(+92) 319 4080233
کالم نگار

حکیم محمد نذیر احمد ،فاضل طب والجراحت

حکیم محمد نذیر احمد ،فاضل طب والجراحت

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/12
موضوعات
صحت مند اور مریض کے کھانے کے اصول
صحت مند اور مریض کیلئے کھانے پینے کے اصول مختلف ہیں ۔صحت مند شخص ہر چیز اپنے مناسب مقدار میں موسم کے لحاظ مناسب استعمال کرسکتے ہیں سردیوں میں مناسب گرم مشروبات اور خوراکیں گرمیوں میں ٹھنڈے مشروبات اور خوراکیں بلکہ دونوں مناسب مقدار میں لے سکتے ہیں ۔مگر کچھ لوگ مریض ہوتے ہیں بعض عارضی یا مستقل بیماریوں کے عوارض میں مبتلاء ہوتے ہیں تو انکو کچھ احتیاط گرم و سرد کا کرنا چاہیئے اور مقدار خوراک کا خیال رکھنا چاہیے۔اور امراض کے مناسبت سے غذا ایڈجسٹ کرنا ضروری ہے ۔

ایک شخص کھانسی اور بخار کے حالت میں بہت زیادہ ٹھنڈا پانی اور آئس کریم کولڈ ڈرنکس کا استعمال کرتا ہے تو کھانسی اور زکام بخار میں شدت آنا شروع ہوجاتا ہے لہذا اس کو ان خوراکوں کے بجائے سوپ قہوہ جات اور مناسب گرم خوراکوں کا استعمال کرنا مفید رہتا ہے یہ فطری اصول ہے ۔

اور بعض لوگ پیٹ کے مسائل کا سامنا کررہے ہوتے ہیں مثلاً پیچس لو لگنا یا آوں آنا گرمی دانے ہونا اور اسی قبیل گرم امراض سے سابقہ پڑتا ہے تو اس کو پکوڑے اچار چٹ پٹے اور مصالحہ دار خوراکیں کم کرنا چاہیئے انکو کچھڑی دلیا پھل فروٹ اور کیلے دہی کسی ستو سیب وغیرہ کا استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ اس وقت ان غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ تجربے سے ثابت ہیں کہ ان خوراکوں سے بہتری آجاتی ہے ۔

اب یہاں دو موضوعات ہیں کہ ایک طب کے رو سے ایک اصول کے تحت امراض پر تبصرہ کرنا اور اسکا حل پیش کرنا ہوتا ہے اور دوسرا انسانوں کے ساتھ پیش آمدہ حالات اور اسکے حل کیلئے تجربہ اور مشاہدے کے بنیاد پر ایک تصور پیش کرنا۔اس میں فرق یہ ہے کہ طب ایک باقاعدہ انسانی جسم کے تمام امور کو دیکھ کر اور مرض کے اسباب اور اسکے نوعیت اور شدت کے بعد اسکے حل کیلئے کوئی تجویز پیش کرتی ہے اور انسانی عام مشاہدات اور تجربات چونکہ باقاعدہ ایک اصول کے تحت نہیں ہوتے بس ان کے اپنے ذات کے ساتھ پیش آمدہ مسائل کے حل کیلئے ذاتی نوعیت کے تجربات ہوتے ہیں جس میں غلطیوں کا احتمال ہے ۔دوسرا پہلو مطلق کسی خوراک کے سردی گرمی خشکی تری اور مقدار کی تاثیر سے انکار بھی بلکل علم العلاج سے لاعلمی ہے کہ مختلف غذاؤں مشروبات پھل سبزیاں اور اناج اور ان میں مختلف ذائقے اپنے جُداگانہ ساخت اور رنگ شکل کے بنیاد پر انسانی جسم کو مختلف انداز سے متاثر نہیں کرتا یہ علم طب سے لاعلمی کا اظہار ہے ۔

طب قدیم کا دعویٰ ہے کہ تمام تر غذاؤں اور مشروبات پھل فروٹ میں قدرت نے بلکل مختلف اثرات اور مزاج اور جسم کے مختلف اعضاء کیلئے تقویت اور صحت بلکہ زندہ رہنے کا باعث بننے والے اجزاء رکھے ہیں اور صحت کا قیام میں مختلف اشیائے خوردونوش اپنے اندرونی اجزاء کے بنیاد پر خون اور مختلف اعضاء کے صحت اور توانائی کیلئے جسم کے نظام انہضام سے پراسیس ہوکر جزو بدن بنتے ہیں اور جسم کی زندگی اور توانائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔مختلف غذاؤں میں پائے جانے والے مختلف اجزاء خود اس بات پر دلیل ہے کہ انکے جسم پراثرات بھی مختلف ہوتے ہیں،مثلاً پروٹین کاربوہائیڈریٹس چکنائیاں وٹامنز منرلز،کیلشیم پوٹاشیم فاسفورس فائبر آئیوڈین آئرن زنک میگنیشیم وغیرہ غذاؤں میں مختلف تناسب سے پائے جاتے ہیں اب جب یہ جزو بدن بنتے ہیں تو یہ جسم پر اثر بھی جدا گانہ انداز سے کرتے ہیں اسی مختلف انداز سے جسم کو متاثر کرنے والے عمل کو طب قدیم مزاج سے تعبیر کرتا ہے ۔

یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص صرف پروٹین یا چکنائیاں کھائیں گے تو وہ اس کیلئے کافی ہونگے باقی ضروریات کو بھی پوری کرنے ہونگے نہیں تو یہ کمی بیشی ہوتی رہے تو جسم انسان پر اثر ہونا شروع ہوجاتا ہے اور وہ بیمار پڑ جاتا ہے اسی لئے طب قدیم بہت سارے دوسرے اسباب الامراض کے ساتھ غذائی عدم توازن کمی بیشی کو بھی ایک سبب مرض کا تصور پیش کرتی ہے ۔تو یہ ثابت ہوا کہ انسانی جسم اور خون کو مختلف اجزاء کی ضرورت ہے اور وہ ہمیں ان مختلف غذاؤں سے مہیا ہوتی ہیں جو ہم روزانہ کے بنیاد پر کھاتے رہتے ہیں ۔

کالم نگار : حکیم محمد نذیر احمد ،فاضل طب والجراحت
| | |
33