پشاور سےکچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغواء ہونے والی گیارہ سالہ بچی کی والدہ کہ زبانی سامنے آنے والی کہانی خاصی دردناک ہے۔ اگر چہ اس واقعہ کے بارے مجھے پوری تحقیقات نہیں ہیں اور واقعہ میں سقم اور ویک پوائنٹس بھی ہیں۔
سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ بچی کے اغواء کے بعد اغواء کاروں کی کال موصول ہونے پر غریب فیملی نے راتوں رات پندرہ لاکھ روپے کا بندوست کیا اور کسی کو بتایا تک نہیں ۔
اس خاتون اور بچی کے چچے ،ماموں اور دیگر خاندان کے لوگ کیوں مدد کو نہیں آئے ؟
خاتون اور اس کے شوہر نے اتنا بڑا رسک کیسے لیا؟
اغواء کار اور وہ بھی کچے کے ڈاکو ان کے وعدے پر اتنا بڑا یقین کرنا اور ایک نوگوایریا میں جانا کونسی دانشمندی ہے۔ عورت ہے۔ جوان ہے۔ پرائے اور اجنبی لوگ ہیں۔ بچی کی جدائی کا درد بلاشبہہ بہت اذیت ناک ہے۔ لیکن اگر بچی وحشیوں کے چنگل میں پھنس گئی ہے تو کم از کم والدہ کو اپنی عزت تار تار کروانے کے لئے جانے کی سنگین غلطی کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے تھا۔
صوبہ خیبرپختونخواہ میں اس نوعیت کے معاملات میں ہمیشہ جرگے سے مدد لی جاتی ہے۔ جو اس خاندان نے نظر انداز کرکے غلطی کی ہے ۔
یہ صوبہ خیبرپختونخوا سے اغواء کی پہلی واردات نہیں ہے۔ اس سے قبل بونیر ،چارسدہ اور متعدد علاقوں کے باشندوں کے کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغواء ہونے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ لیکن ان مغویوں کے خاندانوں نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بات کی۔ جس میں ملتان کے کور کمانڈر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سیاسی و حکومتی حکام کی مدد لی گئی اور وہ افراد بخیریت رہا ہوئے ۔
میرا خیال ہے سوشل میڈیا پر سرگرم لسانیت کے مارے افراد اس واقعہ کو ایک مرتبہ پھر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ ہمیں اس معاملے کو بغیر کسی لسانی وابستگی اور قومی پس منظر کے دیکھنا ہے۔ اور اس بچی کی بازیابی کے لئے وفاقی وزیر جناب امیر مقام ، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور سندھ کی حکومت ، جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی جنرل سیکریٹری علامہ راشد محمود سومرو اور سوشل میڈیا کے تمام ایکٹیوسٹوں سے درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملے کو انسانی بنیادوں پر دیکھا جائے اور اس میں اپنا کردار ادا کریں۔
کوئی بیٹی سندھی،پنجابی اور پشتون نہیں ہوتی وہ قوم کی بیٹی ہوتی ہے اور اس کی عزت سب کی عزت ہے۔ میں سندھ کے اپنے غیور سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ اس مظلوم ماں کی فریاد اعلی حکام تک پہنچانے میں مدد کریں۔