ڈوپامین (Dopamine) ایک نیورو ٹرانسمیٹر (Neurotransmitter) ہے جسے اکثر "اچھا محسوس کرانے والا" ہارمون کہا جاتا ہے۔یہ دماغی کیمیکل آپ کے موڈ، حرکت، حوصلہ افزائی، اور خوشی کے احساسات کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ انعام کے حصول کے رویوں کو متحرک کر کے اس عمل کو دہرانے کی ترغیب دیتا ہے۔
ڈیجیٹل ڈوپامین کلچر: لَھْوُ الْحَدِیْث کا جدید مصداق:
اکیسویں صدی میں، اس 'غفلت میں ڈالنے والی تفریح' نے ایک نئی اور انتہائی طاقتور صورت اختیار کر لی ہے: اس دور میں، ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ – توجہ (Attention) –ایک نایاب جنس بن گیا ہے جسے سوشل میڈیا، گیمنگ انڈسٹری، اور سٹریمنگ پلیٹ فارمز نے ایک نئے انداز میں 'خرید' لیا ہے۔
“اگرچہ قرآن میں‘ڈوپامین’ کا ذکر لفظاً نہیں ملتا، مگر ‘لَہْوُ الْحَدِیْث’ کے مفہوم میں اس کے اثرات نمایاں طور پر نظر آتے ہیں — یعنی وہ سرگرمیاں جو انسان کو وقتی لذت میں غافل کر دیتی ہیں۔”
ڈوپامین لوپ (Dopamine Loop) کا جال:
جدید ڈیجیٹل تفریحی ذرائع (جیسے 'Scrolls', 'Likes', 'Instant Wins') ایک مصنوعی "ڈوپامین لوپ" بناتے ہیں۔ یہ ذرائع اتنے مؤثر انداز میں ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ وہ نوجوانوں کو وقتی، سَستیcheap اور فوری مسرت (Instant Gratification) فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں طویل مدتی مقصد (Long-term Goal) کے لیے صبر اور محنت کرنے کی خواہش ختم ہو جاتی ہے۔ آج کی ڈیجیٹل دنیا، سوشل میڈیا، اور تفریحی ایپس (فیملی ڈرامے، ناولز، کامیڈی شوز وغیرہ) جنہیں اکثرعوام کو مفت میں فراہم کیا جاتا ہے - ایک عالمی نیٹ ورک کے طور پر کام کرتی ہیں جو صارفین کو مسلسل لغو (بے مقصد) مواد کی طرف راغب کرتی ہیں۔ یہ ایک ایسا جال ہے جو صارف کے وقت اور توجہ (جو اللہ کی دی ہوئی امانت ہے) کو ان چیزوں پر صرف کراتا ہے جن کا کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہیں ہے۔ جب ایک مسلمان نوجوان اسکرین پرگھنٹوں بے مقصد مواد دیکھنے لگتا ہے، تو وہ شعوری یا لاشعوری طور پر اپنی مقصدیت(خلافت کا تصور)، عبادات اور ذمہ داریوں سے کٹ کر اس جال میں قید ہو جاتا ہے۔ ڈیجیٹل مواد کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ صارف کی توجہ حاصل کرے اور اسے حقیقی دنیا کی ذمہ داریوں (جیسے نماز، خاندان، کمیونٹی کی خدمت) سے دور رکھے۔
جب بچے مغربی ڈراموں، فلموں اور ناولوں کے ذریعے پیش کردہ زندگی کے ماڈلز کو دیکھتے ہیں، تو ان کے ذہن میں اسلامی مقصدیت اور اخلاقی حدود کمزور پڑ جاتی ہیں، اور وہ مغربی ثقافتی اقدار کو 'عام' یا 'اچھی' چیز سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ ان کے ایمان اور اخلاق کو خاموشی سے قید کر دیتا ہے۔
غلط نظریات کا پھیلاٶ اور لہوالحدیث کا تعلق:
اکیسویں صدی کی جدید تفریحی دنیا میں نوجوان نسل، خصوصاً خواتین، کو میڈیا، ڈراموں اور ناولز کے ذریعے ایسے خیالات اور نظریات کی طرف راغب کیا جا رہا ہے جو حقیقت اور دین کی ہدایات سے دور ہیں۔ ناولز اور کہانیاں اکثر ان کی سوچ میں مصنوعی اور غیر حقیقی دنیا قائم کر دیتی ہیں، جبکہ خواتین کو مغربی تصورات اور حقوق کے ایسے نظریات کی طرف مائل کیا جا رہا ہے جن کی قرآن و سنت میں کوئی حقیقی بنیاد نہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ ڈرامے اور مواد غیر روایتی جنسی رویوں، نشے اور دیگر منفی عادات کو عام اور معاشرت میں قابل قبول دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ لوگ ان رویوں کے اثرات کے بارے میں حساسیت کھو دیں اور انہیں معمولی سمجھنے لگیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، بعض ڈرامے شادی کی رسومات اور خاندانی تقریبوں کو بھی exaggerate اور dramatize کر کے دکھاتے ہیں، جس سے نوجوان اورخصوصاً خواتین کی توقعات اور perception حقیقت سے ہٹ کر متاثر ہوجاتی ہیں۔ یہ سب وہی کیفیت ہے جس کا ذکر لہو الحدیث میں آیا ہے، جہاں بغیر علم کے لوگ غلط باتیں پھیلاتے اور معاشرےمیں فساد پیدا کرتے ہیں۔ یوں نوجوان نسل اور خواتین دین کی تعلیمات اور اخلاقی حدود سے غافل ہو جاتے ہیں اور مغربی تصورات کو معمول سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی سب ایک شیطانی جال ہے جو انسانوں کو فریب دے کر ان کی توجہ اور وقت ضائع کرتا ہے اور معاشرے میں فساد کو عام کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرتا ہے۔
یہی وہ کیفیت ہے جو سورة لقمان کی آیت نمبر ٦ کا مصداق بنتی ہے۔
"يشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ": اس کا مطلب ہے کہ وہ گانے بجانے، بے ہودہ کہانیاں، یا ہر وہ بات یا مشغلہ اختیار کرتے ہیں جو انسان کو دین اور حق کی طرف توجہ دینے سے روک دے۔"لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ": ان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ (اپنے اور) دوسروں کو اللہ کے سیدھے راستے سے بغیر کسی علم یا دلیل کے بھٹکا دیں۔ وہ حق کو جانے بغیر گمراہی پھیلاتے ہیں۔"وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا": اور وہ اللہ کے راستے، اس کی آیات اور احکامات کا مذاق اڑاتے ہیں۔انجام: ایسے لوگوں کے لیے اللہ رب العزت نے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔یہ آیات اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ بغیر علم کے غلط باتیں پھیلانا نہ صرف گمراہی بلکہ ذلت والے عذاب کا مستحق بنناہے۔