(+92) 319 4080233
کالم نگار

عابدمحمودعزام

عابدمحمودعزام

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/31
موضوعات
مفتی عبدالرحیم پرتنقید کا جواب
​حضرت استاد محترم مفتی عبدالرحیم صاحب نے واٹس ایپ پر ایک تفصیلی وائس نوٹ کے ذریعے جواب دیا۔ آپ بھی سنیں، اس میں ہم سب کے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔

​میں نے "تشہیری مزاج اور مخلصانہ گزارش" کے عنوان سے علمائے کرام، فضلائے مدارس اور مذہبی طبقے کے سوشل میڈیا رویوں پر ایک تحریر لکھی تھی، جس میں مفتی عبدالرحیم صاحب (مہتمم جامعۃ الرشید و سرپرستِ اعلیٰ الغزالی یونیورسٹی) پر بھی کسی حد تک تنقید کی گئی تھی۔ فیس بک پر تحریر اپلوڈ کرنے کے کچھ ہی دیر بعد مفتی صاحب کے خادمِ خاص اور جامعۃ الرشید کے استاد مولانا صادق صاحب کا صوتی پیغام موصول ہوا۔ پیغام سننے سے پہلے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ شاید پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کا کہا جائے گا، جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ کسی نامور شخصیت پر تنقید کی جائے تو پوسٹ زبردستی ہٹوا دی جاتی ہے، لیکن مولانا صادق صاحب نے میری اس تحریر پر بے حد خوشی کا اظہار کیا، ڈھیروں دعائیں دیں اور میری بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا: "آپ نے بالکل ٹھیک لکھا ہے؛ اگر سب ہی مدح سرائی اور واہ واہ کرنے والے مل جائیں تو انسان کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حضرت استاد صاحب تک آپ کی تحریر پہنچ گئی ہے اور وہ خود آپ سے رابطہ کریں گے۔

​چند گھنٹوں بعد منیٰ سے خود مفتی عبدالرحیم صاحب کا میرے واٹس ایپ پر ایک تفصیلی پیغام موصول ہوا، جس میں انہوں نے حج کے مبارک سفر کے دوران بھی اپنی ذات پر ہونے والی تنقید پر مجھے ڈھیروں دعائیں دیں، میری بے حد حوصلہ افزائی فرمائی اور بعد میں کال کرکے گفتگو بھی کی۔ یقین جانیے، ان کا ایک ایک لفظ آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے اور ہم سب کے لیے اس میں بہت بڑا سبق ہے کہ تنقید کا جواب کتنی محبت، وسعتِ ظرفی اور بڑے پن کے ساتھ دیا جاتا ہے۔

​ہمارا مجموعی مزاج یہ بن چکا ہے کہ اگر ہم پر کوئی تنقید ہو تو ہم اسے تسلیم کرنے کے بجائے تاویلیں اور توجیہات پیش کرنے لگتے ہیں اور اپنی غلطی نہیں مانتے۔ مختلف علماء اور بزرگوں کے متعلقین تو اپنی محبوب شخصیات کے معاملے میں ہمیشہ ایسا ہی جارحانہ رویہ اپناتے ہیں، حالانکہ سب انسان ہیں اور انسانوں سے خطا ہو سکتی ہے، مگر بڑے لوگ بلاوجہ بڑے نہیں ہوتے، اللہ تعالیٰ نے ان کے ظرف میں ایک خاص بڑا پن رکھا ہوتا ہے، اسی لیے وہ رفعت پاتے ہیں۔ ممکن ہے میری تحریر میں کچھ کمی کوتاہی رہی ہو یا بے موقع ہو، لیکن حضرت استاد صاحب نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے میری اس قدر پذیرائی فرمائی کہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے دیا ہو۔ انہوں نے مجھے ڈھیروں دعاؤں، شکریہ اور حوصلہ افزائی سے نوازا۔

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : عابدمحمودعزام
| | |
5