(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سفیان بلند

مفتی سفیان بلند

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/11
موضوعات
بے ادبی، گستاخی اور اجتماعی زوال
کہیں کسی بزرگ کا یہ قول پڑھا کہ اگر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی شان میں نازیبا کلمات کہو گے تو سخت حالات کا سامنا کرنا پڑے گا، میں یہ سوچنے لگا کہ آپ تو اس دور کے ایک عظیم سادات گھرانے کے فرزند تھے، پھر جو لوگ حضرات صحابہ کرام، یعنی "فیض یافتگانِ صحبتِ نبوت"، اور ساداتِ عظام، یعنی "وابستگانِ خاندانِ نبوت"، رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں نازیبا لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں، بلکہ بعض اوقات گستاخی کی تمام حدیں پار کر جاتے ہیں، ان کے بارے میں کیا گمان کیا جائے؟

امیرِ تبلیغ حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے، "تم پر حالات تمہارے اعمال کی وجہ سے آتے ہیں، اگر تم بدعملی کرو گے تو آسمان سے پکڑ نازل ہوگی"، اسی طرح قطب العالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، مجددِ تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس دہلوی، اور امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہم اللہ، تینوں کے ملفوظات میں ایک بات مشترک ملتی ہے کہ "علمائے دین کی توہین کرنے والے کا چہرہ قبر میں قبلہ رخ سے پھیر دیا جاتا ہے"۔

آج المیہ یہ ہے کہ علماء کی توہین تو عام ہوگئی، اس سے بھی بڑھ کر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، جن میں ازواجِ مطہرات اور اولادِ اطہار بھی شامل ہیں، ان کی شان میں ایسی ایسی باتیں کہی اور لکھی جاتی ہیں کہ انہیں پڑھنا یا سننا بھی دشوار ہوجاتا ہے، معاذ اللہ، معاذ اللہ، "الأمان والحفیظ"۔

اگر ہم معاشی تنگیوں، عالمی بندشوں، داخلی انتشار اور اجتماعی بے برکتی سے نجات چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا، قرآن کریم کا یہ ارشاد اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے، ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ﴾، یعنی فساد اور بگاڑ انسانوں کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، لہذا اصلاحِ احوال کی ابتدا بھی اصلاحِ اخلاق، ادبِ اسلاف، احترامِ بزرگاں اور زبان کی حفاظت سے ہی ہوگی۔

کالم نگار : مفتی سفیان بلند
| | |
40     1