وہ لمحہ جب شیخ الاسلام کی وجہ سے دیار غیر میں ہمارا سر فخر سے بلند ہوا :
آج تاشقند میں جمعہ پڑھا۔ ایسا معاملہ ہوا کہ آنکھیں نم ہو گئیں۔ قصہ کچھ یوں ہوا کہ ہوٹل سے مسجد کے لئے نکلے۔ عوام ہاتھوں میں جائے نماز اٹھائے جوق در جوق جامع مسجد کی طرف جا رہی تھی۔ ہم بھی عوام کے سمندر کے ساتھ ہو لئے۔ مسجد پہنچنے سے کافی پہلے دیکھا کہ لوگ فٹ پاتھ پر، باغیچوں میں یا کسی بھی سایہ دار جگہ مصلے بچھائے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہم حیران کہ کل ہی تو یہ مسجد دیکھی تھی۔ وسیع و عریض کئی ایکڑ پر مشتمل تھی۔ اتنی جگہ ہونے کے باوجود لوگ باہر ہیں ؟ اندر کیوں نہیں جاتے ؟
خیر چلتے چلتے مسجد کے مرکزی احاطے میں داخل ہوئے۔ اسے صرف مسجد کہنا مناسب نہ ہو گا۔ پورا عظیم الشان کمپلیکس ہے۔ نقشہ کچھ یوں ہے کہ تین اطراف باغیچے۔۔۔ باغیچوں کے درمیان میں خوبصورت پتھر سے بنے راستے۔ ان کے سامنے قبلہ رخ پر مسجد کی مرکزی عمارت۔ وضو وغیرہ کے لئے باغیچوں کے بائیں جانب مستقل ایک الگ عمارت تھی جو کم از کم ڈیڑھ سے دو کنال کا رقبہ گھیرے ہوئے تھی۔ خواتین کے لئے الگ خوبصورت عمارت تھی جس میں پردہ کا اس قدر اہتمام تھا کہ اونچائی والی کھڑکیاں بھی سفید پردوں سے ڈھکی ہوئی تھیں۔
خیر مرکزی احاطہ پہنچ کر اندازہ ہوا کہ لوگ پہلی سے باہر کیوں بیٹھے ہوئے۔ مسجد کے تمام حصے، بالاخانے، گیلریز وغیرہ میں تِل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ حتی کہ مجمع کی ایک بڑی تعداد مسجد کے باہر امام سے بھی آگے صفیں بنائے ہوئے تھی (جیسے حرم میں ہوتی ہیں) بہرحال۔۔۔ عوام تو جہاں جگہ ملی وہیں اپنے ساتھ لائے مصلے بچھا کر تقریر سننا شروع تھی۔ ہمارے خالی ہاتھوں کو دیکھ کر مقامی افراد فورا اٹھے اور ہمیں جائے نمازیں پیش کیں۔ غالبا کئی لوگ ایسے تھے جو ثواب کمانے کی نیت سے اپنے ہمراہ اضافی مصلے لائے ہوئے تھے۔
ہمیں مسجد کے باہر، صحن کے بھی بعد باغ میں ایک سایہ دار درخت کے نیچے جگہ ملی۔ زمین ٹھنڈی تھی۔ ہلکی سی نم تھی اور کچی مٹی کی بھینی بھینی خوشبو ماحول کو خوشگوار بنائے ہوئے تھی۔ ہولے ہولے سے چلنے والے ہوا کے جھونکے طبیعت کو فرحت بخش رہے تھے۔ ہوا کے ان جھونکوں سے درختوں کے پتوں کا خوبصورت نغمہ کانوں میں رس گھول رہا تھا۔
ایک اہم بات یہ کہ مسجد کے باہر بھی سپیکر انتہائی صاف اور واضح آواز کے تھے۔ زبان سے ناآشنائی کی وجہ سے ہمیں تقریر سمجھ نہیں آرہی تھی۔ البتہ درس نظامی پڑھا ہونے کی وجہ سے اتنا معلوم ہو رہا تھا کہ گفتگو کا موضوع حدیث، حدیث کی ترویج، خدمات وغیرہ ہیں۔ گفتگو میں دو نام بار بار دہرائے گئے۔جن میں سے دوسرا نام سن کر سر فخر سے بلند ہو گیا۔
۱۔ امام بخاری حضرت لرے
۲ - محدث محمد تقی عثمانی
یعنی ایک جانب امام بخاری رح کا ماضی کا حوالہ، اور حال میں پاکستان کا فخر، شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتھم کا نام "محدث تقی عثمانی" کہ کر لیا جاتا تھا !!!!
ٹھیک ایک بجے تقریر ختم ہوئی۔ پاکستان جیسی ترتیب پر سنتوں کا وقفہ ہوا اور مجمع نے سنت ادا کی۔ اس کے بعد انتہائی خوبصورت لہجہ میں اذان ہوئی، پھر عربی خطبہ ہوا جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کے فضائل پر خصوصی بات ہوئی۔
اقامت اور نماز کی قرات کے کیا ہی کہنے۔ محسوس نہیں ہوا کہ ہم کسی ایسے دیس میں ہیں جہاں دہائیوں تک کیمونیسٹ انقلاب نے اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی تھی۔
ایک انتہائی عجیب بات یہ دیکھی کہ فرض نماز ختم ہونے کے بعد کوئی ایک ! جی ہاں محاورتا نہیں حقیقتا ! کوئی ایک نمازی بھی مصلی اٹھا کر باہر نہیں بھاگا۔ جیسے جماعت کے لئے صف تھی بالکل اسی طرح سب کھڑے ہو گئے اور بقیہ سنتیں پڑھنے لگے۔ مجھے شدید دکھ ہوا کہ ہمارے ہاں امام سلام پھیرتا ہے اور ہم لوگ مسجد سے باہر بھاگتے ہیں۔ یہ ظاہری اعتبار سے پینٹ شرٹ میں ملبوس لوگ ہیں لیکن نماز کا ماشاءاللہ اتنا اہتمام
نماز کے بعد کچھ مقامی افراد سے گپ شپ ہوئی۔ انتہائی خوش اخلاق تھے۔ پاکستان کا نام سن کر بندہ کو محبت سے گلے لگایا اور "محدث تقی، محدث تقی" کہنے لگے۔ اللہ تعالی ہم پاکستان والوں کو بھی شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتھم کی زندگی میں ان کی قدردانی نصیب فرمائے۔