(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی محمد حماد اللہ نقشبندی

مفتی محمد حماد اللہ نقشبندی

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/15
موضوعات
دورانِ تقریر نوٹس سامنے رکھنے کی اہمیت
مطالعہ انسان کو صرف معلومات ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق ایسے تجربات اور نکات بھی عطا کرتا ہے جو عملی زندگی میں رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ راقم کو حال ہی میں معروف عرب ادیب، خطیب اور دانش ور محمد علی بن مصطفی بن أحمد الطنطاوی الدمشقی کی مشہور خود نوشت ذکریات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ اس کتاب کے دوران ایک نہایت اہم نکتہ سامنے آیا جس کا تعلق فنِ خطابت اور دورانِ تقریر نوٹس سامنے رکھنے کی اہمیت سے ہے۔

شیخ علی الطنطاویؒ اپنی زندگی کے تجربات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:"وَلَطَالَمَا كُنْتُ أَخْطُبُ فِي الْحَشْدِ الْكَبِيرِ، أَوْ أَتَكَلَّمُ فِي الْإِذَاعَةِ أَوِ الرَّائِي (أَيِ التِّلْفِزْيُونِ)، وَأَحَادِيثِي فِيهِمَا كُلُّهَا ارْتِجَالٌ لَيْسَ أَمَامِي وَرَقَةٌ مَكْتُوبَةٌ أَقْرَأُ فِيهَا، فَأَسْتَطْرِدُ وَأَخْرُجُ عَنِ الْخَطِّ، فَإِذَا انْتَهَى الِاسْتِطْرَادُ، وَقَفْتُ كَمَا وَقَفَ حِمَارُ الشَّيْخِ فِي الْعَقَبَةِ، فَلَا أَذْكُرُ مِنْ أَيْنَ خَرَجْتُ، وَلَا إِلَى أَيْنَ أَعُودُ."

مفہوم: "میں اکثر بڑے اجتماعات میں خطاب کرتا یا ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتا تھا۔ میری گفتگو عموماً ارتجالی ہوتی اور میرے سامنے کوئی تحریری نوٹ نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ کبھی کسی ضمنی بات کی طرف نکل جاتا اور اصل موضوع سے ہٹ جاتا۔ پھر جب وہ ضمنی گفتگو ختم ہوتی تو میری حالت ایسی ہو جاتی کہ نہ یاد رہتا کہ میں اصل موضوع سے کہاں ہٹا تھا اور نہ یہ سمجھ آتی کہ دوبارہ گفتگو کا سلسلہ کہاں سے جوڑوں۔"

ذکریات کے مطالعہ کے دوران راقم نے اس اقتباس سے یہ اہم سبق اخذ کیا کہ دورانِ تقریر مختصر نوٹس یا بنیادی نکات کا سامنے ہونا مقرر کے لیے کس قدر مفید اور ضروری ہے۔ یہ سبق کسی عام شخص کا نہیں بلکہ عرب دنیا کے ایک ایسے عظیم خطیب کا تجربہ ہے جس کی فصاحت، حاضر جوابی اور قوتِ بیان کو ایک عالم تسلیم کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تقریر ایک مسلسل فکری سفر کا نام ہے۔ مقرر جب کسی موضوع پر گفتگو کرتا ہے تو اسے مختلف دلائل، واقعات، مثالوں اور حوالوں کو ایک ترتیب کے ساتھ پیش کرنا ہوتا ہے۔ اگر دورانِ گفتگو وہ کسی ضمنی بحث میں چلا جائے تو بعض اوقات اصل موضوع کا ربط کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مختصر نوٹس مقرر کی رہنمائی کرتے ہیں اور اسے اپنے اصل راستے پر قائم رکھتے ہیں۔بعض مقررین یہ خیال کرتے ہیں کہ نوٹس سامنے رکھنا کمزور یادداشت کی علامت ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ نوٹس دراصل سنجیدہ تیاری، فکری نظم اور ذمہ دارانہ طرزِ خطاب کی علامت ہیں۔ دنیا کے نامور خطباء، اساتذہ اور دانش ور اپنی گفتگو کے بنیادی نکات ضرور مرتب کرتے ہیں تاکہ کوئی اہم بات نظر انداز نہ ہو جائے۔

خصوصاً دینی اجتماعات، جمعہ کے خطبات، علمی نشستوں اور تعلیمی لیکچرز میں اس کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایک مقرر جب کسی آیت، حدیث یا تاریخی واقعے کی تشریح میں تفصیل اختیار کرتا ہے تو بعض اوقات اصل موضوع پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ ایسے موقع پر چند تحریری نکات اسے دوبارہ مرکزی موضوع کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔نوٹس کا مقصد پوری تقریر کو پڑھنا نہیں بلکہ گفتگو کی سمت متعین رکھنا ہے۔ چند عنوانات، اہم دلائل، ضروری حوالہ جات اور اختتامی نکات لکھ لینے سے تقریر زیادہ منظم، جامع اور مؤثر بن جاتی ہے۔ اس سے وقت کی پابندی بھی آسان ہوتی ہے اور غیر ضروری تکرار سے بھی بچاؤ رہتا ہے۔

شیخ علی الطنطاویؒ کے اس تجربے اور ذکریات کے مطالعہ سے حاصل ہونے والا یہ سبق ہر خطیب، استاد، واعظ اور مقرر کے لیے قابلِ غور ہے۔ اچھی تقریر صرف علم و معلومات کا نام نہیں بلکہ ترتیبِ فکر، ربطِ کلام اور حسنِ پیشکش کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ مختصر نوٹس اس مقصد کے حصول کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں، اور بسا اوقات یہی چند سطریں ایک اچھی تقریر کو بہترین تقریر میں تبدیل کر دیتی ہیں۔یہ انداز مضمون کو ذاتی مشاہدے، مطالعے کے اثرات اور عملی سبق تینوں پہلوؤں سے زیادہ مضبوط بنا دیتا ہے۔

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : مفتی محمد حماد اللہ نقشبندی
| | |
7