(+92) 319 4080233
کالم نگار

نوید مسعود ہاشمی

نوید مسعود ہاشمی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/12
موضوعات
غزہ۔نئے سیاسی باب کی آہٹ
غزہ کی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے ، جس کے اثرات صرف فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، سفارت کاری اور انسانی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ فلسطینی میڈیا میں سامنے آنے والی حالیہ رپورٹس کے مطابق غزہ کی حکومتی نگرانی کرنے والی کمیٹی (لجنة متابعة العمل الحکومی)کے قائم مقام سربراہ اور ہنگامی حکومتی کمیٹی (لجنة الطواری الحکومیة)کے چیئرمین محمد عبد الخالق الفرا نے اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ ہنگامی کمیٹی کو بھی تحلیل کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ عمل مکمل طور پر طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھتا ہے تو اسے غزہ میں گزشتہ اٹھارہ برس کے انتظامی ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا سکتا ہے۔اس پیش رفت کو محض ایک انتظامی فیصلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ بظاہر یہ ایک ایسی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد غزہ میں حکمرانی کے موجودہ ماڈل کو تبدیل کرکے ایک نسبتاً وسیع البنیاد قومی انتظامی نظام کی راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب غزہ طویل جنگ، وسیع تباہی، شدید انسانی بحران اور بین الاقوامی سفارتی دبا کے دور سے گزر رہا ہے۔اس تبدیلی کی نوعیت کو سمجھنے کے لئے ماضی پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ 2006ء کے فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں حماس نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی تھی۔

تاہم انتخابات کے بعد فتح اور حماس کے درمیان اقتدار کی تقسیم پر اختلافات شدت اختیار کرتے گئے اور بالآخر جون 2007 ء میں غزہ کی پٹی کا مکمل انتظامی اور سکیورٹی کنٹرول حماس کے ہاتھ میں آ گیا، جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی حکومت برقرار رہی۔ یوں فلسطینی سیاست عملی طور پر دو مختلف انتظامی مراکز میں تقسیم ہوگئی۔اس تقسیم کے بعد اسرائیل نے غزہ پر سخت زمینی، فضائی اور بحری محاصرہ نافذ کیا، جس نے علاقے کی معیشت، بنیادی ڈھانچے اور روزمرہ زندگی کو گہرے بحران میں مبتلا کر دیا۔ انہی حالات میں حماس نے غزہ کے اندر اپنی انتظامی مشینری قائم کی، جس کے تحت وزارتیں، بلدیاتی ادارے، تعلیمی نظام، صحت کے مراکز اور دیگر سرکاری شعبے چلائے جاتے رہے۔ اگرچہ اس نظام کو اندرونی طور پر فعال رکھا گیا، لیکن اسے بین الاقوامی سطح پر مکمل سیاسی قبولیت حاصل نہ ہو سکی۔

گزشتہ برسوں میں جاری شدید جنگ نے اس پورے انتظامی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا۔ متعدد سرکاری عمارتیں، ہسپتال، تعلیمی ادارے اور بلدیاتی مراکز تباہ ہوئے جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ ایسے غیر معمولی حالات میں معمول کی حکومتی سرگرمیوں کو برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہو گیا، جس کے بعد ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے ایک خصوصی ایمرجنسی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی نے محدود وسائل کے باوجود امدادی سرگرمیوں، بے گھر افراد کی دیکھ بھال، طبی خدمات اور دیگر بنیادی انتظامی معاملات کو چلانے کی کوشش کی۔اب فلسطینی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسی ہنگامی انتظامی ڈھانچے کو ختم کرکے ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ غزہ کی آئندہ انتظامیہ ''اللجنة الوطنیة لادارة غزة'' یعنی غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کے سپرد کی جائے گی۔ اس مجوزہ ادارے کا مقصد مختلف فلسطینی سیاسی دھڑوں، قبائلی نمائندوں، سول سوسائٹی اور تکنیکی ماہرین کو ایک ایسے مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے جو روزمرہ حکومتی امور کو نسبتاً غیر سیاسی انداز میں چلا سکے۔

رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ اس منصوبے پر مختلف فلسطینی حلقوں سے مشاورت کی گئی ہے اور بعض مراحل اقوام متحدہ کے نمائندوں کی موجودگی میں طے پائے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے تمام تفصیلات آزاد ذرائع سے یکساں طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں، اس لئے ان دعوئوں کو احتیاط کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔اس مجوزہ تبدیلی کا ایک اہم پہلو یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ غزہ کے سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین اپنی ذمہ داریوں پر برقرار رہیں گے۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ وہ کسی ایک سیاسی جماعت کے بجائے ایک مشترکہ قومی انتظامی ڈھانچے کے ماتحت خدمات انجام دیں گے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو انتظامی تسلسل برقرار رہے گا اور عوام کو روزمرہ خدمات کی فراہمی میں کسی بڑے خلل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ پیش رفت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا حماس واقعی براہِ راست حکمرانی سے پیچھے ہٹ کر صرف ایک سیاسی قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے؟

کیا نئی قومی کمیٹی کو داخلی اور خارجی سطح پر وہ قبولیت مل سکے گی جو غزہ کی تعمیرِ نو کے لئے ضروری ہے؟ اور کیا اسرائیل، عرب ممالک، امریکہ اور دیگر عالمی قوتیں اس نئے انتظامی بندوبست کو عملی تعاون فراہم کریں گی؟حقیقت یہ ہے کہ غزہ اس وقت صرف سیاسی بحران کا شکار نہیں بلکہ ایک غیر معمولی انسانی المیے سے بھی دوچار ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے شدید متاثر ہیں جبکہ تعمیر نو کے لئے اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی انتظامی ڈھانچے کی کامیابی کا انحصار صرف اندرونی اتفاقِ رائے پر نہیں بلکہ بین الاقوامی تعاون، مالی وسائل اور سرحدی گزرگاہوں تک رسائی پر بھی ہوگا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے غزہ کی تعمیرِ نو اور انسانی امداد کا مسئلہ صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی تنازعات کی نذر ہوتا رہا ہے۔

مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے امداد فراہم کرنے کے لئے ایسے انتظامی نظام کے خواہاں رہے ہیں جسے وسیع تر بین الاقوامی قبولیت حاصل ہو۔ اگر نئی قومی کمیٹی واقعی ایک جامع اور غیر جانب دار انتظامی کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ امدادی سرگرمیوں، تعمیر نو کے منصوبوں اور بین الاقوامی تعاون کی راہ نسبتاً آسان ہو جائے۔ البتہ اس تمام منظرنامے میں سب سے بڑی رکاوٹ زمینی حقائق ہیں۔ جب تک جنگ بندی پائیدار نہیں بنتی، سرحدی گزرگاہوں پر مثر رسائی ممکن نہیں ہوتی اور تعمیراتی سامان و انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی یقینی نہیں بنتی، اس وقت تک کوئی بھی نیا انتظامی ماڈل اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام نہیں کر سکے گا۔دوسری جانب فلسطینی داخلی سیاست بھی اس تبدیلی کی کامیابی یا ناکامی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اگر مختلف سیاسی دھڑے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر مشترکہ قومی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں تو یہ اقدام فلسطینی وحدت کی جانب ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر پرانے اختلافات دوبارہ غالب آ گئے تو نیا انتظامی ڈھانچہ بھی سابقہ تجربات کی طرح مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔اس وقت دنیا کی نظریں غزہ پر مرکوز ہیں۔ اگر فلسطینی میڈیا میں سامنے آنے والی یہ اطلاعات عملی شکل اختیار کرتی ہیں تو آنے والے ہفتے اور مہینے نہ صرف غزہ بلکہ پورے فلسطینی سیاسی منظرنامے کے لئے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اصل امتحان اب نئی قومی کمیٹی کا نہیں بلکہ ان تمام علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کا بھی ہے جو برسوں سے غزہ میں سیاسی استحکام، انسانی امداد اور تعمیر نو کی حمایت کے دعوے کرتے آئے ہیں۔غزہ کے عوام نے جنگ، محاصرے، نقل مکانی اور تباہی کی ناقابلِ بیان قیمت ادا کی ہے۔ اب وہ صرف ایک نئے انتظامی ڈھانچے کے نہیں بلکہ امن، استحکام، تعمیر نو اور باوقار زندگی کے منتظر ہیں۔ اگر موجودہ سیاسی پیش رفت واقعی عملی نتائج میں تبدیل ہو جاتی ہے تو یہ صرف اقتدار کی منتقلی نہیں ہوگی بلکہ ایک ایسے نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے جس میں سیاسی مفاہمت، مثر حکمرانی اور انسانی بحالی کو پہلی ترجیح حاصل ہو۔

کالم نگار : نوید مسعود ہاشمی
| | |
26