(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناسمیع اللہ عزیز

مولاناسمیع اللہ عزیز

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/28
موضوعات
ایک مختصر سورت، بے شمار حوارات
آپ سورۃ الناس سے اپنا قرآنی حوار تیار کر سکتے ہیں:
قرآن کریم کے ساتھ ہمارے تعلق کی کئی صورتیں ہیں۔ ہم اسے پڑھتے ہیں، سنتے ہیں، حفظ کرتے ہیں، دوسروں کو سناتے ہیں، اس کی تلاوت سے دلوں کو منور کرتے ہیں اور اس کی برکتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ یہ سب یقیناً عظیم اعمال ہیں اور امتِ مسلمہ کی تاریخ ان خوش نصیب لوگوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے قرآن کریم کی حفاظت، تعلیم اور اشاعت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔

خصوصاً ہمارے مدارس، مکاتب اور حفظ کے ادارے اس حوالے سے امت کا عظیم سرمایہ ہیں۔ انہی کی بدولت لاکھوں حفاظِ قرآن تیار ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پوری شان کے ساتھ سامنے آتا ہے:

﴿إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحافظون﴾

لیکن قرآن کریم سے تعلق کی ایک جہت ایسی بھی ہے جس پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے، حالانکہ وہ فہمِ قرآن، عربی زبان اور تدبرِ قرآن کے دروازے کھول سکتی ہے۔

وہ جہت ہے:
قرآن سے سوال کرنا اور قرآن سے جواب حاصل کرنا۔

یہی دراصل "مشروع الحوارات القرآنية" کی بنیاد ہے۔

جب ہم قرآن کریم کی کسی سورت کو سامنے رکھ کر اس سے سوالات اخذ کرتے ہیں اور پھر انہی آیات کی روشنی میں جوابات مرتب کرتے ہیں تو ہمارے سامنے قرآن کا ایک نیا حسن ظاہر ہوتا ہے۔ وہ سورت جسے ہم برسوں سے پڑھتے اور سنتے آرہے ہوتے ہیں، اچانک ایک زندہ مکالمے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

ہم محسوس کرتے ہیں کہ قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ گفتگو کی کتاب بھی ہے۔

صرف حفظ کی کتاب نہیں، بلکہ فکر کی کتاب بھی ہے۔

صرف برکت کی کتاب نہیں، بلکہ ہدایت، تعلیم، تربیت اور دعوت کی کتاب بھی ہے۔

اسی حقیقت کو سمجھنے کے لیے آئیے آج ایک نہایت مختصر سورت کو سامنے رکھتے ہیں:
سورۃ الناس:
شاید ہم میں سے اکثر نے یہ سورت بچپن میں یاد کی ہوگی۔ روزانہ نمازوں میں بھی پڑھی جاتی ہے۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک تقریباً ہر مسلمان اس سے واقف ہے۔

بظاہر یہ صرف چند آیات پر مشتمل ایک مختصر سورت ہے۔

لیکن کیا واقعی یہ صرف چند آیات ہیں؟

یا ان چند آیات کے اندر ایک علمی دنیا پوشیدہ ہے؟

آئیے ذرا غور کرتے ہیں:
اگر ایک طالب علم صرف الفاظ کی سطح پر سوالات بنانا چاہے تو کتنے سوالات بن سکتے ہیں؟

رب الناس کون ہے؟

ملک الناس کون ہے؟

الٰہ الناس کون ہے؟

کس کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے؟

وسوسہ کہاں ڈالتا ہے؟

وسوسہ ڈالنے والا کون ہے؟

یہ تو صرف ابتدائی سوالات ہیں۔

اب ذرا معنی کی طرف بڑھتے ہیں:
وسواس سے کیا مراد ہے؟

خناس کیوں کہا گیا؟

شیطان کب پیچھے ہٹتا ہے؟

انسان کو وسوسوں سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

اب تدبر کا دروازہ کھلتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے "رب الناس" کے بعد "ملک الناس" اور پھر "الٰہ الناس" کیوں فرمایا؟

اگر صرف "اللہ" فرما دیا جاتا تو کیا مفہوم ادا نہیں ہو سکتا تھا؟

لفظ "الناس" کو بار بار دہرانے میں کیا حکمت ہے؟

اس سورت کا آغاز استعاذہ سے کیوں ہوا؟

یہ سورت قرآن کے اختتام پر کیوں رکھی گئی؟

پھر عربی زبان کے طالب علم اس سے لسانی سوالات اخذ کر سکتے ہیں:
نحو کے طالب علم اپنے سوالات بنا سکتے ہیں۔

صرف کے طالب علم الگ زاویہ اختیار کر سکتے ہیں۔

بلاغت کے طلبہ نئے نکات تلاش کر سکتے ہیں۔

مفسرین تدبر کے دروازے کھول سکتے ہیں۔

داعیانِ دین دعوتی اسباق اخذ کر سکتے ہیں۔

معلمین تربیتی نکات مرتب کر سکتے ہیں۔

حفاظِ قرآن حفظ اور فہم کے درمیان پل تعمیر کر سکتے ہیں۔

گویا ایک ہی سورت مختلف علوم کے لیے الگ الگ حوارات کا سرچشمہ بن سکتی ہے۔

یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر صرف سورۃ الناس سے اتنے زاویے سامنے آ سکتے ہیں تو پھر پورے قرآن کریم میں کتنی علمی دنیا پوشیدہ ہوگی؟

کتنے سوالات؟کتنے جوابات؟کتنے تدبری نکات؟کتنے دعوتی اسباق؟کتنے تربیتی پیغامات؟اور کتنے ایسے دروازے جو ابھی تک ہماری توجہ کے منتظر ہیں؟

یہی وہ نکتہ ہے جو مشروع الحوارات القرآنية کو ایک منفرد منصوبہ بناتا ہے۔

یہ منصوبہ صرف سوال و جواب لکھنے کا نام نہیں:
یہ قرآن کے ساتھ ایک زندہ تعلق پیدا کرنے کی دعوت ہے۔

یہ حافظِ قرآن کو محض حافظ نہیں بلکہ متدبر بنانے کی دعوت ہے۔

یہ طالب علم کو محض قاری نہیں بلکہ مفکر بنانے کی دعوت ہے۔

یہ معلم کو محض مدرس نہیں بلکہ قرآنی رہنما بنانے کی دعوت ہے۔

یہ عربی زبان کے طالب علم کو قرآن کی زبان سے براہِ راست جوڑنے کی دعوت ہے۔

اور یہ امت کو قرآن کے ساتھ ایک نئے علمی تعلق کی طرف بلانے کی دعوت ہے۔

ذرا تصور کیجیے:
اگر پاکستان کا ہر حافظِ قرآن صرف ایک سورت پر کام کرے۔

اگر ہر مدرسہ اپنے طلبہ کو ایک ایک سورت تفویض کر دے۔

اگر ہر معلم اپنے سبق سے متعلق حوارات تیار کروائے۔

اگر ہر محقق ان حوارات کی علمی مراجعت کرے۔

اگر ہر عربی داں اس میں اپنا حصہ شامل کرے۔

تو چند ہی برسوں میں ہمارے پاس قرآنی حوارات کا ایسا عظیم ذخیرہ موجود ہو سکتا ہے جو فہمِ قرآن، عربی زبان اور تدبرِ قرآن کے میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کر دے۔

اسی لیے آج ہم اپنے تمام دوستوں، اساتذہ، حفاظِ قرآن، طلبہ، معلمات اور اہلِ علم سے ایک نہایت آسان مگر بامقصد درخواست کرتے ہیں۔آج سورۃ الناس کو سامنے رکھیے۔اس کا مطالعہ کیجیے۔کوئی ایک زاویہ منتخب کیجیےاور کم از کم تین سے دس سوالات اور ان کے جوابات مرتب کیجیے۔

یہ حوار لغوی ہو سکتا ہے۔

تعلیمی ہو سکتا ہے۔

تربیتی ہو سکتا ہے۔

دعوتی ہو سکتا ہے۔

تدبری ہو سکتا ہے۔

یا براہِ راست قرآنی الفاظ پر مشتمل ہو سکتا ہے۔

مقصد صرف ایک ہے:
قرآن سے گفتگو کا آغاز۔

آئیے! آج ہم سب اس علمی تجربے میں شریک ہوں اور دیکھیں کہ ایک مختصر سی سورت ہمارے سامنے کتنے علمی دروازے کھول سکتی ہے۔شاید سورۃ الناس سے شروع ہونے والی یہ چھوٹی سی مشق کل قرآنی حوارات کے ایک عظیم علمی انسائیکلوپیڈیا کی بنیاد بن جائے۔اور شاید آپ کا تیار کردہ ایک مختصر حوار آنے والی نسلوں کے لیے صدقۂ جاریہ ثابت ہو۔

کالم نگار : مولاناسمیع اللہ عزیز
| | |
57