(+92) 319 4080233
کالم نگار

حنظلہ خلیق

حنظلہ خلیق

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/20
موضوعات
جاحظ کی زندگی پرایک نظر
۱۔ نام اور ظاہری شکل:
جاحظ کا پورا نام ابو عثمان عمرو بن بحر بن محبوب الکنانی الفقیمی تھا۔ اس کی آنکھیں غیر معمولی طور پر باہر نکلی ہوئی تھیں، اسی بنا پر اسے جاحظ یا حدقی کہا جانے لگا۔ بظاہر اسے یہ لقب پسند نہیں تھا اور جب کوئی اسے اس نام سے پکارتا تو وہ ناگواری کا اظہار کرتا۔ وہ اس بات پر زور دیتا کہ اس کا نام عمرو ہے اور اسے اسی نام سے پکارا جانا چاہیے۔ اس کے نزدیک عمرو نام نہایت خوب صورت، مختصر، لطیف اور زبان پر آسان تھا۔ جاحظ نے عمرو نام کے ساتھ خاص انس پیدا کر لیا تھا، کیونکہ لوگ اس میں ایسا واو شامل کر دیتے تھے جس کا اصل نام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ اپنے نام کے بارے میں کہا کرتا تھا:

"إنّ هذا الاسم لم يقع في الجاهلية والإسلام إلا على فارس مذكور، أو ملك مشهور، أو سيد مطاع، أو رئيس متبوع، أمثال عمرو بن هاشم (جد النبي صلى الله عليه وسلم) وعمرو بن سعيد الأكبر، وعمرو بن العاص، وعمرو بن معدي كرب". یہ نام زمانۂ جاہلیت اور اسلام میں صرف ایسے ہی لوگوں کے لیے استعمال ہوا ہے جو نام ور شہسوار، مشہور بادشاہ، قابلِ اطاعت سردار یا مقتدر پیشوا رہے ہیں، جیسے عمرو بن ہاشم، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جد تھے، عمرو بن سعید اکبر، عمرو بن العاص اور عمرو بن معدی کرب۔

ڈاکٹر محمد عبد المنعم خفاجی کی رائے ہے کہ جاحظ خالص اور صریح عربی النسل تھا اور ایک ایسے معزز خاندان سے تعلق رکھتا تھا جسے جاہلیت اور اسلام دونوں ادوار میں عزت و مرتبہ حاصل تھا۔

انہوں نے ان شعوبی دعووں کی بھی تردید کی جن میں جاحظ کے نسب کو مشکوک قرار دیا گیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ وہ حسب و نسب کے اعتبار سے کسی نمایاں خاندان سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ موالی میں سے تھا۔ ان لوگوں کا استدلال اس روایت سے تھا جو یموت بن المزرع البصری، متوفی ۲۰۴ھ، سے منسوب کی جاتی ہے:

"كان فزارة جد الجاحظ أسود اللون، وكان جمالاً لعمرو بن قلع".

جاحظ کا دادا فزارہ سیاہ رنگ کا تھا اور عمرو بن قلع کا اونٹ ہانکنے والا تھا۔

لیکن زیادہ قرینِ قیاس بات یہ ہے کہ ابو عثمان کو محض رنگت کی بنا پر لوگوں کے پست ترین طبقے سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔ سیاہ اور سفید دونوں انسان ایک ہی اصل کی طرف لوٹتے ہیں اور سب کا رشتہ ابو البشر آدم علیہ السلام سے ہی جا ملتا ہے۔ جاحظ کی زندگی اور اس کی علمی جدوجہد بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ عربی زبان اور عربوں کے دفاع کے لیے پوری زندگی وقف کرنے والا شخص تھا۔ اس نے شعوبیت کے مقابلے میں اٹھنے والی سب سے بڑی فکری تحریک کی قیادت کی اور اس کے اثرات کو کمزور کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کی رگوں میں عربی خون کا جوش اور اس کے مزاج میں عربی حمیت کی حرارت صاف محسوس ہوتی ہے۔

اگر جاحظ عربوں کے معزز خانوادے سے تعلق نہ رکھتا ہوتا تو غالباً وہ شعوبی فکر کا مخالف بننے کے بجائے خود اسی کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ اور اگر وہ کسی ایسے خاندان میں پیدا نہ ہوا ہوتا جسے عزت و شرف کی روایت ورثے میں ملی تھی تو اس کے معاصرین بھی اس پر اعتراض کرنے، اس کے نسب کو نشانہ بنانے اور اسے رقی غلام یا کم تر عنصر قرار دینے میں دیر نہ لگاتے۔

جاحظ کے عرب ہونے کی تائید کرنے والوں میں ابو زید البلخی، متوفی ۳۲۲ھ، اور ابن حزم، متوفی ۴۵۶ھ بھی شامل ہیں۔

جاحظ قد میں چھوٹا تھا، سر بھی نسبتاً چھوٹا ہی تھا، گردن پتلی، کان چھوٹے، رنگ سیاہ اور آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ اس کی جسمانی ساخت عام حسن کے معیار سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب عباسی خلیفہ متوکل نے اسے دیکھا تو اسے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت کے منصب سے ہٹا دیا اور دس ہزار درہم عطا کر دیے۔

جاحظ کی کتابوں کا گہرا مطالعہ کرنے والے اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ وہ غیر معمولی ظرافت اور شوخ طبعی کا مالک تھا۔ سخت سے سخت حالات میں بھی وہ ایسی برجستہ بات کہہ دیتا جو ماحول کی تلخی کو کم کر دیتی۔ اس کے لطیفے اداس چہروں پر مسکراہٹ لے آتے، زرد پڑے چہروں پر روشنی بکھیر دیتے اور غم زدہ دلوں کو کچھ دیر کے لیے ہلکا کر دیتے۔

شاید اس ظرافت کا ایک سبب اس کی اپنی جسمانی ساخت بھی تھی۔ انسان جب اپنے اندر کسی عیب کو محسوس کرتا ہے تو عموماً دو راستوں میں سے ایک اختیار کرتا ہے۔ یا تو وہ ممکن حد تک اس عیب کو لوگوں کی نگاہوں سے چھپانے کی کوشش کرتا ہے، یا خود ہی اس عیب کو ظاہر کرکے اس کا مذاق اڑانے لگتا ہے، تاکہ دوسروں کے طنز سے پہلے خود اس پر ہنس لے اور ان کے لیے تمسخر کا راستہ بند کر دے۔ جاحظ نے دوسرا راستہ اختیار کیا، کیونکہ اس کی کمزوری جسمانی تھی جسے لوگوں کی نظروں سے چھپانا ممکن نہ تھا۔

اس نے اپنی بدصورتی پر بھی خود طنز کیا اور اپنے ظاہری حلیے کو مزاح کا موضوع بنایا۔ وہ اپنے بارے میں ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:

"ما أخجلني إلا امرأتان: رأيت إحداهما في العسكر، مكان في سامرّا وكان مصيفاً للخلفاء العباسيين، وكانت طويلة القامة، وكنت على طعام. فأردت أن أمازحها، فقلت: انزلي كلي معنا، فقالت: اصعد أنت حتى ترى الدنيا". مجھے صرف دو عورتوں نے لاجواب کیا۔ ایک عورت کو میں نے عسکر میں دیکھا، جو سامرا کے قریب وہ مقام تھا جہاں عباسی خلفا گرمیوں میں قیام کرتے تھے۔ وہ عورت بہت لمبے قد کی تھی اور میں کھانا کھا رہا تھا۔ میں نے اس سے مذاق کرتے ہوئے کہا: نیچے آؤ، ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ۔ اس نے جواب دیا: تم خود اوپر چڑھ آؤ تاکہ دنیا دیکھ سکو۔

اس نے میرے چھوٹے قد پر طنز کیا تھا۔

دوسری عورت میرے گھر کے دروازے پر آئی۔ اس نے کہا: مجھے تم سے ایک کام ہے، میرے ساتھ چلو۔ میں اس کے ساتھ چل پڑا، یہاں تک کہ وہ مجھے ایک یہودی سنار کے پاس لے گئی اور اس سے کہا: "مثلُ هذا"

اس جیسی تصویر بناؤ۔

پھر وہ چلی گئی۔ میں نے سنار سے پوچھا کہ اس عورت کا مطلب کیا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ میرے پاس ایک نگینہ لائی تھی اور چاہتی تھی کہ میں اس پر شیطان کی تصویر کندہ کروں۔ میں نے اس سے کہا تھا: بی بی! میں نے شیطان کو کبھی دیکھا نہیں۔ چنانچہ وہ تمہیں میرے پاس لے آئی اور کہا کہ یہ شیطان کی شکل ہے۔

۲۔ ولادت اور نشوونما:
یہ وہی صاحبِ علم و ادب تھا جس سے زبان کا کوئی اہم مادہ، نحو کا کوئی بنیادی قاعدہ اور بلاغت کی کوئی لطیف نکتہ پوشیدہ نہ رہتا تھا۔ اس کی ولادت بصرہ میں ہوئی اور اس نے ایسی فضا میں پرورش پائی جہاں غربت اور تنگ دستی گھر کی مستقل ساتھی تھیں۔ وہ ایک ایسے متوسط اور غریب گھرانے کا چشم و چراغ تھا جس کے حالات انتہائی محدود تھے۔ فاقے نے خاندان کو اس قدر مجبور کر دیا تھا کہ ان کے نوجوان بیٹے کو بصرہ کے قریب سیحان نامی ایک چھوٹے دریا کے کنارے مچھلی اور روٹی بیچنی پڑتی تھی، تاکہ گھر والوں کے لیے کم از کم بھوک سے بچنے کا سامان پیدا ہو سکے۔

جاحظ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں اہل تذکرہ کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض نے اس کی پیدائش ۱۵۰ھ بتائی ہے، بعض نے ۱۵۹ھ اور بعض نے ۱۶۰ھ کا سال ذکر کیا ہے۔ اگر خود جاحظ سے منقول روایت درست مانی جائے تو اس کی پیدائش ۱۵۰ھ کے آغاز میں ہوئی تھی۔ اس سے منسوب ہے کہ اس نے کہا:

"أنا أسن من أبي نواس بسنة، ولدت في أول سنة 150هـ، وولد في آخرها".

)میں ابو نواس سے ایک سال بڑا ہوں۔ میں ۱۵۰ھ کے شروع میں پیدا ہوا تھا اور وہ اسی سال کے آخر میں پیدا ہوا)۔ چنانچہ اگر اس کی اپنی بیان کردہ بات کو معتبر مانا جائے تو جاحظ کی ولادت ہجری دوسری صدی کی چھٹی دہائی کے آغاز میں ہوئی۔

٣ • والدہ، ابتدائی زندگی اور علم کی جستجو:
جاحظ کے والد کے بارے میں ان کے نام کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نہ معاشرے کے کسی بلند مرتبہ طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور نہ متوسط درجے کے اہلِ حیثیت لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ غالب گمان یہی ہے کہ جاحظ کے بالغ ہونے اور اس کی شہرت پھیلنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا، ورنہ کم از کم ان کی زندگی میں بھی جاحظ کی شہرت کا کچھ حصہ ضرور دکھائی دیتا۔

اس کی والدہ کے بارے میں بھی صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ غریب اور تنگ دست خاتون تھیں۔ جاحظ کے بچپن میں وہی اس کی کفالت کرتی رہیں۔ غربت نے اسے کم عمری ہی میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور زندگی کی ذمہ داریوں کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ لڑکپن ہی میں وہ روٹی اور مچھلی فروخت کرکے اپنا اور اپنے گھر کا خرچ پورا کرنے لگا۔ لیکن غربت نے جاحظ کے دل سے علم کی محبت نہ چھینی۔ بچپن ہی سے، جب ابھی لڑکپن کی بے فکری اس کے مزاج پر غالب تھی، وہ علم کا ایسا شیدائی تھا کہ اس کے حصول کے اسباب اختیار کرنے میں ذرا تساہل نہ کرتا۔ موقع ملتا تو کتابوں کے شگفتہ اوراق میں گم ہو جاتا، سفر و مطالعے کے تازہ ابواب سے لطف لیتا اور علمی خزانے تلاش کرتا رہتا۔ اس شوق کا سب سے روشن ثبوت بصرہ کے وہ کتب فروش اور کاتبوں کی دکانیں ہیں جنہیں وہ رات کے وقت کرائے پر لے لیا کرتا تھا۔ وہیں رات گزارتا اور ان دکانوں میں موجود کتابوں کو کھول کر ان کے اندر چھپے ہوئے موتیوں اور علمی جواہر کا مطالعہ کرتا رہتا۔ اس کے علاوہ وہ بصرہ کی جامع مسجد میں قائم ہونے والی ان علمی مجلسوں میں بھی باقاعدگی سے شریک ہوتا جہاں علم کی باتیں ہوتیں، تجربات سے سبق حاصل کیا جاتا اور فکر کے نئے زاویے جنم لیتے تھے۔ ان علمی حلقوں میں اکثر غریب لوگ بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے تھے۔ ان کا مقصد جہالت کی تہمت سے نجات حاصل کرنا، علم کے چہرے کو قریب سے دیکھنا اور اس کے معانی و اسرار کو سمجھنا تھا۔

جاحظ کا ایک اور اہم علمی مرکز مِربد تھا۔ یہ بصرہ کے باہر واقع ایک جگہ تھی جہاں صحرائی عرب تجارت اور اشیا کے تبادلے کے لیے آیا کرتے تھے۔ جاحظ وہاں جاکر بدوی عربوں سے براہِ راست زبان، فصاحت اور خالص عربی محاورہ سیکھتا تھا۔ جیسا کہ اس کے بارے میں لکھا گیا ہے:

"كان كثيراً ما يذهب إلى المربد، وهو مكان بظاهر البصرة تفد إليه الأعراب من البوادي للتجارة وتبادل السلع، يتلقى اللغة والفصاحة مشافهة من الأعراب".

(وہ اکثر مِربد جایا کرتا تھا۔ یہ بصرہ کے باہر واقع وہ مقام تھا جہاں دیہات اور صحرائی علاقوں سے عرب تجارت اور اشیا کے تبادلے کے لیے آیا کرتے تھے۔ جاحظ ان بدویوں سے براہِ راست زبان اور فصاحت سیکھتا تھا)۔

علم سے جاحظ کی یہ بے پناہ محبت اور اس کے باغ و بہار کی مسلسل تلاش اس کی والدہ کے لیے باعثِ تشویش تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا اپنی تمام توجہ تجارت کی طرف لگا دے اور پڑھنے لکھنے میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کرے۔

ایک دن وہ جاحظ کے پاس کھانے کے بجائے کاغذوں اور کتابچوں کی ایک پلیٹ لے آئیں۔ جاحظ نے حیرت سے پوچھا: یہ کیا ہے؟

والدہ نے جواب دیا: یہی ہے جو تم لے کر آتے ہو۔

جاحظ یہ سن کر رنجیدہ ہو کر گھر سے نکل گیا اور مسجد میں جا بیٹھا۔ وہاں موسیٰ بن عمران بیٹھے تھے۔ انہوں نے اسے افسردہ دیکھا تو پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ جاحظ نے سارا واقعہ سنا دیا۔ موسیٰ بن عمران اسے اپنے گھر لے گئے، کھانا کھلایا اور پچاس دینار دیے۔ جاحظ بازار گیا، آٹا اور دوسری ضروری چیزیں خریدیں اور مزدوروں کے ذریعے انہیں اپنے گھر بھجوا دیا۔ والدہ نے یہ سب دیکھا تو حیران ہو کر پوچھا: تمہارے پاس یہ سب کہاں سے آیا؟ جاحظ نے جواب دیا: انہی کاغذوں سے جو آپ میرے لیے لائی تھیں۔

۴۔ جاحظ کی علمی تربیت اور اساتذہ:
جاحظ نے کم عمری ہی میں بصرہ کے ایک مکتب میں داخلہ لیا جہاں اس نے پڑھنا لکھنا اچھی طرح سیکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مساجد کا رخ کرتا اور علمی مجالس میں اس اہتمام سے شریک ہوتا جیسے کوئی عبادت گزار اپنی نماز کی پابندی کرتا ہے۔

اس کی علم دوستی، ایک باعزت مستقبل کی آرزو اور یتیمی کے دکھ کا ازالہ کرنے کی خواہش نے اس کم سن بچے کو پورے دل و جان کے ساتھ علم، مطالعے اور تعلیم کی طرف متوجہ کر دیا۔ وہ غیر معمولی صلاحیتوں اور مکمل استعداد کا مالک تھا۔ بصرہ کی جامع مسجد میں قائم علمی حلقوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتا، مِربد میں عرب بدویوں سے براہِ راست فصاحت سنتا اور قصہ گوؤں سے فتوحات کے واقعات، مجاہدین کے کارنامے اور زاہدوں و عابدوں کے حالات سنتا رہتا۔

جوں جوں عمر بڑھی اور جوانی کے آثار نمایاں ہوئے، اس کی ذہانت اور غیر معمولی قابلیت بھی کھل کر سامنے آنے لگی۔ جاحظ نے اپنے زمانے کے ایسے جلیل القدر اساتذہ سے علم حاصل کیا جو اپنے عہد کے ممتاز ترین اہل علم تھے۔

ان میں اصمعی نمایاں تھے، جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہیں عربی زبان کے ایک تہائی ذخیرے کا حفظ تھا۔ اسی طرح ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ تھے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ روئے زمین پر خوارج اور دیگر گروہوں میں بھی ان جیسا ہمہ جہت علوم کا عالم کوئی نہ تھا۔ پھر ابو زید انصاری تھے۔ ان تینوں کے بارے میں اہل علم کا کہنا تھا کہ اپنے زمانے میں زبان، شعر اور عربی علوم کے میدان میں یہی تینوں لوگوں کے امام تھے۔ ان سے پہلے اور ان کے بعد ان جیسی مثال نہ دیکھی گئی۔ لوگوں کے پاس موجود ان علوم کا بیشتر حصہ، بلکہ تقریباً تمام ذخیرہ، انہی سے منتقل ہوا۔

جاحظ نے اخفش ابو الحسن سعید بن مسعد المجاشعی سے بھی استفادہ کیا، جو نحو و صرف کے بڑے عالم تھے۔ اسی طرح صالح بن جناح لخمی سے علم حاصل کیا، جنہوں نے تابعین کا زمانہ پایا تھا اور جن کی حکمت بھری باتوں سے لوگ فائدہ اٹھاتے تھے۔

اس کے اساتذہ میں ابو اسحاق ابراہیم بن سیار البلخی، المعروف نظام بھی شامل تھے، جو معتزلہ کے ممتاز ائمہ میں شمار ہوتے تھے۔ جاحظ نے ان سے علم کلام کی تعلیم حاصل کی۔ نظام کو انجیل، تورات اور زبور اور ان کی تفاسیر کا بھی علم تھا، اس کے علاوہ شعر، ادب اور غریب الفاظ کے علوم میں بھی وہ خاص دسترس رکھتے تھے۔

جاحظ کے اساتذہ میں موسیٰ بن سیار اسواری کا نام بھی نہایت اہم ہے۔ جاحظ نے ان کی فصاحت و بلاغت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:

"إنه كان من أعاجيب الدنيا، وكانت فصاحته بالفارسية في وزن فصاحته بالعربية، وكان يجلس في مجلسه المشهور به، فيقعد العرب عن يمينه، والفرس عن يساره، فيقرأ الآية من كتاب الله، ويفسرها للعرب بالعربية، ثم يحول وجهه إلى الفرس فيفسرها لهم بالفارسية، فلا يدري بأي لسان هو أبين، واللغتان إذا التقتا في اللسان الواحد أدخلت كل واحدة منهما الضيم على صاحبتها، إلا ما ذكروا من لسان موسى بن سيار الأسواري، ولم يكن في هذه الأمة بعد أبي موسى الأشعري أقرأ في محراب من موسى بن سيار".

(وہ دنیا کے عجائبات میں سے ایک تھے۔ فارسی میں ان کی فصاحت عربی میں ان کی فصاحت کے برابر تھی۔ ان کی مشہور مجلس میں عرب ان کے دائیں طرف اور فارسی ان کے بائیں طرف بیٹھتے۔ وہ قرآن مجید کی ایک آیت پڑھتے اور عربوں کے لیے اس کی عربی میں تفسیر بیان کرتے، پھر فارسیوں کی طرف رخ کرتے اور اسی آیت کی فارسی میں وضاحت کرتے۔ یہ فیصلہ کرنا دشوار ہو جاتا کہ وہ کس زبان میں زیادہ فصیح ہیں۔ عام طور پر جب دو زبانیں ایک ہی شخص کی زبان پر جمع ہو جائیں تو ایک زبان دوسری کی فصاحت کو کمزور کر دیتی ہے، مگر موسیٰ بن سیار اسواری اس قاعدے سے مستثنیٰ تھے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں موسیٰ بن سیار سے بڑھ کر کسی شخص کو محراب میں قرآن پڑھنے کا ایسا عمدہ ملکہ حاصل نہ تھا)۔

جاحظ کی علمی تربیت صرف ان اساتذہ تک محدود نہیں رہی۔ وہ شعری نشستوں اور ادبی مجلسوں میں بھی جاتا، اہل ادب سے سیکھتا، ان کے ساتھ بیٹھتا اور بلاغت، ادب، شعر، زبان اور معرفت کے مختلف شعبوں پر ان سے گفتگو اور بحث کرتا۔ اس کی پیدائشی ذہانت، مضبوط حافظہ اور بیدار دماغ نے اس علمی سفر میں اس کی بھرپور مدد کی۔ اس کی بلند ہمتی اور غربت نے بھی اسے محنت، استقلال اور حصول علم کے لیے غیر معمولی قوت عطا کی۔

اس کے علاوہ اس کے زمانے کے واقعات، بدلتی ہوئی زندگی، تہذیب کی ترقی اور ترجمے کی تحریک نے بھی اس کے ذہن اور ثقافت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

جاحظ کی ثقافت کا ایک اور بڑا سرچشمہ اس کا وسیع مطالعہ تھا۔ وہ مطالعے میں اس قدر راسخ اور کتابوں کے بارے میں اس قدر وسیع النظر تھا کہ جو کتاب بھی اس کے ہاتھ لگتی، اسے ابتدا سے انتہا تک پڑھ ڈالنے کی کوشش کرتا۔ اس کے علمی مزاج کا ایک اور غیر معمولی پہلو یہ تھا کہ اس نے حقیقی زندگی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس میں گہرا اتر کر اس کے تجربات سے فائدہ اٹھایا اور پھر انہی مشاہدات کو اپنی ادبی تخلیقات کا موضوع بنا دیا۔ شاید اس سے پہلے یا اس کے ہم عصروں میں اس طرزِ استفادہ کی ایسی روشن مثال کم ہی ملتی ہے۔

۵۔ جاحظ کے اوصاف اور اخلاق:
جاحظ بغیر علم کے کوئی بات نہیں کہتا تھا اور بغیر دلیل و بصیرت کے کسی معاملے پر غور نہیں کرتا تھا۔ اس کی تحریروں سے اس کی یہ خصوصیت پوری طرح نمایاں ہوتی ہے۔ اہل ادب اس کی کتابوں کی طرف اسی طرح رخ کرتے تھے جیسے صحرائی لوگ سبزہ اگنے والی زمین اور بارش برسنے کی جگہوں کی طرف رخ کرتے ہیں۔ اس کی تصانیف سے وابستگی ذہنوں کو جِلا دیتی، دل کو آسودگی بخشتی، غم کو ہلکا کرتی اور ادب کو نکھارتی تھی۔ جاحظ کی کتابیں اس کے روشن اور بیدار ذہن کی بہترین شہادت ہیں۔ وہ نہایت تیز فہم، غیر معمولی ذہانت، مضبوط حافظے اور پختہ یادداشت کا مالک تھا۔ اس کی دلیل مخالف کو خاموش کر دیتی اور اس کا استدلال روشن اور قائل کرنے والا ہوتا۔

اس کی تصانیف کا گہرا مطالعہ کرنے والا اس کے مزاج کی ایک فطری خصوصیت، یعنی طنز، ظرافت اور ہنسی کی طرف اس کے رجحان کو بھی محسوس کرتا ہے۔ یہی مزاج زندگی کی بہت سی دشواریوں پر غالب آنے میں اس کے کام آیا۔ وہ زندگی کو کسی تاریک زاویے سے نہیں دیکھتا تھا کہ ہر طرف اداسی ہی اداسی نظر آئے اور انسان مایوسی اور لوگوں سے بیزاری میں مبتلا ہو جائے۔ اس کے برعکس وہ زندگی کو ایک روشن زاویے سے دیکھتا تھا، جس سے امید کی روشنی پھوٹتی تھی۔ وہ کام کی طرف بڑھتا تو اس کے سینے میں کامیابی کی امید روشن ہوتی۔

جاحظ اپنے وقت کی قدر و قیمت سے خوب واقف تھا۔ وہ اسے بے مقصد ضائع نہیں کرتا تھا اور صرف ایسے کاموں میں صرف کرتا جو اس کے لیے مفید ہوں۔ عمومی طور پر وہ نظم و ضبط پسند تھا اور بے ترتیبی سے دور رہتا تھا۔

اس کے اخلاق بھی نہایت پسندیدہ تھے۔ اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ فراخ دل اور کشادہ مزاج تھا۔ کبھی اس پر سخاوت کا جذبہ اس قدر غالب آ جاتا کہ مشکل اور تنگ دستی کے دنوں کے لیے جمع کیا ہوا مال بھی دوسروں پر خرچ کر دیتا، یہاں تک کہ خود خرچ سے محروم ہو جاتا۔ پھر ضرورت پڑتی تو کسی صاحبِ استطاعت شخص کے دروازے پر جاتا اور اس سے مدد حاصل کرتا۔

تاہم اس کی خود داری میں کوئی کمی نہ تھی۔ وہ ذلت کے مقامات سے اپنے آپ کو دور رکھتا اور کسی ایسی حالت میں پڑنا پسند نہ کرتا جس میں اس کی عزت نفس مجروح ہو۔

جاحظ نہ متشدد مزاج تھا اور نہ تارک دنیا زاہد۔ اسلام نے اس پر جو فرائض اور واجبات عائد کیے تھے، وہ انہیں ادا کرتا تھا، لیکن اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایسے کاموں میں صرف کرتا جن سے مسلمانوں کا مقام بلند ہو۔ وہ لوگوں کو ایک بافضیلت زندگی کی دعوت دیتا اور انہیں اپنے دین اور دنیا دونوں سے محبت کی ترغیب دیتا، تاکہ وہ اخلاقی طور پر مضبوط اور باعزت امت بن سکیں۔

اس کا خیال تھا کہ اقتدار اور دولت رکھنے والوں کی خوش حالی ان کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے یا دنیا کے فانی اسباب اسے ختم کر دیتے ہیں، جب کہ نیک عمل وہ اثر ہے جو انسان کے بعد بھی زمانے پر باقی رہتا ہے۔ اسی لیے وہ اپنے کام کو پوری مہارت اور اخلاص سے انجام دیتا اور اس سے وہی نتیجہ حاصل کرنا چاہتا جو دنیا میں بھی نفع دے اور آخرت میں بھی کام آئے۔

جاحظ کی نمایاں خصوصیات میں اس کی خود اعتمادی اور اپنی قوتِ عمل پر بھروسا بھی شامل تھا۔ اسی نے اسے وہ بلند مقام عطا کیا جس کے باعث اس کی شہرت ہر طبقے تک پہنچی۔ یہاں تک کہ معزز ہو یا عام آدمی، ہر شخص چاہتا تھا کہ اس کی مجلس میں بیٹھے، اس سے علم حاصل کرے یا اس کے علمی سلسلے سے وابستہ ہو۔

جاحظ نے کم عمری ہی سے اپنے معاملات میں دوسروں پر انحصار نہیں کیا۔ اس نے اپنی زندگی کا بوجھ خود اٹھایا اور کسی واسطے یا سفارش کا محتاج بننا پسند نہیں کیا۔ اسی وجہ سے اسے سفارش اور اقربا پروری سے سخت نفرت تھی۔ جو لوگ کسی ایسے معاملے میں اس کے پاس واسطہ یا سفارش لے کر آتے جس پر وہ غصے میں آ سکتا تھا، ان کے ساتھ بھی وہ اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں معاملہ کرتا۔

ایک مرتبہ کسی شخص نے جاحظ سے کہا کہ وہ اس کے ایک دوست کے نام سفارش کے طور پر خط لکھ دے۔ جاحظ نے ایک رقعہ لکھ کر اسے بند کر دیا۔ وہ شخص جب جاحظ کے پاس سے نکلا تو اس نے رقعہ کھولا۔ اس میں لکھا تھا:

"كتابي إليك مع من لا أعرفه ولا أوجب حقه، فإن قضيت حاجته لم أحمدك، وإن رددته لم أذمك". (یہ میرا خط ایک ایسے شخص کے ہاتھ بھیج رہا ہوں جسے میں نہیں جانتا اور نہ اس کا مجھ پر کوئی حق ہے۔ اگر تم اس کی حاجت پوری کر دو گے تو میں تمہاری تعریف نہیں کروں گا، اور اگر اسے واپس کر دو گے تو میں تمہیں برا نہیں کہوں گا۔)

جاحظ اتنی شہرت اور عظمت حاصل کرنے کے باوجود تکبر سے بہت دور تھا۔ وہ خود کو بڑائی کے طور طریقوں سے الگ رکھتا تھا۔ اس کے بارے میں کہا گیا ہے:

"تراه وهو العربي القح في جميع منازعه، لم تستهوه حكمة اليونان والهند وفارس، وما امتلكت قلبه غير حكمة العرب، وهدايتهم وأدبهم، ومع هذا يأخذ ممن سبق ولحق، وعمن وافق وخالف؛ لا ينبو نظره عن شيء، ولا ترذل نفسه حقيراً". (تم اسے دیکھو تو ہر معاملے میں خالص عرب نظر آئے گا۔ یونان، ہندوستان اور فارس کی حکمت نے اسے اپنے سحر میں مبتلا نہیں کیا۔ اس کے دل کو اگر کسی چیز نے پوری طرح اپنا گرویدہ بنایا تو وہ عربوں کی حکمت، ان کی ہدایت اور ان کا ادب تھا۔ اس کے باوجود وہ اپنے سے پہلے اور بعد کے لوگوں سے، اپنے موافقوں اور مخالفوں سب سے علم لیتا تھا۔ اس کی نگاہ کسی چیز کو نظر انداز نہیں کرتی تھی اور وہ کسی معمولی سمجھی جانے والی چیز کو حقیر جان کر چھوڑ نہیں دیتا تھا)۔

اس کی علمی شہرت نے اسے غرور میں مبتلا نہیں کیا تھا، نہ وہ مصنوعی طور پر تواضع اور خشوع کا مظاہرہ کرتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ کمزور لوگوں کی مدد کرے تاکہ وہ مضبوط ہو جائیں اور جاہلوں کی رہنمائی کرے تاکہ وہ علم حاصل کر سکیں۔ وہ بڑے لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتا، لیکن اپنی عزت نفس کو مجروح کیے بغیر، اور ان سے سخت کلامی سے اس لیے گریز کرتا کہ ان کے شر اور سرکشی سے محفوظ رہے۔ بدکار لوگوں کے ساتھ بھی وہ کبھی فطری حلم اور کبھی شعوری ضبط کے ذریعے نرمی کا معاملہ کرتا تھا۔

۵۔ مرض اور وفات: جاحظ نے نوّے برس سے بھی زیادہ عمر پائی۔ اس طویل زندگی کا بیشتر حصہ علم حاصل کرنے اور ایسی عمدہ کتابیں تصنیف کرنے میں گزرا جو آج بھی کتب خانوں اور علمی ذخائر کی زینت ہیں۔ یہ وہ نادر موتیاں ہیں جنہیں نایاب علمی جواہر کے متلاشی بڑی بے تابی سے جمع کرتے ہیں اور علم کے شیدائی انہیں حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ جاحظ کی زندگی ہمیشہ شدید غربت، ناقص غذا اور سادہ و بے آرام زندگی تک محدود نہیں رہی۔ وقت کے ساتھ ان کے رہن سہن اور ظاہری حالات میں بھی نمایاں تبدیلی آئی۔ علم نے جاحظ کو خاک سے اٹھا کر آسمان تک پہنچا دیا۔ وہ اس غربت اور تنگ دستی سے نکل آئے جس کے کھردرے گہوارے میں ان کی پرورش ہوئی تھی اور جس کے تنگ صحن میں انہوں نے زندگی کے ابتدائی قدم اٹھائے تھے۔ اب وہ خلفا کے ہم نشین تھے۔ ان کی مجلسوں میں ریاست کے بڑے بڑے اہلِ منصب اور معززین شریک ہوتے تھے۔ جاحظ سرسبز میدانوں اور پھولوں سے لدے باغوں کے درمیان گھومتے رہے۔ بادشاہ ان کی محبت حاصل کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے اور وزرا ان کی خوشنودی کے لیے کوشاں رہتے۔ مگر آخرکار بیماری نے انہیں آ لیا اور اس قدر شدید صورت اختیار کر گئی کہ طبیب بھی اس کے علاج سے مایوس ہو گیا۔

ابو عثمان جاحظ فالج میں مبتلا ہوئے۔ انہوں نے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور صرف چند افراد سے ملتے۔ اپنی قسمت سے بھی شاکی رہنے لگے۔ ان دشوار برسوں میں جب وہ بصرہ میں مقیم تھے، قلم ان کا مستقل ساتھی رہا۔ وہ اسی کے ذریعے اپنی بیماری، مصیبت اور دوستوں کی بے وفائی کا مقابلہ کرتے رہے۔

اپنی کتاب الحیوان کے مقدمے میں انہوں نے اپنی کمزوری اور بیماری کا ذکر کرتے ہوئے کتاب کے بعض ابواب میں اضطراب کے لیے معذرت کی اور لکھا:

«وقد صادف هذا الكتاب مني حالات تمنع من بلوغ الإرادة فيه، أولى ذلك العلة الشديدة، والثانية قلة الأعوان، والثالثة طول الكتاب».

یعنی اس کتاب کی تکمیل کے دوران مجھے ایسے حالات پیش آئے جنہوں نے میری پوری خواہش کے مطابق اسے مکمل کرنے میں رکاوٹ ڈالی۔ ان میں سب سے پہلی شدید بیماری تھی، دوسری مددگاروں کی کمی اور تیسری خود کتاب کی طوالت۔

روایت ہے کہ طبیب ابو معاذ عبدان الخولی ایک دن "سرّ من رأی" میں عمرو بن بحر جاحظ کی عیادت کے لیے گئے۔ اس وقت جاحظ فالج زدہ تھے۔ ابھی طبیب ان کے پاس بیٹھا ہی تھا کہ متوکل کا ایک قاصد آیا اور جاحظ کو تلاش کرنے لگا۔ جاحظ نے کہا:

«وما يصنع أمير المؤمنين بشق مائل ولعاب سائل».

امیر المؤمنین ایک ایسے شخص کو کیا کریں گے جس کا آدھا جسم ٹیڑھا ہو چکا ہے اور منہ سے رال بہتی ہے؟

پھر انہوں نے حاضرین کی طرف رخ کیا اور کہا:تم ایسے شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو جس کے جسم کا ایک حصہ ایسا ہو کہ اگر سوئی بھی چبھو دی جائے تو اسے احساس نہ ہو، اور دوسرا حصہ ایسا ہو کہ اس کے قریب سے مکھی گزر جائے تو بھی وہ درد سے تڑپ اٹھے؟ میری سب سے بڑی شکایت تو یہ اسی برس کی عمر ہے۔

اس کے بعد انہوں نے عوف بن محلم الخزاعی کے قصیدے کے چند اشعار سنائے، جس کا مطلع یہ ہے:

يا ابنَ الذي دانَ له المشرقانِ طُرًّا

وقد دانَ له المغربانِ

إنَّ الثمانينَ وبلَّغتَها

قد أحوجتْ سمعي إلى ترجمانِ

یعنی اے اس شخص کے بیٹے جس کے سامنے مشرق کے دونوں کنارے جھک گئے اور مغرب کے دونوں حصے بھی اس کے زیر نگیں آ گئے، جب انسان اسّی برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس کے کانوں کو بات سمجھنے کے لیے ترجمان کی ضرورت پڑنے لگتی ہے۔

جاحظ کے رشتہ دار یموت بن المزرع نے بھی بیان کیا ہے کہ جس سال متوکل قتل ہوا، اسی سال اس نے حکم دیا کہ جاحظ کو بصرہ سے اس کے پاس لایا جائے۔ جو شخص اسے لانے کے لیے مقرر ہوا، اس سے جاحظ نے کہا:

«وما يصنع أمير المؤمنين بامرئ ليس بطائل، ذي شق مائل، ولعاب سائل، وفرج بائل، وعقل حائل؟»

(امیر المؤمنین ایسے شخص کو کیا کریں گے جس کی حالت اب کسی کام کی نہیں، جس کا ایک پہلو ٹیڑھا ہے، منہ سے رال بہتی ہے، جسمانی قوت جواب دے چکی ہے اور عقل بھی ماند پڑ گئی ہے؟)

ان کے شاگرد مبرد نے بھی بیان کیا کہ جاحظ کی زندگی کے آخری ایام میں وہ ان سے ملنے گئے۔ میں نے پوچھا: آپ کیسے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا:میرا حال کیا ہو سکتا ہے؟ میرا آدھا جسم فالج زدہ ہے، اگر اسے آروں سے بھی کاٹ دیا جائے تو اسے احساس نہیں ہوگا، اور دوسرا آدھا نقرس میں مبتلا ہے، اگر مکھی اس کے قریب سے اڑ جائے تو بھی مجھے درد محسوس ہوتا ہے۔ اور ان سب سے بڑھ کر یہ بڑھاپا اور چھیانوے برس کی عمر ہے جس میں میں گرفتار ہوں۔

پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے:

أترجو أن تكون وأنت شيخٌ

كما قد كنت أيامَ الشبابِ؟

لقد كذبتكَ نفسُكَ ليس ثوبٌ

دريسٌ كالجديدِ من الثيابِ

یعنی کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ بڑھاپے میں بھی وہی رہو گے جو جوانی کے دنوں میں تھے؟ تمہاری اپنی خواہش نے تمہیں دھوکا دیا ہے۔ پرانا اور گھس چکا لباس کبھی نئے لباس جیسا نہیں ہو سکتا۔

ایک طبیب سے اپنی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا:«اصطلحت الأضداد على جسدي، إن أكلت بارداً أخذ برجلي، وإن أكلت حاراً أخذ برأسي».

میرے جسم کے خلاف متضاد چیزوں نے اتحاد کر لیا ہے۔ اگر ٹھنڈی چیز کھاؤں تو بیماری میرے پاؤں کو پکڑ لیتی ہے اور اگر گرم چیز کھاؤں تو میرے سر کو آ لیتی ہے۔

اس کے باوجود جاحظ بیماری کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے اپنے آپ کو سنبھالتے رہے اور مسلسل لکھتے رہے۔ گویا لکھنے کی سرد ہوائیں انہیں بیماری کی آگ اور اس کی اذیت سے فرار کا راستہ فراہم کرتی تھیں۔ یہ بات اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ وہ جسمانی قوت، اعصابی مضبوطی، ذہنی حاضر جوابی اور عقلی توانائی کے اعتبار سے غیر معمولی شخصیت تھے۔

آخرکار محرم سنہ ۲۵۵ھ کے ایک دن جاحظ نے وفات پائی۔ روایت ہے کہ وہ تنہا اپنی اس کتابوں سے بھری ہوئی لائبریری کی طرف بڑھے جہاں کتابوں کے ڈھیر ہر طرف جمع تھے۔ اچانک کتابوں کی بھاری جلدیں ان پر آ گریں اور وہ انہی کتابوں کے نیچے دب کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی عادت تھی کہ کتابوں کو اپنے گرد دیوار کی طرح کھڑا کر لیتے اور انہی کے درمیان بیٹھ کر مطالعہ کرتے تھے۔بصرہ نے اپنے اس عظیم فرزند کا جنازہ اٹھایا۔ شہر غم میں ڈوب گیا، آنکھیں اشک بار ہوئیں اور لوگ روئے۔ زمین نے جاحظ کے جسم کو اپنے اندر چھپا لیا، مگر ان کا ذکر آج بھی ہر زبان پر جاری ہے اور ان کا ادب آج بھی ہر حساس دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

کالم نگار : حنظلہ خلیق
| | |
66