(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانامحمداکبر

مولانامحمداکبر

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/28
موضوعات
خود کوقرآن کے سپرد کردو
قرآن کریم جیسا کوئی معجزہ اِس زمین و آسمان نے نہیں دیکھا، معجزات تو پہلے بھی آئے، اپنے وقت پر آئے اور برحق آئے، لیکن سب ہی حسی اور بصری تھے، وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوگئے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ عصا جس میں ایک لمحے کےلیے زندگی پیدا ہوگئی تھی، پھر وہ لکڑی بن گیا تھا، آج ہمیں معلوم نہیں ہے کہ کہاں ہے؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس مُردے کو زندہ کیا تھا، پھر وہ مرگیا، آج ہم اس کا نام و نشان تک نہیں جانتے۔

لیکن قرآن کریم ایک عقلی معجزہ ہے، وقت گزرنے سے ماند نہیں پڑتا، مسلسل جاری و ساری ہے، ہر دور میں اپنا اثر دکھا رہا ہے،یہ آخری امت کا معجزہ ہے، اس نے آخر تک رہنا ہے۔

اور یہ ایسا معجزہ ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ہے، نظیر نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کا کوئی معجزہ 23 سال کے مختصر دورانیے میں، اتنی بڑی تہذیبی تبدیلی نہیں لا سکا جتنی قرآن لے کر آیا، انسانی تاریخ میں اتنی بڑی تبدیلی کبھی اتنی سُرعت کے ساتھ رونما نہیں ہوئی، ہر تحریک اور تہذیبی انقلاب کو اپنے اثرات پھیلانے اور کامیابیوں کو ایک بڑے پیمانے تک پہنچانے کےلیے صدیوں کی ضرورت رہتی ہے ،لیکن قرآن کریم نے بے آب و گیاہ وادی میں چند دہائیوں کے اندر ایسی تبدیلی برپا کر دی کہ روم و فارس کی تہذیبی عظمتیں اس کے سامنے ماند پڑ گئیں۔

لوگ حیران تھے کہ آخر یہ کس قسم کا کلام ہے کہ ایک ایسے شخص کو چھوتا ہے جو اپنے معاشرے کے کسی کنارے پر کھڑا ہے، واقعات کے دھارے سے دور ہے، عمر 30 سال سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن اس میں کوئی نمایاں قائدانہ اوصاف، کوئی بڑا خواب اور کوئی واضح منزل دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی زندگی لہو و لعب اور بے مقصدیت کے گرد گھوم رہی ہے۔ لیکن جب قرآن نے اسے چھوا تو وہ تاریخ کے عظیم ترین انسانوں میں سے ایک غیر معمولی مدبرِ ریاست بن گیا، جس کی عظمت کا اعتراف پوری انسانیت نے کیا اور دنیا اسے عمر بن خطاب کے نام سے جانتی ہے۔

یہ کس قسم کا کلام ہے کہ ایک ایسے انسان کو چھوتا ہے جو کھجور کے بنے ہوئے بتوں کی عبادت کر رہا ہے، جب بھوک لگتی ہے تو انہی بتوں کو کھا لیتا ہے لیکن پھر وہی شخص مقصدیت سے بھر جاتا ہے، اپنی زندگی کا نصب العین مقرر کرتا ہے، خواب اور ایسے اہداف سیٹ کر لیتا ہے کہ جن کےلیے وہ اپنی جان تک قربان کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

یہ کس قسم کا کلام ہے کہ جو شخص اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر رہا ہے ، اسے چھوتا ہے تو وہ اپنی ہی بیٹیوں سے دین کی تفصیلات سمجھنے اور سیکھنے لگ جاتا ہے۔ یہ کس قسم کا کلام ہے کہ وہ عرب جنہوں نے سال کے دنوں کے برابر بت بنا رکھے تھے، دیکھتے ہی دیکھتے ایک خدا کی عبادت پر جمع ہوگئے۔

یہ ہے وہ اصلی معجزہ جس نے لوگوں کو حیرت زدہ کر دیا۔

اور سچ تو یہ ہے کہ یہ ایسا معجزہ ہے کہ جو اس کے ساتھ جُڑ جائے، وہ بھی معجزے کا حصہ بن جاتا ہے، وہ بھی زمانے سے نرالا ہو جاتا ہے، اس کے افکار و اطوار بھی البیلے ہو جاتے ہیں، اس کا اثر بھی بڑھنے لگتا ہے، اس کی روح بھی دوسری روحوں کو زندگی دینے لگتی ہے، اس کی بھی اپنے معاشرے میں نظیر نہیں ملتی، اس کے پاس بیٹھنے سے بھی اطمینان ملنے لگتا ہے، اس کے چہرے سے بھی نور ٹپکتا ہے، وہ بھی قرآن کی طرح زمانے کا امام بن جاتا ہے۔

پہلے معجزات کو لوگوں نے صرف دیکھا،حیران ہوئے اور ہتھیار ڈال دیے، وہ خود معجزہ نہیں بن سکے۔

آج ہمارے پاس جو معجزہ ہے، اسے ہم اپنے دل میں اتار کر خود معجزہ بن سکتے ہیں، معجزے کی دلیل اور علامت بن سکتے ہیں۔

کالم نگار : مولانامحمداکبر
| | |
34