(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری

ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/28
موضوعات
امام احمد بن حنبل کا یزید کے بارے میں موقف
یزید بن معاویہ کے بارے میں امام اہلِ سنت احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ کا موقف نہ افراط کا ہے نہ تفریط کا؛ وہ نہ اسے صالحین و اولیا کی صف میں رکھتے ہیں، نہ اس کی محبت کو اہلِ ایمان کا شیوہ قرار دیتے ہیں، نہ اس کے مظالم سے چشم پوشی کرتے ہیں.. لیکن اس کے ساتھ زبان کو لعن معیّن کا عادی بنانا بھی ذوقِ سلیم کے خلاف سمجھتے ہیں۔

ان کے فرزند صالح بن احمد نے جب عرض کیا کہ کچھ لوگ یزید سے محبت کا اظہار کرتے ہیں تو امام احمد نے فرمایا: “کیا کوئی شخص جو اللّٰہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، یزید سے محبت کر سکتا ہے؟” پھر جب صالح نے پوچھا کہ آپ اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے؟ تو فرمایا: “تم نے اپنے باپ کو کب دیکھا ہے کہ وہ کسی پر لعنت کرتا ہو...؟” (مجموع الفتاوی، ۴/۴۸۳، جمع و ترتیب: عبدالرحمن بن محمد بن قاسم، مجمع الملک فہد، مدینہ منورہ، ۱۴۲۵ھ/۲۰۰۴ء)

اس سے امام احمد کا اصل مزاج واضح ہو جاتا ہے۔ یزید کی محبت ان کے نزدیک دینی حمیت کے خلاف ہے لیکن کسی معیّن شخص پر لعنت کرنا ان کے ورع اور احتیاط کے خلاف۔ اسی طرح مہنا بن یحییٰ کی روایت میں امام احمد نے یزید کے متعلق فرمایا کہ اس نے مدینہ میں جو کچھ کیا، کیا؛ اصحابِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قتل کیا اور مدینہ کو لوٹا۔ جب پوچھا گیا کہ کیا اس سے حدیث روایت کی جائے؟ فرمایا: “اس سے حدیث ذکر نہ کی جائے۔” (مجموع الفتاوی، ۴/۴۸۳؛ الآداب الشرعیۃ والمنح المرعیۃ، ۱/۲۸۵-۲۹۱، ابن مفلح، تحقیق: شعیب الأرنؤوط و عمر القیام، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ط۳، ۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹ء)

یہ امام احمد کا نہایت دو ٹوک محدثانہ فیصلہ ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یزید ان کے نزدیک نہ قابلِ محبت ہے، نہ قابلِ اقتدا اور نہ روایت کے باب میں قابلِ اعتماد۔

لعنت کے مسئلے میں امام احمد سے دو طرح کی روایات منقول ہیں:
ایک روایت میں سورۂ محمد کی آیت: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ سے استدلال کرتے ہوئے یزید پر لعنت کے جواز کا پہلو نکلتا ہے؛ قاضی ابو یعلیٰ نے اسی بنا پر کہا ہے کہ اگر یہ روایت صحیح ہو تو یزید پر لعنت کی علت صریح ہے۔ (غذاء الألباب، ۱/۱۲۲-۱۲۳، سفارینی، مؤسسۃ قرطبہ، مصر، ط۲، ۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳ء)

دوسری طرف ابو طالب کی روایت میں امام احمد سے پوچھا گیا کہ جو شخص یزید پر لعنت کرے، اس کا کیا حکم ہے؟ امام احمد نے فرمایا: “میں اس باب میں کلام نہیں کرتا، امساک (سکوت) میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔” (غذاء الألباب، ۱/۱۲۲-۱۲۳)

ان دونوں روایتوں کو جمع کیا جائے تو حاصل یہ بنتا ہے کہ امام احمد یزید کے افعال کو لعنت کے اسباب میں داخل سمجھتے تھے لیکن خود نام لے کر لعنت کرنا ان کا معمول نہ تھا۔ ان کے نزدیک اصل کام ظلم کی شناعت واضح کرنا تھا، زبان کو سب و شتم کی مشق گاہ بنانا نہیں۔

حنبلی روایت میں بھی یہی دو رجحانات آگے چل کر نمایاں ہوئے۔ قاضی ابو یعلیٰ اور ابن الجوزی نے یزید کی مذمت اور اس پر لعنت کے جواز کا پہلو اختیار کیا۔ ابن الجوزی نے عبد المغیث الحربی کے رد میں مستقل رسالہ لکھا اور کہا کہ امام احمد نے یزید کے حق میں جو کچھ کہا ہے، وہ لعنت سے بھی بڑھ کر ہے؛ لیکن خود ابن الجوزی نے بھی آخرکار یہ تسلیم کیا کہ لعنت ترک کر دینا اولیٰ ہے۔ (غذاء الألباب، ۱/۱۲۲-۱۲۳)

دوسری طرف عبد المغیث الحربی اور بعض حنابلہ نے یزید پر لعنت سے روکا۔ عبد المغیث کے بارے میں اگرچہ یہ مشہور ہوا کہ انھوں نے “مناقبِ یزید” لکھے لیکن ابن رجب کی نقل کے مطابق انھوں نے خود کہا: “معاذ اللّٰہ کہ میں یہ کہوں کہ اس کے مناقب ہیں؛ میرا موقف صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کا خلیفہ اگر فسق میں مبتلا ہو جائے تو محض اس سے اس کی معزولی لازم نہیں آتی۔ (ذیل طبقات الحنابلۃ، ۳/۳۵۰، ابن رجب، تحقیق: عبدالرحمن بن سلیمان العثیمین، مکتبۃ العبیكان، ریاض، ط۱، ۱۴۲۵ھ/۲۰۰۵ء) اس سے معلوم ہوا کہ عبد المغیث کی اصل بحث سیاسی وفقہی تھی، اگرچہ ان کا دفاعی انداز بعد کے علما کے نزدیک کم زور اور غیر محتاط سمجھا گیا۔

اس پوری بحث کو حافظ ابن تیمیہ نے سب سے زیادہ منقح صورت میں سمیٹا ہے۔ ان کے نزدیک یزید کے بارے میں تین گروہ ہوئے:
ایک نے اسے کافر و منافق کہا، دوسرے نے اسے صالح و عادل بنا دیا اور تیسرا اہلِ علم و اعتدال کا گروہ ہے جو کہتا ہے کہ یزید مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا؛ اس کی نیکیاں بھی تھیں اور بدیاں بھی.. وہ نہ صحابی تھا، نہ ولی، نہ صالح امام؛ اس کے زمانے میں سیدنا حسین رضی اللّٰہ عنہ کی شہادت اور واقعۂ حرہ جیسے عظیم سانحات پیش آئے؛ اس لیے نہ اس سے محبت کی جائے، نہ اسے سب و شتم کا عنوان بنایا جائے۔ ابن تیمیہ کے الفاظ میں امام احمد کا منصوص موقف یہی ہے: “لا يُسَبُّ ولا يُحَبُّ” (مجموع الفتاوی، ۴/۴۸۱-۴۸۴)

ابن مفلح نے الآداب الشرعیۃ میں اسی بحث کو فقہی و اخلاقی اصول کے تحت رکھا کہ اصل نزاع یہ ہے کہ فاسقِ معیّن پر لعنت کی جائے یا نہیں؟
علامہ سفارینی نے غذاء الألباب میں حنبلی اقوال جمع کر کے بتایا کہ متاخرین میں بعض علما یزید پر لعنت کے جواز کے قائل ہوئے مگر امام احمد کی محتاط روایت میں امساک کو ترجیح حاصل ہے۔ (الآداب الشرعیۃ، ۱/۲۸۵-۲۹۱؛ غذاء الألباب، ۱/۱۲۲-۱۲۴)

خلاصہ یہ ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ کے نزدیک یزید کوئی محبوب، مقدس یا قابلِ دفاع شخصیت نہیں۔ وہ اس سے حدیث لینا درست نہیں سمجھتے، اس کی محبت کو ایمان کے ذوق کے خلاف قرار دیتے ہیں، واقعۂ حرہ اور اہلِ مدینہ پر اس کے مظالم کو نہایت سنگین جرح سمجھتے ہیں؛ لیکن اس کے ساتھ وہ اپنی زبان کو لعنتِ معیّن سے روکتے ہیں۔

حنبلی روایت میں بھی اسی بنا پر دو رجحانات پیدا ہوئے: ایک نے یزید پر لعنت کے جواز کو اختیار کیا، دوسرے نے معیّن لعنت سے اجتناب کو افضل یا لازم سمجھا۔ مگر دونوں کے درمیان قدرِ مشترک یہ رہی کہ یزید کی تقدیس، تطہیر اور محبت امام احمد کے منہج سے ثابت نہیں۔

کالم نگار : ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری
| | |
40