وقت کا بے رحم اور خاموش پہیہ جب صدیوں کا طویل، کٹھن اور پرپیچ سفر طے کر کے حال کے دروازے پر دستک دیتا ہے، تو وہ اپنے ساتھ محض گزرے ہوئے زمانوں کی اڑتی ہوئی دھول یا پرانی عمارتوں کے کھنڈرات نہیں لاتا، بلکہ وہ ان تمام اجتماعی فیصلوں، سیاسی لغزشوں، تہذیبی رویوں اور فکری انحرافات کا ایک پورا، بے لاگ اور شفاف حساب بھی لاتا ہے جو کسی قوم نے اپنے ماضی کے اوراق میں درج کیے ہوتے ہیں۔
تاریخ کوئی مردہ لاش نہیں جسے دفنا دیا جائے، بلکہ یہ ایک زندہ حقیقت ہے جو قوموں کے حال اور مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔
چودہ سو سال کے اس طویل، خونی، پیچیدہ اور حیرت انگیز تاریخی سفر کا جب ہم آج کی اکیسویں صدی میں بیٹھ کر ایک پرسکون، غیر جانبدار، جذباتی وابستگیوں سے آزاد اور خالص عقلی زاویے سے جائزہ لیتے ہیں، تو ایک درد مند دل سے ایک ہی طویل آہ نکلتی ہے کہ جس عظیم امت کو عالمِ وجود میں بھٹکتے ہوئے انسانوں کی رہنمائی، اندھیروں کو مٹانے اور توحید کا پرچم بلند کرنے کے لیے ایک 'امتِ وسط' بنا کر بھیجا گیا تھا، وہ آج تک اپنے ہی ماضی کے خونی غاروں اور نفسیاتی الجھنوں میں بھٹک رہی ہے۔
یہ ہمارا کیسا المیہ ہے کہ ہم آج بھی ان خیموں کی راکھ کو کرید کر اپنے سینے پیٹ رہے ہیں جو صدیوں پہلے جل کر خاکستر ہو چکے، ہم آج بھی اپنے ذہنوں کی بھٹیوں میں ان تلواروں کی دھار تیز کر رہے ہیں جنہیں میان میں رکھے ہوئے زمانوں بیت گئے، اور ہم آج بھی ان خالص سیاسی اختلافات کو اپنے ایمان، کفر اور نجات کا حتمی پیمانہ بنائے بیٹھے ہیں جن کا فیصلہ اللہ رب العزت کے دربار میں کب کا ہو چکا ہے۔
اس بیسویں اور آخری قسط میں، جو کہ اس پوری تحقیقی سیریز کا گرینڈ فینالے ہے، ہم تاریخ کے ان بکھرے ہوئے، خون آلود اور متنازعہ اوراق کو سمیٹ کر ایک ایسا فکری، شعوری اور منطقی آئینہ تراشنے کی بھرپور کوشش کریں گے جس میں نہ صرف ہمیں اپنے ماضی کی غلطیاں اور کوتاہیاں بالکل شفاف نظر آئیں گی، بلکہ ہماری موجودہ اور بالخصوص آنے والی نوجوان نسلوں کے لیے ایک ایسا روشن، مدلل اور قابلِ عمل روڈمیپ بھی وضع ہوگا جو انہیں ان مسلکی، گروہی اور فرقہ وارانہ زنجیروں سے ہمیشہ کے لیے آزاد کر دے گا جنہوں نے ہماری اجتماعی سوچ کو مفلوج کر رکھا ہے۔
اس امت میں بگاڑ، تفریق اور انتشار کا آغاز اس دن ہرگز نہیں ہوا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس فانی دنیا سے پردہ فرما گئے تھے۔ اس کٹھن، دلخراش اور صدمے سے بھرپور لمحے میں، جب عام مسلمانوں کے ہوش اڑ چکے تھے اور مدینہ کی فضاؤں پر ایک ناقابلِ بیان اداسی کا غلبہ تھا، تب سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے جس کمالِ تدبر، غیر معمولی سیاسی فراست، جذبات پر قابو اور ایمانی پختگی سے کام لیتے ہوئے امت کو بکھرنے سے بچایا، وہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا سنہرا باب ہے جس کی نظیر ملنا ناممکن ہے۔ ثقیفہ بنی ساعدہ کا وہ مشہورِ زمانہ مباحثہ، جسے بعد میں آنے والی بعض متعصب، رافضی اور خاندانی بادشاہتوں کی پروردہ ذہنیتوں نے ایک سوچی سمجھی 'سازش' یا غصبِ خلافت کا نام دے کر متنازعہ بنانے کی مذموم کوشش کی، دراصل اسلام کے شورائی، جمہوری اور میرٹ پر مبنی نظام کی سب سے بڑی، کھلی اور شفاف دلیل تھی۔
وہاں کوئی تلواریں نہیں چلی تھیں، کوئی خون نہیں بہا تھا، بلکہ وہاں انصار اور مہاجرین نے کمال درجے کے سیاسی اور عقلی مکالمے کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر وہ متفقہ اور غیر متزلزل اجماع کیا جس نے بعد ازاں فتنہِ ارتداد (نبوت کے جھوٹے دعویداروں اور زکوٰۃ کے منکرین) کے اس ہولناک طوفان کا منہ موڑ دیا جو اسلام کے وجود کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کے لیے اٹھا تھا۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے شاندار اور جلال والے دور میں اس شورائی نظام نے ایک باقاعدہ فلاحی، ادارہ جاتی اور مستحکم ریاستی شکل اختیار کی، جہاں احتساب، مساوات اور عدل کا وہ بے مثال معیار قائم ہوا جس کی نظیر پیش کرنے سے آج کا جدید ترین اور نام نہاد مہذب مغربی سیاسی نظام بھی مکمل طور پر قاصر ہے۔
مگر تاریخ کا یہ بے رحم پہیہ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں داخل ہوا، تو عمرانیات کا ایک نیا پہلو سامنے آیا۔ جہاں ایک طرف اسلامی سلطنت کی سرحدیں ایران، روم اور افریقہ تک پھیل کر دنیا کے وسائل کو سمیٹ رہی تھیں، وہیں اندرونی طور پر اس بے پناہ دولت اور نئے مفتوحہ علاقوں کی وجہ سے کچھ ایسے انتظامی، طبقاتی اور قبائلی چیلنجز نے سر اٹھانا شروع کیا جنہیں عجمی سازشوں، منافقین کی درپردہ محفلوں، اور عبداللہ بن سبا جیسے شاطر، مکار اور منافق کرداروں نے ایک باقاعدہ خونی بغاوت میں بدل دیا۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا وہ دردناک محاصرہ، ان کا بھوکے پیاسے رہنا، اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے ان کی مظلومانہ شہادت، دراصل اسلامی تاریخ کے اس شفاف شیشے میں پڑنے والی وہ پہلی اور سب سے گہری دراڑ تھی جس نے امت کے اجتماعی اتحاد کو ہمیشہ کے لیے توڑ کر رکھ دیا۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے اس خونِ ناحق نے امت کو ایک ایسی خوفناک، اندھی اور پیچیدہ خانہ جنگی میں دھکیل دیا جس کا براہِ راست اور کٹھن سامنا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو اپنے دورِ خلافت میں کرنا پڑا۔ ایک طرف قصاصِ عثمان کا وہ بے پناہ جذباتی، قبائلی اور بظاہر شرعی مطالبہ تھا جس نے ام المومنین سیدہ عائشہ، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی جلیل القدر، پاکدامن اور عشرہ مبشرہ ہستیوں کو بے ساختہ میدانِ جمل میں لا کھڑا کیا، تو دوسری طرف شام میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وہ مضبوط، منظم اور عسکری سیاسی مزاحمت تھی جس نے تاریخ کی ایک اور خونریز جنگ، یعنی جنگِ صفین کو جنم دیا۔ اس انتہائی نازک اور فہم طلب مقام پر سلف صالحین اور محدثین کا وہ کڑا، دیانتدارانہ اور اعتدال پسند منہج ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ان مشاجراتِ صحابہ (باہمی اختلافات اور جنگوں) میں ہم نے کسی ایک کو کلی طور پر حق پر اور دوسرے کو باطل، غاصب یا کافر قرار دینے کا وہ گمراہ کن، سطحی اور جذباتی راستہ ہرگز نہیں اپنانا جو خارجیوں اور رافضیوں نے اپنایا اور جس کی وجہ سے وہ دین سے ہی خارج ہو گئے۔
یہ سب جلیل القدر ہستیاں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے براہِ راست تربیت یافتہ شاگرد تھے؛ ان کا مقصد اقتدار کی کوئی ذاتی ہوس یا کرسی کا لالچ نہیں تھا، بلکہ وہ سب اپنے اپنے خالص اجتہاد کے مطابق حق اور دین کا دفاع کر رہے تھے۔ خطائے اجتہادی پر بھی انہیں اجر ملے گا، اور یہی ایک سنی اور سلفی کا متوازن عقیدہ ہے۔
جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی المناک شہادت کے بعد ان کے عظیم فرزند سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے اقتدار سے دستبردار ہو کر اپنی عظیم الشان قربانی اور صلح کے ذریعے مسلمانوں کے اس خونی باب کو بند کیا، تو امت ایک بار پھر متحد ہو گئی اور اس سال کو 'عام الجماعۃ' (اتحاد کا سال) کہا گیا۔ مگر یہ ظاہری اتحاد خلافتِ راشدہ کے اس شفاف شورائی نظام کی بہت بڑی قیمت پر آیا تھا، جو اب دھیرے دھیرے، مگر یقینی طور پر، ملوکیت، بادشاہت اور خاندانی وراثت میں تبدیل ہو رہا تھا۔
تاریخ کا وہ انتہائی سنگین، تاریک اور کٹھن ترین موڑ، جہاں سے امت کی اس نظریاتی تقسیم نے ایک ناقابلِ واپسی اور مستقل شکل اختیار کی، وہ یزید کی نامزدگی اور اس کے نتیجے میں ہونے والا سانحہِ کربلا تھا۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی وہ عظیم جدوجہد کسی دنیاوی کرسی کے حصول، اقتدار کی ہوس یا محض کسی ذاتی عناد کی جنگ نہیں تھی، بلکہ وہ یزید کی صورت میں مسلط ہونے والی ملوکیت، ریاستی جبر اور غیر شرعی بادشاہت کے خلاف اسلام کی خالص، الہامی اور جمہوری روح کا وہ آخری اور عظیم دفاع تھا جسے انہوں نے اور ان کے اہلِ خانہ نے کربلا کی تپتی ریت پر اپنے خون سے سرخرو کیا۔
مگر کربلا کے بعد جو کچھ اس امت کے ساتھ ہوا، اس نے تاریخ کو ایک نئے، ہولناک اور مسلکی زاویے سے موڑ دیا۔
یزید کی موت، اس کے بعد واقعہِ حرہ میں مدینہِ منورہ کی بدترین پامالی، مکہ مکرمہ پر حجاج بن یوسف کی سفاکانہ بمباری اور خانہ کعبہ کے غلاف کا جلنا، اور پھر خلیفہِ برحق سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بے دردی سے شہادت نے یہ ثابت کر دیا کہ اب اقتدار شوریٰ، تقویٰ یا عوام کی مرضی سے نہیں بلکہ صرف اور صرف طاقت کی نوک، تلوار کے زور اور خوف کے ذریعے قائم رہے گا۔
جب سیاسی مزاحمت کو بے دردی سے کچل دیا گیا، تو انسانی نفسیات کا ایک معروف اصول حرکت میں آیا کہ جبر ہمیشہ ایک خطرناک ردعمل کو جنم دیتا ہے۔
اسی ردعمل کی نفسیات میں سے مختار ثقفی جیسے شاطر، کذاب اور موقع پرست کرداروں نے جنم لیا، جنہوں نے اہلِ بیت کی محبت اور قصاصِ حسین کے انتہائی دلکش، جذباتی اور مقبولِ عام نعرے کو ہائی جیک کر کے امت کے عقائد میں بگاڑ کی باقاعدہ بنیاد رکھی۔
یہ وہی تاریخی اور عبوری دور تھا جہاں سے 'ش*ی*ع*ا*نِ علی' جو کہ ابتدا میں محض ایک سیاسی کیمپ تھا (جن کا ماننا تھا کہ خلافت پر علی کا حق پہلے ہے)، آہستہ آہستہ غالی راویوں، ابنِ سبا کے پیروکاروں اور عجمی اثرات کے زیرِ سایہ ایک باقاعدہ مذہبی، الہامی اور الگ فرقے میں ڈھلنا شروع ہوا۔
بعد کی صدیوں میں، جب چوتھی صدی ہجری میں آلِ بویہ نے بغداد کے کمزور عباسی خلیفہ پر قبضہ کیا اور پھر سولہویں صدی میں ایران میں شاہ اسماعیل نے صفوی سلطنت قائم کی، تو اس عقائدی بگاڑ کو ایک نیا عروج ملا۔ ماتم، زنجیر زنی، صحابہ پر تبرا اور عیدِ غدیر جیسی عجمی رسومات کو باقاعدہ ریاستی سرپرستی، جبر اور خونریزی کے ذریعے نافذ کر کے انہیں دین کا لازمی حصہ بنا دیا گیا۔
ایک خالص اور توحید پر مبنی دین، جس کا کام دلوں کو جوڑنا، انسانوں کو مساوات کا درس دینا اور ایک زندہ خدا کی پہچان کروانا تھا، اسے سالانہ سوگ، لعن طعن اور تاریخی ماتم کا ایک مستقل ادارہ بنا دیا گیا جس کے اثرات آج بھی ہمارے گلی کوچوں میں نمایاں ہیں۔
اب جبکہ ہم نے تاریخ کے اس پورے وسیع، پیچیدہ اور خونی کینوس کو کھول کر اپنے سامنے رکھ لیا ہے، تو آج کا سب سے بڑا، سلگتا ہوا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم، بحیثیت ایک امت، اس فرقہ وارانہ دلدل سے نکلیں کیسے؟
ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے وہ کون سا فکری روڈمیپ ہے جو انہیں اس 1400 سالہ پرانی خونریزی، مسلکی منافرت اور گروہی نفرتوں سے نجات دلا سکتا ہے؟
اس کا سب سے پہلا، اہم اور بنیادی قدم یہ ہے کہ ہمیں 'دین' (Religion) اور 'تاریخ' (History) کے درمیان موجود اس بہت بڑے، واضح اور اصولی فرق کو اپنے شعور کی گہرائیوں میں سمجھنا اور تسلیم کرنا ہوگا۔ یہ ایک ایسا فرق ہے جسے سمجھے بغیر ہم کبھی بھی فکری ارتقاء حاصل نہیں کر سکتے۔
دین وہ ہے جو غارِ حرا کی پہلی وحی سے شروع ہوا اور حجۃ الوداع کے کھلے میدان میں "اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ" (آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا) کی الہامی مہر کے ساتھ ہمیشہ کے لیے مکمل ہو گیا۔ دین میں کوئی نقص نہیں، کوئی کمی نہیں، کوئی ابہام نہیں، اور اس میں کوئی فرقہ وارانہ اختلاف نہیں۔
اس کے برعکس، تاریخ ان انسانوں کے اعمال کا نام ہے جنہوں نے اس دین پر عمل کرنے کی کوشش کی یا اس کے نام پر ریاستیں بنائیں۔ تاریخ میں فتوحات بھی ہیں اور بدترین شکستیں بھی، اس میں بے مثال عدل بھی ہے اور دل دہلا دینے والا ظلم بھی، اس میں اخوت و اتحاد بھی ہے اور خونی خانہ جنگیاں بھی۔
ہمارا سب سے بڑا علمی اور فکری المیہ یہ رہا ہے کہ ہم نے تاریخ کے ان انسانی اعمال کو اٹھا کر اپنے عقیدے کے خانے میں رکھ دیا ہے۔ ہم نے صدیوں پرانے خالص سیاسی جھگڑوں کو، جن میں اقتدار، زمین، وسائل اور قبائلی مفادات شامل تھے، مذہب اور شریعت کا درجہ دے دیا ہے۔ جب تک ہم تاریخ کو ایک عمرانی اور سیاسی واقعے کے طور پر نہیں پڑھیں گے، اور اسے اپنے ایمان، کفر اور آخرت کی نجات کا پیمانہ بنانے سے باز نہیں آئیں گے، ہم کبھی بھی اس فرقہ واریت کی آگ کو نہیں بجھا سکتے۔ تاریخ کو عبرت کے لیے پڑھیں، عقیدے کے لیے نہیں۔
ہمارا یہ فکری روڈمیپ ہمیں اس بات کا سختی سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیتِ اطہار کے حوالے سے ایک انتہائی متوازن، پروقار، محبت اور ادب پر مبنی رویہ اختیار کریں۔
قرآنِ مجید نے سورۃ الحشر کی آیت 10 میں ہمیں وہ سنہرا، ابدی اور الہامی اصول دے دیا ہے کہ جو لوگ مہاجرین اور انصار کے بعد اس دنیا میں آئے، ان کی دعا یہ ہونی چاہیے کہ
"اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے، اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ۔"
یہ ایک قرآنی اصول ہر اس مسلکی اور غالی بیانیے کو جڑ سے کاٹ کر پھینک دیتا ہے جو صحابہ کرام پر تنقید، تبرا یا طعن و تشنیع کو دین کا حصہ سمجھتا ہے۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ، جنہیں عموماً لاعلمی یا غلط فہمی کی بنا پر بہت سخت گیر یا اہلِ بیت کا مخالف سمجھا جاتا ہے، وہ اپنی شہرہ آفاق اور شاہکار کتاب میں سلف صالحین کا یہ متفقہ منہج بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
"جو کچھ صحابہ کرام کے درمیان اختلافات، جنگیں یا مشاجرات ہوئے، ان میں ہمارے لیے سب سے بہتر اور محفوظ راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی زبانوں کو ان کے خون سے اسی طرح پاک رکھیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو ان کے خون سے پاک رکھا ہے۔" (بحوالہ: کتاب 'منہاج السنۃ النبویہ'، مصنف: شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ، جلد 2، صفحہ 22)۔
اس مستند ترین اور چشم کشا حوالے کا مقصد یہ ہے کہ ہم تاریخ کا تجزیہ تو ضرور کریں، حقائق کو کھوجیں، ظالم اور مظلوم کی پہچان بھی کریں، مگر کسی صحابی کی نیت پر حملہ نہ کریں اور نہ ہی انہیں دائرہِ اسلام سے خارج کرنے کی وہ جسارت کریں جو ہمارے ایمان کو ہی غارت کر دے۔
اسی طرح، ہمیں اپنے عقیدے کو اس غلو، مبالغہ آرائی اور دیومالائی سوچ سے بھی مکمل طور پر پاک کرنا ہوگا جس نے اہلِ بیت کی سچی اور خالص محبت کو ایک عجمی شکل دے دی ہے۔
اہلِ بیت کا احترام اور ان سے قلبی لگاؤ ہمارے ایمان کا لازمی جزو ہے؛ سیدنا علی کی شجاعت، سیدہ فاطمہ کی پاکدامنی، سیدنا حسن کا تدبر اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کی استقامت سے محبت کے بغیر کسی بھی سنی اور سلفی کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔
مگر اس محبت اور عقیدت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم انہیں بشریت کے درجے سے نکال کر الوہیت یا عصمت کے اس مافوق الفطرت مقام پر بٹھا دیں جو صرف اور صرف انبیاء علیہم السلام کا خاصہ ہے۔
ہمیں یہ شعور بیدار کرنا ہوگا کہ ماتم کرنا، سینہ کوبی کرنا، زنجیروں سے اپنے جسموں کو لہولہان کرنا اور نوحے پڑھنا اسلام کی الہامی تعلیمات نہیں ہیں، بلکہ یہ عجمی ثقافت اور صفوی دور کی وہ سیاہ سیاسی باقیات ہیں جنہیں دین اور ثواب کے نام پر ہماری نسلوں کے ذہنوں میں انجیکٹ کیا گیا ہے۔
جب تک ہم ان ثقافتی ملاوٹوں کو شعوری طور پر رد کر کے خالص قرآن اور سنت کے اس چشمے کی طرف نہیں لوٹیں گے، ہم دنیا کو اسلام کا وہ پرامن، عقلی اور آفاقی چہرہ کبھی نہیں دکھا سکتے جس کی آج عالمِ انسانیت کو اشد ضرورت ہے۔موجودہ دور کے نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کے لیے میرا یہ حتمی پیغام اور واضح روڈمیپ ہے کہ خدارا اپنے ذہنوں کو ان جذباتی فتاویٰ، پرشور مجالس اور مسلکی منبروں سے آزاد کریں جو آپ کو 1400 سال پرانی نفرتیں بیچ کر اپنا کاروبار چمکا رہے ہیں۔ آج کا باشعور اور پڑھا لکھا نوجوان جب مسجد اور امام بارگاہ کے لاؤڈ اسپیکروں سے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے اور تاریخ کی گالیاں سنتا ہے، تو وہ ان دونوں کو چھوڑ کر الحاد، سیکولرزم اور لادینیت کی تاریک راہوں کی طرف بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
وہ بجا طور پر یہ سوال کرتا ہے کہ جو مذہب اپنے ماننے والوں کو آج تک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا نہیں کر سکا، وہ دنیا کی معیشت، سائنس اور سماجیات کے مسائل کیا حل کرے گا؟ ہمیں اس الجھن کو، اس منافقت کو ختم کرنا ہوگا۔
علمِ اسماء الرجال اور محدثین کے اس کڑے اور شفاف پیمانے کو اپنائیں جو ہر سنی سنائی بات، ہر جھوٹی اور ضعیف روایت اور ہر جذباتی کہانی کو اپنی تنقیدی چھلنی سے گزار کر صرف وہ سچ سامنے لاتا ہے جس کی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے ثقہ راویوں تک متصل پہنچتی ہو۔ اندھی عقیدت اور سنی سنائی باتوں کے بجائے علمی استدلال، تحقیق اور کتب بینی کو اپنا رہبر بنائیں۔ہمیشہ یاد رکھیں اور اپنے ذہنوں میں نقش کر لیں!
اللہ تعالیٰ ہم سے قیامت کے دن یہ نہیں پوچھے گا کہ جنگِ جمل میں کون حق پر تھا، جنگِ صفین میں تم کس کے حامی تھے، اور تم نے محرم میں کس کا ماتم کیا تھا؟
اللہ کا قرآن بالکل واضح، دو ٹوک اور حتمی انداز میں فرماتا ہے:
"تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ"(سورۃ البقرہ: 134)
(یہ ایک امت تھی جو گزر گئی، جو انہوں نے کمایا وہ ان کے لیے ہے، اور جو تم کماؤ گے وہ تمہارے لیے ہے، اور تم سے ان کے اعمال کی کوئی بازپرس نہیں ہوگی) ۔
یہ ایک طویل آیت ہماری پوری تاریخ، ہماری تمام فرقہ واریت اور ہمارے تمام مسلکی تنازعات کا حتمی، آخری اور الہامی جواب ہے۔ جب کائنات کے خالق نے ہم پر سے پچھلے لوگوں کے اعمال کی جوابدہی کا بوجھ ہی اٹھا لیا ہے، تو ہم کیوں ان کی جنگوں کو اپنی نسلوں کے گلے کا طوق بنائے ہوئے ہیں؟
ہمارا امتحان وہ نہیں جو 61 ہجری میں کربلا کے میدان میں ہوا، ہمارا امتحان وہ ہے جو آج 21ویں صدی میں فلسطین کی گلیوں، کشمیر کی وادیوں اور ہمارے اپنے معاشروں کی بدترین اخلاقی گراوٹ، معاشی زبوں حالی اور فکری دیوالیہ پن کی صورت میں ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ ہمیں ان چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے، نہ کہ ماضی کی قبروں پر مجاور بن کر بیٹھنا ہے۔
آئیے!
تاریخ کو ایک سبق کے طور پر پڑھیں، اس سے عبرت حاصل کریں، ظالم کو ظالم کہیں اور مظلوم کا ساتھ دیں، مگر اس تاریخ کو اپنے مستقبل کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔ آج کا مسلم نوجوان ایک ایسے بیانیے کا متلاشی ہے جو اسے ماضی کی قبروں سے نکال کر علم، تحقیق، سائنس، اخلاق اور تسخیرِ کائنات کے اس روشن راستے پر ڈال دے جو اس کے اسلاف نے کبھی دنیا کو دکھایا تھا۔ یہی وہ شعوری اور ارتقائی سفر ہے جو ہمیں اس خونی تاریخ سے نکال کر حقیقت کی اس روشن صبح تک لے جا سکتا ہے جس کی نوید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی تھی۔
یاد رکھیے کہ شعور، مطالعے، تحقیق اور فکری بیداری کا یہ سفر زندگی کی آخری سانس تک کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے۔
سچ کو کھوجتے رہیے، عقل اور وحی کے متوازن ترازو کو ہاتھ سے نہ چھوڑیں، اور تاریخ کو ہمیشہ اس کے زمینی حقائق، سیاسی عمرانیات اور بشری کمزوریوں کے تناظر میں پرکھنے کی عادت ڈالیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو فرقہ وارانہ تعصبات، بغض اور کینے سے مکمل طور پر پاک کر کے ایک خالص، سچا، باشعور اور باعمل مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!