(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا مفتی محمد سجاد احمد

مولانا مفتی محمد سجاد احمد

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/15
موضوعات
فقیہ وقت کی شفقتیں
مفتی عبدالجلیل ؒ کی شفقتیں:
جمعہ کا دن تھا۔ صبح تقریباً نو بجے ناشتہ سے فارغ ہوکر ابھی سونے کے لیے لیٹا ہی تھا کہ دروازے پر بیل بجی۔ معلوم ہوا کہ دو سفید ریش بزرگ ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتے ہیں۔ مسئلہ طلاق اور پھر شوہرِ اوّل سے تجدیدِ نکاح سے متعلق تھا۔ دونوں نہایت پریشان، مغموم اور شکستہ حال دکھائی دیتے تھے۔ میں نے حال احوال لیا اور عرض کیا کہ کل بروزِ ہفتہ تشریف لے آئیں۔اگلے دن بعد نمازِ ظہر سوال کے مطابق جواب تحریر کیا، مہریں ثبت کیں اور وہ بزرگ دعائیں دیتے ہوئے واپس تشریف لے گئے۔

اگلے جمعہ کو عین اسی وقت شہر کے ایک بزرگ مولانا صاحب کی کال آئی:“مفتی صاحب! ابھی دس پندرہ منٹ کے لیے آپ کا وقت چاہیے، میرے ادارے میں آجائیں، ایک ایمرجنسی مسئلہ سے متعلق مشورہ کرنا ہے۔”میں وضو کرکے وہاں پہنچا تو دیکھا کہ دس بارہ افراد جمع ہیں، اور ماحول خاصا گرم ہے۔ مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگے:“مفتی صاحب! گزشتہ ہفتے جو لوگ آپ سے فتویٰ لے کر گئے تھے، وہ آپ سے غلط بیانی کرگئے ہیں۔”

میں نے عرض کیا:“غیب کا علم تو نہیں جانتا۔ جو سوال انہوں نے حلفیہ بیان کے ساتھ دیا، اس کے جواب کا میں ذمہ دار ہوں۔”

کہنے لگے:“وہ لڑکی کی دوسری جگہ شادی بھی کررہے ہیں، جبکہ پوری بستی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ آپ سے غلط بیانی کرکے گئے تھے۔”الغرض! گزشتہ ہفتے والے سائلین کو دوبارہ بلوایا گیا۔ کوئی تیس پینتیس افراد جمع ہوگئے۔ دوبارہ سب سے حال احوال لیا گیا۔ لفظی نزاع وہی تھی، اصل بات ایک ہی تھی۔ حلفیہ بیانات مکمل ہوئے تو میں نے عرض کیا:“اب جواب یہیں لکھ دوں یا حضرت مفتی عبد الجلیل صاحبؒ کے پاس کوٹ ادو جانا ہے؟”دونوں طرف سے مختلف آراء آئیں، مگر آخر کار سینئر علماء نے فرمایا:“حضرت مفتی صاحبؒ کے پاس کوٹ ادو چلتے ہیں، اور آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں۔”وقت لے کر اگلے دن ہم جامعہ مظاہرالعلوم کوٹ ادو پہنچے۔حضرت حسبِ عادت دیوار سے ٹیک لگائے، ٹانگیں دراز کیے تشریف فرما تھے۔ مہمانوں کو دیکھا تو فوراً ٹانگیں سمیٹ لیں۔ سلام کے بعد مولانا عبد العزیز صاحب ذرا آگے ہوئے اور عرض کیا:“استاذی! یہ ان حضرات کے گزشتہ ہفتے کے بیانات ہیں، ساتھ مفتی سجاد صاحب کا لکھا ہوا جواب بھی ہے، اور یہ دوسری نشست کے بیانات ہیں۔”

حضرتؒ نے کاغذات ہاتھ میں لیے، چند لمحے غور سے دیکھا، پھر فرمایا:“جب مفتی سجاد صاحب نے جواب لکھ دیا تھا تو پھر میرے پاس کیوں آئے ہو؟”عرض کیا گیا:“حضرت! سائلین کی خواہش ہے کہ اب کی بار جواب آپ تحریر فرمادیں۔”حضرتؒ نے دوبارہ کاغذات پر نگاہ ڈالی، پھر فرمایا:“جواب تو ٹھیک لکھا ہے مفتی صاحب نے، خواہ پہلے والے بیانات ہوں یا بعد والے۔”مجمع میں سے ایک شخص بولا:“حضرت! آپ اس کے اوپر دستخط کردیں۔”یہ سننا تھا کہ حضرتؒ نے دیوار کی ٹیک چھوڑ دی، سیدھے ہوکر بیٹھ گئے، اور جلال سے بھرپور رعب دار آواز میں فرمایا:“جب میں نے کہہ دیا ہے کہ جواب ٹھیک لکھا ہے، تو پھر مجھے دستخطوں کا کیوں کہہ رہے ہو؟اگر یہ فتویٰ تمہارے حق میں لکھا ہوتا تو مفتی سجاد تمہارے نزدیک بہت بڑا مفتی تھا، اب تمہارے خلاف لکھ دیا ہے تو اتنا مجمع اکٹھا کرکے اس بے چارے کو میرے پاس لے آئے ہو؟جو فتویٰ مفتی سجاد نے لکھ دیا ہے، وہی عبد الجلیل کا فیصلہ ہے۔

یہی فتویٰ چلے گا۔ جاؤ یہاں سے!”سارے احباب اس فقیہِ وقت کی محبت بھری ڈانٹ لیے، ہلکی مسکراہٹوں کے ساتھ باہر آگئے۔اب کی بار کوئی میرے ہاتھ چوم رہا تھا، کوئی پیشانی کا بوسہ دے رہا تھا:“حضرت! ہم سے غلطی ہوگئی…”اسی اثناء میں خادم نے آکر کہا:“مفتی سجاد صاحب! حضرت بلا رہے ہیں۔”میں اندر حاضر ہوا تو حضرتؒ نے مجھے بالکل اپنے قریب کرلیا۔ میری گُدی پر محبت سے ہاتھ رکھا، جو ٹینشن کے باعث پسینے سے شرابور تھی۔ مسکراتے ہوئے فرمایا:“مفتی صاحب! آپ نے جواب ٹھیک لکھا، لیکن لوگ آکر مفتی کو جھوٹ بولتے ہیں۔ بدگمانی منع ہے، مگر تیقظ اور بیدار مغزی الگ چیز ہے، اور یہی مفتی کا فرضِ منصبی ہے۔ اس میں غفلت نہ کیا کریں۔”

پھر چند اور نصائح فرمائیں اور اجازت دیتے ہوئے فرمایا:“آیا کریں…”میں نے عرض کیا:“حضرت! فون پر بات کرتے ہوئے جھجک ہوتی ہے۔”فرمایا:“آتے رہو گے نا… جھجک ختم ہوجائے گی!”اُس وقت تخصص سے فراغت کو ابھی صرف چار سال ہوئے تھے۔دارالافتاء سے وابستہ علماء خوب جانتے ہیں کہ افتاء کے منصب پر براجمان ہونے والا خواہ کتنی ہی صلاحیت رکھتا ہو، جب تک کسی بڑے کی نگرانی میں باقاعدہ کام نہ کرے، قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتا ہے۔؎

فقیہ وہ ہے جو دل بھی سنبھال لیتا ہے
جو لفظ لکھتا ہے، فتنے نکال لیتا ہے
کئی بار حضرت رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضری نصیب ہوئی، اور بے شمار مرتبہ فون پر بھی رہنمائی حاصل کی:“حضرت! اس مسئلے کا حل کیا ہوگا؟”“یہ جزئیہ کہاں ملے گا؟”“یہ سوال میں نے سائل سے یوں پوچھا ہے، درست ہے یا کچھ اور پوچھوں؟”حضرتؒ ایسی شفقت، محبت اور اپنائیت سے نوازتے کہ آج برسوں بعد بھی ان گفتگوؤں کی مٹھاس دل سے نہیں گئی۔اور یہ تربیت صرف فقہی مسائل تک محدود نہ تھی۔ مشہور مقولہ ہے کہ:“اللہ والوں کی صحبت میں رہ کر دین کی سمجھ آتی ہے۔”میں نے اس کا بارہا مشاہدہ کیا۔

ایک بار برادرم مفتی عمر فاروق محمود کوٹی کے ہمراہ حضرتؒ کی خدمت میں حاضر تھا۔ حضرتؒ نے ایک طالب علم کو ہمارے لیے مشروب لانے کا فرمایا۔ اس نے دو مختلف گلاسوں میں بوتل پیش کی؛ ایک گلاس نسبتاً خوبصورت اور بڑا تھا، دوسرا سادہ اور چھوٹا۔حضرتؒ نے فوراً طالب علم کو تنبیہ فرمائی:“کتنی بار کہا ہے کہ مہمانوں کو ایک جیسے برتنوں میں چیز پیش کیا کرو!”طالب علم کے جانے کے بعد میں نے عرض کیا:“استاذی! کیا ایک جیسے گلاسوں میں مشروب پیش کرنا اتنا ضروری ہوتا ہے؟”فرمایا:“بھائی! اگر ایک مہمان کو سادہ برتن میں پانی دیا جائے اور دوسرے کو اعلیٰ برتن میں، تو سادہ برتن والے کی دل شکنی ہوتی ہے… اور دل شکنی معمولی چیز نہیں ہوتی۔”

؎

فقیہِ شہر تھا، لیکن مزاج ایسا تھا
کہ دل نہ ٹوٹے کسی کا، یہی تقاضا تھا
میں اُس وقت دارالافتاء میں نووارد تھا۔ حضرتؒ کی شفقت و محبت اور فتاویٰ میں الجھ جانے پر، ہفتے دس دن میں جامعہ مظاہرالعلوم حاضری لازمی سی ہوگئی تھی، اور فون پر بھی اکثر رابطہ رہتا۔ایک بار حضرتؒ نے چائے اور بسکٹ منگوائے۔ میں نے حسبِ عادتِ دیہات، بسکٹ چائے میں ڈبو کر آدھا دانتوں سے کاٹ لیا اور باقی دوبارہ چائے میں ڈبویا۔حضرتؒ فوراً ٹیک چھوڑ کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمایا:“نہیں بھائی! ایسے نہیں کھاتے!”میں یکدم گھبرا گیا۔ سوچنے لگا شاید ہاتھ کی کوئی غلطی ہوگئی۔ عرض کیا:“حضرت! میں نے کیا غلطی کردی؟”فرمایا:“حسبِ ضرورت بسکٹ ہاتھ سے توڑ کر چائے میں ڈبوئیں، یا پورا بسکٹ منہ میں لے جائیں۔ جس طرح آپ نے کھایا ہے، بعض اوقات دیکھنے والے کو اچھا نہیں لگتا… اور یہ ایذاءِ مسلم میں داخل ہوسکتا ہے۔”اللہ اکبر!

یہ صرف فقہ نہیں تھی، یہ انسان سازی تھی…
یہ صرف فتویٰ نہیں تھا، یہ تہذیبِ نفس تھی۔
؎

وہ درسِ علم بھی دیتے تھے اور سلیقہ بھی
نگاہِ شیخ میں شامل تھا ذوقِ دنیا بھی
حضرت رحمہ اللہ ہمارے ادارے “معہد الخیر سنانواں” میں دو مرتبہ تشریف لائے۔ ایک بار درسِ نظامی کے افتتاح کے لیے، اور دوسری مرتبہ جامع مسجد کے سنگِ بنیاد کے موقع پر۔وقت کی ایسی پابندی کہ جو وقت دیا، عین اسی وقت تشریف لائے۔ نہ ایک منٹ تقدیم، نہ ایک لمحہ تاخیر۔

افتتاح کے موقع پر حضرتؒ نے مجھے اپنے بالکل ساتھ بٹھالیا۔ دورانِ بیان موبائل کی گھنٹی بجی۔ میں نے سمجھا شاید حضرت کا موبائل ہے۔ حضرتؒ نے کچھ دیر برداشت کیا، پھر فرمایا:“بھائی! موبائل کس کا بج رہا ہے؟”میں نے عرض کیا:“حضرت! شاید آپ کا ہے۔”حضرتؒ نے جیب سے موبائل نکالا اور فرمایا:“دیکھو! میرا تو نہیں بج رہا…”میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو موبائل میرا ہی تھا!

لیکن حضرتؒ نے ذرہ برابر ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا۔

اب ڈھونڈ انہیں چراغِ رخِ زیبا لے کر…
حضرت رحمہ اللہ کی وفات کے بعد آج بھی کئی لوگ مسائل پوچھنے آتے ہیں، اور بتاتے ہیں:“حضرت مفتی عبد الجلیل صاحبؒ نے فرمایا تھا کہ سنانواں میں مفتی سجاد سے مسائل پوچھا کرو۔”

میں قربان جاؤں اکابر کی اصاغر نوازی پر!
آج جب کبھی کوئی فقہی جزئیہ نہ ملے، کوئی گنجلک مسئلہ حل نہ ہو، یا کسی سینئر سے تسلی کے لیے رجوع کرنا پڑے، تو حضرتؒ بہت یاد آتے ہیں۔جامعہ مظاہرالعلوم کوٹ ادو — یہ صرف ایک ادارہ نہیں، بلکہ علومِ نبوت کا ایک روشن مینار، رشد و ہدایت کا ایک جاری چشمہ، اور اکابرینِ دیوبند کے علمی و روحانی فیضان کا ایک عظیم تسلسل ہے۔حضرت مفتی عبد الجلیل رحمہ اللہ نے اپنی عمرِ عزیز کا سرمایہ جس اخلاص سے اس ادارے پر صرف کیا، آج اس کی برکتیں ملک کے طول و عرض میں محسوس کی جارہی ہیں۔ جامعہ کی سو کے قریب شاخیں مختلف علاقوں میں قرآن و سنت کی روشنی عام کررہی ہیں، اور ہزاروں طلبہ علومِ وحی کے نور سے اپنے سینے منور کررہے ہیں۔

حضرتؒ کا لگایا ہوا یہ چمن آج بھی مہک رہا ہے، اور اس کی شاخیں دور دور تک علم و عمل کی بہاریں بکھیر رہی ہیں۔الحمدللہ! حضرتؒ کے صاحبزادے، حضرت مولانا محمد اشفاق قاسمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی قیادت میں جامعہ مظاہرالعلوم کوٹ ادو اسی شان سے نسلِ نو کو علومِ نبوت منتقل کررہا ہے۔اللہ تعالیٰ اس ادارے کو تا قیامت قائم و دائم رکھے، اس کے فیوض و برکات میں اضافہ فرمائے، اور حضرت رحمہ اللہ کے خانوادے کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

ان کی دینی خدمات، علمی کارگزاریوں اور ادارہ جاتی ترقی کو دیکھ کر دل خوشی اور طمانیت سے بھر جاتا ہے۔

؎

چراغِ علم بجھتے ہیں تو دل روتے بہت ہیں
مگر کچھ لوگ مر کر بھی اجالا چھوڑ جاتے ہیں
مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : مولانا مفتی محمد سجاد احمد
| | |
54