(+92) 319 4080233
کالم نگار

ادیب یوسفزئی

ادیب یوسفزئی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/12
موضوعات
سائیکل سوارپرنسپل
ڈاکٹر عالیہ رحمان صبح سویرے سائیکل پر بیٹھ کر لاہور کی سڑکوں پر نکلتی ہیں اور اپنے کالج پہنچ کر اپنے دن کا آغاز کرتی ہیں۔ کالج میں یہ بطور پرنسپل اپنے فرائض انجام دے رہی تھیں۔ اعلیٰ افسر اگر یوں مثالی کردار ادا کرے تو اسے رول ماڈل بنانے میں کیا ہی حرج ہے؟ عالیہ رحمان خان نے مثال قائم کی جس کی خوب پزیرائی ہوئی۔

گورنمنٹ محمڈن اینگلو کالج (ایم اے او کالج) کا شمار لاہور کے قدیم ترین تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ سنہ 1933 میں قائم ہونے والے اس کالج میں کبھی کوئی خاتون بطور پرنسپل تعینات نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر عالیہ رحمان خان وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے دہائیوں سے چلی آ رہی اس روایت کے برعکس ادارے میں پہلی خاتون پرنسپل ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

ڈاکٹر عالیہ رحمان نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹرز، جامعہ پنجاب سے ایم فل جبکہ آسٹریا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ان دنوں ڈاکٹر عالیہ رحمان اپنے ایک ایسے اقدام کے بعد زیر بحث آئی تھیں کہ جس کی بدولت وہ پاکستان میں مثبت تبدیلی لانا چاہتی ہیں۔ وہ کلین اینڈ گرین پاکستان سمیت خواتین کو خود مختار بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے اپنی تگ و دو طویل عرصے سے جاری رکھی ہوئی ہے۔ میں صبح قریباً 6 بجے ڈاکٹر عالیہ رحمان خان کے ہاں پہنچا تو موصوفہ ورزش کر کے چائے پی رہی تھیں. پورا دن ان کے ساتھ گزارا. میں نے آج تک کسی اعلیٰ عہدیدار کو اس قدر نفیس اور عاجز نہیں پایا. ڈاکٹر عالیہ رحمان کو اس وقت پاکستان بھر میں اس لیے سراہا جا رہا تھا کہ وہ اپنے گھر سے کالج تک کا سفر سائیکل پر طے کرتی ہیں تاکہ لاہور کو فضائی آلودگی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔

انہوں نے سائیکل سیکھنے کے متعلق بتایا کہ ان کے والد نے بچپن میں ہی انہیں سائیکل چلانا سکھا دیا تھا تاہم اسے مستقل ذریعہ سواری بنانے سے متعلق انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا، یوں وہ کافی عرصے تک گاڑیوں میں ہی سفر کرتی رہیں۔

وہ بتاتی ہیں ’جب میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے آسٹریا گئی تو میری یونیورسٹی اور گھر کے درمیان پانچ کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ پیدل جانے میں وقت زیادہ ضائع ہو جاتا تھا۔ اس لیے میں نے ٹرام سروس استعمال کرنا شروع کی۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرام سروس استعمال کرنے کے دوران وہ اپنے اردگرد کی خوبصورتی سے محظوظ نہیں ہو سکتی تھیں، اس لیے انہوں نے سائیکل خریدی اور یونیورسٹی آنے جانے کے لیے اس کا استعمال شروع کر دیا۔ 'تب سے مجھے سائیکل کی عادت ہو گئی ہے اور یہ میری زندگی کا اہم ترین حصہ بن گئی ہے۔‘

ڈاکٹر عالیہ رحمان سنہ 2005 میں آسٹریا سے فزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پاکستان واپس آ گئیں۔ سنہ 2008 میں انہوں نے ایم اے او کالج میں ملازمت شروع کی۔ اس وقت ان کے پاس ذاتی گاڑی بھی تھی لیکن وہ صرف دو کلاسز لینے کے لیے کالج آیا کرتی تھیں۔

مأخَذ

اردونیوز

کالم نگار : ادیب یوسفزئی
| | |
56