200 سے زیادہ انسانی ہڈیاں بھی ملی ہیں تو یہ ایک مقدس قبرستان بھی تھا۔ 1986 میں یونیسکو نے اسے دنیا کا عالمی ورثہ قرار دیا اور اب ہر سال لاکھوں لوگ یہاں آتے ہیں۔ عام طور پر آپ کو ان پتھروں سے دور رسی کے پیچھے سے دیکھنا پڑتا ہے لیکن خصوصی رسائی سے آپ ان کے قریب جا سکتے ہیں، جیسے میں آج کھڑا ہوں۔ یہاں ہوا بہت تیز ہوتی ہے، گھاس بہت سبز، اور ایک عجیب سی خاموشی ہے۔ لگتا ہے یہ پتھر آپ سے بات کر رہے ہیں۔

تیس سال ڈرامے کی کہانیاں لکھتے ہوئے میں نے ہمیشہ سوچا کہ کہانی کیا ہوتی ہے، آج سمجھ آیا کہ اصل کہانی وہ ہے جو ہزاروں سال بعد بھی بغیر کسی لفظ کے سنائی دے۔ یہ صرف پتھر نہیں ہیں، یہ وقت کی ڈائری ہے جو آج بھی کھلی پڑی ہے لندن سے صرف دو گھنٹے کی دوری پر، ایک مکتبہ فکر کا ماننا ہے کہ یہ پتھر جنات کو قابو کر کے یہاں منگوائے گئے تھے اور یہ ایک محل تھا جس کی تعمیر جنات نے کی تھی اب کیا سچ ہے کیا جھوٹ اللہ جانے!

کالم نگار : افتخاراحمدعثمانی
| | |
126