(+92) 319 4080233
کالم نگار

194- محمد عثمان انصاری

194- محمد عثمان انصاری

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/12
موضوعات
موجودہ حالات اور مسلمان کی ذمہ داریاں
ہر دور اپنے ساتھ کچھ آزمائشیں لے کر آتا ہے، مگر بعض ادوار ایسے ہوتے ہیں جن میں فتنوں کی کثرت، اقدار کا زوال، اور حق و باطل کی آمیزش انسان کے لیے حق کا راستہ پہچاننا مشکل بنا دیتی ہے۔ آج کا دور بھی انہی میں سے ایک ہے؛ دنیا ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے، مگر انسان کا دل بے سکون ہے، اس کی آنکھیں چمک رہی ہیں مگر روح اداس ہے۔ مادہ پرستی نے روحانیت کو کمزور کر دیا ہے، سوشل میڈیا نے معلومات تو عام کر دی ہیں، مگر تحقیق، دیانت اور برداشت جیسی قدریں دم توڑ رہی ہیں۔

امتِ مسلمہ بھی اس صورتِ حال سے الگ نہیں۔ باہمی اختلافات، فرقہ واریت، بے عملی، دین سے دوری، نوجوان نسل میں بے راہ روی، سود، رشوت، جھوٹ، بددیانتی اور بے حیائی جیسے مسائل ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہے ہیں، اور جب کوئی صاحبِ دل اس زوال کو محسوس کرتا ہے تو دل میں ایک ٹیس اٹھتی ہے، ایک بے چینی جنم لیتی ہے جو چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ اکثر لوگ صرف حکمرانوں، سیاست دانوں یا معاشرتی نظام کو قصوروار ٹھہراتے ہیں، لیکن قرآنِ کریم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتی جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے۔

اسلام کا مزاج یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز فرد سے ہوتا ہے۔ جب فرد اپنے عقیدے، عبادات، اخلاق اور معاملات کو درست کرتا ہے تو اس کے اثرات خاندان، معاشرے اور پھر پوری قوم تک پہنچتے ہیں۔ یہی وہ اصول ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنی مبارک زندگی میں عملاً نافذ فرمایا، اور یہی وہ محبت بھری راہ ہے جس پر چل کر ایک عام انسان بھی اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد کو بدل سکتا ہے۔

آج ہمیں دل تھام کر یہ سوچنے کی ضرورت ہے: کیا ہماری نمازیں ہمیں برائیوں سے روک رہی ہیں؟ کیا ہمارے کاروبار دیانت داری پر قائم ہیں؟ کیا ہماری زبان جھوٹ، غیبت اور بہتان سے محفوظ ہے؟ کیا ہمارے گھروں میں قرآن کی تلاوت اور دینی تعلیم کی خوشبو موجود ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو دل پر ہاتھ رکھ کر، بغیر کسی بہانے کے، ہمیں دوسروں سے پہلے اپنا احتساب کرنا ہوگا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذبات کے بجائے علم کو، اختلاف کے بجائے اتحاد کو، نفرت کے بجائے خیر خواہی کو، اور رسموں کے بجائے سنت کو اپنائیں۔ اگر ہر مسلمان اپنے کردار کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کا عزم کر لے تو معاشرے کی بہت سی خرابیاں، جو آج ناقابلِ حل معلوم ہوتی ہیں، خود بخود ختم ہونا شروع ہو جائیں گی۔

آج امت کو نئے نعروں سے زیادہ نئے کردار کی ضرورت ہے: ایسے کردار کی جو امانت، دیانت، عدل، رحم، اخلاص اور تقویٰ کا آئینہ دار ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو انفرادی اصلاح سے اجتماعی اصلاح کی طرف لے جاتا ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جس کی آج کے پُرآشوب دور میں، جب دل بھٹک رہے ہیں اور راستے دھندلے ہیں، سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے، اس پر عمل کرنے، باطل سے بچنے، قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنے، اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

کالم نگار : 194- محمد عثمان انصاری
| | |
48