(+92) 319 4080233
کالم نگار

-آفاق نقشبندی

-آفاق نقشبندی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/12
موضوعات
حج کے بعد زندگی
حج اسلام کے بنیادی ارکان میں ایک نہایت عظیم رکن ہے۔ یہ صرف چند عبادات کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی تربیت گاہ ہے جہاں بندہ اپنے رب تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرتا ہے اور اپنی زندگی کو نئی سمت دینے کا عہد کرتا ہے۔ بیت اللہ شریف کی حاضری، مقدس مقامات پر قیام، طواف، سعی، وقوفِ عرفہ اور دیگر مناسک انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے سامنے عاجزی، اطاعت اور بندگی کا جذبہ مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی روحانی کیفیت ہے جو انسان کے باطن کو اندر سے جھنجھوڑ کر اسے گناہوں سے دور اور نیکی کی طرف لے کر کرتی ہے۔ حج کا اصل مقصد یہی ہے کہ انسان اپنے اندر ایسا مثبت انقلاب پیدا کرے جو اس کی پوری زندگی میں نمایاں اور واضح نظر آئے۔ جب ایک مسلماان ایمان و یقین کے ساتھ یہ مبارک سفر مکمل کرتا ہے تو اس کے دل میں تقویٰ، اخلاص، صبر اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی تڑپ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اگر یہ اثرات مستقل رہیں تو حج کی برکتیں زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دینے لگتی ہیں۔

اس مقدس فریضے کی ادائیگی کے بعد ضروری ہے کہ آدمی اپنے کردار اور معمولات کا جائزہ لیتاا رہے۔ عبادات میں پابندی، اخلاق میں نرمی، معاملات میں دیانت، زبان کی حفاظت اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی اس تبدیلی کا عملی ثبوت ہیں۔ اگر حج کے بعد بھی زندگی پہلے جیسی ہی رہے اور انسان اپنی پرانی کوتاہیوں کی طرف لوٹ جائے تو وہ اس عظیم تربیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ حج انسان کو نئی زندگی عطا کرنے کا پیغام دیتا ہے۔ حاجی کو چاہیے کہ وہ اس سفر کی روحانی کیفیت کو ہمیشہ تازہ رکھے، ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضاا کو مقدم سمجھے اور اپنے عمل سے دوسروں کے لیے بھی نیکی کی مثال بنے۔ یہی وہ راستہ ہے جو حج کی قبولیت کی علامت اور اس کے حقیقی ثمرات کو ظاہر کرتا ہے۔

مؤرخ اسلام حضرت مولانا قاضی اطہر مبارک پوری فرماتے ہیں: احتساب کیجیے کہ آپ کا حج کس قسم کا ہے، مالدار بھی سوچیں کہ انہوں نے حقیقی معنوں میں حج کیا ہے یا سیر وتفریح کے نام پر، روپیہ پیسہ کے بل بوتے پر ایک لمبا چوڑا سفر کر ڈالا، متوسط درجے کے لوگ بھی غور کریں کہ انہوں نے اس مقدس سفر میں خرید و فرخت اور تجارت کا کام دھنداا ہی کیا ہے یا حج و مناسک کی دینی روح کے ساتھ اسے ادا کیا ہے۔ لکھے پڑھے اور علماء کی جماعت کو بھی احتساب کرنا چاہیے کہ انہوں نے اس مبارک موقع پر اپنی شہرت کے لیے کیا کچھ کیا ہے، اور اللہ و رسول کے لیے کتنا کچھ کیا ہے؟ سفر کرنے والوں کے لیے آج ہر آسائش موجود ہے، جیسے سفر کرنا چاہیں کرسکتے ہیں۔ لیکن حج کے سفر سے آپ کیا لے کر لوٹے، کیا کھویا کیا پایا؟

قاسم العلوم والخیرات، حجۃ اللہ فی الارض حضرت مولانا قاسم نانوتوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حجر اسود کسوٹی ہے۔ اس کے چھونے سے انسان کی اصل حالت ظاہر ہوتی ہے۔ اگر واقعی فطرتی طور پر نیک صالح ہوا تو حج کے بعد نیک اعمال کا غلبہ اس پر ہوگا، اور اگر فطرتاً طالع ہوا، محض بناوٹ سے نیک بنا ہوا ہے تو حج کے بعد اس پر برے اعمال کا ہی غلبہ رہے گا۔ اسی ملفوظ کو نقل کرکے حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ حاجی کو حج کے زمانے میں اللہ تعالیٰ سے اپنے اصلاح حال کی خوب دعائیں کرنی چاہیے، دل سے اعمال صالحہ کے شوق کی دعا کرے اور حج کے بعد اعمال صالحہ کا خوب اہتمام کرے۔ (اصلاح ظاہر 161)

مشائخ کرام نے حج کی قبولیت کی علامات میں ایک یہ بھی نشانی بیان فرمائی ہے کہ حج سے واپس آکر بندے کے اعمال سنورے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ پہلے جیسے عبادات کا اہتمام کرتا تھا، اب اس سے بڑھ کر خیال رکھتا ہے۔ گناہ گاری والی زندگی سے جیسے پہلے بچتا تھا اب اس سے کہیں زیادہ کوشش کرنے لگا ہوگا، تاکہ کوئی گناہ سر زد نہ ہوجائے۔ کسی میں اگر ایسی باتیں پائی جائیں تو اللہ تعالیٰ سے امید قوی ہے کہ اس کا حج مقبول ہوگا۔ لہذا اگر کوئی حج پہ تشریف لے جائے، اور وہاں کے مبارک ماحول والے اثرات اس پر پڑیں تو انہیں ان اثرات کی خوب حفاظت کرنی چاہیے۔ یہ اثرات تقوی کی علامات ہیں، ان کی حفاظت اب الگ سے بندے پر ایک طرح کا فرض ہے۔

ایک بندہ جب حج سے واپس آتا ہے تو وہ ناصرف اپنے لیے بارگاہ الٰہی سے مغفرت و بخشش لے کر آتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ اس پہ مزید یہ فضل فرماتے ہیں کہ تمام وہ مسلمان جو ابھی اس مبارک حاضری کا شرف حاصل نہیں کرسکے، تو حاجی ان کے لیے دعا کرتے ہیں اور اس دعا کی قبولیت کی بہت امید کی جاتی ہے۔ حج کرنے والے کی اس فضیلت کے پیش نظر ہمیشہ حجاج کرام کی واپسی پر اہل اسلام ان کا عقیدت و احترام سے استقبال بھی کرتے ہیں اور دعا بھی کرواتے ہیں۔

حج سے واپسی پر اگر آپ اس نعمت عظمیٰ سے مالا مال ہیں کہ آپ اپنی عبادات میں لذت محسوس کرتے ہیں، آپ اعمال کو پہلے سے زیادہ بہتر سمجھ رہے ہیں، آپ کو اپنے معاملات سنورے ہوئے معلوم ہورہے ہیں اور آپ تمام گناہوں سے بچ کر اللہ تعالیٰ کی مان کر چلنے لگے ہیں تو یہ نہایت شکر کا مقام ہے۔ اس پر جتنی شکر گزاری کی جائے کم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر شکر کرو گے تو میں اصافہ کروں گا۔ لہذا اس عظیم نعمت پہ آپ شکر گزار رہیں گے تو آپ کی نیکی اور تقویٰ کا جذبہ مزید بڑھا دیا جائے گا۔ گناہ کم سے کم ہوں گے یا بالکل ہی چھوٹ جائیں گے۔ آخری بات یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ آپ کو ایسے آثار نظر آرہے ہیں کہ جن سے حج کے قبول نہ ہونے کا گمان ہو تو بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت و شفقت سے ناامید ہونا ایک مسلمان کے لئے، بالخصوص حج سے واپس آنے والے کی شایانِ شان نہیں ہے۔ از خود ہمت و حوصلے سے عبادات کو بجا لائیں، اللہ تعالیٰ سے ہر طرح کی معافی کے خواستگار ہوں اور نیکی کی راہ پہ چلتے چلے جائیں۔ کیونکہ انسان سے اگر کوئی غلطی ہو بھی جائے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے صرف ندامت کے دو آنسو چاہیے، ندامت و شرمندگی والا چہرہ ہی کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ مہربان ہوجائے گا۔

بارگاہ لم یزل میں دعاگو ہیں کہ وہ حجاج کرام کا یہ مبارک سفر قبول فرمائے۔ اور تمام امت مسلمہ کو بار بار اس مقدس سفر کے ساتھ برکتوں والی حاضری نصیب فرمائے آمین یارب العالمین!

کالم نگار : -آفاق نقشبندی
| | |
60     0