(+92) 319 4080233
کالم نگار

عمارخان یاسر

عمارخان یاسر

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/11
موضوعات
محدث تقی عثمانی
فتویٰ کرپٹو کرنسی پر تھا، حملے شیخ الاسلام پر شروع ہو گئے!
آج تاشقند (ازبکستان) سے محمد ارسلان سیال صاحب اور Ammar Khan Yasir نے جمعہ کی نماز کی ایک ایمان افروز روداد بیان کی۔ ہزاروں نمازیوں سے بھری عظیم الشان جامع مسجد میں خطبے کے دوران حدیث اور محدثین کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے امام بخاریؒ کے ساتھ پاکستان کے عظیم عالم شیخ الاسلام، محدث مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کا نام نہایت احترام سے لیا گیا۔ نماز کے بعد جب مقامی لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ مہمان پاکستان سے ہیں تو وہ محبت سے گلے ملے اور بار بار "محدث تقی، محدث تقی" کہتے رہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں ہمارے اس عظیم عالمِ دین کو کس قدر عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

دوسری طرف پاکستان میں جب شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم نے کرپٹو کرنسی کے بارے میں شرعی دلائل، فقہی اصولوں اور اسلامی معاشیات کی روشنی میں اس کے ناجائز ہونے کا فتویٰ دیا تو بعض لوگوں نے علمی جواب دینے کے بجائے ان کی ذات ہی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ فتویٰ کسی پر زبردستی مسلط نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک شرعی رائے ہوتی ہے، جس کی بنیاد قرآن و سنت اور فقہی دلائل ہوتے ہیں۔ اگر کسی کے نزدیک کسی معتبر اور مستند دارالافتاء یا اہلِ علم نے کرپٹو کرنسی کے جواز کا فتویٰ دیا ہے تو وہ اپنے اطمینان کے مطابق اس پر عمل کر سکتا ہے۔ لیکن اختلاف کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ علماء کی تضحیک، تمسخر اور کردار کشی شروع کر دی جائے۔

بعض لوگ اس موقع پر یہ طعنہ بھی دیتے ہیں کہ "مفتی تقی عثمانی تو اسلامی بینکاری کے نام پر سود کو جائز قرار دیتے ہیں۔" حقیقت اس کے برعکس ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں مضاربہ، مشارکہ، مرابحہ، اجارہ، سلم اور استصناع جیسے مالی عقود صدیوں سے فقہ اسلامی کا حصہ ہیں۔ اسلامی بینکاری کا نظریاتی نظام انہی شرعی اصولوں پر قائم ہے، نہ کہ سود کو حلال قرار دینے پر۔ اگر کسی کو اس کے عملی نفاذ پر علمی اشکال ہے تو اس پر دلیل کے ساتھ گفتگو کی جا سکتی ہے، مگر یہ کہنا کہ "علماء نے سود کو حلال کر دیا ہے" ایک غیر منصفانہ اور خلافِ حقیقت الزام ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بعض لوگ اسلام کے واضح احکام پر براہِ راست اعتراض نہیں کر سکتے، اس لیے وہ علماء کو نشانہ بنا کر دراصل انہی احکام پر اعتراض کرتے ہیں۔ اگر کسی فتویٰ سے اختلاف ہے تو اس کا جواب قرآن و سنت، فقہ اور دلیل سے دیا جائے، نہ کہ سوشل میڈیا پر طنز، تمسخر اور کردار کشی سے۔

آج دنیا "محدث تقی عثمانی” کے نام سے اس عظیم عالمِ دین کا احترام کر رہی ہے، جبکہ افسوس کہ اپنے ہی ملک میں بعض لوگ وقتی جذبات اور خواہشات کی بنیاد پر ان کی علمی خدمات کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔

اللہ تعالیٰ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کو صحت، عافیت اور درازیٔ عمر عطا فرمائے، اور ہمیں اپنے اکابر علماء کی قدر، علمی دیانت اور حق بات کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

کالم نگار : عمارخان یاسر
| | |
8