(+92) 319 4080233
غارحرا کیا ہے؟
جب غار حرا کا دیدار کیا تو حیران تھا کہ نبی کریم ﷺ نے کیسے اتنی چھوٹی سی جگہ میں اتنا عرصہ گوشہ نشینی اختیار کی ؟یہ صرف میرے پیارے آقا کی ہی شان ہے غار حرا کیا ہے؟ذرا تفصیلاً بتاتا ہوں :

نبوت سے کچھ عرصہ پہلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل مکہ کے شرک، بت پرستی اور اخلاقی بگاڑ سے بیزار ہونے لگا۔ آپ ﷺ نے تنہائی اور سکون کی تلاش میں غارِ حرا کو اپنا مسکن بنایا۔آپ ﷺ کئی کئی دنوں کا کھانا اور پانی (ستو اور پانی) ساتھ لے کر غار میں آجاتے اور وہاں کئی کئی راتیں اللہ تعالیٰ کی عبادت، غور و فکر اور کائنات کے خالق کی جستجو میں گزارتے۔جب راشن ختم ہو جاتا، تو آپ ﷺ واپس مکہ تشریف لے جاتے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے دوبارہ سامانِ رسد لیتے اور پھر غار میں لوٹ آتے۔جب آپ ﷺ کی عمر مبارک 40 سال ہوئی، تو رمضان المبارک کے مہینے میں (جسے لیلۃ القدر بھی کہا جاتا ہے) کائنات کی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ پیش آیا۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام پہلی بار خدا کا پیغام لے کر غارِ حرا میں نازل ہوئے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے غار میں ظاہر ہو کر آپ ﷺ سے فرمایا: "اقْرَأْ" (پڑھیے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "مَا أَنَا بِقَارِئٍ" (میں پڑھنا نہیں جانتا)۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو سینے سے لگا کر زور سے بھینچا (تاکہ آپ ﷺ اس ملوکوتی کیفیت کو برداشت کر سکیں) اور پھر چھوڑ کر فرمایا: "پڑھیے"۔ آپ ﷺ نے پھر وہی جواب دیا۔ ایسا تین مرتبہ کیا گیا۔ تیسری مرتبہ کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سورہ العلق کی ابتدائی پانچ آیات تلاوت کیں، جو قرآن مجید کی نازل ہونے والی سب سے پہلی آیات ہیں:

"اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴿٣﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿٤﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾" (ترجمہ: پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا)۔ "اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴿٣﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿٤﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾"

(ترجمہ: پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا)۔وحی کا بوجھ اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل ہیبت ناک شکل میں دیکھنے کا تجربہ اتنا شدید تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا جسم مبارک کانپنے لگا۔ آپ ﷺ غار سے نکل کر شدید گھبراہٹ اور کپکپی کی حالت میں سیدھے گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: "زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي" (مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو)۔

نزولِ وحی کا واقعہ اچانک پیش نہیں آیا تھا، بلکہ اس کی شروعات غارِ حرا کے زمانے میں ہی ہو چکی تھی۔ احادیث میں آتا ہے کہ غارِ حرا میں مستقل گوشہ نشینی اختیار کرنے سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو "رؤیائے صالحہ" (سچے خواب) آنا شروع ہوئے تھے۔ آپ ﷺ رات کو جو بھی خواب دیکھتے، صبح وہ دن کے اجالے کی طرح سچ ثابت ہو جاتا۔ یہ دراصل غارِ حرا میں ہونے والے عظیم واقعے (وحی) کے لیے آپ ﷺ کے قلبِ مبارک کو تیار کرنے کا ایک غیبی سلسلہ تھا۔جب رسول اللہ ﷺ غارِ حرا میں عبادت کے لیے مکہ سے پیدل جایا کرتے تھے، تو راستے میں معجزاتی واقعات پیش آتے۔ آپ ﷺ خود فرماتے ہیں:"میں مکہ کے اس پتھر کو (آج بھی) پہچانتا ہوں جو میری بعثت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا، میں اب بھی اسے پہچانتا ہوں۔" (صحیح مسلم)آپ ﷺ جب غار کی طرف جاتے تو راستے کے پتھروں اور درختوں سے "السلام علیک یا رسول اللہ" کی آوازیں آتی تھیں، جس سے آپ ﷺ کو تنہائی میں ایک غیبی انسیت اور تسلی محسوس ہوتی تھی۔اس دور کا ایک انتہائی خوبصورت اور جذباتی واقعہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی قربانی ہے۔ غارِ حرا مکہ سے دور ایک اونچے اور کٹھن پہاڑ پر واقع ہے۔

جب رسول اللہ ﷺ کئی کئی دن وہاں قیام فرماتے، تو کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا خود اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کرتیں اور اس تپتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ کر غارِ حرا میں آپ ﷺ تک کھانا پہنچاتی تھیں۔ اسی خدمت کے دوران ایک بار حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا تھا کہ "خدیجہ آ رہی ہیں، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں کھانا ہے۔ جب وہ آئیں تو انہیں ان کے رب کا اور میرا سلام کہیے اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی خوشخبری دیجیے جہاں نہ کوئی شور ہوگا نہ کوئی تھکن۔"

پہلی وحی کے بعد، کچھ عرصے کے لیے وحی کا سلسلہ رک گیا تھا (جسے فترتِ وحی کہتے ہیں)۔ اس دوران رسول اللہ ﷺ شدید اداس رہتے تھے اور اکثر اسی غارِ حرا اور جبلِ نور کے آس پاس تشریف لے جاتے کہ شاید دوبارہ وہی فرشتہ نظر آئے۔ ایک دن جب آپ ﷺ غارِ حرا کے قریب سے گزر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے آسمان سے ایک آواز سنی۔ آپ ﷺ نے اوپر دیکھا تو وہی فرشتہ (حضرت جبرائیل علیہ السلام) جو غارِ حرا میں آیا تھا، آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس واقعے کے بعد سورہ المدثر کی آیات نازل ہوئیں اور وحی کا سلسلہ مستقل جاری ہو گیا۔

جب آپ ﷺ غارِ حرا سے شدید کپکپی کی حالت میں گھر پہنچے، تو آپ کی غمخوار بیوی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو تسلی دی اور وہ تاریخی جملے کہے جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں: "اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا اور نہ رسوا کرے گا۔ آپ تو اخلاق کے اعلیٰ مرتبے پر ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں (رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرتے ہیں)، غریبوں اور بے کسوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔"اس کے بعد حضرت خدیجہؓ آپ ﷺ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں،

جو عبرانی زبان اور انجیل و تورات کے بہت بڑے عالم تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کا پورا واقعہ سن کر فوراً پہچان لیا اور کہا:"یہ تو وہی 'ناموس' (رازدار فرشتہ/جبرائیلؑ) ہے جسے اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا۔ کاش! میں اس وقت جوان اور صحت مند ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو اس شہر (مکہ) سے نکال دے گی۔"یہ سن کر آپ ﷺ نے حیرت سے پوچھا: "کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟" ورقہ نے جواب دیا: "ہاں، جب بھی کوئی نبی ایسا پیغام لے کر آیا جو آپ لائے ہیں، تو لوگ اس کے دشمن ہی بنے۔"ورقہ بن نوفل کی تصدیق اور سورہ المدثر کی آیات ("اے بستر میں لیٹنے والے! اٹھیے اور لوگوں کو ڈرائیے...") کے نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے باقاعدہ تبلیغ کا آغاز کر دیا۔ شروع کے تین سال یہ دعوت انتہائی خفیہ رکھی گئی تاکہ مکہ کے قریش یکدم دشمن نہ بن جائیں۔

اس دور میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے یہ مبارک نفوس تھے:سب سے پہلے آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایمان لائیں۔آپ ﷺ کے مخلص ترین دوست حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔بچوں میں آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (جو اس وقت بچے تھے اور آپ ﷺ کے گھر میں پرورش پا رہے تھے) ایمان لائے۔غلاموں میں آپ ﷺ کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے۔جیسے جیسے لوگ آہستہ آہستہ دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے، مکہ کے مشرکین کی نظروں سے بچ کر عبادات کرنے اور دین سیکھنے کے لیے ایک محفوظ جگہ کی ضرورت تھی۔

اس مقصد کے لیے آپ ﷺ نے مکہ کے ایک نوجوان صحابی حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کے گھر کو منتخب کیا، جسے "دارِ ارقم" کہا جاتا ہے۔ یہ اسلام کا سب سے پہلا خفیہ مرکز اور مدرسہ تھا جہاں مسلمان جمع ہوتے، نماز پڑھتے اور وحی کی آیات سیکھتے تھے۔

خفیہ دعوت کے تین سال گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آیا: "پس آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے کھلم کھلا سنا دیجیے" (سورہ الحجر)۔

اس پر رسول اللہ ﷺ مکہ کی مشہور پہاڑی کوہِ صفا پر تشریف لے گئے اور قریش کے تمام قبیلوں کو آواز دے کر جمع کیا آپ ﷺ نے ان سے پوچھا:"اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے، تو کیا تم میری بات کا یقین کرو گے؟"

سب نے یک زبان ہو کر کہا: "ہاں! ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا اور امین پایا ہے، آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا"۔

تب آپ ﷺ نے فرمایا: "تو پھر میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو تم پر اللہ کا سخت عذاب آنے والا ہے"۔

کوہِ صفا کے اس واقعے کے بعد مکہ کے حالات یکسر بدل گئے۔ قریشِ مکہ جو کل تک آپ ﷺ کو "صادق اور امین" کہتے تھے، وہ آپ کے شدید دشمن بن گئے۔

انہوں نے مکہ کے غریب اور کمزور مسلمانوں (جیسے حضرت بلال حبشی، حضرت عمار بن یاسر اور ان کے والدین) پر بدترین ظلم و ستم شروع کر دیا۔

جب ظلم حد سے بڑھ گیا تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی، اور بالاآخر چند سال بعد خود رسول اللہ ﷺ اور تمام مسلمان مکہ چھوڑ کر مدینہ منورہ (یثرب) ہجرت کر گئے، جہاں سے اسلام کی فتح اور ایک عظیم اسلامی ریاست کا دور شروع ہوا۔

یہ تھی داستان حرا جسے آپ سب کا جاننا ضروری ہے ۔

کالم نگار : محمدحارث حیات
| | |
20