(+92) 319 4080233
کالم نگار

طارق علی عباسی

طارق علی عباسی

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/28
موضوعات
قلب بینابھی کر خدا سے طلب
ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی زندگی میں بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان خلوصِ نیت کے باوجود بھی گمراہی یا غلط راستے کا مسافر بن کر بھٹک جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ اس کے ارادے میں کوئی کمی یا کھوٹ تھا، بلکہ اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ظاہری آنکھ یعنی بصارت تو رکھتا تھا، مگر حقیقت کو سمجھنے کی باطنی آنکھ یعنی بصیرت سے محروم تھا۔ جب انسان کی فکر درست ہوتی ہے تو وہ اس کے اندر بصیرت کو جنم دیتی ہے۔ فکر انسان کو سوال اٹھانا سکھاتی ہے، جب کہ بصیرت اسے صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرنے کی طاقت عطا کرتی ہے۔ گویا فکر محض راستے پر نظر رکھنے کا نام ہے اور بصیرت اس راستے کے خطرات اور منزل کو واضح طور پر دیکھ لینے کا نام ہے۔ بصیرت کو ہم دل کا نور بھی کہہ سکتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم:

دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
بصیرت کوئی مادی مہارت یا محض ذہنی معلومات کا نام نہیں ہے، یہ روح کا اجلا پن ہے۔ بصیرت انسان کے گرد و پیش کو نہیں بدلتی، بلکہ انسان کا خود کو اور دنیا کو دیکھنے کا زاویہ تبدیل کر دیتی ہے، جس کے بعد انسان کے لیے حقائق سے فرار ممکن نہیں رہتا۔ بصیرت سے علمِ حقیقی کا در کھلتا ہے اور دل کی بینائی سے منزل مقصود تک رسائی ہموار اور آسان ہوتی ہے۔

بصیرت کے بغیر انسان حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ وہ گمان کرتا ہے کہ وہ سیدھے راستے پر چل رہا ہے، حالانکہ وہ تیزی سے غلط سمت کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ بصیرت ایک ایسا نور ہے، جس کے ذریعے بندہ پیغمبروں کی بتائی ہوئی باتوں کی حقیقت کو قلبِ سلیم اور وجدانی گہرائی کے ساتھ سمجھ لیتا ہے۔ اس کے برعکس جب یہ نور انسان سے چھن جاتا ہے تو ایمان کے حقائق اس سے اوجھل ہوجاتے ہیں، پھر وہ ہدایت کو گمراہی اور گمراہی کو ہدایت سمجھنے لگتا ہے۔ پھر اگر ایسا انسان اپنی دانش مندی کا دعویٰ بھی کرے تو اس کی مثال اس مریض جیسی ہے، جس کی حسِ ذائقہ بگڑ چکی ہو اور اسے میٹھی چیز بھی کڑوی لگنے لگے۔ جو مشاہدۂ حق کو جھٹلائے، ایسے بے بصیرت آدمی کو قرآن مجید میں دل کا اندھا کہا گیا ہے۔ بصیرت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ صاحبِ بصیرت انسان سے گناہ نہیں ہوسکتا، انسان خطا کا پتلا ہے، انسان ہونے کے ناطے اس سے بھی لغزش ہوسکتی ہے، لیکن عام انسان اور صاحبِ بصیرت میں فرق یہ ہوتا ہے کہ جب صاحبِ بصیرت سے کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو اس کی بصیرت اسے فوراً خبردار کرتی ہے۔ وہ اپنے گناہ کو ہلکا نہیں لیتا، بلکہ اللہ کے امر و نہی، جزا و سزا اور تقدیرِ الہٰی پر نظر دوڑاتا ہے۔ وہ فوری طور پر جان لیتا ہے کہ وہ کہاں سے بھٹکا تھا اور اب اسے کس طرف واپس لوٹنا ہے، چنانچہ وہ فوراً تائب ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ کہ صاحبِ بصیرت انسان گناہوں پر اصرار نہیں کرتا اور اپنے قدم گناہوں پر جماتا نہیں، بلکہ جلد نیکیوں کی طرف پلٹ آتا ہے۔

حصولِ بصیرت اورپانچ امور:
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بصیرت کو کس طرح حاصل کیا جائے؟ اس کو پانے کے لیے پانچ امور بنیادی شرط ہیں:

پہلا: غور و فکر اور تدبر:
انسان اللہ کی نشانیاں، کائنات کے حقائق اور دلائلِ حق پر مسلسل غور و فکر کرے۔ اس کے لیے غیر معمولی ذہانت یا وسیع علم سے زیادہ، طلب کی سچائی اور استقامت ضروری ہے۔

دوسرا: معرفتِ الہٰی:
اپنے اندر کو بصیرت سے معمور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کے مبارک ناموں اور اس کی صفات کی گہری معرفت حاصل کی جائے۔ جب انسان کو یہ بصیرت حاصل ہوجائے تو وہ شدید ترین آزمائشوں میں بھی تذبذب کا شکار نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی تنگی میں اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتا ہے۔

تیسرا: احکاماتِ شرعیہ کی صدقِ دل سے مکمل پاسداری:
اپنی زندگی احکاماتِ شرعیہ کی اطاعت میں گزارنی چاہیے، اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اس کے روزمرہ کے فیصلوں اور اختیارات میں بامقصد راہنمائی ملتی ہے اور وہ حلال و حرام کے درمیان تمیز کرتا ہے۔ انسان کی یہ اطاعت محض خوفِ عاقبت کے تحت نہیں، بلکہ شعوری محبت کے ساتھ ہوتی ہے۔

چوتھا: آخرت پر پختہ یقین:
اللہ تعالیٰ کے مالکِ یوم الدین ہونے پر یقین اور اس کی طرف سے جزا و سزا کے وعدوں پر کامل بھروسا رکھا جائے۔ اس طرح انسان دنیا کی چکا چوند میں بھٹکنے کے بجائے، ایمان کی روشنی میں آخرت کے حقائق کو دیکھنے لگتا ہے۔

پانچواں: تزکیۂ نفس:
انسان خود کو انا پرستی، نفسانی خواہشات اور عیاشی سے پاک کرے، کیونکہ یہ بصیرت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ جب انسان اپنے ذاتی مفاد اور اپنی انا کو ثابت کرنے کی ضد چھوڑ کر حق کو صرف حق ہونے کی وجہ سے قبول کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے تو اس کے دل سے میل کچیل صاف ہونے لگتا ہے اور بصیرت کا نور اس کے دل کو روشن کردیتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ قلبی بصیرت کی دعا کرنی چاہیے۔ سید الملۃ علامہ سید سلیمان ندویؒ کے دعائیہ اشعار ہیں:

کھول دے میرے لیے علمِ حقیقت کے در
دلِ دانا، دلِ بینا، دلِ شنوا دیدے
یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ موجودہ دور، گمراہی اور فکری انتشار کا دور ہے۔ آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اچھے اور برے، سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں ہمیں محض معلومات یا جدید ترین علم کی ہی ضرورت نہیں، بلکہ اس نورِ الہٰی کی ضرورت ہے، جو ہمیں فتنوں کے اس دور میں صراطِ مستقیم پر قائم رکھ سکے۔ اس کے لیے ہمیں اپنی انا اور خواہشاتِ نفسانی کو ترک کرکے سچے دل سے حق کا متلاشی بننا ہوگا، کیونکہ بصیرت کا سفر سچائی کی طلب سے ہی شروع ہوتا ہے۔

کالم نگار : طارق علی عباسی
| | |
46