(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سید فصیح اللہ شاہ

مفتی سید فصیح اللہ شاہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/26
موضوعات
اسلامی کلام اور جدید فلسفے کی علمیات
شرح عقائد پڑھنے والے طلباء اور علم الکلام کے مبتدی طلباء اکثر پوچھتے ہیں کہ علم الکلام میں علمیات یعنی اسباب علم تین بتائے جاتے ہیں حواس خمسہ عقل خبر صادق تو جدید علمیات کیا ہیں اور ان کے بانیان اور فلاسفہ کون سے ہیں.
اسلامی علم الکلام کے ان تین روایتی ذرائع کے مقابلے میں جدید مغربی علمیات میں علم کے چار بڑے نظریات اور ذرائع پیش کیے جاتے ہیں جن کی تفصیل اور ان کے بانی فلاسفہ درج ذیل ہیں:

پہلا نظریہ:
یہ نظریہ تجربیت پسندی ہے اس کے مطابق علم کا واحد ذریعہ انسانی حواس اور مادی تجربات ہیں یہ اسلامی علمیات کے الحواس السلیمہ سے ملتا جلتا ہے لیکن جدید تجربیت پسندی غیب اور ماورائے عقل حقائق کا انکار کرتی ہے اس نظریے کے بانی جان لاک ہیں انہوں نے رینے ڈیکارٹ کی عقلیت پسندی کو مسترد کیا اور نظریہ دیا کہ پیدائش کے وقت انسانی ذہن ایک کوری تختی یا صاف کاغذ کی مانند ہوتا ہے انسان جو کچھ بھی سیکھتا ہے وہ اپنے حواس اور بیرونی مادی تجربات کے ذریعے سیکھتا ہے اسی نظریے میں ڈیوڈ ہیوم کا نام بھی اہم ہے جنہوں نے تجربیت پسندی کو اس کی انتہا تک پہنچایا اور تشکیک کی بنیاد رکھی انہوں نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ علت و معلول یعنی سبب اور مسبب کا کوئی حقیقی یا عقلی وجود نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف انسانی ذہن کی ایک عادت ہے جو بار بار کے مشاہدے سے بنتی ہے۔

دوسرا نظریہ:
دوسرا نظریہ عقلیت پسندی ہے اس کے مطابق عقل منطق اور فطری نظریات علم کا بنیادی ذریعہ ہیں چاہے حسی تجربہ موجود ہو یا نہ ہو یہ اسلامی علمیات کے العقل کے مشابہ ہے مگر جدید عقلیت پسندی وحی یعنی خبر صادق کو عقل کے تابع کرتی ہے یا اسے مسترد کرتی ہے اس کے بانی رینے ڈیکارٹ ہیں جنہیں جدید مغربی فلسفے کا بابا آدم کہا جاتا ہے انہوں نے علم کے حصول کے لیے طریقہ کار کا شک متعارف کروایا اور حواس کے بجائے انسانی عقل کو یقینی علم کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔

تیسرا نظریہ :
یہ تنقیدیت کانظریہ ہے یہ امانوئل کانٹ کا نظریہ ہے جو تجربیت اور عقلیت کو ملا کر کہتا ہے کہ علم حواس اور عقل دونوں کے تعامل سے بنتا ہے یہ اسلامی نقطہ نظر کے قریب ہے جہاں عقل اور حواس مل کر کام کرتے ہیں مگر یہ انسانی عقل کو خدا کی ذات تک پہنچنے کے لیے محدود مانتا ہے امانوئل کانٹ نے جدید علمیات میں انقلابی تبدیلی پیدا کی انہوں نے عقلیت پسندی اور تجربیت پسندی کے درمیان صلح کروائی ان کا کہنا تھا کہ علم کی خام شکل حواس سے آتی ہے لیکن انسانی عقل کے پاس پہلے سے کچھ سانچے ہوتے ہیں جو اس خام مال کو ترتیب دے کر علم بناتے ہیں ان کے مطابق ہم چیزوں کو ویسا نہیں دیکھ سکتے جیسی وہ اصل میں ہیں بلکہ ویسا دیکھتے ہیں جیسی وہ ہمیں نظر آتی ہیں۔

چوتھا نظریہ:
یہ نظریہ وجدانیت یا باطنیت کا ہے اس کے مطابق علم کا ذریعہ اندرونی احساس کشف یا اچانک ہونے والا وجدان ہے جو حواس اور عقل سے ماورا ہوتا ہے متکلمین اس کو عام انسانوں کے لیے حجت یعنی دلیل نہیں مانتے جبکہ جدید فلسفے میں اسے ایک شخصی علمی ذریعے کے طور پر بحث کیا جاتا ہے۔

جدید علمیات میں ایک اور بڑا چیلنج ایڈمنڈ گیٹیئر نے پیش کیا روایتی فلسفے میں افلاطون کے زمانے سے علم کی تعریف جواز یافتہ سچا عقیدہ کی جاتی تھی گیٹیئر نے انیس سو تریسٹھ میں ایک مختصر مقالہ لکھ کر ایسے فکری تضادات پیش کیے جنہوں نے اس صدیوں پرانی تعریف کو ہلا کر رکھ دیا اور بیسویں صدی کی علمیات کا رخ بدل دیا۔

حاصل کلام:
جدید مغربی فلسفے میں خبر صادق یعنی وحی کو آزاد علمی ذریعہ ماننے پر سخت اختلاف پایا جاتا ہے جو کہ اسلامی علمیات کا سب سے منفرد اور اہم حصہ ہے جدید مغربی فلسفہ انسان کو علم کے معاملے میں خود مختار سمجھتا ہے جس کا نتیجہ اکثر تشکیک اور الحاد کی شکل میں نکلتا ہے اس کے برعکس اسلامی علم الکلام عقل اور حواس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں وحی کے نور سے ممیز کرتا ہے جس سے انسان کو دنیا اور آخرت دونوں کا جامع اور غیر متزلزل علم حاصل ہوتا ہے۔

کالم نگار : مفتی سید فصیح اللہ شاہ
| | |
26