ایک تحقیقی زاویہ:
میں وقتاً فوقتاً اس موضوع پر اپنی معروضات پیش کرتا رہتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو "غریب" قرار دینا تاریخی اور علمی اعتبار سے محلِ نظر ہے۔ اس سلسلے میں مسلسل تحقیق و مطالعہ جاری ہے۔حال ہی میں رحمۃ للعالمین اتھارٹی کی شائع کردہ ایک کتاب نظر سے گزری جس میں رسول اللہ ﷺ، آپ کے اہلِ بیت اور خاندان کے معاشی حالات اور ذرائعِ آمدن پر تحقیقی گفتگو کی گئی ہے۔ میری گزارش ہے کہ سنجیدہ مطالعہ کرنے والے حضرات اس کتاب کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔
اس موضوع پر میرا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ساری زندگی محنت، تجارت، جائیداد، غنائم، ہدایاتِ شرعیہ اور دیگر جائز ذرائع کے ذریعے ایک مستحکم معاشی حیثیت رکھی، اگرچہ آپ ﷺ نے زہد، قناعت ور ایثار کو اختیار فرمایا۔ زاہد ہونا اور غریب ہونا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ کوئی شخص مال رکھتا ہو لیکن اسے اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بجائے اللہ کی راہ میں صرف کرتا ہو تو اسے زاہد کہا جاتا ہے، غریب نہیں۔
اس کی ایک منطقی دلیل یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات، اہلِ بیت اور مہمانوں کے حقوق ادا کیے، غلام آزاد کیے، صدقات و عطیات دیے، وفود کی میزبانی فرمائی اور اسلامی ریاست کے مختلف معاملات کی نگرانی کی۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام امور کسی نہ کسی معاشی استطاعت کے متقاضی تھے۔
احادیث و سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے فقر کو بطور معاشی مجبوری نہیں بلکہ تواضع، قناعت اور اللہ پر توکل کے معنی میں اختیار فرمایا۔ اسی لیے آپ ﷺ کے بارے میں یہ کہنا زیادہ درست معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ زاہد تھے، دنیا کے مال سے بے رغبت تھے، مگر اس معنی میں غریب نہیں تھے کہ آپ کے پاس معاشی وسائل ہی موجود نہ ہوں۔
ان شاء اللہ جلد ہی اس موضوع پر میرے چار تحقیقی مضامین "نبی کریم ﷺ غریب نہیں تھے" کے عنوان سے شائع ہوں گے، جن میں تاریخی روایات، سیرت کے مصادر اور منطقی استدلال کی روشنی میں اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔ان شاء اللہ