(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمدمشتاق احمد

محمدمشتاق احمد

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/08
موضوعات
اجماع کی بحث
میں اپنے طلبہ سے اصول فقہ کی بحث میں اکثر یہ سوال کیا کرتا ہوں کہ کسی مسئلے کا حکم معلوم کرنے کےلیے مجتہد کو سب سے پہلے قانون کے کس ماخذ کی طرف دیکھنا چاہیے۔ ہمیشہ اکثریت کا جواب ہوتا ہے کہ قرآن کی طرف۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر قرآن میں اسے حکم نہ ملے تو؟ جواب ملتا ہے، سنت کی طرف دیکھنا چاہیے۔ میں پوچھتا ہوں، اگر سنت میں بھی نہ ملے تو؟ جواب ملتا ہے، پھر اسے اجتہاد کرنا چاہیے۔ میں پوچھتا ہوں کہ یہ ترتیب کہاں بیان ہوئی ہے؟ وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت کا حوالہ دیتے ہیں۔

اس کے بعد میں پوچھتا ہوں: اچھا، یہ بتائیے کہ قرآن میں حکم نہ ملے تو سنت کی طرف جائیں گے لیکن قرآن میں حکم ملے تو کیا سنت کی طرف نہیں جائیں گے؟ وہیں رک جائیں گے؟ اس موقع پر وہ سوچنا شروع کردیتے ہیں اور کئی طلبہ یہ جواب دیتے ہیں، نہیں سر، سنت کی طرف جانا ضروری ہے کیونکہ سنت سے قرآن کی شرح ہوتی ہے۔ اس موقع پر بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے قرآن میں حکم بظاہر عام ہو لیکن سنت نے اس کی تخصیص کردی ہو۔ چند ایک سنت کے ذریعے قرآن کے نسخ کی بات بھی کرتے ہیں۔

میں مزید پوچھتا ہوں : اچھا ، آپ نے کہا تھا کہ قرآن اور سنت میں حکم نہ ملے تو پھر اجتہاد کرنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اجتہاد کیسے کریں گے اگر قرآن و سنت میں حکم ہے ہی نہیں؟ اس پر بعض طلبہ قیاس کی بحث شروع کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ اس سے ملتا جلتا مسئلہ قرآن یا سنت میں مذکور ہو تو اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ میں انھیں یاد دلاتا ہوں کہ قیاس کےلیے ایک تو حکم کا معلول ہونا ضروری ہوتا ہے ، دوسرے اس کی علت کا معلوم ہونا ضروری ہوتا ہے، تیسرے اس علت کا اس نئے مسئلے میں موجود ہونا ضروری ہوتا ہے، چوتھے دونوں کے درمیان کسی مؤثر فارق کا نہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ بہ الفاظِ دیگر، قرآن یا سنت میں مذکور نظیر اور اس نئے مسئلے کا exact match ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ تو اگر اس طرح کا exact match نص میں نہ ملے تو پھر اجتہاد کیسے کیا جائے گا؟ بعض ذہین طلبہ اس موقع پر قانون کے قواعدِ عامہ کا ذکر کرتے ہیں اور بعض تو مقاصدِ شریعت تک پہنچ جاتے ہیں۔

اس موقع پر میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے اس صورت میں اجتہاد کا ذکر تو کرلیا جب نص میں حکم نہ ہو لیکن کیا نص میں حکم کی موجودگی کی صورت میں اجتہاد نہیں ہوتا؟ بعض طلبہ اس موقع پر اس قاعدے کا ذکر کرتے ہیں کہ نص کی موجودگی میں اجتہاد نہیں کیا جاسکتا۔ بعض دوسرے طلبہ اس قاعدے میں نص اور اجتہاد کے مفہوم پر بحث شروع کردیتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ اس تفصیلی بحث میں جانے سے قبل مجھے یہ بتائیے کہ نص کا مفہوم متعین کرنا اجتہاد کے مفہوم میں شامل ہے یا نہیں؟ کچھ بحث کے بعد تقریباً سبھی مان لیتے ہیں کہ اجتہاد کا تو پہلا دائرہ ہی یہی ہے۔ اس موقع پر میں پوچھتا ہوں کہ اگر ایسا ہے تو یہ بتائیے کہ اگر کسی آیت یا کسی حدیث کے مفہوم پر فقہاے کرام کا اتفاق ہوا ہو تو کیا اجتہاد کے ذریعے اس مفہوم سے انحراف کیا جاسکتا ہے؟ یہاں سے بحث اجماع کی طرف مڑ جاتی ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگراجماع کی مخالفت ناجائز ہے تو کیا مجتہد کو اجتہاد سے پہلے یہ متعین نہیں کرنا چاہیے کہ جس مسئلے پر وہ اجتہاد کرنا چاہتا ہے کہیں اس پر اجماع تو نہیں ہوا؟ کیا وہ امت کی چودہ سو سالہ تاریخ میں پہلا خوش قسمت انسان ہے جسے قرآن یا سنت پر غور کرنے کا موقع ملا ہے؟

اس مرحلے پر میں ان کے سامنے اسلامی قانون کے مآخذ کی ترتیب کے متعلق امام غزالی کا یہ اقتباس رکھ لیتا ہوں :

يجب على المجتهد في كل مسألة أن يرد نظره إلى النفي الأصلي قبل ورود الشرع ثم يبحث عن الأدلة السمعية المغيرة فينظر أول شيء في الإجماع فإن وجد في المسألة إجماعا ترك النظر في الكتاب والسنة۔

(ہر نئے مسئلے میں مجتہد پر واجب ہے کہ پہلے اس طرف توجہ کرے کہ شریعت کے ورود سے قبل نفی اصلی کی حالت تھی ۔ اس کے بعد وہ سمعی دلائل کی تلاش شروع کرے جن سے یہ نفی اصلی تبدیل ہوچکی ہو ۔ تو سب سے پہلے وہ اجماع کو دیکھیے اور اگر اسے اجماع میں مسئلے کا حکم مل جائے تو وہ قرآن و سنت میں حکم تلاش کرنا چھوڑ دے ۔ )

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : محمدمشتاق احمد
| | |
33