(+92) 319 4080233
کالم نگار

حنظلہ خلیق

حنظلہ خلیق

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/20
موضوعات
اس کاجینامرنا کتابوں کے ساتھ تھا
سال 265 ہجری / 869 عیسوی کی ایک تاریک شب ہے ،بصرہ شہر کی ساری گلیاں اور راہیں سنسان ہیں۔پہرہ دار سردی کی شدت سے غائب ہو چکے ہیں ، مرکزی فصیل کے کمرے میں کچھ مشعلیں جلتی محسوس ہوتی ہیں۔ ایک شخص راستے کے کیچڑ سے اپنا لباس سمیٹتے ایک تنگ گلی میں داخل ہوتا ہے اور چند قدم چل کر ایک چھوٹے سے مکان پر دستک دیتا ہے ،وہ مکان گھر کم اور سرائے زیادہ لگ رہا ہے ۔ ایک حبشی لونڈی دروازہ کھولتی ہے ، زائر کا نام و غرض سن کر وہ اس کو چراغ کی روشنی میں اندر خوابگاہ تک چھوڑ دیتی ہے ۔

خوابگاہ ایک چوکور کمرہ ہے جہاں زمین سے لے کر چھت تک کتابوں اور کاغذ کے ڈھیر ہیں ، کوئی الماری یا زینت کا سامان نہیں ہے ،ایسا لگتا ہے گویا یہ کمرہ بوسیدہ کتابوں اور کاتبوں کی نقلوں اور تختیوں سے مل کر بنا ہے ۔ بستر پر ایک پچانوے سال کا بوڑھا اور کمزور سا شخص لیٹا ہے ۔ اس کا آدھا جسم فالج کے زیر اثر ہے پر اس کی آنکھیں حیرت انگیز طور پر بالکل ننھی سی اور تروتاز ہیں جیسے کسی بچے کی ہوں۔ وہ حرکت کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے بستر کے پاس کچھ جلتے ہوئے کوئلے ،صندل اور شہد پڑا ہے۔ ساتھ ہی بڑے لوٹے میں گرم پانی ہے جو اس کی حبشی لونڈی اس کی اجابت (پیشاپ پاخانہ) کے لیے سر شام ہی گرم کر لیتی ہے۔سرہانے کے نیچے ایک پتھر کے پیالے میں لبّان ( بھیڑ کے دودھ سے بنا حلوہ) بھی پڑا ہے،جس کو وہ بوڑھا شخص کئی دن سے کھانے کا ارادہ رکھتا ہے مگر ہاضمے سے عاجز ہے۔ مہمان کو دیکھ کر وہ ہلکا سا خوش ہوتا ہے ، اور ہلے بغیر اپنے دائیں ہاتھ سے لبان کا پیالہ آنے والے شخص کو دے دیتا ہے۔ کھاتے کھاتے وہ اس کی طبیعت بارے پوچھتا ہے بوڑھا شخص مزاحیہ انداز میں کہتا ہے :

"میرے جسم کا آدھا حصہ مفلوج ہے اگر تم اسے دشتے سے کاٹ بھی دو تو محسوس نہ ہو گا ،اور آدھا حصہ بیماری کی شدت اور بے حرکت رہنے سے اتنا ذکی الحس ہو چکا ہے کہ اگر مکھی بھی بیٹھے تو میں مرنے لگتا ہوں ". مزید کچھ دیر بیٹھ کر وہ زائر جو اسی شہر بصرہ کا ہی رہائشی ہے اس بوڑھے ناتواں مریض کی صحت اور عافیت کی دعا کرتے لوٹ جاتا ہے۔

رات کافی بیت چکی ہے ،وہ بوڑھا شخص اپنے جسم پر ایک نظر ڈالتا ہے ، اپنی زندگی کا گزرا وقت یاد کرتا ہے ،اس کو کوئی دوست اور عزیز یاد نہیں آتے۔اس کا باپ بچپن میں ہی مر گیا تھا ، ماں بھی جوانی سے پہلے خدا کے حضور جا چکی تھی ،نہ کوئی بھائی نہ ہمشیر ، اس نے شادی بھی نہ کی ،بلکہ حقیقت یہ تھی کسی نے ہی اس سے شادی نہ کی ، عمر بڑھی تو اس کے ادب و فن کی قدر ہوئی، پاس کچھ مال آیا ، بصرہ شہر سے ہی ایک حبشی لونڈی اس کو بھائی اور اس نے خرید لی۔ جب وہ اس سے جماع کرتا تو بہت روتا ۔ وہ لونڈی اسے عجیب شخص خیال کرتی ۔ سنجیدہ عمر کو پہنچ کر اس کے گھر میں صرف دو ہی شخص تھے ، ایک لونڈی اور ایک کاتب جس سے وہ لکھواتا ۔ جسمانی لذت کا اصل عہد اس نے تنہا گزارا تھا،اب اسے کوئی حاجت نہ تھی ،وہ لونڈی سے زیادہ گھر کی ہی خدمت لیتا۔ اس کے گھر میں سب سے زیادہ کتابیں اور مخطوطات تھے ،ہاتھ کی لکھی کاتبوں کی نقلیں تھیں ، اس کی بچپن سے مرقوم یادداشتیں تھیں اور روشنائی کی بوتلوں کا انبار تھا ۔ آدھی صدی سے زیادہ اس کا رابطہ صرف کتاب اور کتاب والوں کے ساتھ تھا۔

لیٹے لیٹے اسے اپنا بچپن یاد آتا ہے ، وہ مچھلی بیچا کرتا تھا اور رات گئے تک پڑھتا تھا ، اس کو ایک حیرت انگیز بات یاد آئی۔ بصرہ میں ایک بار باجة ( پرتگال کا تاریخی شہر جو مسلم حکومت کا حصہ تھا) کے کسی گاؤں سے ایک دیہاتی آیا تھا ، وہ اپنے علاقے کی ایک عجیب بات بتاتا تھا کہ وہاں کے جگنو مسلسل چمکتے ہیں ،لوگ اسے جھوٹا سمجھتے تھے ، بوڑھے شخص کو یاد آیا کہ اس نے اس دیہاتی کے شہر کا نام اور یہ بات اپنے قلمی نسخوں میں معمول کے مطابق لکھی تھی ،بعد میں اس بوڑھے ادیب نے اپنی تصنیف " کتاب الحیوان"میں بھی باجہ کے اس دیہاتی کا ذکر جگنوؤں کی اس حیران کن قسم کے ساتھ کیا تھا جو توقف کے بغیر مانند شرر مسلسل چمکتے تھے۔سوچتے سوچتے اشتیاق میں وہ اپنے قلمی مخطوطات کو دیکھنے لگا۔ چراغ کی روشنی میں اس کو تلاش میں مدد تو مل رہی تھی مگر جسم کی قوت ختم ہو چکی تھی اور حرکت ضعف سے پُر تھی۔اس کو یاد نہیں تھا کہ لڑکپن کا وہ مخطوطہ کہاں ہے ،کئی دہائیوں سے اس نے وہ دیکھا نہ تھا ۔ آخر بڑھتے بڑھتے وہ زمینی سطح سے قلمی نسخے کھینچنے لگا ، اس کو ایک خطرناک چیز کا احساس نہ تھا کہ بار بار زمین سے لگے کاغذ اور کتابیں ہٹانے سے اوپر والی کتابیں جو بڑی بڑی جلدوں اور بھاری چھالوں سے مزین تھیں ان کے ستون لڑکھڑا رہے ہیں۔کتابوں کا انبار پورے کمرے میں پھیلا تھا اور چھت کو چھو رہا تھا۔ وہ اپنی دھن میں بار بار زمین کی سطح پر پڑے کاغذ کجینچ لیتا کیونکہ اوپر کھڑے ہو کر جانچنا اس کے بس میں نہ تھا۔لونڈی کو بلانے کا بھی کوئی فائدہ نہ تھا ،اسے بھی اصل جگہ کہاں معلوم ہوتی۔ یکایک ایک زناٹے دار شور ہوا اور وہ مفلوج بوڑھا نظر سے اوجھل ہو گیا، اس کے جسم کے اوپر طول میں جڑیں ہزاروں کتابیں اور بوسیدہ جلدیں ایک ہی لمحے میں آن پڑیں اور عرض میں ایک ڈھیر بن گیا ، ان بھاری جلدوں کے نیچے سے وہ دوبارہ کبھی نہ اٹھ سکا اور نہ اس کی مدد کی آواز لونڈی تک پہنچ سکی۔اس کو ایک خوشی ضرور تھی اس آخری اذیت میں ، کہ جن کتابوں کے ساتھ اس کی زندگی شروع ہوئی، ان کے ساتھ ہی ختم ہو رہی ہے ،اس کو کتابوں سے کوئی شکایت نہیں ،نہ ان کے بوجھ اور سانس کی بندش پر گلہ ہے۔وہ اس طویل تنہا زندگی میں خود کو زندہ رکھنے پر ان کاغذ کے ٹکڑوں اور قلم کی سیاہی سے بنے پیکروں کی وفا کو سلام پیش کرتا ہے۔وہ گویا اپنی محبوبہ کی آغوش میں ہی اس دنیا سے جا رہا ہے۔

اگلے سورج سے پہلے پہلے ، ہزاروں کتابوں کے نیچے بے روح پڑا یا بوڑھا اور مفلوج انسان عربی ادب کا عظیم نثر نگار ، مفکر ،فلسفی، مؤرخ ،ادیب اور ماہر حیاتیات " ابو عثمان عمرو بن بحر الجاحظ" تھا ، اور اس رات کے پہلے پہر جو شخص اس کی ملاقات کو آیا وہ اس کا بصرے کا ہی ایک دوست ماہر لغت اور ادیب " المُبَرَّد٘" تھا جو لغت کی معروف کتاب اور مآخذ "الکامل" کا مؤلف بھی ہے ۔

کتابوں کے نیچے دب کر مرنے والا یہ آدمی دراصل ساری عمر کتابوں کے نیچے ہی جیتا رہا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ زندگی میں کتابیں اس پر سایہ کرتی تھیں اور موت کے وقت وہ سایہ مٹی کا پردہ بن گیا۔ اس کے لیے کتاب کوئی بے جان شے نہ تھی جسے پڑھ کر بند کر دیا جائے، نہ وہ علم کا کوئی ایسا صندوق تھی جس میں معلومات جمع کی جائیں اور ضرورت کے وقت کھول لی جائیں۔ کتاب اس کی صحبت تھی، اس کی مجلس تھی، اس کی خلوت تھی، اس کی گفتگو تھی۔ لوگ اپنے دوستوں کے چہرے یاد رکھتے ہیں، جاحظ کتابوں کے ورق یاد رکھتا تھا۔ لوگ اپنے شہر کی گلیوں، بازاروں اور مکانوں میں اپنے ماضی کی نشانیاں تلاش کرتے ہیں، وہ کسی پرانے نسخے کے حاشیے میں اپنی گزری ہوئی عمر کا کوئی ٹکڑا ڈھونڈ لیتا تھا۔

کتاب سے اس کی محبت کا انداز بھی عام اہلِ علم جیسا نہ تھا۔ وہ کتاب کو صرف پڑھتا نہیں تھا، اسے چھوتا، الٹتا پلٹتا، اس کے حاشیوں میں اترتا، اس سے سوال کرتا، اس کے جواب سے اختلاف کرتا، ایک کتاب کی بات کو دوسری کتاب کے سامنے رکھتا، پھر کسی مجلس میں سنی ہوئی بات کو اس کے ساتھ ملا دیتا۔ یوں اس کے ذہن میں علم ایک سیدھی لکیر کی طرح نہیں چلتا تھا بلکہ بازار کی طرح آباد رہتا تھا؛ کہیں لغت فروش آواز لگا رہا ہے، کہیں کوئی بدوی اپنی عجیب بات سنا رہا ہے، کہیں کاتب قلم تراش رہا ہے، کہیں کسی کتاب سے عبارت نقل ہو رہی ہے، کہیں کوئی نحوی لفظ کے ایک حرف پر رک گیا ہے اور کہیں جاحظ خود کسی معمولی سی چیز میں پوری کائنات کا راز تلاش کر رہا ہے۔ اسی لیے اس کی کتابیں صرف کتابیں نہیں، اس کے زمانے کی آوازیں ہیں۔ جاحظ کی نثر کو پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف میز پر بیٹھا ہوا ایک بند کمرے میں نہیں لکھ رہا بلکہ قاری کو ساتھ لے کر بصرہ کی گلیوں، بغداد کے بازاروں، اہلِ علم کی مجلسوں، بدویوں کے خیموں، مچھلی فروشوں کی دکانوں اور کتابوں کے انبار کے درمیان گھما رہا ہے۔ وہ ایک خیال سے دوسرے خیال کی طرف اس طرح مڑتا ہے جیسے کسی محفل میں ایک شخص نے بات شروع کی ہو اور دوسرے نے درمیان میں کوئی قصہ چھیڑ دیا ہو۔ پھر جاحظ اس قصے کو بھی پکڑ لیتا ہے، اس میں سے ایک نکتہ نکالتا ہے، اس نکتے سے ایک سوال پیدا کرتا ہے اور سوال کو کسی اور علم کے دروازے تک لے جاتا ہے۔ یہی اس کی نثر کا جادو ہے۔ اس نے کتاب کو زندگی سے الگ نہیں کیا۔ اس کے ہاں علم خشک کاغذ پر پڑی ہوئی چیز نہیں بلکہ چلتی پھرتی مخلوق ہے۔ حیوانات پر لکھتا ہے تو جانور محض حیاتیاتی موضوع نہیں رہتے؛ ان کے ساتھ انسان، عادت، معاشرہ، زبان، اخلاق اور عقل سب گفتگو میں شامل ہو جاتے ہیں۔ بخیلوں پر لکھتا ہے تو چند کنجوس آدمیوں کا تذکرہ نہیں کرتا بلکہ انسانی طبیعت کے ایک عجیب گوشے کو کھول دیتا ہے۔ بیان و تبیین میں زبان کے مسائل بیان کرتا ہے تو اچانک کسی خطیب، شاعر، بدوی یا عام آدمی کی گفتگو میں پہنچ جاتا ہے۔ یوں اس کی کتابیں ایک ہی وقت میں لغت بھی ہیں، سماج بھی، تاریخ بھی، مشاہدہ بھی اور ادبی مجلس بھی۔جاحظ کے نزدیک کتاب کا شرف شاید یہی تھا کہ وہ انسان کو انسانوں کی ایک وسیع تر دنیا سے ملا دیتی ہے۔ اسی نسبت سے اس سے منسوب یہ قول اس کے مزاج کا آئینہ دکھاتا ہے:

«الكتبُ تجمعُ من كلِّ فنٍّ طرفًا، ومن كلِّ علمٍ شيئًا.»

(کتابیں ہر فن سے ایک حصہ اور ہر علم سے کچھ نہ کچھ اپنے اندر جمع کر لیتی ہیں)۔

اور اسی لیے اس کے نزدیک کتاب جمع کرنا محض ذخیرہ اندوزی نہیں تھا۔ کتابیں جمع کرنا دراصل دنیا جمع کرنا تھا۔ ایک کتاب میں ایک شخص بول رہا تھا، دوسری میں ایک صدی، تیسری میں ایک شہر، چوتھی میں کسی گم شدہ قوم کی آواز۔ ایک مخطوطہ کھولتے ہی ایک ایسا آدمی سامنے آ جاتا جسے صدیوں پہلے موت آ چکی تھی مگر اس کی زبان ابھی زندہ تھی۔ جاحظ کے لیے شاید اس سے بڑی رفاقت اور کیا ہوتی کہ مردے بول سکتے تھے اور وہ انہیں سن سکتا تھا۔ وہ کتابوں کے ذریعے ان لوگوں سے بات کرتا تھا جن سے ملاقات اس کے لیے ممکن نہ تھی۔ اسی لیے اس کی زندگی میں کتاب اور کتاب والا دونوں اہم تھے۔ وہ صرف کتابیں خریدنے والا شخص نہ تھا، وہ کتابوں کے گرد آباد ایک پورے انسانی معاشرے کا آدمی تھا۔ کاتب اس کی زندگی کا ایک اہم کردار تھا۔ جس زمانے میں ایک کتاب حاصل کرنا آج کی طرح محض چند لمحوں کا کام نہ تھا، جب ایک نسخہ کسی کاتب کے ہاتھ سے حرف بہ حرف وجود میں آتا تھا، جب ایک کتاب کی نقل میں دن، ہفتے اور مہینے صرف ہو سکتے تھے، اس زمانے کا کتاب دوست آدمی کتاب خریدتا ہی نہیں تھا، اسے بنواتا تھا۔ ایک کاتب بیٹھا ہے، سامنے کاغذ ہے، روشنائی ہے، قلم ہے؛ جاحظ بول رہا ہے، عبارت سامنے ہے، کبھی رک کر لفظ دیکھتا ہے، کبھی کسی مقام پر حاشیہ بڑھاتا ہے، کبھی کسی دوسری کتاب سے عبارت منگواتا ہے۔ ایک کتاب سے دوسری کتاب تک، ایک شخص سے دوسرے شخص تک، ایک مجلس سے دوسری مجلس تک علم سفر کرتا رہتا ہے۔ یوں جاحظ کی تصنیف صرف اس کی اپنی یادداشت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پورے علمی ماحول کی مشترکہ حرکت بن جاتی ہے۔ وہ علم کو شکار کی طرح پکڑتا تھا۔ کبھی کسی شخص کی گفتگو سے ایک جملہ اس کے ہاتھ آ جاتا، کبھی کسی اعرابی کی زبان سے ایسا لفظ نکلتا جو لغت کے کسی گوشے میں نہ ملتا، کبھی کسی کتاب میں ایک مختصر سا واقعہ پڑھ کر وہ اسے ذہن میں رکھ لیتا، کبھی کسی مجلس میں سنی ہوئی بات کو گھر آ کر لکھوا لیتا۔ اس کے لیے معمولی اور غیر معمولی کے درمیان وہ دیوار نہیں تھی جو عام آدمی کے ذہن میں ہوتی ہے۔ وہ جانتا تھا کہ بڑی باتیں کبھی کبھی معمولی چیزوں کے اندر چھپی رہتی ہیں۔

اس کی سب سے بڑی کتاب «کتاب الحیوان» کو محض جانوروں کی کتاب سمجھنا جاحظ کے مزاج کو نہ سمجھنا ہے۔ اس کتاب میں حیوان تو بہانہ ہے اصل موضوع تو زندگی ہے ۔ وہ جانور کو دیکھتا ہے تو انسان تک پہنچتا ہے، جانور کی عادت بیان کرتا ہے تو انسانی عادت کا کوئی دروازہ کھول دیتا ہے، کسی مخلوق کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے مشاہدے، عقل، تجربے اور روایت کو ایک ہی جگہ لا کھڑا کرتا ہے۔ اس کتاب میں اس کی حیرت بھی ہے اور اس کا شک بھی، روایت بھی ہے اور مشاہدہ بھی، قصہ بھی ہے اور استدلال بھی۔

وہ لکھتا ہے:«والحيوانُ في الأرضِ على اختلافِ أجناسِه وأصنافِه، إنما هو آيةٌ لمن تدبّر، وعبرةٌ لمن تفكّر.»

(زمین پر حیوانات اپنی مختلف جنسوں اور قسموں کے ساتھ اس شخص کے لیے نشانی ہیں جو غور کرے، اور اس کے لیے عبرت ہیں جو سوچے)۔

یہ جملہ جاحظ کے پورے ذہنی مزاج کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ اس کے لیے دنیا ایک کھلی ہوئی کتاب تھی۔ پھر کتاب خود ایک دوسری دنیا تھی۔ وہ پہلے دنیا کو پڑھتا تھا، پھر دنیا کے پڑھے ہوئے حروف کو کتاب میں محفوظ کرتا تھا۔ شاید اسی لیے اس کے ہاں مشاہدہ اور مطالعہ ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اس نے صرف کتابوں سے نہیں سیکھا، لوگوں سے بھی سیکھا؛ اور لوگوں کو بھی اس نے کتاب بنا لیا۔

بصرہ اس کا وطن ہی نہ تھا بلکہ وہ ایک زندہ درس گاہ تھا۔ وہاں زبانیں تھیں، لہجے تھے، قبائل سے آئے ہوئے لوگ تھے، اہلِ کلام تھے، نحوی تھے، ادیب تھے، شعرا تھے، قصہ گو تھے، تاجر تھے، ملاح تھے، فقہا تھے، عام لوگ تھے۔ جاحظ اس پورے ہجوم میں اپنے لیے علم کے ٹکڑے تلاش کرتا تھا۔ اسے کسی چیز کے عالم ہونے سے زیادہ اس بات میں دلچسپی تھی کہ وہ چیز اسے کیا بتا سکتی ہے۔ اس کے دوستوں اور معاصر اہلِ علم کی دنیا بھی اسی لیے غیر معمولی تھی۔ مبرد جیسے اہلِ لغت و ادب، نحویوں اور متکلمین کی مجلسیں، شعرا کی گفتگو، اہلِ روایت کی خبریں ، یہ سب اس کے ذہن کے لیے خام مواد تھا۔ وہ محفل میں صرف بیٹھنے والا آدمی نہیں تھا؛ وہ محفل کو اپنے اندر جمع کرتا تھا۔کسی شخص نے شاید ایک معمولی واقعہ سنایا، کسی نے ایک لفظ کی اصل بتائی، کسی نے ایک شعر پڑھا، کسی نے کسی بادشاہ کی مجلس کا قصہ بیان کیا؛ جاحظ کے ذہن میں سب کچھ محفوظ ہونے لگا۔ اس کے بعد جب وہ گھر لوٹا تو محفل ختم نہیں ہوئی۔ محفل کاغذ پر منتقل ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی کتابیں پڑھتے ہوئے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کے کمرے میں بہت سے لوگ بیٹھے ہیں۔ ایک بول رہا ہے، دوسرا اعتراض کر رہا ہے، تیسرا ہنس رہا ہے، چوتھا کوئی پرانی روایت سنا رہا ہے اور جاحظ سب کے درمیان بیٹھا ہوا اپنے مخصوص انداز میں گفتگو کو ایک نئی سمت دے رہا ہے۔ اس کی نثر میں یہ مجلس کبھی ختم نہیں ہوتی۔

کتاب سے جاحظ کی محبت کا ایک اور عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ کتاب کو احترام کی ایسی مقدس چیز نہیں بناتا جسے چھو کر آدمی صرف عقیدت سے سر جھکا دے۔ وہ اس سے بحث کرتا ہے۔ اسے کھولتا ہے تو اس کے مصنف سے سوال بھی کرتا ہے۔ کہیں روایت نقل کرتا ہے، کہیں اس پر تبصرہ کرتا ہے، کہیں ایک بات کے ساتھ دوسری بات رکھ دیتا ہے اور کہیں اپنے تجربے کو سامنے لے آتا ہے۔ اس کا ذہن کتاب کا غلام نہیں تھا؛ کتاب اس کے ذہن کی ہم سفر تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس کی نثر میں ایک عجیب آزادی ہے۔وہ قاری کو حکم نہیں دیتا کہ صرف میری بات مانو۔ وہ اسے اپنے ساتھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ایک بات بیان کرتا ہے، پھر اس کا الٹ سامنے لے آتا ہے۔ کسی عام سی عادت میں انسانی طبیعت کا ایک بڑا مسئلہ تلاش کر لیتا ہے۔ کسی چھوٹے سے واقعے کو پکڑ کر اس کے گرد اتنا وسیع دائرہ بنا دیتا ہے کہ قاری کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں سے چلا تھا اور کہاں پہنچ گیا۔

یہی جاحظ ہے۔

وہ مصنف جس کے لیے لکھنا صرف کتاب مکمل کرنا نہیں تھا۔ لکھنا اس کے لیے دیکھنے، سننے، یاد رکھنے، جمع کرنے اور پھر ان سب کو ایک نئی ترتیب دینے کا نام تھا۔ وہ دنیا سے مواد لیتا تھا اور اسے اپنی نثر میں دوبارہ دنیا بنا دیتا تھا۔ اس کے ہاں کتاب ایک قبر بھی ہے اور زندگی بھی۔ قبر اس لیے کہ زمانہ جسے مٹا دیتا ہے کتاب اسے محفوظ رکھتی ہے، اور زندگی اس لیے کہ جو کچھ کاغذ پر آ گیا وہ دوبارہ بولنے لگتا ہے۔ اسی لیے کتابوں کے بارے میں جاحظ کے ہاں ایک خاص طرح کی عقیدت دکھائی دیتی ہے۔ «المحاسن والأضداد» میں اس سے منسوب یہ عبارت اسی ذہنی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے:

«الكتابُ نعمَ الجليسُ والأنيسُ، لا يُغريك ولا يُماريك، ولا يُملّك ولا يُعاتبك.» کتاب کیا خوب ہم نشیں اور مونس ہے؛ نہ تمہیں بہکاتی ہے، نہ تم سے جھگڑتی ہے، نہ تم سے اکتاتی ہے اور نہ تم سے شکوہ کرتی ہے۔ یہ صرف کتاب کی تعریف نہیں۔ یہ تنہائی کا اعتراف بھی ہے۔ ایک ایسے آدمی کا اعتراف جس نے اپنی عمر کے بڑے حصے میں انسانوں سے زیادہ کتابوں کے ساتھ وقت گزارا۔ کتاب اس کے لیے اس دوست کی مانند تھی جو آدمی کو اپنی ذات کے ساتھ رہنے کی تربیت دیتی ہے۔ وہ بولتی بھی ہے اور خاموش بھی رہتی ہے۔ جب چاہو کھول لو، جب چاہو بند کر دو؛ مگر بند ہونے کے بعد بھی وہ ذہن میں کھلی رہتی ہے۔اور شاید اسی لیے جاحظ کی تنہائی عام تنہائی نہ تھی۔اس کے کمرے میں اگر ایک وقت میں کوئی آدمی نہ بھی ہو تو وہاں سینکڑوں آدمی موجود ہوتے تھے۔ ابن المقفع، اصمعی، خلیل، شعرا، نحوی، قصہ گو، متکلمین، حکماء ... کتابیں ان سب کو اس کے پاس لے آتی تھیں۔ وہ اکیلا لیٹا ہوا بھی ایک پورے عہد سے گفتگو کر سکتا تھا۔ کتاب کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ وہ آدمی کو اس کے اپنے زمانے کی قید سے نکال دیتی ہے۔جاحظ نے شاید اسی آزادی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا عیش سمجھا تھا۔ شاید اسی لیے جب وہ اپنی کتاب ’’الحیوان‘‘ کے مقدمے میں کتاب کی تعریف کرتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی مصنف اپنی محبوب ترین رفاقت کا تعارف کرا رہا ہو:

«الكِتَابُ نِعْمَ الذُّخْرُ وَالعُقْدَةُ، وَنِعْمَ الجَلِيسُ وَالعُدَّةُ، وَنِعْمَ المُشْتَغَلُ وَالحِرْفَةُ، وَنِعْمَ الأَنِيسُ لِسَاعَةِ الوَحْدَةِ، وَنِعْمَ المَعْرِفَةُ بِبِلَادِ الغُرْبَةِ، وَنِعْمَ القَرِينُ وَالدَّخِيلُ، وَنِعْمَ الوَزِيرُ وَالنَّزِيلُ.»

(کتاب بہت ہی اچھا ذخیرہ اور مل بیٹھنے کی جگہ ہے ، اور کیا ہی ساتھی اور یاد رہنے والا ہم سفر ہے ، کتاب بہت ہی عمدہ شغل اور حرفہ ہے ، تنہائی میں سب سے اچھا دل رکھنے والا مونس ہے ، پردیسی زمینوں میں دل آویز شناسا ہے ، رفیق و رازدار بھی خوب ہے اور بڑا عمدہ مددگار اور بے تکلف دوست بھی ہے)۔

کتاب کو "وزیر" کہنا ایک عجیب استعارہ ہے۔ بادشاہ کے پاس وزیر ہوتا ہے، تنہا آدمی کے پاس کتاب۔ وزیر مشورہ دیتا ہے، کتاب بھی مشورہ دیتی ہے۔ وزیر ماضی کے تجربات سامنے رکھتا ہے، کتاب صدیوں کے تجربات ایک ورق پر لے آتی ہے۔ وزیر آدمی کے ساتھ مجلس میں بیٹھتا ہے، کتاب آدمی کے اکیلے پن کو مجلس میں بدل دیتی ہے۔

اس کی فکری تشکیل میں معتزلی کلام کا اثر بھی اہم ہے۔ عقل، استدلال اور انسانی ذمہ داری کے سوالات نے اس کے ذہن کو محض روایتی نقل سے آگے بڑھایا۔ لیکن الجاحظ کی شخصیت کو صرف کسی ایک مکتبِ فکر کے خانے میں بند کرنا بھی ممکن نہیں۔ اس کی اصل قوت اس کی ذہنی وسعت تھی۔ وہ مختلف علوم اور روایتوں سے مواد لیتا اور اسے اپنے منفرد اسلوب میں ڈھال دیتا تھا۔

وہ دولت مند نہ تھا، مگر اس کے پاس کتابیں تھیں۔ وہ صاحبِ جاہ نہ تھا، مگر اس کے پاس الفاظ تھے۔ اس کی زندگی میں بہت سی محرومیاں تھیں، مگر اس کے سامنے علم کی دنیا کھلی ہوئی تھی۔ جس آدمی نے بچپن میں مچھلیاں بیچی ہوں، وہ اگر آگے چل کر عربی نثر کے آسمان پر اپنی آواز قائم کر دے تو اس کے پیچھے صرف ذہانت نہیں ہوتی؛ اس کے پیچھے ایک ایسی بھوک بھی ہوتی ہے جو روٹی سے بڑی ہو جاتی ہے۔ جاحظ کے اندر یہ بھوک تھی۔

وہ جاننا چاہتا تھا۔ اور جاننے کے بعد محفوظ کرنا چاہتا تھا۔اور محفوظ کرنے کے بعد اسے اس طرح بیان کرنا چاہتا تھا کہ آنے والا آدمی بھی اس میں اپنا زمانہ دیکھ سکے۔ اسی لیے اس کی کتابیں صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں بنیں۔ وہ اس کے عہد کی سانس بن گئیں۔

«البيان والتبيين» میں زبان اس کے سامنے محض الفاظ کا مجموعہ نہیں؛ انسانی اظہار کی پوری دنیا ہے۔ وہ فصاحت کے ساتھ خطابت، اشارے، سکوت، لہجے اور موقع کی مناسبت تک جاتا ہے۔ اسے معلوم تھا کہ آدمی صرف زبان سے نہیں بولتا، اس کی خاموشی بھی ایک زبان ہے اور اس کا اندازِ گفتگو بھی۔

«البخلاء» میں وہ بخیلوں کو صرف ہنسانے کے لیے نہیں لاتا۔ ان کے ذریعے انسانی نفس کی وہ تہیں کھولتا ہے جہاں محبت، خوف، حرص، احتیاط اور خود فریبی ایک دوسرے میں گھل جاتے ہیں۔ وہ ایک بخیل کا واقعہ سناتا ہے تو قاری پہلے ہنستا ہے، پھر اچانک اسے اپنے آس پاس کے لوگوں میں وہی عادتیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔ اور «كتاب الحيوان» میں وہ مخلوقات کی دنیا کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے ہر جانور اس کے سامنے ایک چھوٹا سا فلسفیانہ سوال بن کر کھڑا ہو۔

یہ سب کتاب دوستی کی ہی مختلف شکلیں تھیں۔

جاحظ کتابیں نہیں لکھ رہا تھا، وہ اپنی دیکھی ہوئی دنیا کو ضائع ہونے سے بچا رہا تھا۔ اس کے لیے ایک لفظ کا مر جانا بھی شاید کسی آدمی کے مرنے جیسا تھا۔ ایک روایت کا گم ہو جانا، ایک شعر کا بھلا دیا جانا، کسی بدوی کی زبان کا کوئی نایاب لفظ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جانا، یہ سب اس کے لیے خسارہ تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے زمانے کو اپنی کتابوں میں پناہ دی۔ وہ آدمیوں کو کاغذ پر بچاتا رہا۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ آخرکار کاغذ نے اسے بھی بچا لیا۔

آج جاحظ خود ہمارے سامنے موجود نہیں، اس کا گھر نہیں، اس کی مجلس نہیں، اس کے دوستوں کی آوازیں نہیں، اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزرنے والے بصرہ کے بازار نہیں؛ مگر جب «البخلاء» کھولتے ہیں تو وہ بولنے لگتا ہے۔ «البيان والتبيين» کھولتے ہیں تو اس کی مجلس قائم ہو جاتی ہے۔ «كتاب الحيوان» کھولتے ہیں تو وہ اپنی مخصوص حیرت کے ساتھ دنیا کی چیزوں کو ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ وہ مر گیا، مگر اس کی گفتگو ختم نہیں ہوئی۔

شاید یہی کتاب کی سب سے بڑی وفاداری ہے۔

آدمی کتاب کو پڑھتا ہے، پھر کتاب آدمی کو اپنے اندر محفوظ کر لیتی ہے۔ جاحظ نے عمر بھر کتابوں سے یہی رفاقت نبھائی۔ اس نے انہیں خریدا، پڑھا، نقل کروایا، دوسروں سے سنا، ان پر بحث کی، ان میں سے مواد چنا، اپنے تجربات سے ملایا اور پھر انہیں اپنی نثر میں نئی زندگی دی۔ وہ کتاب کے اندر چھپی ہوئی آواز کو سنتا تھا اور اسے اپنے عہد کی آواز بنا دیتا تھا۔اس لیے اس کی موت کا منظر بھی اس کی زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کتابوں کے درمیان پیدا ہونے والا آدمی تھا، کتابوں کے درمیان جینے والا آدمی تھا اور روایت چاہے اسے جس طرح بھی بیان کرے، اس کی ادبی زندگی کا سب سے خوب صورت استعارہ یہی ہے کہ آخرکار اس کا جسم بھی کتابوں کے حصار میں رہ گیا۔

جس آدمی نے عمر بھر کتابوں کو اپنے قریب رکھا، آخر کتابوں نے بھی اسے اپنے اندر لے لیا۔ شاید اس سے زیادہ وفادار رفاقت کا تصور مشکل ہے۔ دوست زندگی میں ساتھ چلتے ہیں اور ایک دن کسی موڑ پر بچھڑ جاتے ہیں۔ کتابیں بچھڑتی نہیں۔ آدمی بوڑھا ہوتا ہے، آنکھیں کمزور ہوتی ہیں، ہاتھ کانپتے ہیں، آواز مدھم پڑ جاتی ہے؛ مگر کتاب وہیں رہتی ہے۔ ایک صفحہ کھولو تو جوانی سامنے آ جاتی ہے، دوسرا کھولو تو کوئی بھولی ہوئی آواز، تیسرا کھولو تو ایک پورا زمانہ۔

جاحظ نے اس راز کو بہت پہلے جان لیا تھا۔

اسی لیے اس کی زندگی میں کتاب شوق سے بڑھ کر تھی؛ وہ ایک ضرورت بن چکی تھی۔ اور ضرورت جب روح کا حصہ بن جائے تو آدمی اسے چھوڑ نہیں سکتا۔ جاحظ بھی نہ چھوڑ سکا۔ موت نے اس کے ہاتھ سے قلم چھین لیا، مگر کتابیں اس کے ہاتھ سے نہ چھین سکیں۔

موت نے اس کے ہاتھ سے قلم چھین لیا، مگر کتابیں اس کے ہاتھ سے نہ چھین سکیں۔

وہ آخری لمحے تک کتابوں کا آدمی رہا۔ اور شاید اسی لیے عربی ادب کی تاریخ میں اس کا نام کسی ایک کتاب، کسی ایک نظریے یا کسی ایک فن کے ساتھ محدود نہیں ہوتا۔ وہ اپنی کتابوں کے ساتھ ایک پورا زمانہ بن گیا ہے۔ اسے پڑھنا صرف جاحظ کو پڑھنا نہیں؛ اس دنیا میں داخل ہونا ہے جہاں علم بازار میں چلتا پھرتا تھا، جہاں لفظ محفلوں میں پیدا ہوتے تھے، جہاں کاتب قلم سے زمانہ محفوظ کرتے تھے، جہاں ایک کتاب حاصل کرنے کے لیے آدمی کو کتاب کے پیچھے سفر کرنا پڑتا تھا، اور جہاں ایک غیر معمولی ذہن پوری زندگی اس کوشش میں لگا رہتا تھا کہ دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی فراموشی کے اندھیرے میں نہ گم ہو جائے۔ جاحظ کی اصل عظمت شاید یہی ہے۔ وہ بھولنے کے خلاف لکھتا رہا۔اور کتابیں اس کے بعد بھی اسے بھولنے نہیں دیتیں۔

یاقوت الحموی نقل کرتا ہےکہ ابو ہفان کہتا ہے:

«لَمْ أَرَ قَطُّ وَلَا سَمِعْتُ مَنْ أَحَبَّ الْكُتُبَ وَالْعُلُومَ أَكْثَرَ مِنَ الْجَاحِظِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَقَعْ بِيَدِهِ كِتَابٌ قَطُّ إِلَّا اسْتَوْفَى قِرَاءَتَهُ كَائِنًا مَا كَانَ، حَتَّى إِنَّهُ كَانَ يَكْتَرِي دَكَاكِينَ الْوَرَّاقِينَ وَيَبِيتُ فِيهَا لِلنَّظَرِ.»

’’(میں نے کبھی الجاحظ سے بڑھ کر کتابوں اور علوم کا شیدائی نہ دیکھا نہ سنا۔ اس کے ہاتھ میں جو کتاب بھی آتی، خواہ کسی بھی موضوع کی ہوتی، وہ اس کا مطالعہ مکمل کیے بغیر نہ چھوڑتا، یہاں تک کہ وہ ورّاقوں کی دکانیں کرائے پر لے لیتا اور وہیں رات گزار کر کتابوں میں مشغول رہتا)۔‘‘

پھر جاحظ کتاب کو محض علم کا برتن نہیں کہتا، اسے ایک ایسا ظرف بناتا ہے جس میں انسانوں کی پوری دنیا بھری ہوئی ہے:

«والكتابُ وعاءٌ مُلِئَ علمًا، وظرفٌ حُشِيَ ظَرفًا، وإناءٌ شُحِنَ مُزاحًا وجِدًّا.»

"کتاب وہ برتن ہے جو علم سے بھر دیا گیا ہے، وہ ظرف ہے جس میں ظرافت بھری ہوئی ہے، وہ ایسا برتن ہے جس میں مزاح بھی لادا گیا ہے اور سنجیدگی بھی۔"

یہاں جاحظ کا اپنا مزاج بھی کتاب کی تعریف میں جھلکنے لگتا ہے۔ علم اس کے لیے خشک نہیں تھا۔ علم کے ساتھ ظرافت تھی، حکمت کے ساتھ قصہ تھا، سنجیدگی کے ساتھ ہنسی تھی۔ شاید اسی لیے اس کی کتابیں صرف عالم کے لیے نہیں، زندہ انسان کے لیے لکھی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔

وہ آگے بڑھتا ہے:

«إن شئتَ كان أبلغَ من سَحبانَ وائل، وإن شئتَ ضحكتَ من نوادره، وإن شئتَ عجبتَ من غرائبِ فرائده، وإن شئتَ ألهتك طرائفُه، وإن شئتَ أشجتك مواعظُه.»

"(اگر چاہو تو کتاب سحبان وائل سے بھی زیادہ بلیغ ہو جاتی ہے؛ چاہو تو اس کے نوادر تمہیں ہنسا دیتے ہیں؛ چاہو تو اس کی عجیب باتیں تمہیں حیران کر دیتی ہیں؛ چاہو تو اس کے لطیفے تمہارا دل بہلا دیتے ہیں؛ اور چاہو تو اس کی نصیحتیں تمہیں رلا دیتی ہیں)۔"

جاحظ یہاں دراصل کتاب کی تعریف نہیں کر رہا، وہ مطالعے کے پورے تجربے کو لفظ دے رہا ہے۔ ایک ہی کتاب آدمی کے اندر کئی آدمی پیدا کر سکتی ہے۔ وہ ہنسا بھی سکتی ہے، حیران بھی کر سکتی ہے، رلا بھی سکتی ہے اور سوچنے پر مجبور بھی کر سکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کتاب کاغذ سے نکل کر صحبت بن جاتی ہے۔ پھر جاحظ ایک ایسی تصویر بناتا ہے جس میں پوری دنیا ایک کتاب کے اندر سمٹ آتی ہے:

«ومَن لك بشيءٍ يجمعُ لك الأوّلَ والآخِرَ، والناقصَ والوافرَ، والخفيَّ والظاهرَ، والشاهدَ والغائبَ، والرفيعَ والوضيعَ، والغثَّ والسمينَ، والشكلَ وخلافَه، والجنسَ وضدَّه؟»

"(تمہیں ایسی چیز کہاں ملے گی جو تمہارے لیے پہلے اور پچھلے، ناقص اور کامل، پوشیدہ اور ظاہر، حاضر اور غائب، بلند اور پست، معمولی اور قیمتی، ہم شکل اور مخالف، جنس اور ضد ؛ سب کو ایک جگہ جمع کر دے؟)".ایک شخص کتاب پڑھتا ہے اور کتاب ختم کر دیتا ہے۔ دوسرا کتاب پڑھتا ہے اور اس کے اندر سے دس نئی کتابیں نکال لیتا ہے۔ جاحظ دوسری قسم کا آدمی تھا۔ اس کے ذہن میں ایک عبارت داخل ہوتی اور وہاں سے کئی راستے نکلتے۔ ایک واقعہ پڑھتا تو اس کے ساتھ زبان، تاریخ، اخلاق، معاشرت، حیوان، انسان اور فلسفہ سب گفتگو میں شامل ہو جاتے۔

«ومَن لك بمؤنِسٍ لا ينامُ إلا بنومِك، ولا ينطقُ إلا بما تهوى، آمَنُ من الأرضِ، وأكتمُ للسرِّ من صاحبِ السرِّ، وأحفظُ للوديعةِ من أربابِ الوديعة.»

"تمہیں ایسا مونس کہاں ملے گا جو تمہاری نیند کے ساتھ ہی سوئے، تمہاری خواہش کے مطابق ہی بولے، زمین سے بھی زیادہ محفوظ ہو، راز رکھنے والے آدمی سے بھی زیادہ رازدار ہو اور امانت رکھنے والوں سے بھی بڑھ کر امانت کی حفاظت کرے۔"

کتاب سے زیادہ فرمانبردار دوست اور کون ہوگا؟ تم اسے رات کے آخری پہر کھولو، وہ تمہیں ماضی میں لے جائے گی۔ تم اسے صبح کھولو، وہ تمہارے سامنے ایک نئی دنیا رکھ دے گی۔ تم اسے مہینوں نہ چھوؤ، وہ تم سے ناراض نہیں ہوگی۔ تم واپس آؤ گے تو وہ اسی صفحے پر تمہارا انتظار کر رہی ہوگی جہاں تم اسے چھوڑ گئے تھے۔

«ولا أعلمُ جارًا أبرَّ، ولا خليطًا أنصفَ، ولا رفيقًا أطوعَ، ولا معلِّمًا أخضعَ، ولا صاحبًا أظهرَ كفايةً، ولا أقلَّ إملالًا وإبرامًا... من كتاب.»

"میں کسی ایسے پڑوسی کو نہیں جانتا جو کتاب سے زیادہ نیک سلوک کرنے والا ہو، نہ ایسا ہم نشین جو اس سے زیادہ انصاف پسند ہو، نہ ایسا ساتھی جو اس سے زیادہ فرمانبردار ہو، نہ ایسا استاد جو اس سے زیادہ نرم ہو، نہ ایسا دوست جو اس سے زیادہ کفایت شعار اور کم اکتانے والا ہو۔"

یہاں پہنچ کر جاحظ کی کتاب دوستی محبت کی حد سے نکل کر ایک فلسفۂ زندگی بن جاتی ہے۔

جاحظ جسمانی طور پر چلا گیا، مگر اس کی کتابوں میں وہ اب بھی بیٹھا ہے۔ کسی صفحے کے حاشیے میں، کسی عجیب حکایت کے اندر، کسی حیوان کے مشاہدے میں، کسی بخیل کے بہانے، کسی خطیب کی زبان میں، کسی نادر لفظ کی شرح میں، کسی لطیفے کے پیچھے اور کسی اچانک پھوٹ پڑنے والی حکمت میں۔ وہ آج بھی بولتا ہے۔ اور ہم آج بھی سنتے ہیں۔ یہی کتاب کی رفاقت کا آخری کمال ہے۔جاحظ نے عمر بھر کتابوں کو پڑھا؛ کتابوں نے اس کے بعد صدیوں تک جاحظ کو پڑھنے والوں کے لیے محفوظ رکھا۔ وہ کتابوں کا ساتھی تھا۔ مگر شاید اس سے بھی زیادہ درست یہ کہنا ہے کہ کتابیں اس کی عمر کی آخری گواہ تھیں۔ وہ ان کے درمیان آیا تھا، انہی کے درمیان جیا، انہی کے اندر اپنی دنیا بناتا رہا، اور آخرکار انہی کے سائے میں چلا گیا۔ موت نے جاحظ کو ہم سے چھین لیا۔کتابوں نے اسے واپس کر دیا۔جو آدمی مر چکا ہے وہ کتاب میں زندہ رہ سکتا ہے۔ جو شہر مٹ گیا ہے اس کا بازار ایک صفحے میں باقی رہ سکتا ہے۔ جس زبان کا بولنے والا قبیلہ صدیوں پہلے خاک ہو گیا، اس کے لفظ کسی لغت میں سانس لے سکتے ہیں۔ جس شخص سے ملاقات ممکن نہیں، اس کی عقل سے کتاب کے ذریعے گفتگو کی جا سکتی ہے۔جاحظ اسی امکان کا آدمی تھا۔ وہ کتابوں کے ساتھ زندہ رہا، اور کتابوں نے اسے مرنے نہیں دیا۔

مأخَذ

عربی ادب سے انتخاب

کالم نگار : حنظلہ خلیق
| | |
89     1