(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمدجنید

محمدجنید

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/12
موضوعات
بچوں کا غصہ
غصہ آنا بری بات نہیں، بلکہ غصے اور ریجیکشن (رد کیے جانے) کو سنبھال نہ پانا بچے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک والد کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ تین باتیں ضرور سکھائیں، تاکہ وہ اس چالاک معاشرے میں غصے اور ریجیکشن کی وجہ سے غلط فیصلے نہ کریں۔

`پہلی بات~`: بچوں کو بتائیں کہ غصہ آنا فطری بات ہے، لیکن اپنا کنٹرول کھو دینا غلطی ہے۔ انہیں سمجھائیں کہ چاہے وہ گیم ہار جائیں یا کوئی دوست ان کا مذاق اڑائے، اگر وہ چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں تو گویا انہوں نے اپنے دماغ کا ریموٹ کنٹرول دوسرے شخص کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ انہیں اپنا کنٹرول اپنے پاس رکھنا سیکھنا چاہیے۔

`دوسری بات`: لوگوں کا ریجیکشن آپ کی ویلیو کا تعین نہیں کرتا۔ اسکول کی کسی ٹیم میں منتخب نہ ہونا یا دوستوں کے کسی گروپ میں جگہ نہ بنا پانا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ بے وقعت ہیں۔ ریجیکشن زندگی کا ایک نارمل فیڈبیک ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں۔ اسے دل پر بوجھ بنانے کے بجائے اس سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔

`تیسری اور سب سے اہم بات:` بچوں کو بتائیں کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی بہترین تعلیم یہ ہے کہ جب غصہ قابو سے باہر ہونے لگے تو خاموشی اختیار کر لی جائے۔ افسوس کہ ہم نے لوگوں کو جواب دینا اور چھیڑنا طاقت سمجھ لیا ہے، حالانکہ اصل طاقت غصے میں خود پر قابو رکھنا ہے۔ انہیں سکھائیں کہ غصے میں فوراً جواب دینا دانشمندی نہیں، بلکہ خاموش ہو جانا یا جگہ بدل لینا حقیقی قوت کی نشانی ہے۔

اپنے بچوں کو صرف کامیابیوں سے لطف اندوز ہونا ہی نہ سکھائیں، بلکہ اپنے جذبات کو سنبھالنا بھی سکھائیں، کیونکہ زندگی میں کامیاب وہی ہوتا ہے جو اپنے جذبات پر قابو رکھنا جانتا ہو۔

کالم نگار : محمدجنید
| | |
43