وہ تنہا اپنی اس کتابوں سے بھری ہوئی لائبریری کی طرف بڑھے جہاں کتابوں کے ڈھیر ہر طرف جمع تھے۔ اچانک کتابوں کی بھاری جلدیں ان پر آ گریں اور وہ انہی کتابوں کے نیچے دب کر دنیا سے رخصت ہو گئے.
حنظلہ خلیق
کتابوں کے نیچے دب کر مرنے والا یہ آدمی دراصل ساری عمر کتابوں کے نیچے ہی جیتا رہا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ زندگی میں کتابیں اس پر سایہ کرتی تھیں اور موت کے وقت وہ سایہ مٹی کا پردہ بن گیا۔
حنظلہ خلیق