تحریر. ڈاکٹر عثمان خان
کرپٹو کرنسی کے مال ہونے کا سبب اور معاصر علماء کی رائے:
احناف کے نزدیک مال ہونے کے لیے چیز کا مادی (Physical/Tangible) ہونا اور اس کا احراز (ذخیرہ یا قبضے میں لینا) ممکن ہونا ضروری ہے۔ اسی لیے قدیم حنفی فقہاء "منافع" (جیسے مکان میں رہنے کا حق) کو بذاتِ خود مال نہیں، بلکہ ملکیت مانتے تھے۔
ب) جمہور فقہاء (مالکی، شافعی، حنابلہ) کے نزدیک:
جمہور فقہاء مال کا دائرہ وسیع رکھتے ہیں۔ امام شافعیؒ کے مطابق:"مال ہر وہ چیز ہے جس کی کوئی مالی قیمت (Value) ہو، لوگ اس کا تبادلہ کرتے ہوں، اور اگر کوئی اسے ضائع کرے تو اس پر تاوان (ضمان) لازم آئے۔"
جمہور کے نزدیک ہر وہ چیز مال ہے جس میں منفعت (Utility) ہو، خواہ وہ مادی چیز ہو یا کوئی حق/سروس۔
خلاصہ فقہی تعریف:
مستند فقہی اصولوں کے مطابق کسی چیز کے "مالِ متقوم" (وہ مال جس کی شریعت میں قیمت اور حفاظت کی اجازت ہے) بننے کے لیے دو شرائط ہیں:
تموُّل: لوگ عام طور پر اسے قیمتی سمجھیں اور اس کا لین دین کریں۔
تقویم: شریعت نے اس کے استعمال کو حلال قرار دیا ہو (مثلاً شراب اور خنزیر مسلمانوں کے لیے مال نہیں ہیں)۔
جدید دور میں مال کا اطلاق (Modern Application):
جدید دور میں معیشت اور ٹیکنالوجی کے بدلنے سے مال کا تصور بہت وسیع ہو گیا ہے۔ آج کے فقہی اداروں (جیسے اسلامی فقہ اکیڈمیز) اور معتدل مفتیانِ کرام کے نزدیک اب مال صرف مادی اشیاء تک محدود نہیں رہا، بلکہ جدید دور میں درج ذیل چیزوں پر مال کا اطلاق ہوتا ہے:
۱. کاغذی اور ڈیجیٹل کرنسی (Fiat & Digital Currency)
ماضی میں مال صرف سونا، چاندی یا اجناس (بارٹر سسٹم) تھے۔
آج حکومتوں کے جاری کردہ کاغذی نوٹ، سکے اور بینک اکاؤنٹس میں موجود ڈیجیٹل بیلنس (الیکٹرانک منی) مکمل طور پر مال ہیں کیونکہ ان میں قوتِ خرید (Purchasing Power) موجود ہے۔
۲. معنوی حقوق اور دانشورانہ ملکیت (Intellectual Property Rights):
جدید فقہاء نے جمہور (شافعی/مالکی) کے اصولوں کو اپناتے ہوئے "حقوق" کو مال تسلیم کیا ہے۔ اس میں درج ذیل شامل ہیں:
کاپی رائٹ (Copyrights): کسی کتاب، سافٹ ویئر، یا ایجاد کے حقوق۔
ٹریڈ مارک اور پیٹنٹ (Trademarks & Patents): کسی برانڈ کا نام اور اس کا فارمولا وغیرہ۔
گڈ ول (Goodwill / تجارتی ساکھ): کسی چلتے ہوئے کاروبار کی مارکیٹ ویلیو۔
ان تمام چیزوں کی خرید و فروخت جائز ہے اور ان پر مال کے احکام لاگو ہوتے ہیں۔
۳. ڈیجیٹل اثاثے (Digital Assets):
سافٹ ویئرز اور ایپس: وہ سافٹ ویئر یا کوڈز جنہیں بنانے میں محنت اور سرمایہ لگا ہو اور ان کی مارکیٹ میں قیمت ہو، وہ مال ہیں۔
جدید دور میں مال ہر اس مادی یا غیر مادی (ڈیجیٹل/قانونی) چیز کو کہا جائے گا جس کی کوئی معاشی قیمت (Economic Value) ہو، قانون اور شریعت کے دائرے میں اس کا لین دین ممکن ہو، اور عرفِ عام (عام لوگوں کے نزدیک) اسے ایک اثاثہ تسلیم کیا جاتا ہو۔
کرپٹو کرنسی (مثلاً بٹ کوائن وغیرہ) کو مال اور ثمن (کرنسی) تسلیم کرتے ہوئے اس کے لین دین کو مشروط طور پر جائز قرار دینے والے معاصر علماء، فقہی اداروں اور محققین کے اہم ترین ریفرنسز درج ذیل ہیں:
۱. ڈاکٹر علی محی الدین القرہ داغی (صدر، عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمان)
مسلم امہ کے مایہ ناز فقیہ اور معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر علی القرہ داغی کا موقف ہے کہ کرپٹو کرنسی اگرچہ روایتی معنوں میں فیاٹ کرنسی (کاغذی نوٹ) نہیں ہے، لیکن یہ ایک "ڈیجیٹل اثاثہ" (Digital Asset/مال) ضرور ہے۔
ریفرنس/کتاب: ان کی کتاب "المجالات الاقتصادية للعملات الرقمية" (ڈیجیٹل کرنسیوں کے معاشی میدان) اور ان کے مختلف علمی مقالاجات۔
موقف: ان کے نزدیک اگر کسی مخصوص کرپٹو کرنسی میں شدید قسم کا غرر (دھوکہ دہی) یا جہالت نہ ہو، اور لوگ اسے قبول کرتے ہوں، تو وہ "مال" ہے اور اس کی خرید و فروخت اصولی طور پر جائز ہے۔
۲. پروفیسر ڈاکٹر علی احمد السالوس (استادِ فقہِ اقتصادی، قطر یونیورسٹی)
ڈاکٹر علی السالوس اسلامی معاشیات کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کرپٹو کے حوالے سے تفصیلی بحث کی ہے۔
ریفرنس: ان کی کتاب "المعاملات المالية المعاصرة في الفقه الإسلامي" (جدید مالیاتی معاملات پر فقہی ابحاث)۔
موقف: ان کے مطابق اگر کوئی ڈیجیٹل کرنسی محض ہوا میں نہ ہو بلکہ اس کا کوئی مادی وجود یا اس کے پیچھے کوئی حقیقی افادیت (Utility) ہو، اور معاشرہ اسے بطور مال تسلیم کر لے، تو اس پر احکامِ مال جاری ہوں گے۔
۳. دار الافتاء ملائیشیا (شریعہ ایڈوائزری کونسل - سیکیورٹیز کمیشن ملائیشیا)
ملائیشیا کے سرکاری اور معتبر ترین شریعہ بورڈ نے کرپٹو کرنسیوں کو باقاعدہ مال اور اثاثہ تسلیم کیا ہے۔
ریفرنس: سیکیورٹیز کمیشن ملائیشیا (Securities Commission Malaysia) کے شریعہ ایڈوائزری کونسل کا 2020ء کا باقاعدہ فیصلہ (Resolution)۔
موقف: کونسل نے قرار دیا کہ ڈیجیٹل ٹوکنز اور کرپٹو کرنسیاں "مالِ متقوم" (وہ مال جس کی شریعت میں حفاظت اور قیمت ہے) کے حکم میں ہیں، اس لیے مسلم سرمایہ کار ان میں تجارت (Trading) اور سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
عہد جدید میں حلال کوائن اسٹیڈی کو جو سوالات موصول ہوئے ہیں اس میں ڈاکٹر عثمان اور ان کی ٹیم کی رائے معاصر علماء کے ساتھ ہے جس میں جواز کا ذکر موجود ہے اور ریفرنس بھی شامل ہیں۔