(+92) 319 4080233
میرا قصور؟
77 کے مارشل لاء کے وقت میری عمر دس سال تھی ۔ضیاء الحق کے دور میں ایک نعرہ بلند کیا گیا "مرد مومن مرد حق۔ ضیاء الحق ضیا الحق۔" جو بھی یہ نعرہ لگاتا ضیاء کی مجلس شوریٰ کا ممبر بن جاتا چونکہ میں ضیاء کے اقتدار کی چھتری تلے پروان چڑھ رہا تھا تو میرے ذہن میں ضیاالحق پارسا اور بھٹو غدار اور کرپٹ تھا مگر جیسے جیسے میں شعور کی منزل طے کرتا گیا تو پتہ چلا کہ ضیاء تو ایک ڈھونگ تھا اس نے تو ایک لیڈر کو پھانسی چڑھا دیا تو سوچا اپنا پہلا ووٹ پی پی پی کو دونگا۔

جب تیر پر مہر لگانے کی باری آئی تو میرا امیدوار جعفر خان لغاری تھا۔ پی پی پی کی پالیسی سے بد زن ہوا سوچا ، اس بار کسی اور کو آزماؤں گا تو آئی جے آئی بنی ووٹ دینے کا وقت آ یا تو سائیکل کے نشان پر میرا امیدوار جعفر خان لغاری تھا۔ پھر میں سائیکل سے اتر گیا تو شیر کے نشان میں تبدیلی دیکھی تو نواز شریف کے شیر کے نشان پر میرا امیدوار اگلی بار پھر جعفر خان لغاری تھا۔ کچھ سال بعد مشرف کے نظرئیے کو ووٹ دینے کی باری آ ئی تو میر ے سامنے ق لیگ کی صورت میں جعفر لغاری کھڑا تھا۔ نواز شریف سے دوسری بار پھر شیر کا نشان جعفر خان لغاری لے اڑا۔اگلی بار میں نے تہیہ کیا کہ عمران خان کو ووٹ دونگا۔ عمران خان کو ایک باری ملنی چاہیے ، میں کسی طور جعفر لغاری کو ووٹ نہیں دینا چاہتا تھا مگر میں ایک بار پھر ناکام ہوا اور جعفر خان لغاری نے پی ٹی آئی کے بلے سے میرے تبدیلی کے نظریات کو چھکا لگا کر بال کو باؤنڈری لائن سے باہر پھینک دی اور میں

بےبسی کے ساتھ اپنی تبدیلی کی نظریاتی بال کو ہوا میں معدوم ہوتا دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ کم سے کم میرے ووٹ سے نہ تو سوچ میں تبدیلی آ سکتی ہے اور نہ ہی میں کبھی اپنا نمائندہ تبدیل کر سکتا ہوں۔ آپ سب سے میرا یہی سوال ہے کہ میرا قصور کیا ہے؟ میں اپنی زندگی میں کبھی اپنے حلقہ میں اپنی مرضی کے نمائندے کو ووٹ دے بھی سکوں گا یا نہیں۔۔۔ ہو سکتا ہے میری طرح بہت سے لوگوں کا یہی مسلئہ ہو۔

کالم نگار : عبدالرشید لُغاری
| | |
45