دنیا کی ہر زبان کا سب سے کامیاب معلم ایک ماں ہوتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثر مائیں نہ لسانیات کی ماہر ہوتی ہیں، نہ نفسیات کی پروفیسر اور نہ ہی تدریسی ڈپلومے رکھتی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے بچے کو چند سالوں میں ایسی زبان سکھا دیتی ہیں جس میں وہ اپنی ضرورت بیان کرسکے، جذبات کا اظہار کرسکے اور دوسروں سے رابطہ قائم کرسکے۔ سوال یہ ہے کہ ماں ایسا کیسے کرلیتی ہے؟ اور کیا عربی زبان کے اساتذہ اس فطری طریقۂ تعلیم سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟
بچہ جب بولنا شروع کرتا ہے تو اس کی زبان غلطیوں سے بھری ہوتی ہے۔ وہ الفاظ توڑ مروڑ کر ادا کرتا ہے، جملوں کی ترتیب بگاڑ دیتا ہے اور قواعد کی بے شمار غلطیاں کرتا ہے۔ لیکن ماں ہر غلطی پر ڈانٹنے، شرمندہ کرنے یا لمبی تقریر کرنے کے بجائے اصل پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ غلطی کو زبان سیکھنے کے عمل کا فطری حصہ سمجھتی ہے۔ بچہ اگر غلط جملہ بولتا ہے تو ماں اکثر اس کا درست نمونہ دہرا دیتی ہے، مگر اس انداز سے کہ بچے کا اعتماد متاثر نہ ہو۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ خوف کے بغیر مسلسل بولتا رہتا ہے اور یہی مسلسل استعمال اسے زبان میں مہارت کی طرف لے جاتا ہے۔
اس کے برعکس تعلیمی ماحول میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ طالب علم نے ابھی عربی میں بولنے کی ہمت کی ہی ہوتی ہے کہ فوراً اس کی غلطیوں کی فہرست سامنے رکھ دی جاتی ہے۔ جملہ مکمل ہونے سے پہلے اصلاح شروع ہوجاتی ہے۔ غلطی کی نشاندہی تو ضروری ہے، لیکن اگر ہر کوشش کے ساتھ خوف، شرمندگی اور ناکامی کا احساس وابستہ ہوجائے تو زبان سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ طالب علم خاموشی کو غلط عربی بولنے پر ترجیح دینے لگتا ہے۔
ماں کا دوسرا اصول تدریج ہے۔ وہ نومولود بچے کو فلسفہ، ادب یا پیچیدہ جملے نہیں سکھاتی۔ پہلے چند الفاظ، پھر مختصر جملے اور پھر آہستہ آہستہ مکمل گفتگو۔ یہی فطری ترتیب زبان کی کامیاب تعلیم کی بنیاد ہے۔ افسوس کہ بعض اوقات عربی زبان کے ابتدائی طلبہ کو پہلے ہی دن ایسے قواعدی مباحث میں الجھا دیا جاتا ہے جن کی عملی ضرورت انہیں کئی مراحل بعد پیش آنی ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم زبان سے پہلے قواعد کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
ماں کا تیسرا اصول کثرتِ سماع ہے۔ بچہ بولنا سیکھنے سے پہلے ہزاروں گھنٹے سنتا ہے۔ وہ روزانہ اپنے اردگرد ایک ہی زبان کا مسلسل استعمال دیکھتا اور سنتا ہے۔ اسی لیے زبان اس کی فطرت کا حصہ بن جاتی ہے۔ عربی تدریس میں بھی سماعت کو بنیادی مقام دینا چاہیے۔ اگر طالب علم عربی سننے سے محروم رہے اور صرف قواعدی تعریفات یاد کرتا رہے تو زبان اس کے ذہن میں ایک زندہ حقیقت کے بجائے ایک خشک مضمون بن کر رہ جاتی ہے۔
ماں کا چوتھا اصول حوصلہ افزائی ہے۔ بچہ جب پہلی بار کوئی لفظ ادا کرتا ہے تو گھر والے اس کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں، حالانکہ وہ لفظ مکمل طور پر درست بھی نہیں ہوتا۔ یہ حوصلہ افزائی بچے کو مزید کوشش پر آمادہ کرتی ہے۔ اسی طرح عربی کے استاد کو بھی طالب علم کی معمولی پیش رفت کو اہمیت دینی چاہیے۔ زبان سیکھنے کا سفر چھوٹی چھوٹی کامیابیوں سے مل کر بنتا ہے۔
زبان سیکھنے کا مقصد صرف قواعد جاننا نہیں بلکہ ابلاغ کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ ماں اس حقیقت کو فطری طور پر سمجھتی ہے۔ وہ پہلے بچے کو اظہار سکھاتی ہے، قواعد بعد میں خود بخود ذہن میں راسخ ہوتے جاتے ہیں۔ کامیاب عربی استاد بھی وہی ہے جو زبان کو زندہ تجربہ بنائے، محض امتحانی مضمون نہیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عربی زبان کے بہت سے مسائل نصاب یا طلبہ کے نہیں بلکہ طریقۂ تدریس کے ہیں۔ اگر استاد ماں کے فطری اسلوب سے چند بنیادی اصول سیکھ لے—تدریج، حوصلہ افزائی، کثرتِ سماع، غلطیوں پر متوازن ردِعمل اور عملی استعمال—تو عربی زبان کا سفر ہزاروں طلبہ کے لیے آسان اور خوشگوار بن سکتا ہے۔
عربی زبان مشکل نہیں، بعض اوقات ہمارا سکھانے کا انداز اسے مشکل بنا دیتا ہے۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر ہر استاد کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ استاد صرف علم منتقل نہیں کرتا، وہ طالب علم کے دل میں علم کی محبت یا نفرت بھی پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک استاد عربی زبان کا معمار بھی بن سکتا ہے اور نادانستہ طور پر اس کے راستے میں دیوار بھی۔