(+92) 319 4080233
کالم نگار

عابدمحمودعزام

عابدمحمودعزام

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/08
موضوعات
خاموش اور بھیانک ظلم
​ملک کے موجودہ بحرانی دور میں، جہاں معیشت کا پہیہ جام ہے، مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، وہیں ایک ایسا خاموش مگر بھیانک ظلم جاری ہے جس کی تباہ کاریوں سے آنے والی نسلیں محفوظ نہیں رہ سکیں گی۔ یہ پنجاب کے تعلیمی نظام کی سوچی سمجھی بربادی ہے۔ دیگر صوبوں میں حالات پہلے ہی کچھ زیادہ بہتر نہ تھے، مگر اب پنجاب کو بھی اسی صف میں لانے کی بھرپور سعی کی جا رہی ہے۔ دیگر نقصانات تو وقت کے ساتھ شاید تلافی کے قابل ہو جائیں، لیکن تعلیم کا نقصان وہ ناسور ہے جو آنے والی نسلوں کی شناخت اور صلاحیتوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔

​حکومتی ایوانوں میں بیٹھ کر جب پالیسی ساز اپنی کامیابیوں کے قصیدے پڑھتے ہیں تو وہ زمینی حقائق سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ میڈیا کی چکا چوند اور خریدے گئے بیانیوں کے ذریعے ایک ایسا جھوٹ تخلیق کیا گیا ہے کہ پنجاب میں "تعلیمی انقلاب" آ رہا ہے، مگر سچ کی کرچیاں ان اساتذہ کی آنکھوں میں دیکھی جا سکتی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے تیس چالیس برس کلاس رومز کی نذر کر دیے ہیں۔ ان تجربہ کار اساتذہ کا نوحہ ہے کہ انہوں نے اتنی تذلیل، بے توقیری اور اتنی منصوبہ بندی کے ساتھ تعلیمی نظام کا جنازہ نکلتے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ اس دور میں تعلیم دشمنی کا پہلا وار استاد اور تعلیمی تقدس پر کیا گیا۔ جس ہاتھ میں قوم کو سنوارنے کی قلم تھی، اسے حکمرانوں نے تذلیل کا نشانہ بنایا۔ اساتذہ کو عوامی پلیٹ فارمز پر بدنام کیا گیا، ان پر نااہلی کے لیبل لگائے گئے اور آئے روز نوکری سے نکالنے کی دھمکیوں کے ذریعے ذہنی کوفت میں مبتلا کیا گیا۔ جب معاشرہ استاد کو عزت دینے کے بجائے طعن و تشنیع کا ہدف بنائے تو سمجھ لیجیے کہ علم کا نور بجھنے لگا ہے۔ استاد کو معاشرے میں حقیر ثابت کر کے درحقیقت قوم کی بنیادوں پر تیشہ چلایا گیا ہے۔

​سب سے بڑا ظلم بہترین انداز میں چلتے پندرہ ہزار سرکاری اسکولوں کی "آؤٹ سورسنگ" ہے۔ یہ تجربہ ماضی میں بھی ناکام ہوا تھا اور اب بھی ناکام ہی ثابت ہوگا، مگر اسے جھوٹے دعوؤں کے ساتھ کامیاب دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ محض اسکولوں کا سودا نہیں، بلکہ لاکھوں غریب بچوں کے خوابوں کا قتل ہے۔ جس شعبے کو ریاست کی اولیں ذمہ داری ہونا چاہیے تھا، اسے اخراجات بچانے کی آڑ میں نجی شعبے کے سپرد کر دیا گیا۔ یہ اقدام محض ایک مالی فیصلہ نہیں، بلکہ یہ طبقاتی تقسیم کی وہ خلیج ہے جو غریب کے بچے کو اعلیٰ تعلیم اور ترقی کے مواقع سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دے گی۔ ​سرکاری اسکولوں کو ناکام ثابت کرنے کے لیے جو منفی پروپیگنڈا کیا گیا، وہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی تاکہ ان تعلیمی اداروں کو ہتھیا کر نجی مفادات پورے کیے جا سکیں۔ اساتذہ کو مسلسل دیوار سے لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ کسی کام کے نہیں، حالانکہ انہی سرکاری اسکولوں کے اساتذہ نے ملک کو وہ ہیرے دیے جنہوں نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ہر شعبے میں بہترین کارکردگی دکھائی۔

​آج میڈیا پر جو خوبصورت تصویر کشی کی جا رہی ہے، وہ صرف ایک "سراب" ہے۔ حقائق سے نابلد اور ایک مخصوص سوچ کے حامل لوگ اس جھوٹ کو سچ سمجھ لیتے ہیں، لیکن پورا سچ تو وہ لوگ جانتے ہیں جو برسوں سے تعلیم کی خدمت کر رہے ہیں، مگر ان سے کبھی سچ پوچھا نہیں جاتا۔ حقیقت وہ ہے جو کلاس رومز کی بوسیدہ دیواریں اور اساتذہ کی بجھی ہوئی آنکھیں گواہی دے رہی ہیں۔ تعلیم کا یہ نقصان صرف پنجاب کا نہیں، یہ پورے پاکستان کو جہالت کی دلدل میں دھکیل دینے کے مترادف ہے۔

​جب قومیں اپنی بنیادیں خود کھودنا شروع کر دیتی ہیں تو ان کی تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ آج ہم جس ظلم پر خاموش ہیں، کل اس کا خمیازہ ایک ایسی ناخواندہ اور جرائم کی دلدل میں دھنسی ہوئی نسل کی صورت میں بھگتنا پڑے گا، جو احساسِ کمتری میں مبتلا ہوگی اور اپنی تاریخ پر نہیں بلکہ اپنی محرومیوں پر ماتم کناں ہوگی۔ پنجاب کی تعلیم کا یہ قتلِ عام تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ ایک سیاہ دھبے کی طرح رہے گا، جس کا جواب کسی بھی جھوٹے دعوے یا اشتہاری مہم سے نہیں دیا جا سکے گا۔ اس ظلم کا حساب یقیناً خدا کے ہاں بھی ہوگا، کیونکہ تعلیم کے دشمن تمام کردار آخرت میں تو جوابدہ ہیں ہی، دنیا میں بھی اگر انصاف ہو تو انہیں سخت سزا ملنی چاہیے۔ افسوس مگر یہ کہ ہمارے ملک میں صاحبِ اقتدار لوگ سب کچھ برباد کر کے نکل جاتے ہیں اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہوتا۔

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : عابدمحمودعزام
| | |
27