جین زی کی بات چیت کا انداز ہم سے کچھ ایسا مختلف ہے کہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اردو میں گفتگو کر رہے ہوں اور سامنے والا کسی Netflix سیریز کے ڈائیلاگ بول رہا ہو۔
کبھی حد سے زیادہ فرینک، کبھی بے تکلفی میں بولڈ، اور کبھی ایسی انگریزی اردو کہ لغت والے بھی سر کھجا کر رہ جائیں۔
چار دن پہلے فون پر بیگم صاحبہ سے گزارش کی کہ بچوں کی چھٹیاں چل رہی ہیں، اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی بیٹی کے ذمہ کم از کم ایک وقت کا کھانا پکانے کی ذمہ داری ڈال دیں۔ آخر کو زندگی میں آگے جا کر چاہے وہ ڈپٹی کمشنر بنے، سرجن بنے یا ناسا کی سربراہ، ہمارے مڈل کلاس معاشرے میں سالن کے تڑکے اور روٹی کے پھولنے کا امتحان بہرحال لیا ہی جاتا ہے۔
یہ بحث کہ ایسا ہونا چاہیے یا نہیں، اہلِ دانش کے سپرد۔ ہم تو صرف وہ عرض کر رہے ہیں جو برسوں سے ہوتا آیا ہے اور غالباً کچھ عرصہ اور ہوتا رہے گا۔
خیر، بیگم صاحبہ نے حکم صادر فرمایا تو بیٹی نے حسبِ روایت ہلکی سی مزاحمت دکھائی۔ جواب میں ماں نے وہی ازلی جملہ استعمال کیا جس کے آگے دنیا کے بڑے بڑے وکیل خاموش ہو جاتے ہیں۔
"یہ آپ کے بابا کا حکم ہے!"
آج شام بیٹی کا فون آیا۔
"بابا! آپ نے اپنی بیوی کو میرے خلاف کیا ٹاسک دیا ہے؟"
اور باپ دل میں سوچتا ہے:
"یا اللہ! یہ وہی بچے ہیں جنہیں ہم نے ABC اور الف، ب، ت ساتھ ساتھ پڑھائی تھی، یہ درمیان میں Netflix اور Instagram کہاں سے آ گئے؟"
پھر خود ہی مسکرا دیتا ہے، کیونکہ عمر کے ایک حصے میں انسان کو احساس ہو جاتا ہے کہ بحث جیتنے سے زیادہ قیمتی چیز گھر کا قہقہہ ہے۔
میں نے پوچھا:"کون سی والی بیوی، بیٹا؟"
بولی:"Oh come on Baba… I guess آپ کی ایک ہی wife ہے!"
میں نے عرض کیا:"Yes… unfortunately ایک ہی ہے۔ لیکن وہ خاتون آپ کی کیا لگتی ہیں؟"
بولی:"Not funny Baba… آپ نے مما کو میرے بارے میں کیا کہا ہے؟"
میں نے کہا:"شاباش! بہت جلدی اصل پٹری پر واپس آ گئی ہو۔ یعنی جو ہم نے تمہاری مما سے کہا تھا، وہ انہوں نے تم تک پہنچا دیا ہے۔ Right؟"
"ہاں بابا… Right!"
یہ "Right" ایسا بولا گیا جیسے کسی بین الاقوامی معاہدے کی توثیق ہو رہی ہو۔
پھر میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ مانا تم جین زی ہو۔ تمہارا talking style cool ہے۔ تمہارے جملوں میں اردو سے زیادہ انگریزی اور انگریزی سے زیادہ confidence ہوتا ہے۔لیکن بچی!
ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی بھی دیکھا ہے، ٹیپ ریکارڈر میں پنسل ڈال کر کیسٹ بھی سیدھی کی ہے، اور خط کے جواب کے لیے ہفتوں انتظار بھی کیا ہے۔
ہم جین زی کے باپ ہیں۔البتہ اس تجربے نے یہ بھی سکھا دیا ہے کہ بعض جملے زبان سے نہیں بولنے چاہئیں۔صرف دل میں کہہ کر مسکرا دینا چاہیے…کیونکہ گھر میں امن، اقوام متحدہ کی قراردادوں سے نہیں، بیوی اور بچوں کی اکثریت سے قائم رہتا ہے۔ عمر کے ساتھ ایک عجیب سی حکمت مفت میں مل جاتی ہے۔ آدمی کو سمجھ آ جاتی ہے کہ ہر بحث جیتنا ضروری نہیں، بعض اوقات صرف مسکرا دینا ہی کافی ہوتا ہے۔اب دیکھیے، ہمارے بزرگوں کے زمانے میں باپ کا ایک جملہ کافی ہوتا تھا:
"جو کہہ دیا، سو کہہ دیا!"اور بچے "جی ابا جی" کہہ کر اپنی قسمت پر صبر کر لیتے تھے۔
آج کے بچے دلیل بھی دیتے ہیں، حوالہ بھی مانگتے ہیں، گوگل بھی کھول لیتے ہیں، اور آخر میں کہتے ہیں:"بابا، no offense، but I think ۔آپ outdated ہو!"
اور ہم دل ہی دل میں کہتے ہیں:"بیٹا! جس زمانے میں تمہارے Wi-Fi کے آباؤ اجداد بھی پیدا نہیں ہوئے تھے، ہم اس وقت بجلی جانے پر چھت پر چارپائیاں بچھا کر چاندنی راتوں میں گپیں مارا کرتے تھے۔"
پھر فوراً یاد آ جاتا ہے کہ یہی بچہ کچھ دیر بعد آ کر پوچھے گا:"بابا، پانچ ہزار ادھار مل جائیں گے؟"
اور ہم، تمام فلسفے، تمام تجربے اور تمام "آؤٹ ڈیٹڈ" ہونے کے باوجود، جیب ٹٹولتے ہوئے پوچھیں گے:"کیش چاہیے یا ایزی پیسہ کر دوں؟"
شاید اسی کا نام خاندان ہے۔
نسلیں بدلتی رہتی ہیں، لہجے بدلتے رہتے ہیں، لفظ بدل جاتے ہیں، مگر باپ کا دل نہیں بدلتا۔ وہ ہر زمانے میں اپنی اولاد کی باتوں پر پہلے حیران ہوتا ہے، پھر ہنستا ہے، اور آخر میں جیب سے بٹوا نکال لیتا ہے۔